این جی مجمدار

ماہر آثار قديمہ

این جی مجمدار (انگریزی: N. G. Majumdar)، (پیدائش: یکم دسمبر،1897ء - وفات: 11 نومبر، 1938ء) بنگال سے تعلق رکھنے والے برطانوی ہند کے ماہرِ آثار قدیمہ تھے جس نے سندھ، پاکستان میں لوہے اور تانبے کے دور کے 62 آثار قدیمہ درریافت کیے۔

این جی مجمدار
Nani Gopal Mazumdar.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 دسمبر 1897  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیسور ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 نومبر 1938 (41 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحصیل جوہی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کلکتہ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر آثاریات،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائشترميم

این جی مجمدار یکم دسمبر،1897ء جیسور، برطانوی ہندوستان (مودہ بنگلہ دیش) کو ان کا اصل نام نینی گوپال مجمدار تھا۔

تعلیمترميم

1920ء میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے ایم اے کی ڈگری فرسٹ کلاس پوزیشن میں حاصل کی اور گولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے۔

ملازمتترميم

22 اپریل سے 9 مئی، 1929ء تک آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سینٹرل سرکل میں سپریٹنڈنٹ مقرر ہوئے۔ 11 مئی ،1929ء میں وہ انہیں کلکتہ میں اسٹنٹ سپریٹنڈنٹ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا مقرر کیا گیا۔ انہیں 1 اکتوبر، 1938ء میں وادی سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھنے والے آثار قدیمہ قبل از تاریخ دورانیے کے سروے پر مقرر کیا گیا۔ مجمدار نے سندھ میں لوہے اور تانبے کے دور کے 62 آثار قدیمہ درریافت کیے، موہنجو دڑو میں کھددائی میں سر جان مارشل کی مدد کی اور اس علاوہ انہوں نے وادی سندھ کی تہذیب کے آثار قدیمہ آمری، کاہو جو دڑو ، چانہو جو دڑو اور دیگر کئی مقامات دریافت کیے۔[1]

سندھ میں تحقیقترميم

مجمدار نے پہلی بار 1927ء میں سندھ کی سیر کی ۔ ایک چھوٹی گرانٹ کی مدد سے، 1927-28 میں، مجمدار نے موہنجوداڑو کے قریب جھوکر کی وادی سندھ کی جگہ کی کھدائی کی۔ مارچ 1930ء میں، مجمدار نے تھرو ہل اور چنہوداڑو کے دو نئے مقامات کی کھدائی کی ۔

اکتوبر 1930ء میں، مجمدار نے موہنجوداڑو کے قریب ڈوکری چھوڑی اور کیرتھر پہاڑوں کے ساتھ جنوب مغرب کی طرف روانہ ہوئے ۔ مارچ 1931ء میں جب وہ واپس آئے، مجمدار نے 32 سے زیادہ پراگیتہاسک مقامات دریافت کر لیے تھے۔ مجمدار نے اپنی کتاب ایکسپلوریشن ان سندھ (1934ء) میں اپنی تلاش اور کھدائی کی تفصیلی رپورٹ لکھی۔

یکم اکتوبر 1938ء کو، مجمدار کو ایک بار پھر سندھ میں وادی سندھ کے مقامات کی تلاش کے لیے چھ ماہ کے لیے تعینات کیا گیا۔ مجمدار نے 200 میل سے زیادہ پیدل سفر کیا اور چلکولیتھک دور کے نصف درجن مقامات دریافت کیے۔

وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کی کھوج میں 1926ء سے 1930ء تک مجمدار نے اپنی ٹیم کے ساتھ کئی قدیم مقامات دریافت کیے جن میں کاہو جو دڑو، چنہیوں جو دڑو، کوٹ ڈیجی، روہڑی، لوہم جو دڑو، واہی پاندھی کے ٹیلے، غازی شاہ دڑو، گورانڈی کے ٹیلے، جھکر کے ٹیلے، علی مراد دڑو، ٹنڈو رحیم ٹیلہ، منچھر جھیل کے کناری پیر لاکھیو دڑو، پیر مشاخ، لہڑی، ٹہنی کے ٹیلے، نئیگ وادی میں لکھمیر کا ٹیلہ، آمری تہذیب کے ٹیلے وغیرہ شامل ہیں۔ سندھ میں ضلع ٹھٹہ میں واقع تھارو پہاڑی کے آثار اور سیہون کے قریب جھانگارا کے قدیم آثار بھی انہی کی دریافت بتائے جاتے ہیں۔

وفاتترميم

این جی مجمدار کو 11 نومبر، 1938ء میں ضلع دادو کے تحصیل جوہی کے قریب کھیر تھر پہاڑی سلسلے میں قتل کیا گیا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم