امتیاز احمد (کرکٹ کھلاڑی، پیدائش 1928ء)

امتیاز احمد (1928-2016) پاکستان کی پہلی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں میں شامل تھے پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی اور کپتان تھے۔ وہ 5 جنوری 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ٹھیک اسی تاریخ اور سال پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے بھی دنیا میں آنکھ کھولی۔ امتیاز احمد کو اس قدرِمشترک کا علم تھا اور وہ اس بارے میں دوسروں کو فخریہ انداز میں بتایا کرتے تھے۔اُنہوں نے پاکستان کی طرف سے 41 ٹیسٹ میچز کھیلے اور 2000 سے زیادہ رنز بنائے۔ وہ پاکستان کےپہلے ٹیسٹ وکٹ کیپر تھے۔ اُنہوں نے رانجی ٹرافی بھی کھیلی۔

امتیاز احمد
ذاتی معلومات
پیدائش5 جنوری 1928(1928-01-05)
لاہور، پنجاب،
برطانوی ہندوستان
وفات2016
بلے بازیدائیں ہاتھ کے بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کے آف بریک گیند بازی
حیثیتوکٹ کیپر
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 5)16 اکتوبر 1952  بمقابلہ  بھارت
آخری ٹیسٹ16 اگست 1962  بمقابلہ  انگلستان
قومی کرکٹ
سالٹیم
1944–1947شمالی بھارت
1945–1947نارتھ زون (بھارت)
1947پنجاب
1948–1949پنجاب یونیورسٹی
1950پاکستان یونیورسٹیز
1953–1964کمبائنڈ سروسز
1960راولپنڈی
1960نارتھ زون (پاکستان)
1969–1972پاکستان ائر فورس
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ فرسٹ کلاس
میچ 41 180
رنز بنائے 2،079 10،393
بیٹنگ اوسط 29.28 37.38
100s/50s 3/11 22/45
ٹاپ اسکور 209 300*
گیندیں کرائیں 6 277
وکٹ 0 4
بولنگ اوسط n/a 41.50
اننگز میں 5 وکٹ 0 0
میچ میں 10 وکٹ 0 n/a
بہترین بولنگ 0/0 0/0
کیچ/سٹمپ 77/16 322/82
ماخذ: کرکٹ آرکائیو، 26 جون 2013

امتیاز احمد ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے وکٹ کیپر تھے، انھوں نے سال1955ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور میں یہ اعزاز حاصل کیا  تو ساتھ ہی وہ ڈبل سنچری کرنے والے پہلے پاکستانی بلے باز بھی بن گئے۔1951ء میں انڈین پرائم منسٹر الیون کی طرف سے کھیلتے ہوئے انھوں نے بمبئی میں دولت مشترکہ کی ٹیم کے خلاف 300 رنز بنائے اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں کسی غیر ملکی ملکی ٹیم کے خلاف ٹرپل سنچری کرنے والے برصغیر کے پہلے بیٹسمین بنے۔ 1952ء میں انڈیا کے خلاف پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ کھیلا تو وہ  ٹیم میں شامل تھے۔ وہ اگلے دس برس تک قومی ٹیم کے اہم رکن رہے وہ پاکستان ٹیم کے پہلے 42 ٹیسٹ میچوں میں ایک کے سوا تمام میں ٹیم کا حصہ رہے۔ 1954ء میں اوول ٹیسٹ میں پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی۔ اس میچ میں انھوں نے فضل محمود کی گیندوں پر سات کھلاڑیوں کو وکٹ کے پیچھے شکار کیا۔ انہوں نے چار ٹیسٹ میچوں میں قومی ٹیم کی قیادت بھی کی۔

