خالد بن ولید

عرب کے سپہ سالار اور صحابی رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

 مکمل

خالد بن ولید

سیف اللہ، الله کی تلوار
پیدائشمکہ
وفات642ء
مدینہ منورہ یا حمص، خلافت راشدہ
ممکنہ تدفین کی جگہ
مسجد خالد بن ولید، حمص، سوریہ
وفاداریقریش (625ء – 627ء یا 629ء)
محمد بن عبد اللہ (627ء یا 629ء– 632ء)
خلافت راشدہ (632ء – 638ء)
سروس/شاخخلافت راشدہ کی فوج
سالہائے فعالیت629ء–638ء
آرمی عہدہ
مقابلے/جنگیں
شریک حیاتاسماء بنت انس بن مدرک
ام تمیم بنت منھال
اولادسلیمان
عبد الرحمٰن
مہاجر

خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ عنہ (28ق.ھ / 22ھ) آپ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے ہیں ۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے ہیں ۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی ۔جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ رہے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہو گیا کہ میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جاکر دربار رسالت میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آگئے اور یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لیے بے نیام رہے گی چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے یہاں تک كه میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی ۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا ۔امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں جب فتنہ ارتداد نے سر اٹھایا تو انھوں نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح مبین حاصل کی۔پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی اور بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں 22ھ میں چند دن بیماررہ کر وفات پائی ۔ [1] موتہ کی جنگ کے دوران، خالد بن ولید نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں قیادت کی۔ اور انھوں نے 629-630 میں مکہ کی مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد، خالد بن ولید کو نجد اور یمامہ میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔

اس کے بعد خالد بن ولید نے عراق میں فرات کی وادی میں عیسائی عرب قبائل اور ساسانی سلطنت فوجوں کے خلاف حرکت میں آئے۔ انھیں ابوبکر نے شام میں مسلم فوجوں کی کمان کرنے کے لیے دوبارہ تفویض کیا تھا۔ جنگ اجنادین (634)، جنگ فحل (634 یا 635)، محاصرہ دمشق (634-635) اور جنگ یرموک (636) میں خالدبن ولید کی قیادت میں بازنطینیوں کے خلاف فیصلہ کن فتوحات حاصل کیں۔ جس کے نتیجے میں، راشدین فوج نے لیونٹ کا بیشتر حصہ فتح کر لیا۔ خالدبن ولید کو بعد ازاں عمر بن خطاب کے ذریعے فوج کی اعلیٰ کمان سے ہٹا دیا گیا۔ خالد نے اپنے جانشین ابو عبیدہ بن جراح کے ماتحت حمص اور حلب کے محاصروں اور جنگ حاضر میں خدمات انجام دیں۔ اس جنگوں میں شہنشاہ ہرقل کے ماتحت شام سے سامراجی بازنطینی فوجوں نے پسپائی اختیار کی۔ اس فتح کے بعد عمر بن خطاب نے خالدبن ولید کو 638ء میں جند قنسرین کی گورنری سے برطرف کر دیا۔ ان کا انتقال مدینہ منورہ یا حمص میں 642 ءمیں ہوا۔

انھیں عام طور پر مورخین ابتدائی اسلامی دور کے سب سے تجربہ کار اور کامیاب جرنیلوں میں سے ایک تصور کرتے ہیں۔ اسلامی روایت خالدبن ولید کو ان کی جنگی حکمت عملیوں اور امسلمانوں کی فتوحات کی موثر قیادت کا سہرا دیتی ہے۔ ابو سلیمان خالد بن ولید تاریخ کے ان چند فوجی کمانڈروں میں سے ایک ہیں۔ جنھوں نے ساری زندگی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔ خالد بازنطینی رومی سلطنت، فارسی ساسانی سلطنت اور ان کے اتحادیوں کے اعلیٰ افواج کے خلاف سو سے زائد لڑائیوں میں ناقابل شکست رہے۔ [2] [3][4]

نام و نسب

خالد نام، ابوسلیمان کنیت، سیف اللہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے، خالد بن ولید ابن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم مخزومی ، ماں کا نام لبانہ تھا،یہ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی قریبی عزیز تھی۔ میں،جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ وحضرت جعفر بن ابی طالب وحضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کی فتح مبین ہو گئی ۔ اور اسی موقع پر جب کہ یہ جنگ میں مصروف تھے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ والہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ”(اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا ۔ ۔[5] [6] [7][8]

خاندانی حالات

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا خاندان زمانہ جاہلیت سے معزز چلا آتا تھا ،قبہ اور اعنہ یعنی فوج کی سپہ سالاری اور فوجی کیمپ کے انتظام کا عہدہ انھی کے خاندان میں تھا۔ [9] اور ظہور اسلام کے وقت خالد بن ولید اس عہدہ پر ممتاز تھے [10] چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش کا جو دستہ مسلمانوں کی نقل وحرکت کا پتہ لگانے آیا تھا، اس کے سردار خالد بن ولید تھے،[11] غزوۂ احد میں مسلمانوں کے خلاف بڑی شجاعت سے لڑے اور مشرکین مکہ کے اکھڑے ہوئے پاؤں انھی کی ہمت افزائی سے دوبارہ جمے۔ [12] [13] [14]

اسلام

آپ کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں، سب میں مستند روایت مسند احمد بن حنبل کی ہے، جو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے اسلام کے سلسلہ میں ان کے مضمون میں لکھی جا چکی ہے اس کی رو سے ان کے اسلام قبول کرنے کا زمانہ اور کے درمیان ہے، عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جب اسلام لانے کے قصد سے حبشہ سے چل کر عرب آئے اور اس کے لیے مدینہ کا رخ کیا تو راستہ میں قریش کا ایک اور خوش قسمت ہیرو اسی غرض سے مدینہ کا رخ کرتا ہوا نظر آیا، یہ خالد بن ولید تھے، وہ بھی اسلام ہی لانے کی نیت سے مدینہ جا رہے تھے، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو راستہ میں دیکھ کر پوچھا کہاں کا قصد ہے، بولے خدا کی قسم خوب پانسا پڑا ،یہ شخص آنحضرت یقینا نبی ہے ،چلو اسلام کا شرف حاصل کریں ،آخر کب تک؟چنانچہ یہ دونوں ایک ساتھ خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور پہلے خالد بن ولید پھر عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشرف باسلام ہوئے۔ [15] [16] [17] .[18]

ہجرت

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ لوٹ آئے، مگر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ ہی میں مستقل قیام اختیار کر لیا۔ [19][20]

غزوات

جیسا کہ اوپر لکھا دیا گیا ہے کہ ظہور اسلام کے وقت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خاندانی عہدہ پر ممتاز تھے ،اسلام کے بعد بھی آنحضرت نے ان کا یہ اعزاز قائم رکھا، اس سے فتوحات اسلامی میں بڑی مدد ملی،[21] حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس طرح قبول اسلام سے پہلے مسلمانوں کے سخت دشمن تھے، اسی طرح اسلام کے بعد وہ مشرکوں کے لیے سخت ترین خطرہ بن گئے ، چنانچہ اکثر غزوات میں ان کی تلوار مشرکین کا شیرازہ بکھیرتی رہی۔ [22]

