خالد بن ولید

عرب کے سپہ سالار اور صحابی رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

خالد بن ولید (عربی: خالد بن ولید بن المغیرۃ المخزومی) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سپہ سالار اور ابتدائی عرب تاریخ کے بہترین سپاہی تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کے بعد انہوں نے ریاست مدینہ کے خلاف ہونے والی بغاوتوں کو کچلنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد خالد بن ولید نے ساسانی اور بازنطینی سلطنتوں کو شکست دیکر نہ صرف مدینہ کی چھوٹی سی ریاست کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ بلکہ پہلے درجہ کے عالمی فاتحین میں بھی اپنے آپ کو شامل کرالیا۔

خالد بن الوليد
Khalid Bin Al-Walid.gif
سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ، عربی خطاطی میں
عرفسیف اللہ
پیدائش592ء
مکہ، عرب
وفات642ء
حمص، شام
مدفن
وفاداریFlag of Afghanistan pre-1901.svg خلافت راشدہ
سروس/شاخجیش خلفائے راشدین
سالہائے فعالیت632ء–638ء
درجہجامع
یونٹگشتی محافظ
آرمی عہدہکمانڈر (632–634)
جنگی سالار(634–638)
سالار گشتی محافظ دستہ (634–638)
فوجی گورنر عراق (633–634)
گورنر شام (637–638)

نام ونسب

خالدنام،ابوسلیمان کنیت،سیف اللہ لقب،سلسلہ نسب یہ ہے،خالد بن ولید ابن مغیرہ بن عبداللہ بن عمروبن مخزوم مخزومی،ماں کانام لبانہ تھا، یہ ام المومنین حضرت میمونہؓ کی قریبی عزیز تھی۔

خاندانی حالات

خالدؓ کاخاندان زمانہ جاہلیت سے معزز چلا آتا تھا ،قبہ اور اعنہ یعنی فوج کی سپہ سالاری اور فوجی کیمپ کے انتظام کا عہدہ ان ہی کے خاندان میں تھا [1] اورظہور اسلام کے وقت خالد اس عہدہ پر ممتاز تھے [2] چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کا جو دستہ مسلمانوں کی نقل وحرکت کا پتہ لگانے آیا تھا، اس کے سردار خالد تھے،(بخاری کتاب المغازی الشروط فی الجہاد والمصافحہ مع اہل العرب) غزوۂ احد میں مسلمانوں کے خلاف بڑی شجاعت سے لڑے اور مشرکین مکہ کے اکھڑے ہوئے پاؤں ان ہی کی ہمت افزائی سے دوبارہ جمے۔

اسلام

ان کے اسلام کے بارہ میں مختلف روایتیں ہیں، سب میں مستند روایت مسند احمدبن حنبل کی ہے، جو عمروبن العاصؓ کے اسلام کے سلسلہ میں اوپر لکھی جاچکی ہے اس کی رو سے ان کے اسلام کا زمانہ ۶ اور ۸ھ کے درمیان ہے، عمروبن العاصؓ جب اسلام لانے کے قصد سے حبشہ سے چل کر عرب آئے اوراس کے لیے مدینہ کا رخ کیا تو راستہ میں قریش کا ایک اورخوش قسمت ہیرو اسی غرض سے مدینہ کارخ کرتا ہوانظر آیا، یہ خالد بن ولید تھے، وہ بھی اسلام ہی لانے کی نیت سے مدینہ جارہے تھے، عمروؓ بن العاص نے ان کو راستہ میں دیکھ کر پوچھا کہاں کا قصد ہے، بولے خدا کی قسم خوب پانسہ پڑا ،یہ شخص آنحضرت ﷺ یقینا ًنبی ہے ،چلو اسلام کا شرف حاصل کریں ،آخر کب تک؟چنانچہ یہ دونوں ایک ساتھ خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوئے اور پہلے خالدؓ پھر عمروبن العاصؓ مشرف باسلام ہوئے۔ [3]

ہجرت

قبولِ اسلام کے بعد عمروبن العاصؓ مکہ لوٹ آئے،مگر خالدؓ بن ولید نے مدینہ ہی میں مستقل قیام اختیار کرلیا۔

غزوات

جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ ظہور اسلام کے وقت خالدؓ اپنے خاندانی عہدہ پر ممتاز تھے ،اسلام کے بعد بھی آنحضرت ﷺ نے ان کا یہ اعزاز قائم رکھا،اس سے فتوحات اسلامی میں بڑی مددملی،[4] خالدؓ جس طرح قبول اسلام سے پہلے مسلمانوں کے سخت دشمن تھے، اسی طرح اسلام کے بعد مشرکوں کے لیے سخت ترین خطرہ بن گئے، چنانچہ اکثر غزوات میں ان کی تلوار مشرکین کا شیرازہ بکھرتی رہی۔

غزوۂ موتہ

اسلام لانے کے بعد سب سے پہلے غزوۂ موتہ میں شریک ہوئے، اس کا واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دعوتِ اسلام کے سلسلہ میں حارث بن عمیر ازدی کے ہاتھ ایک خط شاہ بصری کے پاس بھیجا تھا، یہ بزرگ خط لے کر مقام موتہ تک پہنچے تھے کہ شرجیل ابن عمرو غسانی نے شہید کردیا، آنحضرت ﷺ اور عام مسلمانوں پر اس کا سخت اثر ہوا؛ چنانچہ آپ نے اس کے انتقام کے لیے ۲ ہزار کی جمعیت زید بنؓ حارثہ کی سرکردگی میں روانہ کی،[5] اور ہدایت فرمائی کہ اگر زید شہیدہوں تو جعفران کی جگہ لیں، اور یہ بھی شہید ہوں تو عبداللہ بن رواحہ قائم مقامی کریں؛ چنانچہ اسی ترتیب سے تینوں بزرگوں نے میدان جنگ میں جامِ شہادت پیا، آخر میں خالدؓ نے علم سنبھالا، [6] مگر مسلسل تین افسروں کی شہادت سے مسلمانوں کے دل ٹوٹ چکے تھے، اس لیے وہ دوبارہ شکست تو نہ دے سکے، مگر خالدؓ اپنی جنگی قابلیت سے باقی ماندہ فوج کو بچالائے،اسی جنگ میں خالدؓ کے ہاتھ سے ۹تلواریں ٹوٹی تھیں جس کے صلہ میں آنحضرت ﷺ نے ان کو"سیف اللہ" کا معزز لقب عطا فرمایا تھا۔ [7]

فتح مکہ

فتح مکہ میں میمنہ کے افسر تھے،[8] لیکن جنگ کی نوبت نہیں آئی، روسائے قریش نے بلا مزاحمت ہتھیار ڈال دیے، صرف چند مشرک خالدبن ولیدؓ کے ہاتھوں مارے گئے ،اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرتﷺ نے خالدؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنا دستہ مکہ کے بالائی حصہ کدا کی جانب سے لےکر آئیں، چنانچہ یہ آرہے تھے،کہ راستہ میں مشرکوں کا ایک جتھا مزاحم ہوا اور پیہم تیر بازی شروع کردی، خالدؓ نے بھی جوابی حملہ کیا، اس میں چند مشرک مارے گئے،آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ نے باز پرس کی، انہوں نے کہا کہ ابتداان ہی کی جانب سے ہوئی تھی، آپ نے فرمایا خیر مرضی الہی بہتر ہے۔ [9]

غزوۂ حنین

فتح مکہ کے بعد بنو ثقیف وہوازن" اوطاس" کے میدان میں جمع ہوئے، آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ بارہ ہزار فوج کے ساتھ مقابلہ کو نکلے،قبیلوں کے لحاظ سے فوج کے مختلف حصے تھے، بنو سلیم کا قبیلہ مقدمۃ الجیش تھا، اس کی کمان خالدؓ کے ہاتھ تھی،[10] چنانچہ اس جنگ میں وہ نہایت شجاعت وشہامت سے لڑے اوربہت سے وار جسم پر کھائے، آنحضرت ﷺ عیادت کے لیے تشریف لائے زخموں کو دم کیا اورخالدؓ جلد شفایاب ہوگئے۔ [11]

طائف

حنین کے مشرکوں کی شکست خوردہ فوج بڑھ کر طائف کے قلعہ میں بند ہو گئی اورجیسے ہی مسلمان ادھر سے گذرے اس نے قلعہ کے اندر سے تیر برسانا شروع کردیے، بہت سے مسلمان شہید ہوگئے،مسلمانوں نے بھی مدافعانہ حملہ کیا، اس فوج کا مقدمۃ الجیش بھی خالد کی ماتحتی میں تھا۔ [12]

تبوک

۹ھ میں آنحضرت ﷺ کو خبر ملی کہ رومیوں نے مسلمانوں کے خلاف شام میں فوج جمع کی ہے اوراس کا مقدمۃ الجیش بلقا تک پہنچ چکا ہے، چنانچہ آپ ۳ہزار فوج لے کر مقابلہ کو نکلے،لیکن خبر غلط نکلی اورجنگ کی نوبت نہیں آئی، تاہم احتیاطاً ۲۰دن مقام تبوک میں آپ نے قیام فرمایا،[13] اس نواح کے عربی النسل عیسائی روسا قیصر روم کے ماتحت تھے، ان ہی کے ذریعہ سے رومی ریشہ دوانیاں کیا کرتے تھے، اس لیے ان کا مطیع کرنا ضروری تھا، چنانچہ ایلہ اور اوزح کے رئیسوں نے اطاعت قبول کرلی، [14] صرف دومۃ الجندل کا رئیس اکیدر بن عبدالملک باقی رہ گیا، آنحضرت ﷺ نے خالدؓ کو چار سو آدمیوں کے ساتھ اس کو مطیع بنانے پر مامور فرمایا،اس کے بھائی حسن نے مقابلہ کیا مگر ماراگیا اور اس کے بقیہ ساتھی بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزین ہوگئے،خالد نے اکیدر کو گرفتار کرکے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا، یہاں آکراس نے بھی جزیہ دے کر اطاعت قبول کرلی اور آپ نے اس کو جان و مال کا امان نامہ عطا فرمایا۔ [15]

سریہ بنو حزیمہ

اس سنہ میں دعوت اسلام کے سلسلہ میں آنحضرتﷺ نے خالدؓ کو تین سو مہاجرین وانصار کے ساتھ بنو حذیمہ کی طرف بھیجا، انہوں نے آپ کی ہدایت کے مطابق ان کو اسلام کی دعوت دی، انہوں نے قبول کرلی، مگر ناواقفیت کی وجہ سے صحیح الفاظ میں اسلام کا اظہار نہ کرسکے اور بجائے "اسلمنا" کے یعنی ہم اسلام لائے، "صبانا" کہا یعنی ہم بے دین ہوگئے، مشرکین سے وہ مسلمانوں کو "صابی" بے دین کہتے سنتے تھے، اس لیے انہوں نے بھی ان ہی الفاظ میں اسلام کا اظہار کیا، حضرت خالدؓ اس کو نہ سمجھ سکے اور سب کی گردنیں اڑانے کا حکم دیدیا، بہت سے مہاجرین وانصار نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کردیا، پھر بھی بہترے لوگ مارے گئے، آنحضرت ﷺ نے یہ واقعہ سنا تو بہت متاسف ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر اس سے طبری ظاہر کردی کہ خدایا! میں خالدؓ کے اس فعل سے بری ہوں[16] پھر حضرت علیؓ کو ان سب کی دیت دے کر بھیجا، انہوں نے سب کو جان و مال کا پورا معاوضہ دیا،[17] اور کتوں تک کا خون بہا ادا کیا اور اس کے بعد جتنا مال بچا سب ان ہی لوگوں میں تقسیم کردیا۔ [18]

سریہ نجران

اس سلسلہ کا ایک اور سریہ ۱۰ھ میں حضرت خالدؓ کی سر کردگی میں بنو عبدالمدان بجرانی کی طرف بھیجا گیا، چونکہ ایک مرتبہ خالدؓ کی جلد بازی کا تلخ تجربہ ہوچکا تھا، اس لیے اس مرتبہ آنحضرت نے خاص طور سے ہدایت فرمادی کہ محض اسلام کی دعوت دینا، تلوارنہ اٹھانا، حضرت خالدؓ نے اس کی پوری پابندی کی اورمیدان جنگ کے سپاہی دفعتۃ مبلغ اسلام کے قالب میں آگئے اوران کی کوشش سے بنو عبدالمدان نے اسلام قبول کر لیا اور سیف اللہ نے ان کی مذہبی تعلیم و تربیت کے بعد جب یہ لوگ اسلامی مسائل سے واقف ہوگئے، تو آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی، آپ نے سب کو طلب فرمایا؛ چنانچہ یہ لوگ حاضر ہوئے اور دیدار جمال نبوی سے فیضیاب ہوکر واپس گئے۔ [19]

سریۂ یمن

اسی سنہ میں آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؓ کی امارت میں ایک سریہ یمن روانہ کیا، اسی سریہ میں دوسری جانب سے حضرت خالدؓ کو روانہ فرمایا اورحکم دیا کہ جب دونوں ملیں تو امارت علیؓ کے متعلق رہے گی، [20] اور چلتے چلتے یہ ہدایت فرمادی کہ جنگ کا آغاز تمہاری جانب سے نہ ہو، البتہ اگر یمن والے پیشقدمی کریں تو تم مدافعت کرسکتے ہو، چنانچہ ان لوگوں نے یمن پہنچ کر اسلام پیش کیا، لیکن اس کا جواب تیرا اور پتھر سے ملا، اس وقت مسلمانوں نے جوابی حملہ کیا اور یمنی پسپا ہوئے، مگر ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی گئی ؛بلکہ دوبارہ پھر اسلام پیش کیا گیا اور انہوں نے بلا جبر واکراہ اس کو قبول کرلیا۔

سریۂ عزیٰ

عزیٰ قریش وکنانہ کا صنم کدہ تھا ،جس کی یہ لوگ بڑی عظمت کرتے تھے،آنحضرت ﷺ نے خالدؓ کو اس کے گرانے پر مامور فرمایا، انہوں نے اس کی تعمیل کی، آپ نے پوچھا تم نے وہاں کچھ دیکھا بھی تھا، عرض کیا نہیں فرمایا: پھر جاؤ اس گرانے کا اعتبار نہیں ؛چنانچہ وہ دوبارہ واپس گئے، اس مرتبہ یہاں ایک بھیانک شکل کی عورت نکلی، (یہی عورتیں صنم کدوں میں بداخلاقیوں کی بنیاد ہوتی تھیں) خالدؓ نے اس کا کام تمام کرکے آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی ،فرمایا ہاں جاؤ اب تم نے کام پورا کیا۔ [21]

مدعیانِ نبوت کا استیصال

عہد صدیقی میں جب مدعیانِ نبوت کا فتنہ اٹھا اوراس کے استیصال کے لیے فوجیں روانہ کیں گئیں تو خالدؓ طلیحہ کی سرکوبی پر مامور ہوئے،انہوں نے اس کا بہت کامیاب مقابلہ کیا اوراس کے اعوان وانصار کو قتل اوراس کے قوت وبازو عینیہ بن حصین کو ۳۰ آدمیوں کے ساتھ گرفتار کرکے پابجولان دربار خلافت میں حاضر کیا۔ [22] یمامہ میں شرجیل بن حسنہ مشہور کذاب مسیلمہ سے بر سر پیکار تھے ،خالد طلیحہ سے فارغ ہوکر ان کی مدد کوآگےبڑھے ،راستہ میں مجاعہ ملا اس کے ساتھیوں سے مقابلہ ہوا،ان کو شکست دے کر مجاعہ کو گرفتار کرکے یمامہ پہنچے اور مسیلمہ حضرت حمزہ کے مشہور قاتل وحشی کے ہاتھ سے ماراگیا۔

مرتدین کی سرکوبی

مدعیان نبوت کی مہم سے فارغ ہوکر منکرین زکوۃ اور مرتدین کی طرف بڑھے اورسب سے پہلے اسد وغطفان سے نبرد آزما ہوئے، ان میں کچھ جان سے مارے گئےاورکچھ گرفتار ہوئے،جو باقی بچے وہ تائب ہوگئے [23] ان معرکوں کے علاوہ ارتداد کے سلسلہ میں جس قدر لڑائیاں ہوئیں، ان سب میں خالدؓ پیش پیش تھے، طبری کے یہ الفاظ ہیں: ان الفتوح فی اھل الراداۃ کلھا کانت لخالد بن ولید وغیرہ [24] یعنی ارتداد میں جتنی فتحیں ہوئی وہ خالد بن ولیدؓ وغیرہ کا کارنامہ ہے۔

عراق پر فوج کشی اوراس کے اسباب

جزیرۃ العرب اس عہد کی دو عظیم الشان سلطنتوں کے درمیان گھرا ہوا تھا، ایک طرف شام میں رومی چھائے ہوئے تھے، دوسری طرف عراق پر کیانی خاندان قابض تھا، یہ دو سلطنتیں ہمیشہ عربوں کی آزادی سلب کرنے کی فکر میں رہتی تھیں، گو پورے طور پر عربوں پر ان کا قابو نہ چلا، تاہم جب بھی ان کو موقع ملا، انہوں نے عرب پر تسلط جمانے کی کوشش کی، یمن کے حمیری خاندان کا خاتمہ ایرانیوں کے ہاتھوں ہوا،گو حمیری برائے نام حکمران رہے،مگر اس کا سیاہ سپید تمام تر ایرانیوں کے ہاتھ میں تھا، بحرین اور عمان بھی ان کے زیر اثر تھے، ان کے علاوہ مختلف اوقات میں عرب کے سولہ مقامات ایرانی مرزبانوں کے قبضہ میں رہ چکے تھے، [25] عراقی نحمی خاندان کو بھی ایرانیوں ہی نے مٹایا ایرانیوں کا یہ اقتدار ظہور اسلام کے وقت تک باقی تھا، چنانچہ جنگ ذی قار میں جب ایرانیوں نے عربوں سے شکست کھائی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا، آج عرب نے عجم سے اپنا منصفانہ بدلہ لیا۔ [26] یہی حال قیصری حکومت کا تھا، جب جب اس کو موقع ملتا تھا، شام کی جانب سرزمین عرب میں قدم بڑھاتی رہی، شام میں جو عرب خاندان آباد تھے، ان پر آل جفنہ قیصر کی جانب سے حکومت کرتے تھے، گو آل جفنہ عربی النسل تھے، لیکن ان کا تقرر قیصری حکومت کرتی تھی،[27] حبشہ کے عیسائیوں نے رومیوں کے اشارے سے عرب کی مرکزیت توڑنے کے لیے یمن کو فتح کرکے صنعاء میں ایک کعبہ بنایا کہ خانہ کعبہ کے پجاری تقسیم ہوجائیں۔ [28] ظہور اسلام کے بعد جب عرب متحد ہوکر ایک مرکز پر جمع ہوگئے، تو ان دونوں سلطنتوں کے لیے عرب کا سوال اور زیادہ اہم ہوگیا، اگر پہلے ملک گیری کی ہوس تھی تو اب عربوں سے سیاسی خطرہ نظر آرہا تھا،چنانچہ جب آنحضرت ﷺ نے خسرو پرویز کو دعوت اسلام کا خط لکھا تو اس نے چاک کرڈالا اور بولا ، میرا غلام مجھ کو یوں لکھتا ہے اورفوراً آپ کی گرفتاری کا فرمان جاری کیا،[29] اسی طرح شرجیل بن عمرو نے جو قیصر کی جانب سے بصریٰ کا حاکم تھا، آنحضرت ﷺ کے قاصد کو قتل کرادیا، غرض ان حالات میں عرب کی خود مختاری کو باقی رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ان دونوں پر یہ حقیقت ظاہر ہوجائے کہ اب عربوں سے کھیلنا آسان کام نہیں ہے، تاہم حضرت ابوبکرؓ صدیق نے اس وقت تک کوئی پیش قدمی نہیں کی۔ لیکن وہ قبائل جو ہمیشہ سے ایرانی حکومت کا تختہ مشق بنتے چلے آرہے تھے، انتقام کے جذبات سے لبریز تھے،چنانچہ عہد صدیقی میں جب ایران میں بد نظمی پیدا ہوئی اور ایرانیوں نے کسریٰ بن ہرمز کی لڑکی کو ایران کے تخت پر بٹھایا تو ان قبائل کے جذبات انتقام دفعۃ پھڑ ک گئے، اور مثنیٰ بن حارث شیبانی نے اپنا جتھا لے کر عراق عجم کی سرحد پر تاخت و تاراج شروع کردی، لیکن بغیر خلیفہ وقت کی سرپرستی کے کامیابی مشکل تھی، اس لیے حضرت ابوبکرؓ سے باضابطہ اجازت حاصل کی، آپ نے خالد بن ولیدؓ کو ان کی امداد پر مامور کیا اور شرف امارت بھی عطا کیا۔ [30]

عراق کی فوج کشی

چنانچہ حضرت خالدؓ فتنہ ارتداد کی مہموں سے فارغ ہوکر عراق کی طرف بڑھے اور مقام نباج میں مثنیٰ سے مل گئے اوربانقیا اور بارسوما کے حاکموں کو مطیع کرتے ہوئے ایلہ کی طرف بڑھے، یہ مقام جنگی نقطہ نظر سے بہت اہم تھا، یہاں عرب وہندوستان کے بری وبحری خطوط آکر ملتے تھے، چنانچہ یہاں کا حاکم ہر مزان ہی راستوں سے دونوں مقام پر حملے کیا کرتا تھا [31] ہرمز کو مسلمانوں کی پیش قدمی کی خبر ہوئی تو فوراً ارد شیر کو دربار ایران اطلاع بھیجی اورخود مقابلہ کے لیے بڑھا، کا ظمہ میں دونوں کا مقابلہ ہوا، ایرانیوں نے اپنے کو زنجیروں میں جکڑلیاتھا، کہ پاؤں نہ اکھڑنے پائیں، لیکن قعقاع بن عمر کی شجاعت نے زنجیر آہن کے ٹکڑے کر ڈالے، اورایرانیوں نے بری طرح شکست کھائی۔

جنگ مذار

ابھی یہ معرکہ ختم ہوا تھا کہ ایرانیوں کی امدادی فوج کو جو قارن بن قریانس کی ماتحتی میں ہرمز کی مدد کو آرہی تھی، مذار میں ہرمز کے قتل اور ایرانیوں کی شکست کی خبر ملی، اس لیے قارن نے اسی جگہ اپنی فوج کی تنظیم کی اور شکست خوردہ فوج سردار قباز اورانوشجان کو امیر العسکر بنا کر نہر کے قریب پڑاؤ ڈالا، خالد کو اطلاع ہوئی،تو وہ فوج لے کر مذار کی طرف بڑے،لب دریا دونوں کا مقابلہ ہوا، معقل نے قارن کو اور عاصم نے نوشجان کو اور عدی نے قباذ کو ختم کیا، اوراس شدت کی جنگ ہوئی کہ تیس ہزار ایرانی کام آئے، یہ تعداد اس کے علاوہ ہے جو نہر میں ڈوب کر مرے۔ [32]

جنگ کسکر

جنگ مذار کے انجام کی خبر ایران پہنچی تو ارد شیر نے اندر زغر اوربہمن کو یکے باد دیگرے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے روانہ کیا،اندر زغرمدائن اورکسکر ہوتا ہوا دلجہ پہنچا، حیرہ اورکسکر کے تمام دہقانی اورآس پاس کے عرب بھی ایرانیوں کی حمایت میں اپنی اپنی فوجیں لے کر اندر زغر کے قریب آکر خیمہ زن ہوئے، اس درمیان میں بہمن بھی پہنچ گیا، خالدؓ کو خبر ملی تو سوید بن مقرن کو ایک دستہ پر مامور کرکے ضروری ہدایات دے کر پیچھے چھوڑا، اورخود بڑھ کر مورچہ بندی میں مصروف ہوگئے اور ساحل کی قربت سے فائدہ اٹھا کر نشیبی زمین میں تھوڑی فوج چھپادی،کہ جنگ چھڑنے کے بعد وہ نکل کر حملہ آور ہوجائے ،اس نتظام سے فراغت کے بعد جنگ چھڑگئی، دیر تک گھمسان کا رن پڑتا رہا، جب فریقین تھکنے لگے، تو مسلمان کمین گاہوں سے نکل کر ٹوٹ پڑے، اس اچانک حملے نے ایرانیوں کے پاؤں اکھاڑدیے،مگر وہ جدھر بھاگتے تھے،مسلمان سامنے تھے، اس لیے جو سپاہی جہاں تھا وہیں ختم ہوگیا، اندر زغر نکل بھاگا، لیکن پیاس کی شدت سے وہ مرگیا، جنگ کے بعد مسلمانوں نے عام آبادی سے کوئی تعرض نہیں کیا اوران کو پوری آزادی دیدی۔ [33]

جنگ الیس

گذشتہ جنگ میں عربی النسل عیسائی قبائل بھی ایرانیوں کے ساتھ ہوگئے ارد شیر نے بہمن کو وربی قبائل سے مل جانے کا حکم دیا، چنانچہ بہمن الیس کی طرف بڑھا اور یہاں کے حاکم جاپان کو یہ ہدایت دے کر کہ میری واپسی تک جنگ شروع نہ کرنا، الیس روانہ کردیا اور خود اردشیر کے پاس مشورے کے لیے چلا گیا، وہاں سے لوٹا،توباقی عربی قبائل اور عربی چھاؤنی کی ایرانی سپاہ اکٹھا ہوچکی تھی، اس درمیان میں خالدؓ بھی پہنچ گئے ان کے پہنچتے ہی جنگ شروع ہوگئی، دیر تک کشت و خون کا سلسلہ جاری رہا، خالدؓ نے منادی کرادی کہ لڑائی روک کر لوگوں کو صرف گرفتار کرو، چنانچہ مسلمان دار وگیر میں مصروف ہوگئے، اورلڑنے والوں کو زندہ گرفتار کرکے نہر کے کنارے قتل کرنا شروع کردیا، اور ایرانی بری طرح مفتوح ہوئے۔ [34] الیس سے فراغت کے بعد خالدؓ مغیشیا کی طرف بڑھے،یہاں کے باشندے مسلمانوں کا رخ دیکھ کر پہلے ہی شہر خالی کرچکے تھے، اس لیے جنگ کی نوبت نہیں آئی ۔

امغیشیا

امغیشیا کے قریب ہی حیرہ تھا یہاں کے حاکم آزاد بہ کو خطرہ پیدا ہوا کہ مسلمان امغیشیا کی طرف بڑھیں گے، اس لیے اس نے حفظ ما تقدم کے طور پر اپنے لڑکے کو خالدؓ کو روکنے کے لیے آگے بھیج دیا اور پیچھے سے خود مدد کے لیے پہنچا، امغیشیا اورحیرہ کے درمیان نہر فرات تھی، آزاد بہ کے لڑکے نے اس کا بند باندھ دیا، اس سے مسلمانوں کی کشتیاں رک گئیں اور ملاحوں نے جواب دیا کہ ایرانیوں نے نہر کا رخ پھیر دیا ہے اس لیے کشتیاں نہیں چل سکتیں، مسلمان کشتیوں سے اتر پڑے اور گھوڑوں پر ابن آزاد بہ کی طرف بڑھے، فرات کے دہانہ پر دونوں کا مقابلہ ہوا، ابن آزاد بہ مارا گیااور فوج بھی تباہ ہوئی۔ [35]

حیرہ کی صلح

اس کے بعد دریا کا بند کھول کر مسلمان حیرہ کی طرف بڑھے، لیکن ان کے پہنچنے کے قبل آزاد بہ حیرہ چھوڑچکا تھا، مسلمان مقام غرئیین میں ٹھہرگئے،حیرہ میں جو لوگ باقی رہ گئے تھے وہ اس عرصہ میں قلعہ بند ہوگئے ،خالدؓ نے ان کا محاصرہ کرلیا، پہلے صلح کی گفت و شنید ہوتی رہی، لیکن بے نتیجہ رہی،ایرانیوں نے قلعہ کے اوپر سے سنگباری شروع کردی، مسلمانوں نے پیچھے ہٹ کے تیروں سے جواب دیا اور قلعہ اورمحلات کی دیواریں چھلنی کردیں،جب شہری آبادی محاصرہ سے گھبراگئی،توقسیسون اورراہبوں نے قلعہ والوں سے فریاد کی کہ اس خونریزی کی ساری ذمہ داری تم پر ہے،اس کو بند کرو،آخر میں جب قلعہ والوں نے بھی عاجز ہوکر خالدؓ سے صلح کی گفتگو کرکے ایک لاکھ نوے ہزار سالانہ خراج پر صلح کرلی اور خالدؓ نے ایک مفصل صلح نامہ لکھ کر حوالہ کیا۔ [36] ملحقات حیرہ حیرہ کی صلح کے بعد اطراف کے کاشتکاروں اور دیہی آبادیوں نے بھی جو حیرہ کے شرائط کی منتظر تھیں ۲۰ لاکھ سالانہ پر صلح کرلی،حیرہ اور ملحقات حیرہ کی کامل تسخیر کے بعدحضرت خالدؓ نے محافظین سرحد میں ضرار بن آزدر،ضرار بن خطاب،قعقاع بن عمرو،مثنی بن حارثہ اور عتبہ بن شماس افسران سرحد کو دجلہ کی ترائی میں بڑھنے کا حکم دیا ،یہ لوگ ساحل تک بڑھتے ہوئے چلے گئے۔

ابنار کی تسخیر

اس وقت گو ارد شیر مرچکا تھا اور ایرانیوں میں اندرونی اختلافات کا طوفان برپا تھا، لیکن مسلمانوں کے مقابلہ میں سب متحد تھے، طبری کے یہ الفاظ ہیں، وکان اھل فارس بموت ارد شیر مختلفین فی الملک مجتمعین علی فتال خالد متساندین ، یعنی ارد شیر کی موت کی وجہ سے بادشاہت کے بارے میں ایرانیوں میں اختلاف تھا، لیکن خالدؓ سے جنگ کے بارے میں سب متحد اور ایک دوسرے کے معاون تھے، چنانچہ انہوں نے اپنی مرکزیت قائم کرنے کے لیے فرخزاد کو عنان حکومت سپرد کردی تھی اوران کی فوجیں عین التمر، ابنار اورفراض تک پھیلی ہوئی تھیں، اس لیے خالدؓ حیرہ کے بعد انبار کی طرف بڑھے، لیکن ان کے پہنچتے پہنچتے یہاں کے باشندے قلعہ بند ہوچکے تھے، چنانچہ ان کے پہنچتے ہی جنگ شروع ہوگئی،ایرانی قلعہ کے اندر سے تیر باری کررہے تھے، اس لیے مسلمانوں کا جوابی حملہ کامیاب نہ ہوتاتھا، خالدؓ نے قلعہ کے چاروں طرف چکر لگا کر اس کے استحکامات کا اندازہ لگاکر حکم دیا کہ آنکھوں پر تاک تاک کر تیر مارو، اس تدبیر سے دن بھر میں ایک ہزار آنکھیں بیکار کردیں، اس مصیبت نے انبار کے باشندوں کو گھبرادیا اورفوج بدحواس ہوگئی، شیرز ادایرانی سپہ سالار نے یہ صورت دیکھ کر صلح کا پیام دیا، لیکن شرائط ایسے پیش کیے کہ خالدؓ ان کو منظور نہ کرسکے، اورخندق کا جو حصہ زیادہ تنگ تھا اسے بیکار اونٹوں کو ذبح کر کے پاٹ دیا، اور مسلمان اس پر سے اتر کے قلعہ تک پہنچ گئے اورایرانی سمٹ کر قلعہ کے اندر ہوگئے،مگر وہ آنکھوں کی نشانہ بازی سے پہلے ہی گھبراگئے تھے، مسلمانوں کی اس غیر متوقع آمد سے ہمت چھوٹ گئی اورشیرزاد نے بہمن کو فوج کی حالت جتاکر صلح پر آمادہ کرلیا، اس نے مجبور ہوکر صلح کرلی، اس کے بعد انبار کے باشندوں نے صلح کی خواہش کی، چنانچہ پہلے ابو اذیج والے پھر اہل کلوازی نے صلح کرلی۔ [37]

عین التمر

خالدؓ انبار کی مہم میں مصروف تھے کہ بہرام چوبین کا لڑکامہران مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے عین التمر پہنچ گیا، عربی قبائل میں نمر،تغلب اور ایاد، عقہ بن عقہ کے ساتھ علیحدہ مقابلہ پر آمادہ تھے، [38] اس لیے خالدؓ انبار کے بعد عین التمر کی طرف بڑھے، ایرانیوں نے ایرانی سپاہ قلعوں میں محفوظ کردی اور عربی قبائل کو مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے بڑھا کر ان پر جاسوس متعین کردیے، کہ اگر ان میں قومی عصبیت نظر آئے تو فوراً تدارک ہوسکے،بعض انصاف پسند ایرانی اس پر معترض ہوئے، ان کو جواب دیا کہ ان ہی کی قوم نے ہمارا ملک تباہ کیا ہے اس لیے انہیں آپس میں کٹانا چاہیے،عقہ مقام کرخ میں اپنی فوج مرتب کررہا تھا کہ خالد پہنچ گئے اوراس کو گرفتار کرلیا، اس کی فوج نے سردار کی گرفتاری سے گھبرا کر میدان جنگ چھوڑدیا،جو بچ گئے اور گرفتار ہوئے،خالدؓ ان کی قوم فروشی پر بہت مشتعل تھے ،اس لیے پہلے عقہ کا کام تمام کردیا، پھر سب کی گردنیں اڑادیں، مہران کو عربوں کی حالت کی خبر ملی، تو وہ قلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا، لیکن جب شکست خوردہ عرب پہنچے تو پھر اس کہ ہمت بندھی اور ایرانی قلعہ بند ہوگئے ،خالد سیدھے قلعہ تک بڑھتے چلے گئے،[39] ایرانیوں نے نکل کر مقابلہ کیا اور تھوڑے مقابلہ کے بعد قلعہ میں داخل ہوگئے، مسلمانوں نے محاصرہ کرلیا، بالآخر ایرانیوں نے صلح کی درخواست کی لیکن خالدؓ نے انکار کردیا، اور بزور شمشیر قلعہ فتح کیا،[40] لیکن فتح کے بعد پھر کوئی سختی نہیں کی اور معمولی خراج کے سوا زمین پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔ [41] دومۃ الجندل میں ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوا کرتی تھیں ،چنانچہ عہدِ رسالت میں بھی اسی قسم کی ایک سازش ہوئی تھی،اسی لیے غزوۂ دومۃ الجندل ہوا تھا،[42] عہدِصدیقی میں پھر اس کا ظہور ہوا،حضرت ابوبکرؓ نے اس کے تدارک کے لیے عیاض بن غنم کو روانہ کیا، لیکن کلب، غسان اور تنوخ کے قبائل متحد تھے، اس لے عیاض کے لیے تنہا ان سب کا مقابلہ کرنا دشوار تھا، انہوں نے خالدؓ کو مدد کے لیے بلا بھیجا ،وہ عراق کی مہم چھوڑ کر عیاض کی مدد کو چلے آئے، اس وقت یہاں دو حکمران تھے، اکیدر اورجودی، اکیدر کو خالدؓ عہدِ رسالت میں مطیع کرچکے تھے، اس لیے خالدؓ کی آمد کی خبر سن کر وہ خوف سے جودی کی حمایت سے کنارہ کش ہوگیا، اورجب جودی جنگ کے لیے بالکل آمادہ ہوگیا تو اکیدر دومۃ الجندل چھوڑ کر ہٹ گیا، مگر چونکہ پہلے اس کا شریک رہ چکا تھا، اس لیے گرفتار کراکے قتل کردیا گیا، خالدؓ اور عیاض نے دوسمتوں سے دومۃ الجندل کا محاصرہ کرلیا، جودی کی فوج میں متعدد افسر تھے خود جودی، ودیعہ کلبی، ابن رومانس ،ابن ایہم اورابن حدودجان ان سب نے متحدہ حملہ کیا، جودی اورودیعہ گرفتار ہوئے، باقی فوج قلعہ میں گھس گئی، مگر قلعہ میں زیادہ گنجائش نہیں تھی، اس لیے فوج کا ایک حصہ باہر رہ گیا، اگر مسلمان چاہتے تو ان یں سے ایک بھی نہ بچ سکتا ،لیکن حضرت عاصمؓ نے بنو کلب کو امان دیدی، [43] اورخالدؓ نے جودی کو قتل کرادیا اور قلعہ کا پھاٹک اکھاڑکے اندر گھس گئے اورقلعہ پر قبضہ ہوگیا۔

جنگ حصید وخنافس

حضرت خالدؓ کے عراق چھوڑ کر شام چلے آنے کے بعد جزیرہ کے عربوں نے ایرانیوں کو عراق کی واپسی پر توجہ دلائی، وہ ان کا اشارہ پاتے ہی آمادہ ہوگئے اورزرمہر اورروزبہ نے خنافس اورحصید کی طرف فوجیں بڑھادیں،زبر قان بن بدر حاکم انبار نے قعقاع حاکم حیرہ کو اطلاع دی، انہوں نے ایرانیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اسی وقت الگ الگ فوجیں اعبدبن قد، اورعروہ بن جعد کی قیادت میں دونوں مقاموں پر روانہ کردیں، ان دونوں نے بڑھ کر ریف میں ان کو روک دیا، روز بہ اور زر مہریہاں عربوں کا انتظار کررہے تھے، کہ خالدؓ دومۃ الجندل سے حیرہ واپس آگئے اورامرؤ القیس بن کلبی نے اطلاع بھیجی کہ ہذیل بن عمران مصیح میں اور ربیعہ بن بحیرثنی اور بشر میں روزبہ اورزرمہر کی امداد کے لیے فوجیں لیے پڑے ہیں، یہ خبر سن کر خالدؓ نے عیاض کو حیرہ میں چھوڑا اورخود قعقاع اور ابو لیلیٰ کی مدد کو خنافس روانہ ہوگئے، یہ دونوں عین الثر میں تھے، خالد یہیں آکر ان سے ملے اورقعقاع خود بڑے روز بہ نے زر مہر سے مدد طلب کی، وہ مدد لے کر پہنچا، حصید میں دونوں کا مقابلہ ہوا، زر مہر اور روز بہ دونوں مارے گئے اوران کی فوج ہٹ کر خنافس میں جمع ہوگئی، ابولیلی تعاقب کرتے ہوئے خنافس پہنچے،تو ایرانی خنافس چھوڑ کر مصیخ چلےگئے،خالدکو اس کی اطلاع دی گئی،انہوں نےقعقاع،ابو لیلی اور عروہ کو ایک خاص مقام پر شب میں جمع ہونے کا حکم دیا اورخود بھی معینہ شب میں وہاں پہنچ گئے اورسب نے مل کر متحدہ شب خون مارا، ایرانی بالکل بے خبر تھے، اس لیے مدافعت بھی نہ کرسکے اورسب کے سب مارے گئے۔ [44]

