اسرائیل سے یہودیہ

ریاست یہودیہ
Centered blue star within a horizontal triband
ترانہ: 
Location of Israel (in green)
Location of Israel
دار الحکومتالقدس (بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے)
سرکاری زبانیں
عربی[حاشیہ 1]
نسلی گروہ
(2018ء)
مذہب
(2016ء)
آبادی کا نامیہودی
حکومتوحدانی پارلیمانی جمہوریہ
• صدر
رووین رولین
بنیامین نیتنیاہو
یولی یوایل ادلستین
ایستر ہیوت
مقننہکنیست
آزاد
14 مئی 1948
11 مئی 1949
رقبہ
• کل
20,770–22,072 کلومیٹر2 (8,019–8,522 مربع میل)[a] (149واں)
• پانی
440 کلومیٹر2 (170 مربع میل)
• پانی (%)
2.12%
آبادی
• 2016 تخمینہ
8,541,000[7] (98واں)
• 2008 مردم شماری
7,412,200[8] (99واں)
• کثافت
387.63/کلو میٹر2 (1,004.0/مربع میل) (34واں)
جی ڈی پی (پی پی پی)2016[9] تخمینہ
• کل
$297.046 بلین (55واں)
• فی کس
$34,833 (33rd)
جی ڈی پی (برائے نام)2016[9] تخمینہ
• کل
$311.739 بلین (35th)
• فی کس
$36,556 (23واں)
جینی (2012)42.8[10]
میڈیم · 106واں
ایچ ڈی آئی (2014)Increase 0.894[11]
ویری ہائی · 18واں
کرنسیجدید شیقل (‎) (ILS)
منطقۂ وقتیو ٹی سی+2 (IST)
• گرمائی (ڈی ایس ٹی)
یو ٹی سی+3 (IDT)
تاریخ فارمیٹ
  • אא-בב-גגגג (AM)
  • dd-mm-yyyy (CE)
ڈرائیونگ سائیڈright
کالنگ کوڈ+972
آیزو 3166 کوڈIL
انٹرنیٹ ایل ٹی ڈی۔il
۔ישראל

يهودية انگریزی: Judea یہودیوں کی ریاست جسے یہودی اسرائیل کہتے ہیں اسے مسلمان بھی اسرائیل کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ تو ایک نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے جنہیں اللّٰه نے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا تھا اور ہم ان پر ایمان بھی لاتے ہیں۔ جب یہود مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں۔ تو ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی۔ اسرائیل کا ظلم۔ ایسا کرنے سے ایک پاک نام کی حرمت پر آنچ آتی ہے۔ اور ہم پر بھی اس کی زمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کیوں نہ ہم  اسرائیل کا نام ہی بدل دیں تاکہ اس نام کی حرمت پر آنچ نہیں آئے۔ جیسے ہم  مصر کہتے ہیں اور انگریز "Egypt" کہتا ہے۔ اسی طرح انگریز  سوریہ کو Syria  قبرص کو Cyprus  بھارت کو India کہتا ہے۔ ہمیں اسرائیل کو "یہودیہ" کہنا چاہیے۔ یہودیوں کی سرزمیں"

یہودیہ (عبرانی: יִשְׂרָאֵל، یِسْرائل) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ یہودیہ خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔

29 نومبر، 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا۔ 14 مئی، 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے یہودیہ کے ملک کے قیام کا اعلان کیا۔ 15 مئی، 1948ء کو یعنی اعلان آزادی کے اگلے روز کئی ہمسایہ ممالک نے یہودیہ پر حملہ کر دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی بار یہودیہ کے ہمسایہ ممالک اس پر حملہ کر چکے ہیں۔

یہودیہ کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی طور پر القدس کو یہودیہ کا حصہ نہیں مانا جاتا۔

نسلی اعتبار سے یہودیہ میںاشکنازی یہودی، مزراہی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو، دروز اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں۔ 2014ء میں اسرائیل کی کل آبادی 8146300 تھی۔ ان میں سے 6110600 افراد یہودی ہیں۔ اسرائیل کا دوسرا بڑا نسلی گروہ عرب ہیں جن کی آبادی 1686000 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ مسیحی اور افریقی ممالک سے آنے والے پناہ گزین اور دیگر مذاہب کے افراد بھی یہاں رہتے ہیں۔

یہودیہ میں نمائندہ جمہوریت ہے اور پارلیمانی نظام چلتا ہے۔ حق رائے دہی سب کو حاصل ہے۔ وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور یک ایوانی پارلیمان ہے۔ یہودیہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی 43ویں بڑی معیشت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں معیار زندگی کے اعتبار سے اسرائیل سب سے آگے ہے اور ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اوسط زیادہ سے زیادہ عمر کے حوالے سے یہودیہ دنیا کے چند بہترین گنے چنے ممالک میں شامل ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Israel approves 'Jewish nation state' law"۔ BBC News۔ 19 جولائی 2018۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018 
  2. "Israel Passes 'National Home' Law, Drawing Ire of Arabs"۔ The New York Times (بزبان انگریزی)۔ 19 جولائی 2018۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018 
  3. Maayan Lubell (19 جولائی 2018)۔ "Israel adopts divisive Jewish nation-state law"۔ Reuters۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018 
  4. "Press Releases from the Knesset"۔ Knesset website۔ 19 جولائی 2018۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2018۔ The Arabic language has a special status in the state; Regulating the use of Arabic in state institutions or by them will be set in law. 
  5. "Latest Population Statistics for Israel"۔ Jewish Virtual Library۔ American–Israeli Cooperative Enterprise۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2018 
  6. "Population, by Population Group" (PDF)۔ Israel Central Bureau of Statistics۔ 2016۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 اگست 2016 
  7. "The 2008 Israel Integrated Census of Population and Housing" (PDF)۔ Israel Central Bureau of Statistics۔ 28 دسمبر 2008۔ 14 نومبر 2012 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 فروری 2012 
  8. ^ ا ب "Report for Selected Countries and Subjects"۔ International Monetary Fund۔ اکتوبر 2016۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2016 
  9. "Distribution of family income – Gini index"۔ The World Factbook۔ Central Intelligence Agency۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 فروری 2016 
  10. "2015 Human Development Report" (PDF)۔ United Nations Development Programme۔ 2015۔ 24 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2015 

بیرونی روابط

ترمیم