امتیاز احمد کی اولین ٹیسٹ سیریز میں ملی جلی کارکردگی رہی۔57 رنز کی ایک اننگز ان کے کھاتہ میں درج ہوئی پھر اگلی سیریز میں انگلینڈ کے خلاف بھی اوول کے ٹیسٹ میں سات کیچز لےکر فتح میں معاون بنے 1955ء میں بھارت کے دورہ پاکستان میں لاہور کے مقام پر 55 اور پشاور میں 69 رنز بنا کر انہوں نے اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا اگلی سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف تھی جہاں امتیاز احمد کو ڈبل سنچری بنانے کا وہ اعزاز ملا جو شاید ہی کبھی ٹوٹ سکے کیونکہ پاکستان کی طرف سے کسی وکٹ کیپر کی یہ پہلی ڈبل سنچری تھی اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف کنگسٹن میں 122 رنز بہت خوبصورت تھے یہی نہیں بھارت کے خلاف 135 نیز انگلینڈ کے خلاف 86 اور 98 بھی نمایاں تھے 1962ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے اپنا آخری ٹیسٹ کھیلا تاہم فرسٹ کلاس تک ان کا سفر 1972 ء تک جاری رہا

امتیاز احمد کی بیٹنگ کی خاص بات ان کا بے جگری سے کھیلنا تھا۔ وہ کسی بولر کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیتے اور نیچرل انداز میں بیٹنگ کرتے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید برکی کی رائے ہے کہ انھوں نے شاٹ پچ گیندوں پر امتیاز احمد سے زیادہ عمدگی سے کسی کو بیٹنگ کرتے نہیں دیکھا۔ دہشت کی علامت ویزلے ہال کی بولنگ کا جس بے خوفی  سے انھوں نے لاہور میں 1959ء میں مقابلہ کیا، اس نے ممتاز بیٹسمین ماجد خان کو بھی متاثر کیا۔ویزلے ہال نے اپنی کتاب ''Pace Like Fire'' میں امتیاز احمد کے کھیل کی تعریف کی ہے۔ 1958 ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف برج ٹان ٹیسٹ میں 91 رنز کی اننگز کو وہ کیریئر کی سب سے  یادگار اننگز قرار دیتے تھے، جس میں ان کے بقول، وہ ایل بی ڈبلیو نہیں تھے لیکن امپائر کے غلط فیصلے کی وجہ سے انھیں پویلین واپس لوٹنا پڑا۔اس سیریز میں انھوں نے سنچری بھی بنائی امتیاز احمد تماشائیوں کے محبوب کھلاڑی تھے جو ان کا جارحانہ کھیل دیکھنے خاص طور پر گراؤنڈ کا رخ کرتے۔

امتیاز احمد کی شخصیت کا مرکزی حوالہ کرکٹ ہے۔ اس کھیل میں ان کے کارناموں کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جائے گا۔ اب ہم ان کی شخصیت کے اس رخ پر بات کرتے ہیں جس سے متعلق  بہت کم لوگ جانتے ہیں۔امتیاز احمد کو پاکستانی ٹیسٹ کرکٹروں میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کا شعری مجموعہ میرے شعر کے نام سے سامنے آ چکا ہے۔ غالبا وہ واحد پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی ہیں جن کی شاعری کی کتاب ہے۔ ان کی شاعری میں محبوب سے لگاوٹ کا ذکر بھی ہے، اس کی بے اعتنائیوں کا شکوہ بھی اور اسے کھو دینے کے اندیشے  یہ سچ مچ تعجب اور مسرت کی بات ہے کہ امتیاز احمد نہ صرف کرکٹ کے میدان کا ہیرو ہے بلکہ وہ گلستان شاعری کا بھی ایک خوش رنگ اور مہکتا پھول ہے۔اس کا صحت مند جسم اگر ایک طرف کھیل کے میدانوں میں طنابیں کھینچ دیتا ہے تو دوسری طرف اس کا صحت مند دماغ اپنے شعور اور فکر کی قندیلوں سے پاکستان کی ادبی فضا کو بھی جگمگا دیتا ہے۔

