آبادی بانو بیگم (پیدائش: 1853ء – وفات: 12 نومبر 1924ء[1]) مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ تھیں۔ تحریک خلافت کی سرگرم رکن بھی تھیں۔

آبادی بانو بیگم
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1853  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
امروہہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 نومبر 1924 (70–71 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد مولانا محمد علی جوہر،  مولانا شوکت علی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائش اور آبائی وطنترميم

بی اماں 1853ءکو بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر رامپور میں پیدا ہوئیں۔ ان کا عقد عبد العلی خان سے ہوا، جو رامپور صوبہ کے ایک اہم ملازم تھے۔ بی اماں بھارت کی تحریک آزادی میں شریک رہیں اور اپنے کارنامے بخوبی انجام دئے۔ ان کی ایک دختر اور پانچ فرزند تھے۔ جن میں ان کے دو فرزند محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی تحریک آزادی میں شریک رہے اور بی الخصوص خلافت تحریک کے لیے جانے اور مانے جاتے ہیں۔

تحریک آزادی میں حصہ داریترميم

1917ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں بی اماں کی تقریر اہل امت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ تحریک خلافت میں مصروف رہیں۔ اپنے دونوں بیٹے محمد علی اور شوکت علی جو علی برادر کے نام سے مشہور تھے، جیل میں رہے، اسی دوران میں بی اماں تحریک خلافت کے لیے ملک بھر کا دورہ کیا اور اس تحریک کی روح رواں رہیں۔

ان کا علانیہ نعرہ رہا کہ

بولی محمد علی کی اماں کہ بیٹا خلافت کے لیے جان دے دو

وفاتترميم

خلافت تحریک ختم ہو گئی۔ بی اماں کی طبیعت بھی علالت میں ڈھل گئی 12 نومبر 1924ء کو انتقال کرگئیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. مالک رام: تذکرہ ماہ و سال، صفحہ 423، ضمیمہ۔ مطبوعہ دہلی 2011ء۔

بیرونی روابطترميم