جنگ ثنی وبشر

ربیعہ بن بجیرثنی اوربشر میں بدستور فوجیں لے پڑا تھا، مصیخ کے بعد خالدؓ نے قعقاع اورابولیلیٰ کوثنی پر شبخون مارنے کا حکم دیا، چنانچہ ایک مقررہ شب کو تینوں نے مل کر تین سمتوں سے حملہ کیا، صرف ہذیل امیر العسکر باقی بچا اورکل فوج کھیت رہی، ہذیل ثنی سے بھاگ کر بشر پہنچا، یہاں بھی عربوں کا ایک جتھا موجودتھا،خالدؓ اس کو صاف کرتے ہوئے رضاب پہنچے، یہاں عقہ کا لڑکا بلال مسلمانوں کا منتظر تھا، مگر خالدؓ کے آتے آتے یہ بھاگ نکلا۔

جنگ فرائض

اورخالدؓ رضاب ہوتے ہوئے فرائض کی طرف بڑھے، یہ مقام جنگی نقطہ نظر سے بہت اہم تھا، یہاں شام،عراق اورجزیرہ کی سرحدیں ملتی تھیں، شام کی سرحد کی وجہ سے رومی بھی ایک فریق بن گئے اورانہوں نے ایرانیوں کی چھاؤنی اورتغلب دایاد(عرب) سے مدد مانگ بھیجی، ان کو اس میں کیا عذر ہوسکتا تھا، فوراً آمادہ ہوگئے، اوراب مسلمانوں کا مقابلہ ایرانیوں اوررومیوں دونوں سے ہوگیا، اس لیے خالدؓ نے بھی نہایت اہتمام سےاسلامی فوج کو از سر نو منتظم کیا، فرات کے ایک جانب مسلمان تھے اور دوسری جانب اتحادی، اتحادیوں نے پیام دیا کہ یا تم دریا عبور کرکے بڑھو یا ہمیں بڑہنے دو، خالدؓ نے ان کو بڑہنے کا موقع دیا اور فرأت کے اس پار لب دریا دونوں کا مقابلہ ہوا، مسلمان نہایت پامردی سے لڑے اور اتحادیوں کی فوجیں پسپا ہونے لگیں، خالدؓ کی للکار پر مسلمان شہ سواروں نے گھیر گھیر کر مارنا شروع کیا، اتحادی دو طرف سے گھرے ہوئے تھے، پیچھے ہٹتے تھے تو فرات کا لقمہ بنتے تھے اورآگے بڑھتے تھے تو تلوارسامنے تھی، اسی کشمکش میں سب کے سب کام آگئے،فتح کے دس دن بعد تک مسلمان یہاں مقیم رہے، اس کے بعد حیرہ لوٹ گئے، اس معرکہ کے بعد عراق کی پیشقدمی رک گئی، [45] اورخالدؓ خفیہ حج کو چلے گئے۔

فتوحات شام

اوپر ان حالات کی تفصیل بیان کی جاچکی ہے ،جن کی بنا پر مسلمانوں کا ایرانیوں اور رومیوں سے نبرد آزما ہونا ناگزیر امر تھا، اس لیے عراق کے ساتھ ساتھ شام پر بھی فوج کشی ہوئی تھی اور ہر ہر صوبہ علیحدہ علیحدہ فوجیں بھیجی گئی تھیں، خالدؓ عراق کی مہم سر کرچکے تھے، کہ دربارخلافت سے حکم پہنچا کہ عراق چھوڑ کر شام میں اسلامی فوجوں سے مل جائیں، اس حکم کے مطابق حج سے واپس ہونے کے بعد عراق کا انتظام مثنی کے سپرد کرکے، شام روانہ ہوگئے اور راستہ میں حدردار،ارک ،سویٰ، حوارین ،قصم، مرج راہط وغیرہ سے نپٹتے ہوئے شام پہنچے اور پہلے بصریٰ کی طرف بڑھے۔ [46]

بصریٰ

یہاں اسلامی فوجیں پہلے سے ان کی متنظر تھیں، اس لیے خالدؓ نے آتے ہی بصری کے بطریق پر حملہ کرکے پسپا کردیا اوراس شرط پر صلح ہوگئی کہ مسلمان رومیوں کی جان و مال کی حفاظت کریں گے اور وہ اس کے عوض میں جزیہ دیں گے۔ [47]

اجنادین

اس وقت مسلمان شام کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے اور ہر قل نے ان کے مقابلہ کے لیے الگ الگ دستے بھیجے تھے، تاکہ ایک مرکز پر جمع نہ ہوں؛ لیکن فلسطین کی مہم عمر وبن العاصؓ کے متعلق تھی، بصریٰ کے بعد تذارق اور قبقلاء نے اجنادین (فلسطین) میں اپنی فوجیں ٹھہرائیں،خالدؓ اور عبیدہؓ بصریٰ سے فارغ ہوکر عمروبن العاصؓ کی مدد کو پہنچے، ۱۳ھ میں مقام اجنادین میں دونوں کا مقابلہ ہوا، تذارق اور قبقلا دونوں مارے گئے۔

دمشق

اجنادین کے بعد دمشق کی طرف بڑھے، امیر فوج ابو عبیدہؓ نے تین سمتوں سے اس کا محاصرہ کیا،ایک سمت پر خالدؓ مامور ہوئے ،تین مہینے تک کامل محاصرہ قائم رہا،لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا ،اس درمیان میں ایک دن دمشق کے پادری کے گھر لڑکا پیدا ہوا، اس کے جشن میں دمشق کے بےفکر ے شرابیں پی کر ایسے بدمست ہوکر سوئے کہ دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہی، خالدؓ دوران جنگ میں اکثر راتوں کو سوتے نہ تھے؛بلکہ فوجی انتظامات اور دشمنوں کی سراغ رسانی میں لگے رہتے تھے،[48] ان کو اس واقعہ کی اطلاع ہوگئی،چنانچہ فوج کو یہ ہدایت دے کر کہ تکبیر کی آواز سنتے ہی شہرپناہ کے پھاٹک پر حملہ کردینا، چند آدمیوں کے ساتھ کمند ڈال کر شہر پناہ کی دیوار کے اس پار اتر گئے اور پھاٹک کے چوکیدار کو قتل اوراس کا قفل توڑ کر تکبیر کا نعرہ لگایا ،تکبیر کی آواز سنتے ہی فوج ریلا کرکے اندر داخل ہوگئی، دمشق والے ابھی تک غافل سورہے تھے اس ناگہانی حملہ سے گھبرا گئے اور ابوعبیدہؓ سے صلح کی درخواست کرکے شہر پناہ کے تمام دروازے خود کھول دیے، ایک طرف سے خالدؓ فاتحانہ داخل ہوئے اور دوسری طرف سے ابو عبیدہؓ مصالحانہ وسط شہر میں دونوں سے ملاقات ہوئی،[49] گونصف حصہ بزور شمشیر فتح ہوا، لیکن شرائط سب مصالحانہ رکھے گئے۔ [50]

فحل

دمشق کی فتح نے رومیوں کو بہت برہم کردیا اور وہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ مقابلہ کے لیے آمادہ ہوگئے، سقلار رومی فحل میں فوجیں لے کر خیمہ زن ہوا، اس لیے مسلمان دمشق کے بعد ادھر بڑھے، مقدمۃ الجیش خالدؓ کی کمان میں تھا، اس معرکہ میں بھی رومیوں نےبری طرح شکست کھائی۔

دمشق کا دوسرا معرکہ

فحل کے بعد ابو عبیدہؓ اورخالدؓ حمص کی طرف بڑھے، یوحنا کے کنیسہ کی وجہ سے یہ مقام بھی رومیوں کا ایک اہم مرکز تھا، ہر قل کو خبر ہوئی تو اس نے تو ذربطریق کو فوج دے کر مقابلہ کے لیے بھیجا، اس نے دمشق کے مغربی سمت مرج روم میں پڑاؤ ڈالدیا، مسلمان بھی آگے بڑھ کر مرج روم کی دوسری سمت ٹھہرے،اس درمیان میں رومیوں کی ایک اور فوج شنس کی سرکردگی میں پہنچ گئی، اس لیے خالدؓ تو ذر کے مقابلہ کو بڑھے اور ابو عبیدہ شنس کے توذرنے مقابلہ نہیں کیا؛بلکہ دمشق واپس لینے کے ارادہ سے آگے بڑھا، خالدؓ بھی عقب سے اس کے ساتھ ہوگئے، دمشق میں یزید بن ابو سفیان موجود تھے، وہ شنس کی آمد کی خبر سن کر اس کے روکنے کو نکلے، دمشق کے باہر دونوں میں سخت معرکہ ہوا، ابھی جنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ پیچھے سے خالدؓ پہنچ گئے اور ایک طرف سے انہوں نے اور دوسری طرف سے یزید نے مل کر رومیوں کو پامال کردیا اور معدددے چند کے علاوہ کوئی رومی باقی نہ بچا۔ [51]

