مرکزی مینیو کھولیں
ہیرودیس
(عبرانی میں: Ipiiei (epah))،(لاطینی میں: Herodus ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
HerodtheGreat2.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 74 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسقلان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 3 ق م[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اریحا[3][4][5]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گردے فیل  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ہیرودیون  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ مالتاکی
قلوپطرہ یروشلمی
مریمنے[6]
ڈورس[7]
مریمنے دوم  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد ہیرودیس انتیپاس، اولمپیاس، انتیپاترس[8]، ہیرودیس ارخیلاوس، سلومی، ہیرودیس دوم، ارسطوبیولس چہارم، ہیرودیس فلپس، ہیرودیس چہارم، اسکندر بن ہیرودیس، سلامپسیو  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد انتیپاترس ادومی  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ کپروس  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فیرورس، فاسی ایل، سلومی  ویکی ڈیٹا پر بہن/بھائی (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان ہیرودیسی خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ مقتدر اعلیٰ، سیاست دان[9][10][11]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ہیرودیس (Herod) (عبرانی: הוֹרְדוֹס، Hordus; یونانی: Ἡρῴδης، Hērōdēs) [12][13][14][15][16] جسے ہیرودیس اعظم (Herod the Great) اور ہیرودیس اول (Herod I) بھی کہا جاتا ہے یہودیہ کا رومی بادشاہ تھا۔[17][18][19] اسے ایک پاگل کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جس نے اپنے ہی خاندان اور ایک بڑی تعداد میں ربیوں کو قتل کروایا۔[20]

ہیرودیس یہودیہ میں شاندار عمارتی منصوبوں کے لیے مشہور ہے جس میں ہیکل ثانی جسے ہیکل ہیرودیس (Herod's Temple) بھی کہا جاتا ہے، قیصریہ بحری کے مقام پر بندرگاہ کی تعمیر، مسادا کے مقام پر قلعہ اور ہیرودیون کی تعمیر شامل ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/australiaandthepacific/australia/8737038/To-BC-or-BCE.html
  2. http://search.ebscohost.com/login.aspx?direct=true&profile=ehost&scope=site&authtype=crawler&jrnl=14722089&AN=14326200&h=QXAUXEfCvfuk%2F4s5OmCXWV8xj5RRgy%2BWuu5aOLs%2F4GmL4oRr%2BL4fUCY0GEQg5IGerdI7DEtPFgaWZyLnXiDw9A%3D%3D&crl=f
  3. http://www.ajol.info/index.php/actat/article/download/52580/41187
  4. http://www.nationalpost.com/story.html?id=15a40887-0d6d-435f-ba9d-0fca634e013c
  5. http://www.jewishencyclopedia.com/articles/8597-jericho
  6. عنوان : Мариамна — شائع شدہ از: Jewish Encyclopedia of Brockhaus and Efron. Volume 10
  7. عنوان : Дорис — شائع شدہ از: Jewish Encyclopedia of Brockhaus and Efron. Volume 7
  8. عنوان : Антипатр — شائع شدہ از: Jewish Encyclopedia of Brockhaus and Efron. Volume 2
  9. http://www.stltoday.com/blogzone/culture-club/culture-club/2009/05/opera-preview-the-real-salome/
  10. http://www.jstor.org/stable/1355024
  11. http://www.s9.com/Biography/Herod-The-Great
  12. Richardson, Peter. Herod: King of the Jews and friend of the Romans، (Continuum International Publishing Group, 1999) pp. xv–xx.
  13. Knoblet, Jerry. Herod the Great (University Press of America, 2005)، p. 179.
  14. Rocca, Samuel. Herod's Judaea: a Mediterranean state in the classical world (Mohr Siebeck, 2008) p. 159.
  15. Millar, Fergus; Schürer, Emil; Vermes, Geza۔ The History of the Jewish People in the Age of Jesus Christ (Continuum International Publishing Group, 1973) p. 327.
  16. Wright, N. T. The New Testament and the People of God (SPCK, 1992)، p. 172.
  17. Thomas C. McGonigle؛ Thomas D. McGonigle؛ James F. Quigley۔ A History of the Christian Tradition: From its Jewish Origins to the Reformation Volume 1 of A History of the Christian Tradition۔ Paulist Press۔
  18. Francis E. Peters۔ The Monotheists: Jews, Christians, and Muslims in Conflict and Competition, Volume II: The Words and Will of God The Words And Will of God۔ مطبع جامعہ پرنسٹن۔
  19. Aryeh Kasher؛ Eliezer Witztum۔ King Herod: a persecuted persecutor : a case study in psychohistory and psychobiography۔ Walter de Gruyter۔
  20. Ken (Rabbi) Spino۔ "History Crash Course #31: Herod the Great (online)"۔ Crash Course in Jewish History۔ Targum Press۔ آئی ایس بی این 978-1-56871-532-2۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 مئی 2013۔