مرکزی مینیو کھولیں

اردو زبان جب تک زندہ رہے گی، مرزا ہادی حسن رسوا اور امراؤجان ادا کا نام زندہ رہے گا۔ امراؤ جان ادا اگرچہ اردو کے اولین ناولوں میں سے ہے، مگر اس ناول کی زبان آج کی زبان معلوم ہوتی ہے، یہی وجہ ہے اس مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ اس ناول کو یہ شرف حاصل ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اس پر کئی فلمیں بن چکی ہیں اور انہیں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔

امراؤ جان ادا
مصنف مرزا محمد ہادی رسوا
اصل عنوان امراؤ جان ادا
ملک برطانوی راج
زبان اردو
صنف ناول
تاریخ اشاعت
1899
تاریخ اشاعت انگریری
1970

امراؤ جان ادا کو ہم اگرچہ اردو کے اولین ناولوں میں گردانتے ہیں، لیکن اس میں اختلاف ہے کہ اردو کا اول ناول کون سا ہے کہ مرزا ہادی حسین رسوا کا امراؤ جان ادا ہے یا ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوع ہے۔ تاہم ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبۃ النصوع کو وہ شہرت اور زندگی حاصل نہیں ہوئی جو امراؤ جان ادا کو حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ ہے اول تو توبۃ النصوع کی زبان بہت ثقیل ہے اور اس میں خاص کر عربی اور فارسی کے موٹے موٹے ثقیل الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس کو پڑھ کر قاری کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی مولوی کا نصیحت نامہ ہے اور اس میں روز مرہ کی زبان استعمال نہیں ہوئی ہے۔ اس کو پڑھ کر نصیحت تو حاصل کی جاسکتی ہے مگر اس میں زبان کا چٹخارا اور لطف اندوز نہیں ہوا جاسکتا ہے۔ بقول عظیم سرور کے اس ناول کا قاری عربی اور فارسی کے موٹے موٹے الفاظ بھرمار اور نصیحتوں سے گھبرا جاتا ہے اور اس لیے اس کو ایک ہی نشت میں پڑھنا دشوار ہوجاتا ہے۔

لیکن جب کوئی امراؤ جان ادا کو پڑھتا ہے تو اس کو ایک ہی نشت میں پڑھنا پسند کرتا ہے اور آج بھی لوگ اس کی زبان کے چٹخارے لیتے ہیں۔ یہ زبان اس قدر عمدہ ہے کہ اس کے بہت بعد کے لکھے ہوئے شرشار کی فسانہ آزاد کی زبان بھی اس سے کہیں زیادہ قدیم معلوم ہوتی ہے۔ اس کے محاورے اگرچہ آج کل سے تھورے سے مختلف ہے، لیکن روز مرہ کی زبان ہے اس لیے اس ناول کے کردار  ناول کو پڑھنے والے کے سامنے گھومتے رہتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے اس ناول کے کردار مانوق الفطرت کردار نہیں ہیں اور نہ ہی حقائق کے خلاف ہیں۔ ان کی کمزوریاں اس وقت کے ماحول کے مطابق ہیں، جس کو پڑھنے والا اس وقت کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس میں اس وقت کے لوگوں کی عام کمزوریاں، رویوں اور خوداریوں کی نشادہی ہوتی ہے۔ اس ناول میں نہ ہی کوئی نصیحت ہے اور نہ ہی کوئی پشیمانی کا اظہار ہے۔ اس ناول کی ہیروئن جو پہلے امیرن تھی، پھر امراؤ اور اس کے بعد امراؤ جان اور اس کے بعد امراؤ جان ادا بنی اور وہ اپنے کو حالات کے مطابق درست سمجھتی ہے۔ حتیٰ کے وہ اپنے گھر والوں سے مل کر بھی اس کو حسرت یا پشیمانی نہیں ہوتی ہے کہ حالات نے اس کو کس نہج پر ڈالا۔ اس کا یہی کہنا ہے کہ اس نے جو کچھ بھی کیا حالات کے مطابق کیا اور اس پر اسے کوئی پشیمانی نہیں ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ناول نفسیاتی ناول ہے۔ یہ اصلاح میری سمجھ میں نہیں آتی ہے۔  

امراؤ جان ادا پر توبۃ النصوع کو یہ فضیلت ضرور حاصل ہے کہ اس میں باقاعدہ پلاٹ ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ توبۃ النصوع میں ناول کے تمام لوازمات یا شرائط پوری ہیں۔ جب کہ اس کی نسبت امراؤ جان ادا میں کوئی پلاٹ نہیں ہے یہی وجہ کہ بہت سے تنقید نگاروں نے امراؤ جان ادا کو ناول تسلیم نہیں کیا ہے۔

ماخذ

عظیم سرور۔ مرزا ہادی حسن رسوا