حمص

ابو عبیدہؓ نے شیرز، معرہ حمص، اور لاذقیہ وغیرہ کو لیکر بعلبک اورحمص فتح کیا۔

یرموک

ان پیہم شکستوں نے رومیوں میں آگ لگادی اوردولاکھ کا ٹڈی دل مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے امنڈآیا، [52] رومی سپہ سالار ماہان اس کو لے کر یرموک کے میدان میں اترا، اس وقت مسلمان شام کے مختلف حصوں میں منتشر تھے، یہ سب ایک مرکز پر جمع ہوگئے اور طرفین میں جنگ کی تیاریاں ہونے لگیں، رومیوں کے جوش و خروش کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ گوشہ نشیں راہب و قسیس اپنی اپنی خانقاہوں سے نکل کر،مذہب کا واسطہ دلاکر رومیوں میں جوش پیدا کررہے تھے، خالدؓ نے اس جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دیے فوج کو جدید طرز سے ۳۶ حصوں میں تقسیم کرکے سب پر الگ الگ ،افسر مقرر کیے اور جہاد پر نہایت ولولہ انگیز تقریر کی، اتفاق سے ایک مسلمان کے منہ سے نکل گیا کہ رومیوں کے مقابلہ میں ہمارے تعداد بہت کم ہے ،خالدؓ غضب ناک ہوکر بولے فتح و شکست تعداد کی قلت و کثرت پر نہیں؛ بلکہ تائید ایزدی پر ہے، اگر میرے گھوڑے کے سم درست ہوتے تو میں اس سے دونی تعداد کی پرواہ نہ کرتا۔ [53] ضروری انتظامات کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اور قنستاح بن عمرو کو حملہ کا حکم دیدیا اور یرموک کے میدان میں ہنگامہ کارزار گرم ہوگیا، عین اس حالت میں ایک عیسائی رومی فوج سے نکل کر اسلامی لشکر میں آگیا اور خالدؓ سے مذہب اسلام پر گفتگو شروع کردی کہ اگر میں تمہارے مذہب میں داخل ہوجاؤں تو کیا میرے لیے آخرت کا دروازہ کھل جائے گا، خالدؓ نے کہا یقینا ًچنانچہ وہ میدان جنگ میں مشرف بااسلام ہوگیا۔ [54] اس جنگ کا سلسلہ مدتوں جاری رہا، مسلمان افسروں نے غیر معمولی شجاعت وبہادری کا ثبوت دیا، آخر رومیوں نے ایسی شکست کھائی کہ پھر ان کی اتنی بڑی تعداد نہ فراہم ہوسکی۔

حاضر

یرموک کی فتح کے بعد ابوعبیدہؓ نے خالدؓ کو قنسرین کی طرف بھیجا اورخود حمص واپس ہوگئے، مقام حاضر میں خالدؓ کو میناس رومی ایک بڑی جماعت کے ساتھ ملا، خالدؓ نے اس کو شکست دی، اہل حاضر نے امان کی درخواست کی اورکہا ہم کو اس جنگ سے کوئی تعلق نہ تھا ہماری رائے بھی اس میں شریک نہ تھی، اس لیے ہم کو امان دی جائے ،خالدؓ نے ان لوگوں کی درخواست قبول کرلی۔ [55]

قنسرین

حاضر سے قنسرین پہنچے، اہل قنسرین پہلے جنگ کے ارادہ سے قلعہ بند ہوگئے؛لیکن پھر اہل حمص کے انجام پر غور کرکے صلح کی درخواست کی،خالدؓ نے اس شرط پر منظور کرلی کہ شہر کے استحکامات توڑدیے جائیں، قنسرین کے بعد ہرقل بالکل مایوس ہوگیا اورشام پر آخری نگاہ ڈال کر قسطنطنیہ چلا گیا، چلتے وقت یہ حسرت انگیز الفاظ اس کی زبان پر تھے اے شام! تجھ کو آخری سلام ہے، اب میں تجھ سے جدا ہوتا ہوں، افسوس اس سرزمین میں جس پر میں نے حکمرانی کی ہے ،اطمینان خاطر کے ساتھ نہ آسکوں گا۔ [56]

بیت المقدس

قنسرین کے بعد بیت المقدس کا محاصرہ ہوا، عیسائی اس شرط سے بلاجنگ حوالہ کرنے کو آمادہ ہوگئے کہ خود امیر المومنین اپنے ہاتھ سے معاہدہ لکھیں ،چنانچہ حضرت عمرؓ نے صلح نامہ لکھنے کے لیے شام کا سفرکیا اورتمام افسران فوج کو حابیہ میں طلب کیا ،خالدؓ بھی آئے، ان کا دستہ دیباوحریر میں ملبوس تھا، حضرت عمرؓ کی نظر پڑی تو گھوڑے سے اتر پڑے اور کنکریاں مارکر فرمایا تم لوگوں نے اتنی جلدی اپنی عادتیں بدل دیں؛ ان لوگوں نے اسلحہ دکھا کر کہا کہ لیکن سپہ گری کا جوہر نہیں گیا ہے، فرمایا تب کوئی مضائقہ نہیں۔ [57]

حمص کی بغاوت

۱۷ھ میں حمص کے باشندے باغی ہوگئے،لیکن ابوعبیدہؓ اورخالدؓ کی بروقت توجہ سے بہت جلد بغاوت فرو ہوگئی اور شام کے پورے علاقہ پر مسلمانوں کا کامل تسلط ہوگیا۔

معزولی

اسی۱۷ھ میں حضرت عمرؓ نے خالدؓ کو معزول کردیا، معزولی کے سنہ میں مورخین کا بیان مختلف ہے، عام شہرت یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے تخت خلافت پڑ بیٹھتے ہی معزول کیا تھا، لیکن یہ بیان صحیح نہیں ہے،صحیح روایت یہ ہے کہ ۱۷ھ میں یعنی خلافتِ فاروقی کے ۵ سال بعد معزول ہوئے، ابن اثیر کی بھی یہی تحقیق ہے، وہ لکھتےہیں فی ھذہ السنۃ وھی سنۃ سبعۃ عشر عزل خالد بن ولید یعنی ۱۷ ھ میں خالد بن ولیدؓ معزول کیے گئے،ان کی معزولی کا سبب یہ ہے کہ خالدؓ فوجی آدمی تھے، ان کا مزاج تند تھا، اس لیے ہر معاملہ میں خود رائی سے کام لیتے تھے اور بارگاہ خلافت سے استصواب ضروری نہیں سمجھتے تھے، فوجی اخراجات کا حساب و کتاب بھی نہیں بھیجتے تھے، عراق کی پیش قدمی روکنے کے بعد حضرت ابوبکرؓ کی مرضی کے خلاف بغیران کی اجازت کے خفیہ حج کو چلے گئے، ان کا یہ طرز عمل حضرت ابوبکرؓ کو ناگوار ہوا، [58] اورآپ نے تنبیہ کی انہوں نے بارہا لکھا کہ بغیر میرے حکم کے کوئی کام نہ کیا کرو اورنہ کسی کو کچھ دیا لیا کرو، انہوں نے جواب دیا کہ اگر آپ مجھ کو میری موجودہ حالت پر چھوڑ دیجئے تو کام کرسکتا ہوں، ورنہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتا ہوں، [59] اسی زمانہ سے حضرت عمرؓ ان سے برہم رہتے تھے اور باربار حضرت ابوبکرؓ کو ان کے معزول کرنے کا مشورہ دیتے تھے، لیکن وہ ہمیشہ جواب دیتے کہ میں اس تلوار کو نیام میں نہیں کرسکتا، جس کو اللہ نےبے نیام کیا ہے، [60] حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں بھی خالدؓ نے یہ روش نہ چھوڑی، لیکن انہوں نے بھی فورا ًمعزول نہیں کیا؛بلکہ عرصہ تک سمجھاتے رہے، چنانچہ پھر ایک مرتبہ لکھاکہ بغیر میری اجازت کے کسی کو ایک بکری بھی نہ دیا کرو، مگر خالدؓ نے کوئی اثر نہیں لیا اورحضرت عمرؓ کو بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکرؓ کو دے چکے تھے۔ [61] دوسری وجہ یہ تھی کہ عام مسلمانوں کو خیال پیدا ہوگیا تھا کہ اسلامی فتوحات کا دارومدار خالدؓ کے قوت بازو پر ہے،[62] جس کو حضرت عمرؓ پسندنہیں کرتے تھے۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ حضرت خالدؓ کے اخراجات اسراف کی حدتک پہنچ جاتے تھے جو دوسرے افسروں کے لیے نمونہ نہ بن سکے تھے، چنانچہ شعراء کو بڑی بڑی رقمیں دے ڈالتے تھے، اشعث بن قیس کو دس ہزار انعام یکمشت دیا، حضرت عمرؓ کو اطلاع ہوئی تو ابو عبیدہؓ بن جراح کے پاس حکم بھیجا کہ خالدؓ سے دریافت کریں کہ انہوں نے یہ روپیہ کس مد سے دیا ہے، اگر مسلمانوں کے مال سے دیا ہے تو خیانت کی اور اگر اپنی جیب سے دیا ہے تو اسراف کیا ہے، اس لیے دونوں حالت میں وہ معزولی کے قابل ہیں، یہ فرمان عین میدان جنگ میں ابو عبیدہ کو ملا، انہوں نے حضرت خالدؓ سے پوچھا، تم نے یہ روپیہ کہاں سے دیا، کہا اپنے مال سے، اس کے بعد حضرت عمرؓ کا فرمان سنا کر معزولی کی علامت کے طورپر ان کے سرسے ٹوپی اتارلی اور عمامہ گردن میں ڈالدیا، خالدؓ نے صرف اس قدر جواب دیا کہ میں نے فرمان سنا اور مانا اوراب بھی اپنے افسروں کے احکام سننے اور خدمات بجالانے کو تیار ہوں۔ [63] اس واقعہ سے حضرت عمرؓ کے دبدبہ اورخالدؓ کی حق پرستی، دونوں کا اندازہ ہوتا ہے، معزولی کے بعد دربار خلافت سے طلبی ہوئی،چنانچہ خالد حمص سے ہوتے ہوئے حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے شکایت کی کہ آپ نے میرے معاملہ میں زیادتی سے کام لیا ہے، حضرت عمرؓ نے سوال کیا، تمہارے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی جواب دیا، مال غنیمت کے حصوں سے، اگر میرے پاس ساٹھ ہزار سے زیادہ نکلے تو آپ لے لیجئے ،حضرت عمرؓ نے فورا حساب کرایا کل ۲۰ ہزار زیادہ نکلے، وہ بیت المال میں جمع کرادیے اور فرمایا کہ ،خالدؓ اب بھی میرے دل میں تمہاری وہی عزت ومحبت ہے اور تمام ممالک محروسہ میں فرمان جاری کرادیا کہ میں نے خالدؓ کو خیانت کے جرم یا غصہ وغیرہ کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے ؛بلکہ محض اس لیے معزول کیا کہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اسلامی فتوحات کا دارومدار خالدؓ کے قوت بازو پر نہیں ہے۔ مذکورہ بالا فتوحات کے علاوہ خالدؓ دوسری مہموں میں بھی شریک ہوکر دادِ شجاعت دیتے رہے، لیکن ان میں آپ کی حیثیت معمولی مجاہد کی تھی، اس لیے ان کی تفصیل قلم انداز کی جاتی ہے۔

گورنری

حضرت عمرؓ نے بمصالح خالدؓ کو معزول کردیا تھا، لیکن معزول کرنے کے بعد ان سے ان کے رتبہ کے مطابق کام لیے اوران کے جوہر اوران کی فطری صلاحیتوں سےسپہ سالاری کے بجائے دوسرے شعبوں میں فائدہ اٹھایا، چنانچہ معزولی کے بعد رہا، حران، آمد اور لرتہ کا گورنر مقرر کردیا،لیکن ایک سال کے بعد وہ خود مستعفی ہوگئے۔ [64]

وفات

گورنری سے استعفادینے کے بعد مدینہ میں مقیم ہوگئے اورکچھ دن بیمار رہ کر ۲۲ھ میں وفات پائی، بعض لوگ آپ کی وفات حمص میں بتاتے ہیں، مگریہ صحیح نہیں ہے؛کیونکہ حضرت عمرؓ آپ کے جنازہ میں شریک تھے، [65] اور ۲۲ھ میں انہوں نے شام کا کوئی سفر نہیں کیا، آپ کی وفات سے مدینہ کی عورتوں خصوصاً بنی عذرہ میں کہرام برپا تھا۔

اولاد

اولاد کی تعداد کی تفصیل نہیں ملتی، صرف دولڑکوں ،مہاجر اورعبدالرحمن کا نام ملتا ہے ان دونوں میں باپ کی شجاعت کا اثر تھا، چنانچہ مہاجربن خالدؓ نے جنگ صفین میں حضرت علیؓ کی حمایت میں سرگرمی سے حصہ لیا، [66]اور حضرت معاویہؓ کے عہد میں قسطنطنیہ کے مشہور معرکہ میں فوج کے ایک کماندار عبدالرحمن بن خالدبن ولید تھے، [67] حضرت خالدؓ کی کنیت ابو سلیمان تھی، اس سے قیاس ہوتا ہے کہ اس نام کا بھی کوئی لڑکا رہا ہوگا، مگر تصریح نہیں ملتی۔

فضل و کمال

چونکہ ابتدا سے لے کر آخر تک خالدؓ کی پوری زندگی میدان جنگ میں گذری اس لیے ذات نبویﷺ سے خوشہ چینی کا موقع کم ملا، وہ خود کہتے تھے کہ جہاد کی مشغولیت نے مجھ کو تعلیم قرآن کے بڑے حصہ سے محروم رکھا،[68] تاہم وہ صحبت نبویﷺ کے فیض سے دولت علم سے بے بالکل بے بہرہ نہ تھے اور آنحضرت ﷺ کے بعد مدینہ میں جو جماعت صاحب علم و افتا تھی، ان میں ایک ان کا نام بھی تھا، لیکن فطرۃ سپاہی تھے، اس لیے مسند افتا پر نہ بیٹھے اوران کے فتاویٰ کی تعداد دوچار سے زیادہ نہیں ہے، [69] ابن عباسؓ ،جابربن عبداللہ،مقدام بن معدی کرب، قیس بن ابی حازم، اشترنخعی ،علقہمہ، ابن قیس ،جبیرین نضیر وغیرہ نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں، [70] ان کی مرویات کی تعداد کل اٹھارہ ہے جن میں سے دو متفق علیہ ہیں اورایک میں بخاری منفرد ہیں۔

(فضائل اخلاق) رضائے نبویﷺ

صحابہ کرام کے لیے سب سے بڑی دولت آنحضرت ﷺ کی رضا جوئی اور خوشنودی تھی، اس کے لیے وہ اپنے جذبات کو بھی آنحضرت ﷺ کے تابع فرمان کردیتے تھے،خالدؓ گوتندمزاج تھے،لیکن فرمان نبویﷺ کے مقابلہ میں ان کی تند مزاجی حلم و عفو سے بدل جاتی تھی، ایک مرتبہ ان میں اور عمارؓ بن یاسر میں کسی معاملہ میں بحث ہوگئی اور سخت کلامی تک نوبت پہنچی گئی، عمارؓ نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی، اتفاق سے اسی وقت حضرت خالدؓ بھی آگئے اور شکایت سن کر بہت برہم ہوئے اور عمار کو برا بھلا کہنا شروع کیا، آنحضرت ﷺ خاموش تھے، عمارؓ نے آبدیدہ ہوکر عرض کیا حضور ان کی زیادتیوں کو ملاحظہ فرما رہے ہیں، آنحضرت ﷺ نے سر اٹھا کر فرمایا کہ "جو شخص عمارؓ سے بغض وعداوت رکھتا ہے وہ اللہ سے بغض و عناد رکھتا ہے"خالدؓ پر اس ارشاد کا یہ اثر ہوا کہ ان کا بیان ہے کہ جب میں آنحضرت ﷺ کے پاس سے اٹھا تو عمارؓ کی رضا جوئی سے زیادہ کوئی چیز میرے لیے محبوب نہ تھی اوران سے مل کر ان کو منایا۔ [71]

احترام نبویﷺ

خالدؓ کے دل میں آنحضرت ﷺ کا اتنا احترام تھا کہ وہ کسی کی زبان سے آپ کی شان میں کوئی ناروا کلمہ برداشت نہیں کرسکتےتھے، ایک مرتبہ آپ ﷺ کے پاس کچھ سونا آیا، آپﷺ نے اسے اہل نجد میں تقسیم کردیا، قریش وانصار کو شکایت ہوئی، انہوں نے شکایت کی کہ آپ نے سب سونا نجدی سرداروں کو دیدیا، اورہم لوگوں کو بالکل نظر انداز فرمادیا، آپ نے فرمایا کہ ان کو تالیف قلب کے خیال سے دیتا ہوں، یہ سن کر نجد یوں کے گروہ سے ایک شخص نے کہا کہ محمد ﷺ اللہ سے ڈرا! آپﷺ نے فرمایا،اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو پھر اللہ کی اطاعت کون کرتا ہے؟ خالدؓ کو اس گستاخی پر غصہ آگیا اوراس کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی ؛لیکن آپ نے روک دیا۔ [72]

آثار نبویﷺ سے تبریک

وہ ہر اس چیز کے ساتھ جس کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ شرف انتساب حاصل ہوتا والہانہ عقیدت رکھتے تھے،چنانچہ آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک ایک ٹوپی میں سلوالیے تھے،جس کو پہن کر میدان جنگ میں جاتےتھے،یرموک کے معرکے میں یہ ٹوپی گر گئی تھی، حضرت خالدؓ بہت پریشان ہوئے اورآخر بڑی تلاش و جستجو کے بعد ملی۔ [73]

جہاد فی سبیل اللہ

حضرت خالدؓ کی کتاب زندگی کا سب سے جلی عنوان اور سب سے روشن باب جہاد فی سبیل اللہ ہے،ان کی زندگی کا بیشتر حصہ اسی میں گذرا،غزوات نبویﷺ اورعراق وشام کی فتوحات کے حالات میں اس کی تفصیل گذرچکی ہے، ان کے اسی ذوق جہاد اور شجاعانہ کارناموں کے صلہ میں ان کو دربار نبوی سے سیف اللہ کا لقب ملا، تقریباً سواسو لڑائیوں میں اپنی تلوار کے جوہر دکھائے ،جسم میں ایک بالشت حصہ بھی ایسا نہ تھا جو تیروں اور تلواروں کے زخم سے زخمی نہ ہوا ہو،[74] ذوق جہاد میں کہا کرتے تھے کہ مجھے میدان جنگ کی وہ سخت رات جس میں اپنے دشمنوں سے لڑوں، اس شب عروسی سے زیادہ مرغوب ہے، جس میں میری محبوبہ مجھ سے ہمکنار ہو،[75] آخروقت جب اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے تو بڑی حسرت اورافسوس کے ساتھ کہتے تھے کہ افسوس میری ساری زندگی میدان جنگ میں گذری اورآج میں بستر مرگ پر جانور کی طرح ایڑیاں رگڑ کے جان دے رہا ہوں، [76] اللہ نے آپ کے قدموں میں یہ برکت دی تھی کہ جدھر رخ کیا کبھی ناکام واپس نہ لوٹے خود کہتے تھے کہ میں نے جس طرف کا رخ کیا فتحیاب ہوا[77] اس قول کی صداقت پر ان کے کارنامے شاہد ہیں، آنحضرت ﷺ کو ان کی شجاعت پر اس قدر اعتماد تھا کہ جب ان کے ہاتھ میں علم آجاتا تو آپ مطمئن ہوجاتے ،چنانچہ غزوۂ موتہ میں جب حضرت خالدؓ نے علم سنبھالا تو آنحضرت ﷺ نے غائبانہ فرمایا کہ اب لڑائی کا تنور گرمایا، (ابن سعد ق۲،جلد۴،تذکرہ خالدؓ) چونکہ سپہ گری ان کا آبائی پیشہ تھا، اس لیے ان کے پاس سامان حرب کافی تھا، جس کو انہوں نے اسلام لانے کے بعد راہ للہ میں وقف کردیا تھا۔ [78]

