ایلن بیکر

انگریز ریاضی دان
ایلن بیکر
(انگریزی میں: Alan Baker ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Alan-Baker.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 19 اگست 1939[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 فروری 2018 (79 سال)[3][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کیمبرج  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش مملکت متحدہ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن رائل سوسائٹی، امریکی ریاضیاتی سوسائٹی، انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مقام_تدریس جامعہ کیمبرج
مقالات Some Aspects of Diophantine Approximation
مادر علمی یونیورسٹی کالج لندن
ٹرینٹی کالج، کیمبرج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ڈاکٹریٹ[4]  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ریاضی دان، استاد جامعہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[5]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل نظریۂ عدد، ریاضی  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ کیمبرج  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
فیلڈز انعام  (1970)
رائل سوسائٹی فیلو   ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایلن بیکر، ایف آر ایس (19 اگست 1939 – 4 فروری 2018[6]) ایک انگریز ریاضی دان تھا، وہ اپنے نظریۂ عدد سے متعلق کام پر جانا جاتا ہے، خاص طور پر جو ماورائی عدد کے نظریہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

زندگیترميم

ایلن بیکر لندن میں 19 اگست 1939ء کو پیدا ہوا۔ ایلن کو 1970ء میں جب اس کی عمر محض 31 سال تھی، ریاضی میں کیے گئے کام پر ریاضی کی دنیا کا سب سے اعلیٰ اعزاز فیلڈز انعام دیا گیا۔ اس کا علمی سفر یونیورسٹی کالج لندن میں ہارولڈ ڈاوینپورٹ کے بطور ایک طالب علم کے شروع ہوا اور بعد ازاں جامعہ کیمبرج، جہاں سے اس نے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 1970 کے موسم خزاں میں انسٹیٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی میں بطور مہمان پروفیسر کام کیا۔[7] ایلن بیکر ٹرینیٹی کالج، کیمبرج کا فیلو بھی رہا۔

ان کا پسندیدہ شعبہ نظریہ عدد تھا، transcendence، logarithmic forms, effective methods، Diophantine geometry اور Diophantine analysis۔

2012ء وہ امریکی ریاضیاتی سوسائٹی کا فیلو بنا۔[8]

کار نمایاںترميم

بیکر نے Gelfond–Schneider theorem کو عام کیا، اس نے خود Hilbert's seventh problem کا حل پیش کیا۔[9] خاص طور پر، بیکن نے ظاہر کیا کہ اگر   الجبری اعداد ہیں (مزیدبرآں 0 یا 1) اور اگر   غیر ناطق الجبری اعداد ہیں جیسا کہ سیٹ  خطی آزادانہ طور پر ناطق اعداد ہیں، تو پھر   ماورائی عدد ہے۔

منتخب کتابیاتترميم

  • ایلن، بیکر (1966)، "Linear forms in the logarithms of algebraic numbers. I"، میتھیمٹیکا، 13: 204–216، doi:10.1112/S0025579300003971، ISSN 0025-5793، MR 0220680 
  • ایلن، بیکر (1967a)، "Linear forms in the logarithms of algebraic numbers. II"، میتھیمٹیکا، 14: 102–107، doi:10.1112/S0025579300008068، ISSN 0025-5793، MR 0220680 
  • ایلن، بیکر (1967b)، "Linear forms in the logarithms of algebraic numbers. III"، میتھیمٹیکا، 14: 220–228، doi:10.1112/S0025579300003843، ISSN 0025-5793، MR 0220680 
  • ایلن، بیکر (1990)، Transcendental number theory، Cambridge Mathematical Library (اشاعت 2nd۔)، کیمبرج یونیورسٹی پریس، ISBN 978-0-521-39791-9، MR 0422171 ; 1st edition. 1975. [10]
  • ایلن، بیکر؛ Wüstholz، G. (2007)، Logarithmic forms and Diophantine geometry، New Mathematical Monographs، 9، Cambridge University Press، ISBN 978-0-521-88268-2، MR 2382891 

اعزازاتترميم

حوالہ جاتترميم

  1. خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  2. ^ ا ب بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12338485t — بنام: Alan Baker — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. Tributes Paid to Professor Alan Baker
  4. وصلة : https://d-nb.info/gnd/134145275  — اخذ شدہ بتاریخ: 30 مارچ 2015 — اجازت نامہ: CC0
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12338485t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. Trinity College website, accessed 5 فروری 2018
  7. Institute for Advanced Study: A Community of Scholars آرکائیو شدہ 6 جنوری 2013 بذریعہ وے بیک مشین
  8. List of Fellows of the American Mathematical Society، retrieved 2012-11-03.
  9. Biography in Encyclopædia Britannica. http://www.britannica.com/eb/article-9084909/Alan-Baker
  10. Stolarsky, Kenneth B. (1978). "Review: Transcendental number theory by Alan Baker; Lectures on transcendental numbers by Kurt Mahler; Nombres transcendants by Michel Waldschmidt". Bull. Amer. Math. Soc. 84 (8): 1370–1378. doi:10.1090/S0002-9904-1978-14584-4. http://www.ams.org/journals/bull/1978-84-06/S0002-9904-1978-14584-4/S0002-9904-1978-14584-4.pdf. 

بیرونی روابطترميم