غزوۂ موتہ

اسلام لانے کے بعد سب سے پہلے غزوۂ موتہ میں شریک ہوئے، اس کا واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت نے دعوتِ اسلام کے سلسلہ میں حارث بن عمیر ازدی کے ہاتھ ایک خط شاہ بصری کے پاس بھیجا تھا، یہ بزرگ خط لے کر مقام موتہ تک پہنچے تھے کہ شرجیل ابن عمرو غسانی نے شہید کر دیا، آنحضرت اور عام مسلمانوں پر اس کا سخت اثر ہوا؛چنانچہ آپ نے اس کے انتقام کے لیے 2 ہزار کی جمعیت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں روانہ کی،[23] اور ہدایت فرمائی کہ اگر زید بن حارثہ شہید ہو تو جعفر طیار ان کی جگہ لیں اور یہ بھی شہید ہوں تو عبداللہ بن رواحہ قائم مقامی کریں؛ چنانچہ اسی ترتیب سے تینوں بزرگوں نے میدان جنگ میں جامِ شہادت پیا، آخر میں حضرت خالدؓ بن ولید نے علم سنبھالا، [24] مگر مسلسل تین افسروں کی شہادت سے مسلمانوں کے دل ٹوٹ چکے تھے، اس لیے وہ دوبارہ شکست تو نہ دے سکے، مگر خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی جنگی قابلیت سے باقی ماندہ فوج کو بچا لائے،اسی جنگ میں خالدؓ بن ولید کے ہاتھ سے 9 تلواریں ٹوٹی تھیں جس کے صلہ میں آنحضرت نے ان کو"سیف اللہ" کا معزز لقب عطا فرمایا تھا۔ [25] [26][27]

فتح مکہ

فتح مکہ میں میمنہ کے افسر تھے،[28] لیکن جنگ کی نوبت نہیں آئی،روسائے قریش نے بلا مزاحمت ہتھیار ڈال دیے، صرف چند مشرک حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں مارے گئے ،اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت نے خالدؓ بن ولید کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنا دستہ مکہ کے بالائی حصہ کدا کی جانب سے لے کر آئیں، چنانچہ یہ آ رہے تھے،کہ راستہ میں مشرکوں کا ایک جتھا مزاحم ہوا اور پیہم تیر بازی شروع کر دی، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی جوابی حملہ کیا، اس میں چند مشرک مارے گئے ، آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے باز پرس کی، انھوں نے کہا کہ ابتدا انھی کی جانب سے ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر مرضی الہی بہتر ہے۔ [29] [30]

غزوۂ حنین

فتح مکہ کے بعد بنو ثقیف و ہوازن" اوطاس" کے میدان میں جمع ہوئے، آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ بارہ ہزار فوج کے ساتھ مقابلہ کو نکلے،قبیلوں کے لحاظ سے فوج کے مختلف حصے تھے، بنو سلیم کا قبیلہ مقدمۃ الجیش تھا، اس کی کمان حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ تھی،[31] چنانچہ اس جنگ میں وہ نہایت شجاعت و شہامت سے لڑے اور بہت سے وار جسم پر کھائے، آنحضرت عیادت کے لیے تشریف لائے زخموں کو دم کیا اور خالدؓ بن ولید جلد شفایاب ہو گئے۔ [32] [33][34]

طائف

غزوہ حنین کے مشرکوں کی شکست خوردہ فوج بڑھ کر غزوہ طائف کے قلعہ میں بند ہو گئی اور جیسے ہی مسلمان ادھر سے گذرے اس نے قلعہ کے اندر سے تیر برسانا شروع کر دیے ، بہت سے مسلمان شہید ہو گئے، مسلمانوں نے بھی مدافعانہ حملہ کیا، اس فوج کا مقدمۃ الجیش بھی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں تھا۔ [35]

تبوک

میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ رومیوں نے مسلمانوں کے خلاف شام میں فوج جمع کی ہے اور اس کا مقدمۃ الجیش بلقا تک پہنچ چکا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم 3 ہزار فوج لے کر مقابلہ کو نکلے، لیکن خبر غلط نکلی اورجنگ کی نوبت نہیں آئی، تاہم احتیاطاً 20 دن مقام تبوک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام فرمایا، [36] اس نواح کے عربی النسل عیسائی روسا قیصر روم کے ماتحت تھے، انھی کے ذریعہ سے رومی ریشہ دوانیاں کیا کرتے تھے، اس لیے ان کا مطیع کرنا ضروری تھا، چنانچہ ایلہ اوراوزح کے رئیسوں نے اطاعت قبول کرلی، [37] صرف دومۃ الجندل کا رئیس اکیدر بن عبد الملک باقی رہ گیا ، آنحضرت نے خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چار سو آدمیوں کے ساتھ اس کو مطیع بنانے پر مامور فرمایا، اس کے بھائی حسن نے مقابلہ کیا مگر ماراگیا اور اس کے بقیہ ساتھی بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزین ہو گئے، خالد نے اکیدر کو گرفتار کرکے آنحضرت کی خدمت میں حاضر کیا،یہاں آکر اس نے بھی جزیہ دے کر اطاعت قبول کرلی اور آپ نے اس کو جان و مال کا امان نامہ عطا فرمایا۔ [38] [39]

سریہ بنو حزیمہ

اسی سنہ میں دعوت اسلام کے سلسلہ میں آنحضرت نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو تین سو مہاجرین وانصار کے ساتھ بنو حذیمہ کی طرف بھیجا، انھوں نے آپ کی ہدایت کے مطابق ان کو اسلام کی دعوت دی، انھوں نے قبول کرلی، مگر نا واقفیت کی وجہ سے صحیح الفاظ میں اسلام کا اظہار نہ کرسکے اور بجائے "اسلمنا" کے یعنی ہم اسلام لائے، "صبانا" کہا یعنی ہم بے دین ہو گئے، مشرکین سے وہ مسلمانوں کو "صابی" بے دین کہتے سنتے تھے، اس لیے انھوں نے بھی انھی الفاظ میں اسلام کا اظہار کیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کو نہ سمجھ سکے اور سب کی گردنیں اڑانے کا حکم دیدیا، بہت سے مہاجرین وانصار نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کر دیا، پھر بھی بہترے لوگ مارے گئے، آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ واقعہ سنا تو بہت متاسف ہوئے اور ہاتھ اٹھا کر اس سے طبری ظاہر کردی کہ خدایا! میں خالدؓ بن ولید کے اس فعل سے بری ہوں[40] پھر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان سب کی دیت دے کر بھیجا، انھوں نے سب کو جان و مال کا پورا معاوضہ دیا،[41] اور کتوں تک کا خون بہا ادا کیا اور اس کے بعد جتنا مال بچا سب انھی لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ [42] [43]

سریہ نجران

اس سلسلہ کا ایک اور سریہ 10ھ میں حضرت خالد بن ولید کی سر کردگی میں بنو عبدالمدان بجرانی کی طرف بھیجا گیا، چونکہ ایک مرتبہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جلد بازی کا تلخ تجربہ ہو چکا تھا، اس لیے اس مرتبہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور سے ہدایت فرما دی کہ محض اسلام کی دعوت دینا، تلوار نہ اٹھانا ، حضرت خالدؓ بن ولید نے اس کی پوری پابندی کی اور میدان جنگ کے سپاہی دفعتۃ مبلغ اسلام کے قالب میں آگئے اور ان کی کوشش سے بنو عبدالمدان نے اسلام قبول کر لیا اور سیف اللہ نے ان کی مذہبی تعلیم و تربیت کے بعد جب یہ لوگ اسلامی مسائل سے واقف ہو گئے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی، آپ نے سب کو طلب فرمایا؛ چنانچہ یہ لوگ حاضر ہوئے اور دیدار جمال نبوی سے فیضیاب ہوکر واپس گئے۔ [44] [34] .[45][46]

سریۂ یمن

اسی سنہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی امارت میں ایک سریہ یمن روانہ کیا، اسی سریہ میں دوسری جانب سے حضرت خالدؓ بن ولید کو روانہ فرمایا اورحکم دیا کہ جب دونوں ملیں تو امارت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق رہے گی،[47] اور چلتے چلتے یہ ہدایت فرما دی کہ جنگ کا آغاز تمھاری جانب سے نہ ہو، البتہ اگر یمن والے پیش قدمی کریں تو تم مدافعت کرسکتے ہو، چنانچہ ان لوگوں نے یمن پہنچ کر اسلام پیش کیا، لیکن اس کا جواب تیرا اور پتھر سے ملا، اس وقت مسلمانوں نے جوابی حملہ کیا اور یمنی پسپا ہوئے، مگر ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی گئی ؛بلکہ دوبارہ پھر اسلام پیش کیا گیا اور انھوں نے بلا جبر و اکراہ اس کو قبول کر لیا۔ [48][49] .[50]

سریۂ عزیٰ

عزیٰ قریش و کنانہ کا صنم کدہ تھا ،جس کی یہ لوگ بڑی عظمت کرتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کے گرانے پر مامور فرمایا، انھوں نے اس کی تعمیل کی، آپ نے پوچھا تم نے وہاں کچھ دیکھا بھی تھا، عرض کیا نہیں فرمایا: پھر جاؤ اس گرانے کا اعتبار نہیں ؛چنانچہ وہ دوبارہ واپس گئے، اس مرتبہ یہاں ایک بھیانک شکل کی عورت نکلی، (یہی عورتیں صنم کدوں میں بد اخلاقیوں کی بنیاد ہوتی تھیں) خالدؓ بن ولید نے اس کا کام تمام کرکے آنحضرت کو اطلاع دی ،فرمایا ہاں جاؤ اب تم نے کام پورا کیا۔ [51] [52][53]

مدعیانِ نبوت کا استیصال

عہد صدیقی میں جب مدعیانِ نبوت کا فتنہ اٹھا اور اس کے استیصال کے لیے فوجیں روانہ کیں گئیں تو خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ طلیحہ کی سرکوبی پر مامور ہوئے،انھوں نے اس کا بہت کامیاب مقابلہ کیا اور اس کے اعوان و انصار کو قتل اور اس کے قوت و بازو عینیہ بن حصین کو 30 آدمیوں کے ساتھ گرفتار کرکے پابجولان دربار خلافت میں حاضر کیا۔ [54] یمامہ میں شرجیل بن حسنہ مشہور کذاب مسیلمہ سے بر سر پیکار تھے ،حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ طلیحہ سے فارغ ہو کر ان کی مدد کو آگے بڑھے ،راستہ میں مجاعہ ملا اس کے ساتھیوں سے مقابلہ ہوا،ان کو شکست دے کر مجاعہ کو گرفتار کر کے یمامہ پہنچے اور مسیلمہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشہور قاتل وحشی کے ہاتھ سے مارا گیا۔ [55]

مرتدین کی سرکوبی

خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدعیان نبوت کی مہم سے فارغ ہو کر منکرین زکوۃ اور مرتدین کی طرف بڑھے اور سب سے پہلے اسد و غطفان سے نبرد آزما ہوئے، ان میں کچھ جان سے مارے گئے اور کچھ گرفتار ہوئے، جو باقی بچے وہ تائب ہو گئے [56] ان معرکوں کے علاوہ ارتداد کے سلسلہ میں جس قدر لڑائیاں ہوئیں، ان سب میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے،تاریخ طبری کے یہ الفاظ ہیں: ان الفتوح فی اھل الراداۃ کلھا کانت لخالد بن ولید وغیرہ [57] یعنی ارتداد میں جتنی فتحیں ہوئی وہ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کا کارنامہ ہے۔ [58][59]

عراق پر فوج کشی اور اس کے اسباب

جزیرۃ العرب اس عہد کی دو عظیم سلطنتوں کے درمیان گھرا ہوا تھا، ایک طرف شام میں رومی چھائے ہوئے تھے ، دوسری طرف عراق پر کیانی خاندان قابض تھا، یہ دو سلطنتیں ہمیشہ عربوں کی آزادی سلب کرنے کی فکر میں رہتی تھیں،گو پورے طور پر عربوں پر ان کا قابو نہ چلا، تاہم جب بھی ان کو موقع ملا ، انھوں نے عرب پر تسلط جمانے کی کوشش کی، یمن کے حمیری خاندان کا خاتمہ ایرانیوں کے ہاتھوں ہوا، گو حمیری برائے نام حکمران رہے ، مگر اس کا سیاہ سپید تمام تر ایرانیوں کے ہاتھ میں تھا، بحرین اور عمان بھی ان کے زیر اثر تھے، ان کے علاوہ مختلف اوقات میں عرب کے سولہ مقامات ایرانی مرزبانوں کے قبضہ میں رہ چکے تھے، [60] عراقی نحمی خاندان کو بھی ایرانیوں ہی نے مٹایا ایرانیوں کا یہ اقتدار ظہور اسلام کے وقت تک باقی تھا، چنانچہ جنگ ذی قار میں جب ایرانیوں نے عربوں سے شکست کھائی تو آنحضرت نے فرمایا، آج عرب نے عجم سے اپنا منصفانہ بدلہ لیا۔ [61] یہی حال قیصری حکومت کا تھا، جب جب اس کو موقع ملتا تھا، شام کی جانب سر زمین عرب میں قدم بڑھاتی رہی، شام میں جو عرب خاندان آباد تھے، ان پر آل جفنہ قیصر کی جانب سے حکومت کرتے تھے، گو آل جفنہ عربی النسل تھے، لیکن ان کا تقرر قیصری حکومت کرتی تھی،[62] حبشہ کے عیسائیوں نے رومیوں کے اشارے سے عرب کی مرکزیت توڑنے کے لیے یمن کو فتح کرکے صنعاء میں ایک کعبہ بنایا کہ خانہ کعبہ کے پجاری تقسیم ہوجائیں۔ [63] ظہور اسلام کے بعد جب عرب متحد ہوکر ایک مرکز پر جمع ہو گئے، تو ان دونوں سلطنتوں کے لیے عرب کا سوال اور زیادہ اہم ہو گیا، اگر پہلے ملک گیری کی ہوس تھی تو اب عربوں سے سیاسی خطرہ نظر آرہا تھا،چنانچہ جب آنحضرت نے خسرو پرویز کو دعوت اسلام کا خط لکھا تو اس نے چاک کر ڈالا اور بولا ، میرا غلام مجھ کو یوں لکھتا ہے اورفوراً آپ کی گرفتاری کا فرمان جاری کیا،[64] اسی طرح شرجیل بن عمرو نے جو قیصر کی جانب سے بصریٰ کا حاکم تھا، آنحضرت کے قاصد کو قتل کرا دیا، غرض ان حالات میں عرب کی خود مختاری کو باقی رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ان دونوں پر یہ حقیقت ظاہر ہو جائے کہ اب عربوں سے کھیلنا آسان کام نہیں ہے، تاہم حضرت ابوبکرؓ صدیق نے اس وقت تک کوئی پیش قدمی نہیں کی۔ لیکن وہ قبائل جو ہمیشہ سے ایرانی حکومت کا تختہ مشق بنتے چلے آ رہے تھے، انتقام کے جذبات سے لبریز تھے،چنانچہ عہد صدیقی میں جب ایران میں بد نظمی پیدا ہوئی اور ایرانیوں نے کسریٰ بن ہرمز کی لڑکی کو ایران کے تخت پر بٹھایا تو ان قبائل کے جذبات انتقام دفعۃ پھڑ ک گئے اور مثنیٰ بن حارث شیبانی نے اپنا جتھا لے کر عراق عجم کی سرحد پر تاخت و تاراج شروع کردی، لیکن بغیر خلیفہ وقت کی سر پرستی کے کامیابی مشکل تھی، اس لیے حضرت ابوبکرؓ صدیق سے باضابطہ اجازت حاصل کی، آپ نے خالد بن ولیدؓ کو ان کی امداد پر مامور کیا اور شرف امارت بھی عطا کیا۔ [65] [66]

عراق کی فوج کشی

چنانچہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتنہ ارتداد کی مہموں سے فارغ ہوکر عراق کی طرف بڑھے اور مقام نباج میں مثنیٰ سے مل گئے اور بانقیا اور بارسوما کے حاکموں کو مطیع کرتے ہوئے ایلہ کی طرف بڑھے ، یہ مقام جنگی نقطہ نظر سے بہت اہم تھا، یہاں عرب و ہندوستان کے بری و بحری خطوط آکر ملتے تھے، چنانچہ یہاں کا حاکم ہر مزان ہی راستوں سے دونوں مقام پر حملے کیا کرتا تھا [67] شاہ ہرمز کو مسلمانوں کی پیش قدمی کی خبر ہوئی تو فوراً ارد شیر کو دربار ایران اطلاع بھیجی اور خود مقابلہ کے لیے بڑھا، کا ظمہ میں دونوں کا مقابلہ ہوا، ایرانیوں نے اپنے کو زنجیروں میں جکڑ لیا تھا کہ پاؤں نہ اکھڑنے پائیں، لیکن قعقاع بن عمر کی شجاعت نے زنجیر آہن کے ٹکڑے کر ڈالے اور ایرانیوں نے بری طرح شکست کھائی۔ [68]

جنگ مذار

ابھی یہ عراق کی فوج کشی کا معرکہ ختم ہوا تھا کہ ایرانیوں کی امدادی فوج کو جو قارن بن قریانس کی ماتحتی میں ہرمز کی مدد کو آرہی تھی، مذار میں ہرمز کے قتل اور ایرانیوں کی شکست کی خبر ملی، اس لیے قارن نے اسی جگہ اپنی فوج کی تنظیم کی اور شکست خوردہ فوج سردار قباز اور انوشجان کو امیر العسکر بنا کر نہر کے قریب پڑاؤ ڈالا، خالد کو اطلاع ہوئی،تو وہ فوج لے کر مذار کی طرف بڑے،لب دریا دونوں کا مقابلہ ہوا، معقل نے قارن کو اور عاصم نے نوشجان کو اور عدی نے قباذ کو ختم کیا اور اس شدت کی جنگ ہوئی کہ تیس ہزار ایرانی کام آئے، یہ تعداد اس کے علاوہ ہے جو نہر میں ڈوب کر مرے۔ [69] [70][66][68][71]

جنگ کسکر

جنگ مذار کے انجام کی خبر ایران پہنچی تو ارد شیر نے اندر زغر اور بہمن کو یکے باد دیگرے مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے روانہ کیا، اندر زغر مدائن اور کسکر ہوتا ہوا دلجہ پہنچا، حیرہ اور کسکر کے تمام دہقانی اور آس پاس کے عرب بھی ایرانیوں کی حمایت میں اپنی اپنی فوجیں لے کر اندر زغر کے قریب آکر خیمہ زن ہوئے، اس درمیان میں بہمن بھی پہنچ گیا، خالدؓ بن ولید کو خبر ملی تو سوید بن مقرن کو ایک دستہ پر مامور کرکے ضروری ہدایات دے کر پیچھے چھوڑا اور خود بڑھ کر مورچہ بندی میں مصروف ہو گئے اور ساحل کی قربت سے فائدہ اٹھا کر نشیبی زمین میں تھوڑی فوج چھپادی،کہ جنگ چھڑنے کے بعد وہ نکل کر حملہ آور ہو جائے ،اس نتظام سے فراغت کے بعد جنگ چھڑگئی، دیر تک گھمسان کا رن پڑتا رہا، جب فریقین تھکنے لگے، تو مسلمان کمین گاہوں سے نکل کر ٹوٹ پڑے، اس اچانک حملے نے ایرانیوں کے پاؤں اکھاڑ دیے، مگر وہ جدھر بھاگتے تھے،مسلمان سامنے تھے، اس لیے جو سپاہی جہاں تھا وہیں ختم ہو گیا، اندر زغر نکل بھاگا، لیکن پیاس کی شدت سے وہ مرگیا، جنگ کے بعد مسلمانوں نے عام آبادی سے کوئی تعرض نہیں کیا اوران کو پوری آزادی دیدی۔ [72] [33][73]

جنگ الیس

گذشتہ جنگ میں عربی النسل عیسائی قبائل بھی ایرانیوں کے ساتھ ہو گئے ارد شیر نے بہمن کو وربی قبائل سے مل جانے کا حکم دیا ، چنانچہ بہمن الیس کی طرف بڑھا اور یہاں کے حاکم جاپان کو یہ ہدایت دے کر کہ میری واپسی تک جنگ شروع نہ کرنا، الیس روانہ کر دیا اور خود ارد شیر کے پاس مشورے کے لیے چلا گیا، وہاں سے لوٹا ،تو باقی عربی قبائل اور عربی چھاؤنی کی ایرانی سپاہ اکٹھا ہو چکی تھی، اس درمیان میں خالدؓ بھی پہنچ گئے ان کے پہنچتے ہی جنگ شروع ہو گئی ، دیر تک کشت و خون کا سلسلہ جاری رہا، خالدؓ نے منادی کرادی کہ لڑائی روک کر لوگوں کو صرف گرفتار کرو، چنانچہ مسلمان دار وگیر میں مصروف ہو گئے اور لڑنے والوں کو زندہ گرفتار کرکے نہر کے کنارے قتل کرنا شروع کر دیا اور ایرانی بری طرح مفتوح ہوئے۔ [74] الیس سے فراغت کے بعد خالدؓ بن ولید مغیشیا کی طرف بڑھے ،یہاں کے باشندے مسلمانوں کا رخ دیکھ کر پہلے ہی شہر خالی کر چکے تھے ، اس لیے جنگ کی نوبت نہیں آئی ۔ [75][76][77]

امغیشیا

امغیشیا کے قریب ہی حیرہ تھا یہاں کے حاکم آزاد بہ کو خطرہ پیدا ہوا کہ مسلمان امغیشیا کی طرف بڑھیں گے، اس لیے اس نے حفظ ما تقدم کے طور پر اپنے لڑکے کو خالدؓ بن ولید کو روکنے کے لیے آگے بھیج دیا اور پیچھے سے خود مدد کے لیے پہنچا، امغیشیا اور حیرہ کے درمیان نہر فرات تھی، آزاد بہ کے لڑکے نے اس کا بند باندھ دیا، اس سے مسلمانوں کی کشتیاں رک گئیں اور ملاحوں نے جواب دیا کہ ایرانیوں نے نہر کا رخ پھیر دیا ہے اس لیے کشتیاں نہیں چل سکتیں، مسلمان کشتیوں سے اتر پڑے اور گھوڑوں پر ابن آزاد بہ کی طرف بڑھے، فرات کے دہانہ پر دونوں کا مقابلہ ہوا، ابن آزاد بہ مارا گیا اور فوج بھی تباہ ہوئی۔ [78] [79][80]

حیرہ کی صلح

اس کے بعد دریا کا بند کھول کر مسلمان حیرہ کی طرف بڑھے، لیکن ان کے پہنچنے کے قبل آزاد بہ حیرہ چھوڑچکا تھا، مسلمان مقام غرئیین میں ٹھہرگئے،حیرہ میں جو لوگ باقی رہ گئے تھے وہ اس عرصہ میں قلعہ بند ہو گئے ،حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا محاصرہ کر لیا، پہلے صلح کی گفت و شنید ہوتی رہی، لیکن بے نتیجہ رہی، ایرانیوں نے قلعہ کے اوپر سے سنگباری شروع کردی، مسلمانوں نے پیچھے ہٹ کے تیروں سے جواب دیا اور قلعہ اور محلات کی دیواریں چھلنی کر دیں،جب شہری آبادی محاصرہ سے گھبرا گئی، تو قسیسون اور راہبوں نے قلعہ والوں سے فریاد کی کہ اس خونریزی کی ساری ذمہ داری تم پر ہے،اس کو بند کرو،آخر میں جب قلعہ والوں نے بھی عاجز ہوکر خالدؓ بن ولید سے صلح کی گفتگو کرکے ایک لاکھ نوے ہزار سالانہ خراج پر صلح کرلی اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مفصل صلح نامہ لکھ کر حوالہ کیا۔ [81] ملحقات حیرہ حیرہ کی صلح کے بعد اطراف کے کاشتکاروں اور دیہی آبادیوں نے بھی جو حیرہ کے شرائط کی منتظر تھیں 20 لاکھ سالانہ پر صلح کرلی،حیرہ اور ملحقات حیرہ کی کامل تسخیر کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے محافظین سرحد میں ضرار بن آزدر، ضرار بن خطاب، قعقاع بن عمرو، مثنی بن حارثہ اور عتبہ بن شماس افسران سرحد کو دجلہ کی ترائی میں بڑھنے کا حکم دیا ،یہ لوگ ساحل تک بڑھتے ہوئے چلے گئے۔ [82][83][84]

ابنار کی تسخیر

اس وقت گو ارد شیر مر چکا تھا اور ایرانیوں میں اندرونی اختلافات کا طوفان برپا تھا، لیکن مسلمانوں کے مقابلہ میں سب متحد تھے، طبری کے یہ الفاظ ہیں، وکان اھل فارس بموت ارد شیر مختلفین فی الملک مجتمعین علی فتال خالد متساندین ، یعنی ارد شیر کی موت کی وجہ سے بادشاہت کے بارے میں ایرانیوں میں اختلاف تھا، لیکن خالدؓ سے جنگ کے بارے میں سب متحد اور ایک دوسرے کے معاون تھے، چنانچہ انھوں نے اپنی مرکزیت قائم کرنے کے لیے فرخزاد کو عنان حکومت سپرد کردی تھی اور ان کی فوجیں عین التمر، ابنار اور فراض تک پھیلی ہوئی تھیں، اس لیے خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیرہ کے بعد انبار کی طرف بڑھے، لیکن ان کے پہنچتے پہنچتے یہاں کے باشندے قلعہ بند ہو چکے تھے، چنانچہ ان کے پہنچتے ہی جنگ شروع ہو گئی، ایرانی قلعہ کے اندر سے تیر باری کر رہے تھے، اس لیے مسلمانوں کا جوابی حملہ کامیاب نہ ہوتا تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قلعہ کے چاروں طرف چکر لگا کر اس کے استحکامات کا اندازہ لگا کر حکم دیا کہ آنکھوں پر تاک تاک کر تیر مارو، اس تدبیر سے دن بھر میں ایک ہزار آنکھیں بیکار کر دیں، اس مصیبت نے انبار کے باشندوں کو گھبرا دیا اور فوج بدحواس ہو گئی، شیرزاد ایرانی سپہ سالار نے یہ صورت دیکھ کر صلح کا پیام دیا، لیکن شرائط ایسے پیش کیے کہ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو منظور نہ کرسکے اور خندق کا جو حصہ زیادہ تنگ تھا اسے بیکار اونٹوں کو ذبح کر کے پاٹ دیا اور مسلمان اس پر سے اتر کے قلعہ تک پہنچ گئے اور ایرانی سمٹ کر قلعہ کے اندر ہو گئے ، مگر وہ آنکھوں کی نشانہ بازی سے پہلے ہی گھبرا گئے تھے، مسلمانوں کی اس غیر متوقع آمد سے ہمت چھوٹ گئی اور شیرزاد نے بہمن کو فوج کی حالت جتا کر صلح پر آمادہ کر لیا، اس نے مجبور ہوکر صلح کرلی، اس کے بعد انبار کے باشندوں نے صلح کی خواہش کی، چنانچہ پہلے ابو اذیج والے پھر اہل کلوازی نے صلح کرلی۔ [85] [86]

عین التمر

خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ انبار کی مہم میں مصروف تھے کہ بہرام چوبین کا لڑکا مہران مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے عین التمر پہنچ گیا، عربی قبائل میں نمر، تغلب اور ایاد، عقہ بن عقہ کے ساتھ علاحدہ مقابلہ پر آمادہ تھے، [87] اس لیے خالدؓ انبار کے بعد عین التمر کی طرف بڑھے، ایرانیوں نے ایرانی سپاہ قلعوں میں محفوظ کردی اور عربی قبائل کو مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے بڑھا کر ان پر جاسوس متعین کردیے کہ اگر ان میں قومی عصبیت نظر آئے تو فوراً تدارک ہو سکے،بعض انصاف پسند ایرانی اس پر معترض ہوئے، ان کو جواب دیا کہ انھی کی قوم نے ہمارا ملک تباہ کیا ہے اس لیے انھیں آپس میں کٹانا چاہیے،عقہ مقام کرخ میں اپنی فوج مرتب کررہا تھا کہ خالد بن ولید پہنچ گئے اور اس کو گرفتار کر لیا، اس کی فوج نے سردار کی گرفتاری سے گھبرا کر میدان جنگ چھوڑ دیا، جو بچ گئے اور گرفتار ہوئے، خالدؓ بن ولید ان کی قوم فروشی پر بہت مشتعل تھے ،اس لیے پہلے عقہ کا کام تمام کر دیا، پھر سب کی گردنیں اڑادیں، مہران کو عربوں کی حالت کی خبر ملی، تو وہ قلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا، لیکن جب شکست خوردہ عرب پہنچے تو پھر اس کہ ہمت بندھی اور ایرانی قلعہ بند ہو گئے ،خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدھے قلعہ تک بڑھتے چلے گئے،[88] ایرانیوں نے نکل کر مقابلہ کیا اور تھوڑے مقابلہ کے بعد قلعہ میں داخل ہو گئے، مسلمانوں نے محاصرہ کر لیا، بالآخر ایرانیوں نے صلح کی درخواست کی لیکن خالدؓ نے انکار کر دیا اور بزور شمشیر قلعہ فتح کیا،[89] لیکن فتح کے بعد پھر کوئی سختی نہیں کی اور معمولی خراج کے سوا زمین پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔ [90] دومۃ الجندل میں ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوا کرتی تھیں ،چنانچہ عہدِ رسالت میں بھی اسی قسم کی ایک سازش ہوئی تھی،اسی لیے غزوۂ دومۃ الجندل ہوا تھا،[91] عہدِ صدیقی میں پھر اس کا ظہور ہوا،حضرت ابوبکرؓ صدیق نے اس کے تدارک کے لیے عیاض بن غنم کو روانہ کیا، لیکن کلب، غسان اور تنوخ کے قبائل متحد تھے، اس لے عیاض کے لیے تنہا ان سب کا مقابلہ کرنا دشوار تھا، انھوں نے خالدؓ کو مدد کے لیے بلا بھیجا ،وہ عراق کی مہم چھوڑ کر عیاض کی مدد کو چلے آئے، اس وقت یہاں دو حکمران تھے، اکیدر اور جودی، اکیدر کو خالدؓ بن ولید عہدِ رسالت میں مطیع کر چکے تھے، اس لیے خالدؓ بن ولید کی آمد کی خبر سن کر وہ خوف سے جودی کی حمایت سے کنارہ کش ہو گیا اور جب جودی جنگ کے لیے بالکل آمادہ ہو گیا تو اکیدر دومۃ الجندل چھوڑ کر ہٹ گیا، مگر چونکہ پہلے اس کا شریک رہ چکا تھا، اس لیے گرفتار کراکے قتل کر دیا گیا،خالدؓ بن ولید اور عیاض نے دو سمتوں سے دومۃ الجندل کا محاصرہ کر لیا، جودی کی فوج میں متعدد افسر تھے خود جودی، ودیعہ کلبی، ابن رومانس ،ابن ایہم اور ابن حدودجان ان سب نے متحدہ حملہ کیا، جودی اور ودیعہ گرفتار ہوئے،باقی فوج قلعہ میں گھس گئی، مگر قلعہ میں زیادہ گنجائش نہیں تھی، اس لیے فوج کا ایک حصہ باہر رہ گیا، اگر مسلمان چاہتے تو ان یں سے ایک بھی نہ بچ سکتا ،لیکن حضرت عاصمؓ نے بنو کلب کو امان دیدی، [92] اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جودی کو قتل کرا دیا اور قلعہ کا پھاٹک اکھاڑ کے اندر گھس گئے اور قلعہ پر قبضہ ہو گیا۔ [93]

جنگ حصید و خنافس

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے عراق چھوڑ کر شام چلے آنے کے بعد جزیرہ کے عربوں نے ایرانیوں کو عراق کی واپسی پر توجہ دلائی، وہ ان کا اشارہ پاتے ہی آمادہ ہو گئے اور زرمہر اور روزبہ نے خنافس اور حصید کی طرف فوجیں بڑھا دیں،زبر قان بن بدر حاکم انبار نے قعقاع حاکم حیرہ کو اطلاع دی، انھوں نے ایرانیوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اسی وقت الگ الگ فوجیں اعبد بن قد اور عروہ بن جعد کی قیادت میں دونوں مقاموں پر روانہ کر دیں، ان دونوں نے بڑھ کر ریف میں ان کو روک دیا، روز بہ اور زر مہریہاں عربوں کا انتظار کر رہے تھے کہ خالدؓ بن ولید دومۃ الجندل سے حیرہ واپس آگئے اور امرؤ القیس بن کلبی نے اطلاع بھیجی کہ ہذیل بن عمران مصیح میں اور ربیعہ بن بحیرثنی اور بشر میں روزبہ اورزرمہر کی امداد کے لیے فوجیں لیے پڑے ہیں، یہ خبر سن کر خالدؓ نے عیاض کو حیرہ میں چھوڑا اور خود قعقاع اور ابو لیلیٰ کی مدد کو خنافس روانہ ہو گئے، یہ دونوں عین الثر میں تھے، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یہیں آکر ان سے ملے اور قعقاع بن عمرو تمیمی خود بڑے روز بہ نے زر مہر سے مدد طلب کی، وہ مدد لے کر پہنچا، حصید میں دونوں کا مقابلہ ہوا، زر مہر اور روز بہ دونوں مارے گئے اوران کی فوج ہٹ کر خنافس میں جمع ہو گئی، ابولیلی تعاقب کرتے ہوئے خنافس پہنچے،تو ایرانی خنافس چھوڑ کر مصیخ چلے گئے،حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی،انھوں نے قعقاع، ابو لیلی اور عروہ کو ایک خاص مقام پر شب میں جمع ہونے کا حکم دیا اور خود بھی معینہ شب میں وہاں پہنچ گئے اور سب نے مل کر متحدہ شب خون مارا، ایرانی بالکل بے خبر تھے، اس لیے مدافعت بھی نہ کرسکے اور سب کے سب مارے گئے۔ [94] [95][96] ،[97] .[98]

جنگ ثنی و بشر

ربیعہ بن بجیر ، ثنی اور بشر میں بدستور فوجیں لے پڑا تھا، مصیخ کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قعقاع بن عمرو تمیمی اور ابولیلیٰ کو ثنی پر شبخون مارنے کا حکم دیا، چنانچہ ایک مقررہ شب کو تینوں نے مل کر تین سمتوں سے حملہ کیا، صرف ہذیل امیر العسکر باقی بچا اور کل فوج کھیت رہی، ہذیل ثنی سے بھاگ کر بشر پہنچا، یہاں بھی عربوں کا ایک جتھا موجود تھا،حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو صاف کرتے ہوئے رضاب پہنچے، یہاں عقہ کا لڑکا بلال مسلمانوں کا منتظر تھا، مگر خالدؓ بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آتے آتے یہ بھاگ نکلا۔ [99]

جنگ فرائض

اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضاب ہوتے ہوئے فرائض کی طرف بڑھے، یہ مقام جنگی نقطہ نظر سے بہت اہم تھا، یہاں شام، عراق اور جزیرہ کی سرحدیں ملتی تھیں، شام کی سرحد کی وجہ سے رومی بھی ایک فریق بن گئے اور انھوں نے ایرانیوں کی چھاؤنی اور تغلب دایاد (عرب) سے مدد مانگ بھیجی، ان کو اس میں کیا عذر ہو سکتا تھا، فوراً آمادہ ہو گئے، اوراب مسلمانوں کا مقابلہ ایرانیوں اور رومیوں دونوں سے ہو گیا،اس لیے حضرت خالدؓ بن ولید نے بھی نہایت اہتمام سے اسلامی فوج کو از سر نو منتظم کیا، فرات کے ایک جانب مسلمان تھے اور دوسری جانب اتحادی، اتحادیوں نے پیام دیا کہ یا تم دریا عبور کرکے بڑھو یا ہمیں بڑہنے دو، خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو بڑہنے کا موقع دیا اور فرأت کے اس پار لب دریا دونوں کا مقابلہ ہوا، مسلمان نہایت پامردی سے لڑے اور اتحادیوں کی فوجیں پسپا ہونے لگیں، خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی للکار پر مسلمان شہ سواروں نے گھیر گھیر کر مارنا شروع کیا، اتحادی دو طرف سے گھرے ہوئے تھے، پیچھے ہٹتے تھے تو فرات کا لقمہ بنتے تھے اور آگے بڑھتے تھے تو تلوار سامنے تھی،اسی کشمکش میں سب کے سب کام آگئے، فتح کے دس دن بعد تک مسلمان یہاں مقیم رہے، اس کے بعد حیرہ لوٹ گئے، اس معرکہ کے بعد عراق کی پیش قدمی رک گئی، [100] اور خالدؓ بن ولید خفیہ حج کو چلے گئے۔ [101] .[102]

فتوحات شام

اوپر ان حالات کی تفصیل بیان کی جا چکی ہے ،جن کی بنا پر مسلمانوں کا ایرانیوں اور رومیوں سے نبرد آزما ہونا ناگزیر امر تھا ، اس لیے عراق کے ساتھ ساتھ شام پر بھی فوج کشی ہوئی تھی اور ہر ہر صوبہ علاحدہ علاحدہ فوجیں بھیجی گئی تھیں، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عراق کی مہم سر کر چکے تھے کہ دربار خلافت سے حکم پہنچا کہ عراق چھوڑ کر شام میں اسلامی فوجوں سے مل جائیں ، اس حکم کے مطابق حج سے واپس ہونے کے بعد عراق کا انتظام مثنی کے سپرد کر کے ، شام روانہ ہو گئے اور راستہ میں حدردار،ارک ، سویٰ، حوارین ، قصم ، مرج راہط وغیرہ سے نپٹتے ہوئے شام پہنچے اور پہلے بصریٰ کی طرف بڑھے۔ [103] ،[104]

بصریٰ

یہاں اسلامی فوجیں پہلے سے ان کی منتظر تھیں، اس لیے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آتے ہی بصری کے بطریق پر حملہ کر کے پسپا کر دیا اور اس شرط پر صلح ہو گئی کہ مسلمان رومیوں کی جان و مال کی حفاظت کریں گے اور وہ اس کے عوض میں جزیہ دیں گے۔ [105]

اجنادین

اس وقت مسلمان شام کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے اور ہرقل نے ان کے مقابلہ کے لیے الگ الگ دستے بھیجے تھے، تاکہ ایک مرکز پر جمع نہ ہوں؛لیکن فلسطین کی مہم حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے متعلق تھی، بصریٰ کے بعد تذارق اور قبقلاء نے اجنادین (فلسطین) میں اپنی فوجیں ٹھہرائیں، خالدؓ بن ولید اور ابو عبیدہؓ بصریٰ سے فارغ ہوکر عمرو بن العاصؓ کی مدد کو پہنچے، 13ھ میں مقام اجنادین میں دونوں کا مقابلہ ہوا، تذارق اور قبقلا دونوں مارے گئے۔ [106][107] ،[108] .[109]

دمشق

اجنادین کے بعد دمشق کی طرف بڑھے، امیر فوج ابو عبیدہؓ نے تین سمتوں سے اس کا محاصرہ کیا،ایک سمت پر حضرت خالدؓ بن ولید مامور ہوئے ،تین مہینے تک کامل محاصرہ قائم رہا،لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا ، اس درمیان میں ایک دن دمشق کے پادری کے گھر لڑکا پیدا ہوا، اس کے جشن میں دمشق کے بے فکر ے شرابیں پی کر ایسے بدمست ہوکر سوئے کہ دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہی، خالدؓ بن ولید دوران جنگ میں اکثر راتوں کو سوتے نہ تھے؛بلکہ فوجی انتظامات اور دشمنوں کی سراغ رسانی میں لگے رہتے تھے،[110] ان کو اس واقعہ کی اطلاع ہو گئی، چنانچہ فوج کو یہ ہدایت دے کر کہ تکبیر کی آواز سنتے ہی شہرپناہ کے پھاٹک پر حملہ کر دینا، چند آدمیوں کے ساتھ کمند ڈال کر شہر پناہ کی دیوار کے اس پار اتر گئے اور پھاٹک کے چوکیدار کو قتل اور اس کا قفل توڑ کر تکبیر کا نعرہ لگایا ،تکبیر کی آواز سنتے ہی فوج ریلا کرکے اندر داخل ہو گئی، دمشق والے ابھی تک غافل سو رہے تھے اس ناگہانی حملہ سے گھبرا گئے اور حضرت ابوعبیدہؓ بن جراح سے صلح کی درخواست کرکے شہر پناہ کے تمام دروازے خود کھول دیے، ایک طرف سے خالدؓ بن ولید فاتحانہ داخل ہوئے اور دوسری طرف سے ابو عبیدہؓ بن جراح مصالحانہ وسط شہر میں دونوں سے ملاقات ہوئی،[111] گو نصف حصہ بزور شمشیر فتح ہوا، لیکن شرائط سب مصالحانہ رکھے گئے۔ [112] [113]

فحل

دمشق کی فتح نے رومیوں کو بہت برہم کر دیا اور وہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ مقابلہ کے لیے آمادہ ہو گئے، سقلار رومی فحل میں فوجیں لے کر خیمہ زن ہوا، اس لیے مسلمان دمشق کے بعد ادھر بڑھے، مقدمۃ الجیش خالدؓ بن ولید کی کمان میں تھا، اس معرکہ میں بھی رومیوں نے بری طرح شکست کھائی۔

دمشق کا دوسرا معرکہ

فحل کے بعد ابو عبیدہؓ اور خالدؓ حمص کی طرف بڑھے، یوحنا کے کنیسہ کی وجہ سے یہ مقام بھی رومیوں کا ایک اہم مرکز تھا، ہر قل کو خبر ہوئی تو اس نے تو ذربطریق کو فوج دے کر مقابلہ کے لیے بھیجا، اس نے دمشق کے مغربی سمت مرج روم میں پڑاؤ ڈالدیا، مسلمان بھی آگے بڑھ کر مرج روم کی دوسری سمت ٹھہرے،اس درمیان میں رومیوں کی ایک اور فوج شنس کی سر کردگی میں پہنچ گئی، اس لیے خالدؓ بن ولید تو زر کے مقابلہ کو بڑھے اور ابو عبیدہ شنس کے تو زر نے مقابلہ نہیں کیا؛بلکہ دمشق واپس لینے کے ارادہ سے آگے بڑھا، خالدؓ بھی عقب سے اس کے ساتھ ہو گئے، دمشق میں یزید بن ابو سفیان موجود تھے، وہ شنس کی آمد کی خبر سن کر اس کے روکنے کو نکلے، دمشق کے باہر دونوں میں سخت معرکہ ہوا، ابھی جنگ کا سلسلہ جاری تھا کہ پیچھے سے خالدؓ بن ولید پہنچ گئے اور ایک طرف سے انھوں نے اور دوسری طرف سے یزید نے مل کر رومیوں کو پامال کر دیا اور معدودے چند کے علاوہ کوئی رومی باقی نہ بچا۔ [114]

حمص

حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح نے شیرز، معرہ حمص اور لاذقیہ وغیرہ کو لے کر بعلبک اور حمص فتح کیا۔

یرموک

ان پیہم شکستوں نے رومیوں میں آگ لگادی اور دولاکھ کا ٹڈی دل مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے امنڈآیا، [115] رومی سپہ سالار ماہان اس کو لے کر یرموک کے میدان میں اترا، اس وقت مسلمان شام کے مختلف حصوں میں منتشر تھے، یہ سب ایک مرکز پر جمع ہو گئے اور طرفین میں جنگ کی تیاریاں ہونے لگیں رومیوں کے جوش وخروش کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ گوشہ نشیں راہب و قسیس اپنی اپنی خانقاہوں سے نکل کر،مذہب کا واسطہ دلاکر رومیوں میں جوش پیدا کر رہے تھے، خالدؓ نے اس جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دیے فوج کو جدید طرز سے 36 حصوں میں تقسیم کرکے سب پر الگ الگ ،افسر مقرر کیے اور جہاد پر نہایت ولولہ انگیز تقریر کی، اتفاق سے ایک مسلمان کے منہ سے نکل گیا کہ رومیوں کے مقابلہ میں ہمارے تعداد بہت کم ہے ،خالدؓ بن ولید غضب ناک ہوکر بولے فتح و شکست تعداد کی قلت و کثرت پر نہیں؛ بلکہ تائید ایزدی پر ہے، اگر میرے گھوڑے کے سم درست ہوتے تو میں اس سے دونی تعداد کی پروا نہ کرتا۔ [116] ضروری انتظامات کے بعد عکرمہ بن ابی جہل اور قنستاح بن عمرو کو حملہ کا حکم دیدیا اور یرموک کے میدان میں ہنگامہ کار زار گرم ہو گیا، عین اس حالت میں ایک عیسائی رومی فوج سے نکل کر اسلامی لشکر میں آگیا اور خالدؓ سے مذہب اسلام پر گفتگو شروع کردی کہ اگر میں تمھارے مذہب میں داخل ہو جاؤں تو کیا میرے لیے آخرت کا دروازہ کھل جائے گا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یقینا ًچنانچہ وہ میدان جنگ میں مشرف بااسلام ہو گیا۔ [117] اس جنگ کا سلسلہ مدتوں جاری رہا، مسلمان افسروں نے غیر معمولی شجاعت و بہادری کا ثبوت دیا، آخر رومیوں نے ایسی شکست کھائی کہ پھر ان کی اتنی بڑی تعداد نہ فراہم ہو سکی۔ [118]

