محمد بن حسین بن محمد بن خلف بن احمد بن فراء ابو یعلیٰ بغدادی حنبلی، ابن الفراء کے نام سے مشہور ہیں، عباسی دور کے حنبلی فقہا میں سے ہیں، سنہ ولادت 380 ہجری اور سنہ وفات 458 ہجری ہے، قاضی ابو یعلیٰ نام سے بھی مشہور ہیں۔

ابو یعلی حنبلی
معلومات شخصیت
پیدائش 28 اپریل 990  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 اگست 1066 (76 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنبلی
اولاد ابن ابی یعلی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

سیرتترميم

فتاویٰ اور دروس دیا کرتے تھے، تلامذہ کا ایک ہجوم ہوتا تھا، فقہ میں اپنے زمانے کے امام تھے، قرآن و تفسیر اور اصول و فقہ میں عراق کے سب سے بڑے عالم مانے جاتے تھے، ان کے والد بڑے حنفی عالم اور لوگوں کا مرجع تھے، والد محترم کا انتقال ہوا اس وقت ابو یعلیٰ کی عمر دس سال تھی، والد صاحب نے انھیں "مختصر الخرقی" سے عبادات کا باب پڑھنے کی تلقین کی، اس طرح فقہی ذوق پیدا ہو گیا، اس کے بعد حنبلی مذہب کے بڑے عالم ابو عبد اللہ بن حامد کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے، کئی سال ان کی صحبت میں رہے اور فقہ میں خوب مہارت حاصل کی، سب سے پہلے سماعت حدیث سنہ 385 ہجری میں علی بن معروف سے کی، مکہ میں اور دمشق میں عبد الرحمن بن ابو نصر سے سماعت کی، اسی طرح حلب میں سماعت کی، صفات الہٰی میں تاویل کے ابطال پر کتاب لکھی، کتاب میں موضوع اور ضعیف روایات سے استدلال کی وجہ سے لوگ ان کے خلاف ہو گئے، ابو یعلیٰ قادر باللہ کی خدمت میں کتاب لے کر گئے، اسے کتاب پسند آئی، کچھ اور معاملات اور دشواریاں پیش آئیں، بعد میں وزیر علی بن مسلمہ نے دونوں فریقوں میں صلح کرا دی اور حاضرین سے کہا کہ اصل قرآن تو اللہ کا کلام ہے، صفات کے متعلق خبریں آتی جاتی رہیں گی جیسا کہ ابھی پیش آئی ہیں۔

ابو یعلیٰ کو حران اور حلوان کے ساتھ ساتھ دار الخلافت میں بھی قاضی مقرر کر دیا گیا، قرات عشرہ کے قاری تھے، عبادت گزار اور شب بیدار شخص تھے، تصنیف و تالیف سے خاص اشتغال تھا، رعب و جلال کے مالک تھے، حدیث میں زیادہ مہارت حاصل نہ تھی اسی لیے بسا اوقات ضعیف روایات سے استدلال کر لیا کرتے تھے، لیکن فقہی بصیرت زبردست حاصل تھی، ابو الحسن بغدادی، ابو جعفر ہاشمی، ابو الغنائم بن غباری، ابو علی بن بنا، ابو الوفاء بن قواس، ابو الحسن نہری، ابن عقیل، ابو الخطاب کلوذانی، ابو الحسن بن جدا، ابو یعلیٰ کیال اور ابو الفرج شیرازی جیسے ائمہ فقہا نے ان سے فقہ کا علم حاصل کیا ہے۔[1]

اساتذہترميم

  • علی بن عمر حربی
  • اسماعیل بن سوید
  • ابو القاسم بن حبابہ
  • عیسیٰ بن وزیر
  • ابن اخی میمی
  • ام الفتح بنت احمد بن کامل
  • ابو طاہر مخلص
  • ابو الطیب بن منتاب
  • قاضی ابن معروف

تلامذہترميم

  • خطیب بغدادی
  • ابو الخطاب کلوذانی
  • ابو الوفاء بن عقیل
  • ابو غالب بن بنا
  • یحییٰ بن بنا
  • ابو العز بن کادش
  • ابو بکر محمد بن عبد الباقی
  • قاضی ابو الحسین محمد بن بن محمد بن فراء (ان کے بیٹے ہیں)
  • ابو سعد احمد بن محمد زوزنی
  • قاری ابو علی اہوازی

تصنیفاتترميم

قاضی ابو یعلیٰ بن فراء کی تقریباً دسیوں سے زائد تصنیفات ہیں۔[2]

  • أحكام القرآن.
  • مسائل الإيمان.
  • المعتمد ومختصره.
  • المقتبس.
  • عيون المسائل.
  • الرد على الكرامية.
  • الرد على السالمية والمجسمة.
  • الرد على الجهمية.
  • الكلام في الاستواء.
  • العدة في أصول الفقه ومختصرها.
  • فضائل أحمد.
  • كتاب الطب.

وفاتترميم

قاضی ابو یعلیٰ کی وفات 19 رمضان المبارک سنہ 458 ہجری میں ہوئی۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. سير أعلام النبلاء الطبقة الرابعة والعشرون القاضي أبو يعلىالمكتبة الإسلامية. وصل لهذا المسار في 27 مارس 2016 آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ library.islamweb.net [Error: unknown archive URL]
  2. أبو يعلى ابن الفراءالمكتبة الشاملة. وصل لهذا المسار في 27 مارس 2016 آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ shamela.ws [Error: unknown archive URL]
  3. القاضي أبو يعلى محمد بن الحسين الفراءقصة الإسلام. وصل لهذا المسار في 27 مارس 2016 آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ islamstory.com [Error: unknown archive URL]