معروف مزاح نگار شوکت تھانوی نے امتیاز احمد کی شاعری پر نہایت پرلطف مضمون لکھا جو ان کی کتاب نمک مرچ میں شامل ہے۔ شوکت تھانوی نے کرکٹ پر اپنے ایک مضمون میں کرکٹ سے لوگوں کی دلچسپی کا نقشہ نہایت پرلطف اسلوب میں کھینچا ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب مریضوں سے بے نیاز کمنٹری سن رہے ہیں۔ امتیاز احمد کے آو ٹ ہونے کا سن کر وہ اداس  ہو جاتے ہیں۔ یکا یک مطب میں شور اٹھا آٹ اور ڈاکٹر صاحب  نے بچے کی نبض اس طرح چھوڑ دی گویا اسی کی وجہ سے امتیاز آٹ ہوا ہے اور اس طرح سر جھکا کر بیٹھ گئے گویا خود ان کا ذاتی حادثہ ہو گیا ہے۔ کچھ دیر تک امتیاز کے آو ٹ ہونے کا سوگ منا کر پھر میرے بچے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی نبض کی طرف ہاتھ جو بڑھایا تو میں نے پھر اس کا حال سنانا شروع کیا۔پرسوں اس نے یہ بدپرہیزی کی ہے کہ ہم سب سے چھپا کر دہی بڑے کھا لیے۔بڑا جم کر کھیل رہا تھا اور نہایت اچھے اچھے ہاتھ دکھائے اس نے۔ اگر تھوڑی دیر اور آٹ نہ ہوتا تو کھیل کا نقشہ ہی بدل جاتا۔میں ڈاکٹر صاحب کا منہ دیکھتا رہ گیا جو بچے کی نبض ہاتھ میں لیے امتیاز کا طبی معائنہ فرما رہے تھے شاعر کی حیثیت سے امتیاز احمد کا ادب سے براہ راست واسطہ ہے لیکن ان کا ذکر ادبی تحریروں میں بھی آیا ہے۔

سفر نامہ نگار اور نامور ادیب مستنصر حسین تارڑ کے ناول راکھ میں بھی امتیاز احمد کا حوالہ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں اور  نوجوانوں میں ان کی گوڈا ٹیک شاٹ کس قدر مشہور تھی۔راکھ سے ایک ٹکڑا ملاحظہ کریں:ان دنوں امتیاز احمد کا گوڈا ٹیک سٹائل لاہوریوں میں بے حد مقبول تھا۔ گیند کسی قسم کی ہوتی باغ جناح میں کرکٹ کے شائقین گوڈا ٹیک کے نعرے لگاتے اور امتیاز احمد ان نعروں کے سحر میں آگر گھٹنا ٹیک کر بلا گھما دیتے۔اگر گیند بلے کوچھو جاتی تو شاندار لیگ گلانس ہو جاتی ورنہ اکثر ایل بی ڈبلیو ہو کر موصوف ٹھنڈے ٹھنڈے پویلین میں واپس آجاتے۔ادھر لکشمی مینشن میں بھی یہی سٹائل فالو کیا جاتا تھا۔ گیند اگر آف پر جا رہی ہے لیکن بیٹسمین گھٹنا ٹیک کر اسے لیگ پر ہی کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔دلچسپ بات ہے کہ باغ جناح ہی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے، مستنصر حسین تارڑ کے بچپن کی ایک تصویر فیس بک پر ہم نے دیکھی، جس میں وہ گوڈا ٹیک کر امتیاز احمد بننے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔امتیاز احمد نے اردو میں کرکٹ کوچنگ کے نام سے بھی  کتاب لکھی جس میں انھوں نے کرکٹ سکھانے سے متعلق اپنے خیالات آسان پیرائے میں بیان کیے ہیں اُنہیں 1966ء میں تمغا حسن کارکردگی دیا گیا۔[1]

امتیاز احمد نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کےساتھ ساتھ تقسیم ہندوستان سے قبل مغربی ہندوستان کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی بعد ازاں پاکستان ائیر فورس، پنجاب اور سروسز کی طرف سے بھی میدانوں میں اپنے جوہر دکھاتے رہے 31دسمبر 2016ء کو 85 سال 361 دن کی عمر میں ان کا انتقال ہوا ان کے ایک چھو ٹے بھائی افتخار احمد (پیدائش 15 جون 1913ء ) فرسٹ کلاس میچوں تک ریفری کے فرائض ادا کرتے رہے اور اس وقت ان کی عمر 96 برس سے تجاوز کر چکی ہے ۔

حوالہ جاتترميم

  1. http://www.sports.gov.pk/Awards/award_cricket.htm, تمغا حسن کارکردگی کا اعزاز 15 اپریل 2016

بیرونی روابطترميم

ماقبل 
فضل محمود
پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان
1962
مابعد 
جاوید برکی