ایچ آئی وی/ایڈز

(ایچ آئی وی سے رجوع مکرر)

محصولی کسرمناعی متلازمہ، ایڈز علامات اور اثرات کے مجموعہ کو کہتے ہیں جو ایچ آئی وی وا‎ئرس لا زکاموائرسوں مثلا زکامایک بار جسم میں داخل ہوجاتا ہے تو پھر ہمیشہ (کم ازکم موجودہ وقت میں) کے لیے جسم میں ہی رہتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ جسم میں اپنی تعداد اور تخریب کاری میں اضافہ کرتا چلاجاتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان یہ خون کے سفید خلیات کو پہنچاتا ہے جن کا سائنسی نام T-خلیہ ہے، ان سفید خلیات کو CD4 خلیات بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ بعد میں ذکر کی جائے گی۔

جب یہ ایڈز وائرس، خون کے CD4 خلیات کو مستقل مارتا اور ختم کرتا رہے تو انسانی جسم میں ان کی تعداد کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے اور اسی کی وجہ سے انسان میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ سفید خلیات کی CD4 قسم مدافعتی نظام میں بہت اہم کردار رکھنی ہے اور جب یہ وائرس کے باعث ختم ہوجاتے ہیں تو جسم کی مدافعت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ عام طور انسانی جسم میں ان کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار تک ہوتی ہے اور جب یہ HIV کی وجہ سے کم ہو کر 200 تک رہ جائے تو اس شخص کو ایڈز کا مریض تشخیص کر دیا جاتا ہے ۔

ایڈز کی وجہ کیا ہے؟

ترمیم

ایچ آئی وی وائرس ہے کہ آہستہ آہستہ مدافعتی نظام کے خلیات پر حملہ ہے۔ جیسا کہ ایچ آئی وی آہستہ آہستہ ان خلیات کو پہنچنے والے نقصانات، جسم کی انفیکشن، جو اس بند کے خلاف جنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کے زیادہ خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ یہ بہت اعلیٰ درجے کی ایچ آئی وی کے انفیکشن کے نقطہ پر ہے کہ ایک شخص کو ایڈز سے کہا جاتا ہے۔ اگر چھوڑ علاج کئی سال تک دس کے ارد گرد، اس سے پہلے ایچ آئی وی کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچا کافی ہے ایڈز کے لیے تیار کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔

ایڈز اور ایچ آئی وی میں فرق

ترمیم
  • HIV ایک انفیکشن (عدوی) ہے جو اسی نام کے HIV وائرس کے جسم میں داخل ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ایچ آئی وی کا وائرس مستقل جسم میں رہ جاکی قوت مدافعت میں کمی واقع ہوتی چلی جاتی ہے
  • AIDS اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب HIV کا وائرس یا انفیکشن (عدوی) جسم میں موجود ہو اور ساتھ ہی ساتھ درج ذیل میں سے کوئی علامت پھی پائی جاتی ہو
  • ٹی خلیات کی تعداد 200 تک یا اس سے کم ہو جائے
  • کوئی ایسا عدوی جسم کو بیمار کر دے جو عام حالت میں جسم کی قوت مدافعت سے ختم کیا جا سکتا ہے اور صرف قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے ہی بیماری پیدا کرتا ہے، مثلا چند اقسام کے پھیپڑوں کے عدوی، آنکھ کے عدوی، حلا نطاقی یا زونا (herpes zoster)، چند اقسام کے سرطان جیسے kaposi sarcoma وغیرہ۔

ایڈز کو یوں سمجھ لیجیئے کہ یہ ایک اپنی انتہا پر پہنچا ہوا HIV عدوی (انفیکشن) ہے جو جسم کی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت اس قدر کم کردیتا ہے کہ پھر وہ جراثیم بھی جو عام طور پر بیماری پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتے، بیماریاں پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں کیونکہ ایچ آئی وی کی وجہ سے خون کے T-خلیات اس حد تک کم ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان کمزور جراثیموں کا مقابلہ بھی نہیں کرپاتے۔

اشارات و علامات

ترمیم

یہاں ایک بات کی وضاحت اشد ضروری ہے کہ

  1. علامات سے مراد کسی مرض کے وہ اثرات ہوتے ہیں جو مریض محسوس کرتا ہے اور اس کی شکایت ہوتی ہے، اس کو انگریزی میں Symptoms کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی مضمون علامات (Symptoms) پر دیکھیے
  2. اشارات سے مراد کسی مرض کے وہ اثرات ہوتے ہیں جو مریض محسوس نہیں کرجاتا بلکہ طبیب (Doctor) مریض کے طبی معائنے پر معلوم کرتا ہے۔ اس بارے میں تفصیلی مضمون اشارات (Signs) دیکھیے

ایڈز ایک خطرناک مرض ہے جس سے بچاؤ کی ہرتدبیر کرنا لازم ہے۔ گو کہ ایڈز کا معالجہ فراہم کیا جا سکتا ہے جو متاثرہ فرد کی زندگی کو سہل بنا سکتا ہے، اس کی طوالت میں کچھ اضافہ کر سکتا ہے لیکن اس مرض کی ابھی تک کوئی یقینی شفاء نہیں دریافت کی جاسکی، ہاں حیاتی طرزیات، سالماتی حیاتیات اور وراثی ہندس کی مدد سے چند نہایت موثر اور بالکل نئے انداز سے بنائی گئی چند ادویات مثلا DNA ویکسین کی آزمائش خاصی کامیاب رہی ہے مگر ابھی تک یہ تمام کام تحقیقی اور تجرباتی مراحل میں ہے اور اس نئے اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائے گئے طریقہء علاج جس کو وراثی معالجہ کے زمرے میں رکھا جاتا، کی مدد سے جلد ہی ایڈز کا کامیاب اور مکمل علاج دریافت کیے جانے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔

  • اس کی علامات مختلف افراد میں مختلف مل سکتی ہیں جن میں اہم یہ ہیں۔
  1. ہو سکتا ہے کہ کوئی علامت یا مرض کا اشارہ اور تکلیف ظاہر ہی نہ ہو۔ لیکن عام طور پر HIV کے عدوی کے (ایڈز) کے مختلف علامات و اشارات ملتے ہیں جن کی شددت مرض کے عرصہ اور مریض کی جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں
  2. مدافعتی نظام کے کمی کے باعث پیدا ہونے والے ایسے امراض جن کا انسانی جسم عام طور پر مقابلہ کر کے محفوظ رہتا ہے وہ بھی بیماریاں پیدا کرتے ہیں
  3. لمفی عقدوں (lymph nodes) متورم ہوجانا یعنی بڑھ جانا
  4. بخار، سردی کا لگنا اور پسینہء شب (سوتے میں پسینہ)
  5. دست
  6. وزن میں کمی
  7. کھانسی اور سانس میں تنگی
  8. مستقل تھکاوٹ
  9. جلد پر زخم (جو مناعہ کی کمی کے باعث ہوتے ہیں)
  10. مختلف اقسام کے نمونیائی امراض
  11. آنکھوں میں دھندلاہٹ اور سردرد

HIV کیسے جسم میں داخل ہوتا ہے؟

ترمیم

قابل اطمنان بات ہے کہ ایڈز وائرس یعنی HIV دیگر وبائی (عدوی) امراض کی طرح کسی متاثرہ شخص کے قریب ہونے، بات کرنے، اس کو چھونے یا اس کی استعمال کردہ چیزوں کو ہاتھ لگانے سے جسم میں داخل نہیں ہوجاتا۔ اس کے جسم میں داخل ہونے کے اہم اسباب یہ ہیں۔ زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ ایچ آئی وی وائرس کا آغاز بیسویں صدی میں شمالی افریقہ کے علاقہ سحارہ سے شروع ہوا۔ لیکن اب یہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور ایک اندازہ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں تین کروڑ چھیاسی لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ جنوری 2006ء میں اقوام متحدہ اور عالمی صحت کی تنظیم (World Health Organization) کے مشترکہ اعداد و شمار کے مطابق 5 جون 1981ء میں ایڈز کی جانکاری کے بعد سے اس وقت تک تقریباً 2 کروڑ پچاس لاکھ افراد ہلاک ہو چکے تہے۔ صرف 2005ء میں ایڈز سے 24 لاکھ سے 33 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 5 لاکھ ستر ہزار بچے تہے۔ ان میں سے ایک تہائی اموات صرف سہارا کے افریقی علاقہ میں ہو رہی ہیں جس سے معاشیات سے لے کر افرادی قوت تک ہر شعبہ کو متاثر ہو رہا ہے۔ مدافعتی ادویات (Antiretroviral) مدد گار ہیں لیکن ان ادویات تک رسائی تمام ممالک میں ممکن نہیں ہے۔

  1. مردوں اور عورتوں کے جنسی اعضاء سے ہونے والے سیال افرازات (اخراجات) یا رطوبتیں، یعنی مردوں میں نظفہ (semen) اور عورتوں میں مھبلی افراز (الف کے نیچے زیر—ifraz) جس کو انگریزی میں vaginal secretion کہتے ہیں
  2. متاثرہ شخص کے خون سے لمس
  3. لعاب (saliva) یعنی آب دھن یا تھوک (جفت گیری کے دوران میں بوسے) سے اس کے لگ جانے کے شواہد نہیں ملتے
  4. حقنہ (انجکشن) کی سوئی کا مشترکہ استعمال سے
  5. نقل الدم (blood transfusion) سے (اگر خون چڑھانے سے قبل اس کی پڑتال میں کوتاہی کی گئی ہو)
  6. متاثرہ عورتیں اس کو اپنے بچوں کو دوران میں حمل، دوران میں ولادت یا بعد از پیدائش دودھ کے ذریعہ منتقل کرسکتی ہیں

مزید دیکھیے

ترمیم
لاتعلقیت: اس مضمون میں مرض سے متعلق معلومات اور ادویات کی وضاحت صرف علمی معلومات مہیا کرنے کی خاطر دی گئی ہیں انکا مقصد نا تو علاج میں کسی قسم کی مداخلت کرنا ہے اور نا ہی معاونت کرنا یا کوئی مشورہ فراھم کرنا، یہ کام اس طبیب کا ہے جسکے زیر اثر مریض ہو۔ کسی طبیب کے مشورے کے بغیر ادویات کا استعمال یا خود علاج کی کوشش شدید نقصان کا باعث ہوسکتی ہے۔ مزید یہ کہ طب ایک تیزرفتاری سے تبدیل ہوتے رہنے والا شعبۂ علم ہے اور اس صفحہ کی معلومات مستقبل میں ہونے والی تحقیق کی وجہ سے تبدیل ہوسکتی ہیں، انہیں مستقل تادمِ تاریخ کرتے رہنے کی ضرورت ہوگی۔

حوالہ جات

ترمیم