یوم اطفال (بھارت)

لتل قال

یوم اطفال بھارت یا بال دیوس بھارت میں 14 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ دنیا کی آبادی 720 کروڑ ہے تو ان میں تقریباً 18 فیصد بچے ہیں۔ یعنی دنیا میں 130 کروڑ بچے ہیں۔ یہی بچے آگے چل کر بڑے ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کے لیے مستقبل کی اہم طاقت ہوتے ہیں۔

ریاست میگھالیا کے نانگپوہ میں نہرو بچوں کو مٹھائیاں تقسیم کرتے ہویے۔

اس سچائی کو مانتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک، اقوام، لوگ، مختلف ایام میں یوم اطفال مناتے ہیں۔ یوم اطفال کیا کہ بچوں کی عید۔ یہ بات یہیں پر نہیں رکی، تنظیم اقوام متحدہ کا ادارہ UNICEF یونائٹیڈ نیشنس انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ، 1953ء کو عالمی یوم اطفال منایا اور اس کو انٹرنیشنل یونین فار چلڈرن ویلفیر کے تحت منایا گیا۔ پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اس کو سرکاری طور پر 1954ء کو منایا۔ ہر سال 20 نومبر کو عالمی یوم اطفال منایا جاتا ہے۔ اس یوم اطفال کا مقصد بچوں کی پرورش،صحت، فلاح وبہبودی، ان کے حقوق، ان کی حوصلہ افضائی وغیرہ ہیں۔[1][2]

اہمیت

ترمیم

حال ہی میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بھارت کے کیلاش ستیارتھی اور پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کو نوبل انعام برائے امن دیا گیا۔ اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ جب بھارت کی بات آتی ہے اور بھارت میں یوم اطفال کی بات آتی ہے، تو بھارت میں بھی اتنے ہی جوش کے ساتھ اس دن کی اہمیت کو پہچانا گیا اور یوم اطفال منائے جانے کی رسم شروع بھی ہوئی۔ بھارت میں یوم اطفال اتنے ہی اعلی پیمانے پر منایا جاتا ہے جتنا کے عالمی طور پر منایا جاتا ہے۔

بھارت میں یوم اطفال کا نام سنتے ہی ہمیں فوراً جواہر لعل نہرو یاد آجاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس یوم اطفال سے جواہر لعل نہرو کا نام جڑا ہوا ہے۔ 14 نومبر کو بھارت میں یوم اطفال منایا جاتا ہے۔ 1964ء میں جب جواہر لعل نہرو انتقال کرگئے، اسی سال سے یہ تقریب شروع ہوئی۔[3][4][5] 14 نومبر جواہر لعل نہرو کا یوم پیدائش ہے۔ جوہر لعل نہرو بڑے ہی عالم شخصیت تھی، لوگ انھیں پنڈٹ جی کہہ کر پکارتے تھے۔ اس طرح وہ پنڈت جواہر لعل نہرو ہو گئے۔ چونکہ نہرو جی کو گلاب اور بچوں سے بے حد پیار تھا۔ جب بھی باہر نکلتے تو ان کے کوٹ پر گلاب سجا ہوا نظر آتا تھا۔ جب کہیں جہاں کہیں بچے نظر آجاتے تو نہرو ان کے ساتھ ہو لیتے۔ بچوں سے اس لگاﺅ کی وجہ سے نہرو کو بچے چاچا نہرو کہہ کر پکارتے تھے۔ یعنی بڑے پنڈت کہہ کر پکارتے تو بچے چاچا نہرو۔جواہر لعل نہرو 14 نومبر1889ء کو پیداہوئے۔ بھارت کی تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مہاتما گاندھی کے ساتھ ستیاگرہ میں حصہ لیے۔ نہرو ایک ایسی شخصیت ہیں جو آزادی کی تحریک میں مکمل طور پر دس سال چھہ مہینے جیل کی سزا کاٹی۔

بھارت آزاد ہوا تو پہلے وزیر اعظم بنے۔ ان کے بڑے کارناموں میں بھارت کو مضبوط کرناتھا۔ بھارت کو کاشتکاری، صنعت کاری میں مستحکم اور خود مختار بنانا ان کا اول ارادہ تھا۔ انھیں کے دور میں بھارت میں بڑے بڑے ڈیم اور بڑی بڑی فیکٹریاں قائم ہوئیں۔ ان کو آزاد بھارت کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا میں بھارت کو مضبوط شکل میں پیش کرنے کے لیے نہرو نے نان الائن مینٹ موومینٹ یعنی غیر جانبداری تحریک شروع کی۔ بھارت اور چین کے درمیان دوستی کے لیے پنچ شیل (پانچ اصول) پیش کیے۔ جو دنیا کے سیاسی میدان میں کافی مقبول ہوئے۔ نہرو 1964ء تک بھارت کے وزیر اعظم رہے اور انتقال فرمائے۔ انھیں کی بیٹی اندرا گاندھی ہیں۔

ان تقریبوں میں ہونے والے پروگرام

ترمیم
  • بچوں کو ان کی اہمیت، ان کی صحت اور تعلیم اور خاص طور پر ان کے حقوق کے بارے میں عوام کو اور اطفال کو سمجھایا جاتا ہے۔
  • بچوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ بھارت کے قوانین کے تحت بچوں کو 14 سال تک تعلیمی سہولت مفت فراہم کی جاتی ہے۔
  • آگاہ کیا جاتا ہے کہ 14 سال سے کم عمر والے بچوں کو کام پر رکھنا جرم ہے۔ اور بچوں سے کسی بھی قسم کا کام یا مزدوری کروانا یا تعلیم سے دور رکھنا بھی جرم مانا جاتا ہے۔
  • بچوں میں حب الوطنی کو فروغ دینا۔
  • دیگر سماج کے لوگوں سے ہمدردی، خدا ترسی، یکجوئی، ہم آہنگی پیدا کرنا۔
  • بچوں کو اطلاع کیا جاتا ہے کہ بچوں کی تعلیم کے لیے حکومتیں، اسکولس، ہاسٹلس، اقامتی اسکولس، اسپورٹس اسکولس وغیرہ کا انتظام اور احتمام کرتی ہیں
  • والدین کو چاہیے یہ حکومت کے ان انتظامات کا استفادہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو خوب پڑھائیں اور قابل بنائیں۔ جس سے قوم و ملت، ملک اور عالم خوش گوار بن سکے۔
  • اس دن مقابلوں کا احتمام، انعمات کی تقصیم، ثقافتی پروگرام، یہ سبھی چیزیں بچوں کی پسند ہیں۔

بھارت کے دستور میں میں بچوں کا تحفظ

ترمیم
  • دفعہ 15 کی رو سے ریاست کو خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
  • دفعہ 24 کی رو سے 14 سے کم عمر والے بچوں کو کسی بھی جوکھم بھرے کام کے مقام پر ملازمت کرنے پر روک ہے۔
  • دفعہ 39 (c) کی رو سے جو ہدایتی اصول کا حصہ ہے، کم سنوں کے استحصال اور معاشی مجبوریوں کے تحت اپنی عمر اور طاقت سے متجاوز ملازمت پر روک ہے۔
  • دفعہ 39 (f) کی رو سے بچوں کے استحصال، اخلاقی اور مادی محرومی پر روک ہے۔
  • دفعہ 45 کی رو سے جو ہدایتی اصول کا حصہ ہے، سے کم عمر والے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی سہولت کی وکالت کی گئی ہے۔[6]

پانچ سالہ منصوبوں میں بچوں کی بہبودگی پر توجہ

ترمیم
  • پانچویں سالانہ منصوبے کے تحت یکجا ترقیاتی خدمات برائے اطفال (Integrated Child Development Services) کا 1975ء میں آغاز کیا گیا تھا۔
  • دسویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت ایک مقصد رکھا گیا کہ 2007ء تک اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر بچہ کم ازکم اسکولی دور کے پانچ سال مکمل کرے۔
  • اسی سال تک تعلیم اور اجرت میں نابرابری کو پچاس فیصد تک کم کرنے کا تہیہ کیا گیا تھا۔
  • اس دوران نوزائیدگان کی اموات کو 45 فی ہزار تک کم کرنے طے کیا گیا تھا جبکہ 2012ء تک یہ شرح 28 تک لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
  • 2012ء تک زچہ ماؤں کی اموات کو دو فی ہزار زندہ زچگیوں سے گھٹاکر ایک تک لانے کا فیصلہ کیا گیا۔[6]

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Bal Diwas to mark chacha Nehru's b'day on Nov 14"۔ The Times of India۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2014 
  2. "Nobel Peace laureate Satyarthi celebrates Children's Day with slum kids"۔ Aninews.in۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2014 
  3. Bollywood Country۔ "Children's Day"۔ IANS Live۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2014 
  4. "Bal Diwas celebration photos"۔ Kvsrobangalore.org۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2014 
  5. "'Bal diwas — a day to celebrate hair?'"۔ The Times of India۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2014 
  6. ^ ا ب Dr M V Lakshmi Devi, Dr S Suatha, Dr B Ramaiah, P Venkata Ramana, “Social Structures, Issues and Policies”, Pg. 212, Telugu Akademi, Hyderabad, 2016.