ارکان مقننہ کی خرید فروخت

ارکان مقننہ کی خرید فروخت (انگریزی: horse trading) جدید سیاسی میدان کی اُپج ہے۔ اس کے لیے انگریزی زبان میں ایک محاوراتی استعمال ہارس ٹریڈنگ یا گھوڑی کی خریداری ہے۔ یہ عمل عام طور سے پارلیمان اور اسمبلی سطح پر ہوتا ہے۔ یہ بہ طور خاص اس وقت مشاہدے میں آتا ہے جب کوئی پارٹی یا اتحادی محاذ نشان اکثریت کو نہیں پہنچے۔ اس کے لیے کیا یہ جاتا ہے کہ کئی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور آزاد منتخب ارکان کو در پر پردہ مالی اور عہدے کے فوائد کی لالچ دے کر ان کی تائید حاصل کی جاتی ہے۔ یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ حکومت سازی یا حکومت کی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کو توڑ کر ان کے ارکان کو اپنے حمایتی بنایا جاتا ہے۔

خرید فروخت کی 2019ء کی مثال: کرناٹک اور مہاراشٹر میں رسا کشیترميم

بھارت کی ریاست کرناٹک میں معلق اسمبلی کے نتیجے میں جنتا دل (ایس) اور انڈین نیشنل کانگریس نے مل کر ایک مخلوط حکومت ایچ ڈی کمارسوامی کی قیادت میں تشکیل دی تھی۔ تاہم بی جے پی نے کرناٹک میں ارکان اسمبلی کو ماورائے بینش طریقوں سے ان دونوں پارٹیوں کے 17 ارکان سے استعفا دلوایا۔[1] اس کے نتیجے میں حکمران محاذ کے ارکان کی تعداد 99 ہو گئی جب کہ بی جے پی کے ارکان کی تعداد 105 ہو گئی۔ نتیجے میں بی ایس یدی یورپا کی قیادت والے بی جے پی بر سر اقتدار ہوئی اور وہ خود وزیر اعلٰی کے عہدے پر فائز ہوئے۔[2]

ارکان مقننہ کی خرید فروخت اور حکومت سازی کی زبر دست کش مکش مہاراشٹر میں اکتوبر اور نومبر 2019ء میں دیکھی گئی۔[3] مہاراشٹر میں بی جے پی کے 105 ارکان، شیو سینا کے 56 ارکان، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے 54 ارکان، انڈین نیشنل کانگریس (کانگریس) کے 44 ارکان منتخب ہوئے تھے، اس کے علاوہ 288 رکنی اسمبلی میں کچھ چھوٹی پارٹیاں اور آزاد ارکان بھی منتخب ہوئے تھے۔ بی جے پی اور شیو سینا ما قبل انتخابات حلیف تھے، جب کہ کانگریس اور این سی پی بھی حلیف تھے۔ تاہم انتخابات کے بعد شیو سینا نے کم ارکان کے باوجود حکومت سازی اور وزارت اعلٰی کے عہدے کا دعوٰی کیا تھا۔ اس کی وجہ ریاست میں نئی صف بندیاں اور ارکان مقننہ کی خرید فروخت کا نیا دور شروع ہوا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم