مرکزی مینیو کھولیں
ایم ایم کلبرگی
ملیشپا ماڈیوالپا کلبرگی
Malleshappa Madivalappa Kalburgi
ایم ایم کلبرگی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 28 نومبر 1938(1938-11-28)ء
وفات 30 اگست 2015(2015-80-30) (عمر  76 سال)
دھارواڑ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی کرناٹک یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان کنڑ زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Marga 4) (2006)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

ملّیشَپا ماڈِوَلَپا کلبُرگی (کنڑا: ಮಲ್ಲೇಶಪ್ಪ ಮಡಿವಾಳಪ್ಪ ಕಲಬುರ್ಗಿ; 28 نومبر 1938 – 30 اگست 2015)[2] ایک بھارتی اسکالر ہیں، جو وچنا ساہتیہ (وچَنا ادب) کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ یہ ہمپی کے کنڑا یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کو اپنی خدمات کے لیے 2006ء میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔[3] یہ کنڑا زبان کے مشہور ادیب تھے۔ 1980ء میں لِنگایت طبقے نے یہ الزام لگایا کہ انہوں نے بارہویں صدی کے فلسفی بساوا پر تنقید کی ہے۔ بساوا کے پیروکار لِنگایت ہیں۔ 2014 میں بھی اننت مورتی کے خلاف بات کی تھی، جس کا اہم موضوع تھا کہ مورتی پوجا توہم پرستی کے سوا کچھ نہیں۔ مقتول کلبرگی اور ہندوتوا کے گروہ کے درمیان ہمیشہ رسّہ کشی ہوتی رہی۔[4] 30 اگست 2015 کی صبح کو دھارواڑ میں ان کے گھر کے قریب دو نامعلوم آدمیوں نے اسلحہ سے وار کیا اور ان کا قتل کر دیا۔[5]

فہرست

پیشہ وران سفرترميم

1966ء میں، کلبرگی کو کرناٹک یونیورسٹی کے کنڑ شعبہ میں پروفیسر کے طور پر پرموشن ملا۔ 1982ء میں کنڑ شعبہ کے چیئرمن منتخب ہوئے۔ بعد ازیں اُسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر تقرر پائے۔

مورتی پوجا تنارعہترميم

کلبرگی نے توہم پرستی کے خلاف ایک مہم شروع کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ توہم پرستی، اندھ وشواس کے خلاف ایک بِل بنا کر قانون بنایا جائے۔ انہوں نے یو۔ آر۔ اننت مورتی نامی مصنف کی کتاب کا بھی ذکر کیا۔ یہ کتاب 1996ء میں شائع ہوئی تھی، جس کا نام بیتھلے پوجے یاکے کوداڑو (ننگے مورتیوں کی عبادت کیوں منع ہے)، اس میں مصنف نے اپنے بچپن کے تجربات کو پیش کیا اور لکھا تھا کہ ہم مورتیوں پر پیشاب کرتے تھے اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے کہ ان میں (مورتیوں میں) کونسی آسمانی طاقتیں بسی ہیں۔ کلبرگینے اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی توہم پرستیوں سے کیا انجام نکل آتے ہیں۔[6] یہ بات کو لے کر ہندوتوا رائٹ ونگ گروہ وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شری رام سینانے احتجاج شروع کیا اور دونوں مصنفوں کے خلاف نعرے بازی کی۔[7] کنڑ زبان کے نقاد نٹراج ہولیار نے یہ الزام لگایا کہ کلبرگی نے جان بوچھ کر اننت مورتی کی باتوں کو توڑ موڑ کر پیش کیا۔[8]

قتلترميم

کرناٹک کے شہر دھارواڑ میں کلبرگی کے گھر کے قریب، صبح 8:40 تاریخ 30 اگست، 2015ء کو نامعلوم آدمی جو یہ نقل کر رہاتھا کہ وہ کلبرگی کا شاگرد ہے، کلبرگی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ کلبرگی کی اہلیہ اوما دیوی نے دروازہ کھولا انہیں اندر بلایا اور دونوں کے لیے کافی تیار کرنے اندر گئیں۔ دونوں میں سے ایک آدمی نے کلبرگی پر قریب سے گولی چلادی، وہ اور اس کا ساتھی موٹر سائکل پر فرار ہو گئے۔[9] فوراً انہیں ضلع سِوِل ہسپتال دھارواڑ لے جایا گیا۔ ڈاکٹرس نے یہ اعلان کیا کہ کلبرگی راستے ہی میں انتقال کر گئے۔[10]

تفتیشاتترميم

30 اگست ہی سے تفتیشات شروع کردی گئیں جس دن ان کا قتل ہوا تھا۔ اس کی تفتیش کے لیے ہبلی دھارواڑ پولیس نے اسسٹنٹ کمیشنر کی سربراہی میں پانچ انسپکٹروں پر مشتمل ایک اسپیشل ٹیم کو تشکیل دی ہے اور تفتیش جاری ہے۔[10][11]

تصانیفترميم

کلبرگی تقریباً 20 کتابیں لکھی، جس میں درج ذیل کتابیں مشہور ہیں :

  • نیرو نیرادی سِتو : Neeru Neeradisittu
  • سارنگرشی : Sarangarshi
  • کاچیٹور کلیان : Kachhittu Kalyan

اعزازاتترميم

  • تصنیف: مارگا 4، کے لیے کرناٹک ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ
  • مرکزی حکومت کی جانب سے ساہتیہ اکاڈمی ایوارڈ
  • جناپد ایوارڈ
  • یکشا گانا ایوارڈ
  • پمپا ایوارڈ
  • نروپاتُنگا ایوارڈ
  • رنّا ایوارڈ
  • بساوا پُرسکارا ایوارڈ - 2013
  • وچانا ساہتیہ ایوارڈ - 2013
  • ناڈوجا ایوارڈ

مزید دکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#KANNADA — اخذ شدہ بتاریخ: 8 اپریل 2019
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ dna1 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. "Kalburgi gets Sahitya Akademi award"۔ The Hindu۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 فروری 2010۔
  4. Sudipto Mondal۔ "Karnataka: Rationalist and scholar MM Kalburgi shot dead"۔ Hindustan Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اگست 2015۔
  5. "Kannada scholar and former VC of Hampi University MM Kalburgi shot dead"۔ news.biharprabha.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اگست 2015۔
  6. "Kannada Scholar Kalburgi Shot Dead, Third Rationalist to be Killed in Three Years"۔ The Wire۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اگست 2015۔
  7. Jacob Koshy۔ "Anti-Superstition Academic Kalburgi Shot Dead In Karnataka"۔ The Huffington Post (30 August 2015)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اگست 2015۔
  8. Nataraj Huliyar۔ "Scholar misquotes writer, starts humongous squabble"۔ The New Indian Express۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اگست 2015۔
  9. Manu Aiyappa۔ "Malleshappa M Kalburgi, controversial writer and scholar shot dead"۔ The Times of India۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اگست 2015۔
  10. ^ ا ب Nayak, Dinesh۔ "Kannada writer M.M. Kalburgi shot dead"۔ The Hindu۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اگست 2015۔
  11. "Former Karnatak University vice-chancellor M M Kalaburgi, who had run-ins with hardliners, shot"۔ The Indian Express۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اگست 2015۔ |first1= missing |last1= in Authors list (معاونت)

سانچہ:ابتدائی ترتیب:Kalburgi, M. M.