اُمراؤ جان ادا مرزا محمد ہادی رسوا (1857–1931) کا ایک اردو ناول ہے، اس کی پہلی اشاعت 1899ء میں ہوئی۔[1] بعض محققین اسے ارد وکا پہلا ناول بھی قرار دیتے ہیں[2] اس ناول کی کہانی فیض آباد سے اغوا شدہ لڑکی امیرن کی ہے، جسے امراؤ جان ادا کے نام سے لکھنؤ میں ایک طائفہ کی زندگی بسر کرنا پڑی۔ ناول میں انیسویں صدی کے لکھنؤ کا معاشرہ پیش کیا گیا ہے۔

امراؤ جان ادا (ناول)
امراؤ جان ادا
مصنف مرزا محمد ہادی رسوا
زبان اردو
اصل زبان اردو
ملک برطانوی راج
ادبی صنف ناول  ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناشر ہمدم برقی پریس (1922ء)، مکتبہ شاہراہ ارد وبازار (دہلی، 1960ء)، مکتبہ جامعہ، دہلی، مجلس ترقی ادب، سنگ میل پبلی کیشنز اور کئی دیگر ناشرین
تاریخ اشاعت 1899

مزید پڑھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. مرزا محمد ہادی سودا کا امراؤ جان ادا آرکائیو شدہ 2009-06-09 بذریعہ وے بیک مشین امراؤ جان ادا sasw.chass.ncsu.edu
  2. The courtesan of Lucknow (Umrao Jan Ada)، (UNESCO collection of representative works): Mirza Mohammad Hadi Ruswa: Books۔ Amazon.com (2001-04-21)۔ Retrieved on 2013-07-18.
  3. The Courtesan and the Indian Novel sscnet.ucla, History/Politics
  4. Khan، Irshad Sairah (جولائی 2001). "Book: Umrao Jan Revisited". Newsline. 19 اپریل 2004 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 اپریل 2004. 

بیرونی روابطترميم