آنحضرت ﷺ کا مدح کرنا

آنحضرت ﷺ حضرت خالدؓ کی ان جان فروشیوں اورقربانیوں کی بہت قدر فرماتے تھے اور متعدد موقعوں پر مدحیہ لہجہ میں ان کا اعتراف فرمایا کرتے ،فتح مکہ کے موقع پر جب کہ مسلمان مختلف سمتوں سے مکہ میں داخل ہورہے تھے ایک گھاٹی کی طرف خالدؓ بھی نمودار ہوئے،آنحضرت ﷺ نے ابوہریرہؓ سے فرمایا،دیکھو کون ہے،انہوں نے عرض کیا خالدبن ولیدؓ، فرمایا کہ یہ اللہ کا بندہ بھی کیا خوب ہے،[79] خود بھی قدر دانی فرماتے تھے اور لوگوں کو بھی ان کا لحاظ رکھنے کی ہدایت فرماتے تھے،ایک موقع پر لوگوں سے فرمایا کہ خالدؓ کو تم لوگ کسی قسم کی تکلیف نہ دو، کیونکہ وہ اللہ کی تلوار ہے، جس کو اس نے کفار پر کھینچا ہے۔ [80] ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمرؓ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل ،خالدؓ، اورعباسؓ نے دینے سے انکار کیا، آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا، تو فرمایا کہ "ابن جمیل فقیر تھا،اللہ نے اس کو دولتمند کیا، یہ اس کا بدلہ ہے، لیکن خالدؓبن ولید پر تم لوگ زیادتی کرتے ہو،انہوں نے اپنا تمام سامان حرب اللہ کی راہ میں وقف کردیا ہے، پھر ان پر زکوٰۃ کیسی، رہا عباس کا معاملہ تو ان کا میں ذمہ دار ہوں ،کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ چچا باپ کی جگہ ہے۔ [81]

مزاج

ان کی پوری زندگی سپاہیانہ تھی، اس لیے مزاج میں حرارت اور تیزی تھی،ذرا سی خلاف مزاج بات پر بگڑجاتے تھے،عمار بنؓ یاسر کے ساتھ سخت کلامی کا واقعہ اوپرگذرچکا ہے اسی طرح بنو جذیمہ کے معاملہ میں( جن پر آپ نے مشرک سمجھ کر حملہ کردیا،) جب عبدالرحمن بن عوفؓ نے اعتراض کیا تو بہت برہم ہوئے۔ [82]

حق پرستی

لیکن اس تند مزاجی کے باوجود ہٹ دھرمی نہ تھی اور حق بات کو قبول کرنے اوردوسروں کے فضائل کے اعتراف میں عار نہ کرتے تھے، معزولی کا واقعہ اوپر گذر چکا ہے کہ مجمع عام میں اس طرح معزول کیا جاتا ہے کہ سر سے ٹوپی اتارلی جاتی ہے، عمامہ گردن میں باندھ دیا جاتا ہے اورآپ دم نہیں مارتے اورجب ان کی جگہ پر ابو عبیدہؓ سپہ سالار مقرر ہوتے ہیں تو یہ لوگوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اب اس امت کا امین تم پر امیر مقرر کیا گیا ہے۔ [83]

اشاعت اسلام

اشاعت اسلام ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے،خالدؓ آنحضرت ﷺ کی زندگی میں اور آپ کے بعد برابر اس فریضہ کو ادا کرتے رہے، فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے اشاعتِ اسلام کی غرض سے جو سرایا بھیجے،ان میں سے متعدد سریے ان کی سرکردگی میں کیے گئے، اور بنو جذیمہ، بنو عبدالمدان نجرانی ان ہی کی کوششوں سے مشرف باسلام ہوئے، اوراہل یمن کے اسلام میں حضرت علیؓ کے ساتھ ان کی کوششیں بھی شامل تھیں، فتنہ ردہ میں طلیحہ کی جماعت بنو ہوازن ،بنو سلیم اوربنو عامر وغیرہ دوبارہ ان ہی کی کوششوں سے اسلام لائے، [84] ان جماعتوں کے علاوہ منفرد طورپر بھی بعض مشہور لوگ آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے ،جنگ یرموک میں قیصر روم کے سفیر جارج کے قبول اسلام کا واقعہ اوپر گذرچکا ہے۔ [85]

حوالہ جات

  1. (عقد الفرید ،جلد۲)
  2. (استیعاب :۵۷/۱)
  3. (تفصیل کے لیے دیکھو مسند احمد بن حنبل:۱۹۸/۴)
  4. (اسد الغابہ:۱۰۱/۲)
  5. (ابن سعد حصہ مغازی:۹۲)
  6. (بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ موتہ)
  7. (بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ موتہ)
  8. (مسلم:۸۹/۲،طبع مصر)
  9. (ابن سعد حصہ مغازی:۹۸،بخاری باب فتح مکہ)
  10. (ابن سعد حصہ مغازی:۱۰۸)
  11. (اسد الغابہ:۱۰۳/۲)
  12. (ابن سعد حصہ مغازی:۱۱۴)
  13. (ابن سعد حصہ مغازی:۱۱۴)
  14. (رزقانی :۸۶/۳)
  15. (ابن سعد حصہ مغازی:۱۲۰)
  16. (بخاری کتاب المغازی باب سریہ بنو حذیمہ)
  17. (ابن سعد حصہ مغازی:۱۰۷)
  18. (اسد الغابہ :۱۰۲/۲)
  19. (زرقانی:۱۱۶/۳)
  20. (ابن سعد حصہ مغازی :۱۲۲)
  21. (ابن سعدحصہ مغازی:۱۰۵)
  22. (یعقوبی :۱۴۵/۲)
  23. (تاریخ الخلفاء سیوطی:۷۲)
  24. (طبری واقعات:۱۱ھ)
  25. (تاریخ الملوک عمروصفہانی :۹۰،مطبوعہ برلن)
  26. (اسد الغابہ:۱۰۴/۵)
  27. (تاریخ الملوک :۷۶)
  28. (سیرۃ ابن ہشام:۶۹/۱)
  29. (طبری:۱۸۷۲)
  30. (فتوح البلدان،فتوح عراق)
  31. (ابن خلدون :۷۹/۲)
  32. (طبری:۲۰۲۷،۲۰۲۸،ابن خلدون:۷۹/۲)
  33. (طبری :۲۰۳۱/۴)
  34. (ابن خلدون:۸۰/۲،طبری:۲۰۳۱ تا۲۰۳۷/۴)
  35. (ابن اثیر:۲۹۸/۲)
  36. (طبری:۲۰۳۷،۲۰۴۱/۵)
  37. (طبری:۲۰۵۹،۲۰۶۱،وفتوح البلدان بلاذری:۲۵۵)
  38. (ابن اثیر:۲۹/۲)
  39. (طبری جلد۴:۲۰۶۳)
  40. (فتوح البلدان بلاذری:۲۵۵)
  41. (فتوح البلدان بلاذری:۲۵۷)
  42. (ابن خلدون:۳۹/۲)
  43. (طبری:۲۰۶۶/۴،وابن اثیر :۳۰۳/۶)
  44. (طبری:۲۰۶۷تا۲۰۷۰/۴)
  45. (طبری:۲۰۷۳،۲۰۷۴/۴)
  46. (ابن اثیر:۳۱۴/۲)
  47. (فتوح البلدان بلاذری :۱۱۹)
  48. (طبری:۲۱۵۲/۴)
  49. (ابن اثیر:۳۲۹/۶)
  50. (فتوح البلدان بلاذری:۱۳۰)
  51. (ابن اثیر:۳۸۱/۲)
  52. (فتوح البلدان:۱۴۱)
  53. (طبری:۲۰۹۴/۵)
  54. (طبری:۲۰۹۸)
  55. (طبری:۲۳۹۳)
  56. (ابن اثیر:۳۸۴/۲)
  57. (طبری فتح بیت المقدس)
  58. (طبری:۲/۷۵)
  59. (اصابہ:۲/۲۰۰)
  60. (طبری:۴/۲۰۸۵)
  61. (اصابہ:۲/۱۰۰)
  62. (ابن اثیر:۲/۴۱۹)
  63. (ابن اثیر:۲/۴۱۹)
  64. (مستدرک حاکم: ۳/۲۹۷)
  65. (اصابہ :۲/۱۰۰ اور مستدرک حاکم:۳/۲۹۷)
  66. (استیعاب:۱/۲۷۶)
  67. (ابوداؤد کتاب الجہاد باب قولہ تعالی ولا تلقوابایدیکم الی التھلکۃ )
  68. (اصابہ:۲/۹۹)
  69. (اعلام الموقعین:جلد۱ فصل اصحاب الفتویٰ من اصحاب النبی ﷺ )
  70. (تہذیب التہذیب:۲/۱۲۴)
  71. (مسند احمد بن حنبل:۴/۸۹)
  72. (بخاری :۲/۱۰۵)
  73. (اصابہ:۲/۹۹)
  74. (اسد الغابہ:۲/۱۰۲)
  75. (اصابہ:۲/۹۹)
  76. (استیعاب:۱/۱۵۸)
  77. (اصابہ :۲/۹۹)
  78. (صحیح بخاری کتاب الزکوۃ واسد الغباہ :۲/۱۰۴)
  79. (مسند احمد بن حنبل:۲/۳۶۰)
  80. (اصابہ:۲/۹۹)
  81. (ابوداؤد:۱/۱۶۳ و مسلم :۱/۲۶۲،مصر)
  82. (اسد الغابہ:۲/۱۰۳)
  83. (اصابہ:۲/۹۹)
  84. (ابن خلدون،جلد۲،بعوث مرتدین)
  85. (ابن اثیر:۲/۳۱۶)