خالد بن ولید

عرب کے سپہ سالار اور صحابی رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

ابو سلیمان خالد بن ولید ابن مغیرہ المخزومی (عربی: خالد بن الوليد بن المغيرة المخزومي)‏؛ اسلامی پیغمبر محمد Mohamed peace be upon him.svg اور خلفائے راشدین ابو بکر (د. 632–634) اور عمر (د. 634–644) کے عہد میں عرب فوجی کمانڈر تھے۔ انہوں نے 632ء-633ء میں عرب میں باغی قبائل کے خلاف جنگوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی مہمات، 633ء-634ء میں ساسانی عراق میں اور 634ء-638ء میں بازنطینی شام کی فتح میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

خالد بن ولید
(عربی میں: خالد بن الوليد ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 592  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ[1]،  حجاز،  عرب قبل از اسلام  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 642 (49–50 سال)[2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ،  حمص[4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مسجد خالد بن ولید  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد الرحمن بن خالد،  مہاجر بن خالد،  سلیمان بن خالد  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ولید بن مغیرہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ لبابہ صغرى  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاخ خلافت راشدہ کی فوج  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ کمانڈر ان چیف (632–638)  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کمانڈر خلافت راشدہ کی فوج  ویکی ڈیٹا پر (P598) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو سلیمان تاریخ کے ان چند فوجی کمانڈروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ساری زندگی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔ خالد بازنطینی رومی سلطنت، فارسی ساسانی سلطنت اور ان کے اتحادیوں کے اعلیٰ افواج کے خلاف سو سے زائد لڑائیوں میں ناقابل شکست رہے۔

نسب اور ابتدائی زندگی

خالد کی ولادت کی صحیح تاریخ کے بارے میں تاریخ کی کسی بھی کتاب میں ذکر نہیں ملتا ہے۔ اے آئی اکرم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ خالد بن ولید اور عمر بن خطاب نے کشتی لڑی جس میں خالد نے عمر کی پنڈلی توڑ ڈالی جو کافی علاج کے بعد ٹھیک ہو گیی۔[6] اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہم عمر تھے۔ خالد کے والد ولید بن مغیرہ تھے، جو حجاز کے مکہ میں مقامی تنازعات کے ثالث تھے۔


کتابیات

  • اکرم، اے. آئی. (2007). خالد بن ولید، اللہ کی تلوار. برمنگھم. 

حوالہ جات

  1. عنوان : Халид ибн Валид
  2. عنوان : Халид ибн Валид
  3. عنوان : Халид
  4. عنوان : Халид ибн Валид — اقتباس: Умер от болезни в Хомсе (Сирия).
  5. عنوان : Халид — اقتباس: Ум. в 642 г. в Эмесе.
  6. اکرم 2007, p. 1.