ایکتارا

موسیقی کا آلہ ، ایک تار تار گردن ڈرون لیوٹ۔ بانس کی گردن یا بانس کی ایک چھڑی ہوسکتی ہے۔

ایکتارا یا ایک تارا (ہندی: एकतारा‎)، ((بنگالی: একতারা)‏)، (پنجابی: ਇਕ ਤਾਰਾ‎) ایک ایسا موسیقی کا آلہ ہے جس میں صرف ایک ہی تار ہوتا ہے۔ اس آلۂ موسیقی کے دیگر ناموں میں اِکْتار، ایکتار، یکتارو، گوپی چند، گوپی چنت، تنتنا بھی ہیں۔ اس آلہ اکثر روایتی موسیقی بجانے کے لیے بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور مصر میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ایکتارا

اپنے آغاز کے دور میں ایکتارا ایک باضابطہ دھارے دار موسیقی کا آلہ تھا جسے گھومتے اور جھومتے ہندوستان کے شاعر انگلی سے تارے کو کھینچ کر ساز کی آواز پیدا کرتے تھے اور اپنے ذاتی فن کے ساتھ مظاہرہ کرتے تھے۔ یہ پھیلا ہوا ساز ہے جس میں گونجنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس کی ساخت میں سانس کا حصہ اوپر جوڑ دیا جاتا ہے۔[1]

ایکتارا کا استعمال

ترمیم

ایکتارا بجانے والا اس آلے کو کھڑا رکھتا ہے۔ پھر اس کے اوپری حصے کو ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ وہ یہ ہاتھ اس مقام سے اوپر رکھتا ہے جہاں پر گونچ کا اثر چھوٹتا ہے۔ وہ ایکتارے کے تار یا تاروں کو اسی ہاتھ کی اپنی شہادت کی انگلی سے بجاتا ہے۔ اگر وہ رقص بھی کر رہا ہوتا ہے، تو وہ گونج والے حصے کو دوسرے ہاتھ سے پکڑتا ہے۔[2] دونوں ہاتھوں سے اوپری حصے کو دبانے اور تار کو ڈھیلا کیا جاتا ہے، جس سے آواز دھیمی پڑتی ہے۔ اوپری حصے کے ذرا سے جھکاؤ سے الگ الگ دھن نکل کر آتے ہیں۔ ایسا کوئی نشان یا پیمائش موجود نہیں ہے کہ کتنے دباؤ سے کیا دھن رو نما ہو سکتی ہے، اس وجہ دباؤ کان سے ڈالا جاتا ہے۔[3] ایکتارا کے مختلف سائز ہوا کرتے ہیں۔ ان میں سوپرانو، تینور اور باس شامل ہیں۔ باس کو کئی بار دوتارا بھی کہا جاتا ہے اور اس میں دو تار ہوتے ہیں۔[4]

ایکتارا بنانے کا آسان طریقہ

ترمیم

ایکتارا میں خاص بات یہ ہے کہ اس سے دیگر روایتی مزامیر کی طرح سات سر نکلتے ہیں۔اس آلے سے کسی بڑی تقریب میں سنگت بھی کی جا سکتی ہے۔ موسیقی کے تلامذہ یہ ثابت کر چکے ہیں کہ اسے بنانے میں محض 30 روپے کی لاگت آسکتی ہے۔ اس اجزاء میں ایک تارا، تانپرا، بھپنگ اور تمبورا کی آمیزش ہے۔ تاہم گھریلو طور پر بنانے کے لیے کافی کم لاگت آئی ہے، کیونکہ اسے بنانے کے لیے معمولی چیزوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسی چیزیں ہیں، جو ہر گھر میں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ آلے کو ایک ٹین کے ڈبے، پرانے ڈھولک کے پلے، ایک لمبی گول لکڑی، ایک تار اور کیل سے تیار کیا جا سکتا ہے۔[5]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Allyn Miner (1999)۔ South Asia: The Indian Subcontinent۔ Routledge۔ صفحہ: 343۔ اخذ شدہ بتاریخ 07 ستمبر 2014 [مردہ ربط]
  2. "Ektar"۔ Oxford Music Online۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2014 [مردہ ربط]
  3. "Ektara"۔ Musical Instruments Archives۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2014 
  4. Lillian Henry۔ "What is Kirtan Music"۔ Entertainment Scene 360۔ 01 جولا‎ئی 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2014 
  5. take inspiration from beggar, make music instrument in thirty rupee