بندر عباس جنوب مشرقی ایران کا شہر اور صوبہ ہرمزگان کا دار الحکومت ہے۔ یہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے کنارے واقع ہے اور اپنے بہترین محل وقوع اور بندرگاہ کے باعث جانا جاتا ہے۔ 2005ء کے اندازوں کے مطابق شہر کی آبادی تین لاکھ 52 ہزار 173 ہے۔

بندر عباس
(فارسی میں: بندرعَباس ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

انتظامی تقسیم
ملک ایران  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1][2]
دار الحکومت برائے
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 27°12′N 56°15′E / 27.2°N 56.25°E / 27.2; 56.25  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی
آبادی
کل آبادی
  • مرد
  • عورتیں
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+03:30  ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رمزِ ڈاک
79177  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 0761  ویکی ڈیٹا پر (P473) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 141681  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Map

جغرافیہ ترمیم

بندر عباس سطح سمندر سے 9 میٹر اوسط بلندی پر واقع ہے۔ شہر کے قریبی ترین بلند علاقے جینو اور پولادی کے پہاڑ ہیں جو بالترتیب 17 اور 16 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہیں۔ شہر کا قریب ترین دریا دریائے شور ہے جو جینو پہاڑ سے نکل کر شہر کے مشرقی جانب 10 کلومیٹر دور خلیج فارس میں گرتا ہے۔

موسم ترمیم

بندر عباس گرم اور نم موسم کا حامل ہے۔ موسم گرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ 49 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ سردیوں میں کم از کم درجہ حرارت 5 درجے سینٹی گریڈ ہوجاتا ہے۔ شہر میں اوسطاً سالانہ 251ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

ذرائع نقل و حمل ترمیم

بندر عباس مذکورہ شاہراہوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے :

  • بندر عباس۔ سرجان 300 کلومیٹر از شمال مغرب
  • بندر عباس۔ کرمان 484 کلومیٹر از شمال مغرب
  • بندر عباس۔ شیراز 650 کلومیٹر از شمال
  • بندر عباس۔ زاہدان 722 کلومیٹر از مشرق
  • بندر عباس میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی موجود ہے۔

مصنوعات ترمیم

کھجور، تمباکو، پھل اور دیگر مصنوعات

برآمدات ترمیم

کھجور، پھل، تمباکو، مچھلی اور دیگر مصنوعات

تاریخ ترمیم

تاریخ میں بندر عباس کا پہلا ذکر 586 تا 522 قبل مسیح میں دارا کے دور میں ملتا ہے جب اس کے سپہ سالار سیلاکوس بندر عباس سے بھارت اور بحیرہ احمر کے لیے روانہ ہوئی۔ سکندر اعظم کی سلطنت فارس کے خلاف فتوحات کے وقت بھی یہ شہر ہرمرزاد کے نام سے موجود تھا۔

16 ویں صدی میں پرتگیزیوں نے خطے میں اپنا قبضہ مستحکم کیا۔ انھوں نے اس قصبے کے گرد فصیل تعمیر کی اور اسے گمرو (Gamru) کا نام دیتے ہوئے بندرگاہ کا درجہ دیا۔ شہر کا نام ایران کے صفوی بادشاہ عباس اول ”اعظم“ (1588ءتا 1629ء) کے نام پر بندر عباس رکھا گیا جنھوں نے برطانیہ کی مدد سے آبنائے ہرمز پرتگیزیوں کو بحری جنگ میں شکست دی۔ شاہ عباس نے بندر کے نام سے یہاں ایک بڑی بندرگاہ تشکیل دی۔ 1740ء سے بندرگاہ عرب حکمرانوں کے زیر قبضہ رہی جبکہ 1780ء سے مسقط کے حکمرانوں کے زیر تصرف آ گئی۔ مسقط اور اومان کے زوال کے دوران اس پر ایک مرتبہ پھر ایران کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔

بندر عباس درآمدات کے لیے ایران کی اہم ترین بندرگاہ ہے اور ہندوستان کے ساتھ تجارت کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح شہر اور قریبی جزائر دیکھنے کے لیے علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

بیرونی روابط ترمیم

  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1.    "صفحہ بندر عباس في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2024ء 
  2.     "صفحہ بندر عباس في ميوزك برينز."۔ MusicBrainz area ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2024ء