خشونت سنگھ (پنجابی: ਖੁਸ਼ਵੰਤ ਸਿੰਘ) (پیدائش: 2 فروری 1915ء/ وفات : 20 مارچ 2014ء) بھارت کے مشہور مصنف، تاریخ دان اور نقاد تھے۔

خُشونت سِنگھ
خشونت سنگھ نئی دہلی میں
خشونت سنگھ نئی دہلی میں

معلومات شخصیت
پیدائش 2 فروری 1915[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ہڈالی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 مارچ 2014 (99 سال)[2][1][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نئی دہلی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
زوجہ کاول ملک
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ رافل کالج دہلی
کنگز کالج لندن
پیشہ صحافی، مصنف، تاریخ دان
تصنیفی زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (1974)
پدم وبھوشن برائے ادب اور تعلیم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
خشونت سنگھ
ویب سائٹ
IMDB IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

فہرست

تعلیمترميم

پاکستانی پنجاب کے ضلع خوشاب کے قریب گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوئے جہاں انہوں نے اِسکول تک کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد وہ گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔

برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی اور انر ٹیمپل میں پڑھنے کے بعد انہوں نے واپس لاہور جا کر وکالت شروع کر دی تاہم تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان سمیت دلی میں بس گئے۔ وہ کچھ عرصہ وزارت خارجہ میں سفارتی عہدوں پر بھی تعینات رہے لیکن جلد ہی سرکاری نوکری کو خیرآباد کہہ دیا۔

صحافتی زندگیترميم

1951ء میں صحافی کی حیثیت سے آل انڈیا ریڈیو میں نوکری اختیار کر لی جہاں سے ان کے تابناک کیریر کا آغاز ہوا۔ وہ بھارت کے مشہور جریدے السٹریٹڈ ویکلی کے ایڈیٹر رہے اور ان کے دور میں یہ جریدہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا۔ خوشونت سنگھ ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی رہے۔

خوشونت سنگھ نے تقریبًا تمام مشہور ملکی اور غیر ملکی اخبارات کے لیے کالم لکھے۔ ان کی کتاب ’ہسٹری آف سکھ‘ یعنی سکھوں کی تاریخ اب تک اس سلسے میں ہونے والا سب سے منجمد کام سمجھا جاتا ہے۔

ادبی خدماتترميم

انہوں نے کئی ناول بھی لکھے اور ان کی کتابوں کی کل تعداد 80 ہے۔ ان کے ناول "ٹرین ٹو پاکستان" کو 1954ء میں عالمی شہرت یافتہ گروو پریس ایوارڈ دیا گیا۔ ان کے دو کالم بھارت کے چالیس انگریزی اخباروں میں چھپتے ہیں۔ اُن کی کتاب "ٹروتھ لو اند ا لٹل مالیس" جس کا ترجمہ نگارشات کر سچ محبت اور ذرا سا کینہ کے نام سے کیا حال پڑنے سے تلک رکھتی ہے آپ کی مشور کتابوں میں دیللی، ڈیتھ اٹ مائی دورسٹیپ بےحد شہرت کا حامل ہیں۔

اعزازاتترميم

خوشونت سنگھ کو 1974ء میں پدم بھوشن ایورارڈ دیا گیا جسے انہوں نے 1984ء میں گولڈن ٹیمپل آپریشن کے بعد واپس کر دیا[5]۔خوشونت سنگھ کو پنجاب رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔اور 1980ء سے لے کر 1986ء تک وہ راجیہ سبھا کے ممبر بھی رہے۔

وفاتترميم

خوشونت سنگھ نے 20 مارچ 2014ء کو اپنی دہلی کی رہائش گاہ پر وفات پائی۔ اُن کی وفات پر بھارت کے صدراور وزیر اعظم سمیت بہت سے لوگوں نے اظہار افسوس کیا۔[6]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ 1.0 1.1 آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=http://www.imdb.com/&id=nm0802153 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اکتوبر 2015
  2. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 11 مئی 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6zb1mv0 — بنام: Khushwant Singh — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 31 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  5. کالم: خشونت سنگھ
  6. "President, Prime Minister of India condole Khushwant Singh’s Demise"۔ IANS۔ news.biharprabha.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 March 2014۔ 

بیرونی روابطترميم