حاضر

یرموک کی فتح کے بعد ابوعبیدہؓ بن جراح نے خالدؓ بن ولید کو قنسرین کی طرف بھیجا اور خود حمص واپس ہو گئے، مقام حاضر میں خالدؓ بن ولید کو میناس رومی ایک بڑی جماعت کے ساتھ ملا ، خالدؓ بن ولید نے اس کو شکست دی، اہل حاضر نے امان کی درخواست کی اور کہا ہم کو اس جنگ سے کوئی تعلق نہ تھا ہماری رائے بھی اس میں شریک نہ تھی، اس لیے ہم کو امان دی جائے ،حضرت خالدؓ بن ولید نے ان لوگوں کی درخواست قبول کرلی۔ [119]

قنسرین

حاضر سے قنسرین پہنچے ، اہل قنسرین پہلے جنگ کے ارادہ سے قلعہ بند ہو گئے؛لیکن پھر اہل حمص کے انجام پر غورکرکے صلح کی درخواست کی،حضرت خالدؓ بن ولید نے اس شرط پر منظور کرلی کہ شہر کے استحکامات توڑ دیے جائیں، قنسرین کے بعد ہرقل بالکل مایوس ہو گیا اور شام پر آخری نگاہ ڈال کر قسطنطنیہ چلا گیا ، چلتے وقت یہ حسرت انگیز الفاظ اس کی زبان پر تھے اے شام! تجھ کو آخری سلام ہے، اب میں تجھ سے جدا ہوتا ہوں، افسوس اس سر زمین میں جس پر میں نے حکمرانی کی ہے ، اطمینان خاطر کے ساتھ نہ آسکوں گا۔ [120]

بیت المقدس

قنسرین کے بعد بیت المقدس کا محاصرہ ہوا ، عیسائی اس شرط سے بلا جنگ حوالہ کرنے کو آمادہ ہو گئے کہ خود امیر المومنین اپنے ہاتھ سے معاہدہ لکھیں ،چنانچہ حضرت عمرؓ نے صلح نامہ لکھنے کے لیے شام کا سفر کیا اور تمام افسران فوج کو حابیہ میں طلب کیا ،خالدؓ بھی آئے، ان کا دستہ دیباوحریر میں ملبوس تھا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نظر پڑی تو گھوڑے سے اتر پڑے اور کنکریاں مارکر فرمایا تم لوگوں نے اتنی جلدی اپنی عادتیں بدل دیں؛ ان لوگوں نے اسلحہ دکھا کر کہا کہ لیکن سپہ گری کا جوہر نہیں گیا ہے، فرمایا تب کوئی مضائقہ نہیں۔ [121]

حمص کی بغاوت

17ھ میں حمص کے باشندے باغی ہو گئے، لیکن ابوعبیدہؓ بن جراح اور خالدؓ بن ولید کی بروقت توجہ سے بہت جلد بغاوت فرو ہو گئی اور شام کے پورے علاقہ پر مسلمانوں کا کامل تسلط ہو گیا۔

معزولی

اسی 17ھ میں حضرت عمرؓ نے خالدؓ کو معزول کر دیا، معزولی کے سنہ میں مورخین کا بیان مختلف ہے، عام شہرت یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے تخت خلافت پڑ بیٹھتے ہی معزول کیا تھا، لیکن یہ بیان صحیح نہیں ہے،صحیح روایت یہ ہے کہ 17ھ میں یعنی خلافتِ فاروقی کے 5 سال بعد معزول ہوئے، ابن اثیر کی بھی یہی تحقیق ہے، وہ لکھتے ہیں فی ھذہ السنۃ وھی سنۃ سبعۃ عشر عزل خالد بن ولید یعنی 17ھ میں خالد بن ولیدؓ معزول کیے گئے،ان کی معزولی کا سبب یہ ہے کہ خالدؓ فوجی آدمی تھے، ان کا مزاج تند تھا، اس لیے ہر معاملہ میں خود رائی سے کام لیتے تھے اور بارگاہ خلافت سے استصواب ضروری نہیں سمجھتے تھے، فوجی اخراجات کا حساب و کتاب بھی نہیں بھیجتے تھے، عراق کی پیش قدمی روکنے کے بعد حضرت ابوبکرؓ صدیق کی مرضی کے خلاف بغیر ان کی اجازت کے خفیہ حج کو چلے گئے، ان کا یہ طرز عمل حضرت ابوبکرؓ کو ناگوار ہوا، [122] اور آپ نے تنبیہ کی انھوں نے بارہا لکھا کہ بغیر میرے حکم کے کوئی کام نہ کیا کرو اور نہ کسی کو کچھ دیا لیا کرو، انھوں نے جواب دیا کہ اگر آپ مجھ کو میری موجودہ حالت پر چھوڑ دیجئے تو کام کرسکتا ہوں، ورنہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتا ہوں، [123] اسی زمانہ سے حضرت عمرؓ بن خطاب ان سے برہم رہتے تھے اور بار بار حضرت ابوبکرؓ صدیق کو ان کے معزول کرنے کا مشورہ دیتے تھے، لیکن وہ ہمیشہ جواب دیتے کہ میں اس تلوار کو نیام میں نہیں کرسکتا، جس کو اللہ نے بے نیام کیا ہے، [124] حضرت عمرؓ کے عہدِ خلافت میں بھی خالدؓ بن ولید نے یہ روش نہ چھوڑی، لیکن انھوں نے بھی فورا ًمعزول نہیں کیا؛بلکہ عرصہ تک سمجھاتے رہے، چنانچہ پھر ایک مرتبہ لکھا کہ بغیر میری اجازت کے کسی کو ایک بکری بھی نہ دیا کرو، مگر خالدؓ نے کوئی اثر نہیں لیا اور حضرت عمرؓ کو بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکرؓ صدیق کو دے چکے تھے۔ [125] دوسری وجہ یہ تھی کہ عام مسلمانوں کو خیال پیدا ہو گیا تھا کہ اسلامی فتوحات کا دارومدار خالدؓ کے قوت بازو پر ہے،[126] جس کو حضرت عمرؓ پسند نہیں کرتے تھے۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ حضرت خالدؓ کے اخراجات اسراف کی حدتک پہنچ جاتے تھے جو دوسرے افسروں کے لیے نمونہ نہ بن سکے تھے، چنانچہ شعرا کو بڑی بڑی رقمیں دے ڈالتے تھے، اشعث بن قیس کو دس ہزار انعام یکمشت دیا،حضرت عمرؓ بن خطاب کو اطلاع ہوئی تو ابو عبیدہؓ بن جراح کے پاس حکم بھیجا کہ خالدؓ بن ولید سے دریافت کریں کہ انھوں نے یہ روپیہ کس مد سے دیا ہے ، اگر مسلمانوں کے مال سے دیا ہے تو خیانت کی اور اگر اپنی جیب سے دیا ہے تو اسراف کیا ہے، اس لیے دونوں حالت میں وہ معزولی کے قابل ہیں، یہ فرمان عین میدان جنگ میں ابو عبیدہ بن جراح کو ملا، انھوں نے حضرت خالدؓ سے پوچھا، تم نے یہ روپیہ کہاں سے دیا، کہا اپنے مال سے، اس کے بعد حضرت عمرؓ کا فرمان سنا کر معزولی کی علامت کے طور پر ان کے سرسے ٹوپی اتار لی اور عمامہ گردن میں ڈالدیا، خالدؓ نے صرف اس قدر جواب دیا کہ میں نے فرمان سنا اور مانا اوراب بھی اپنے افسروں کے احکام سننے اور خدمات بجالانے کو تیار ہوں۔ [127] اس واقعہ سے حضرت عمرؓ بن خطاب کے دبدبہ اور خالدؓ بن ولید کی حق پرستی، دونوں کا اندازہ ہوتا ہے، معزولی کے بعد دربار خلافت سے طلبی ہوئی،چنانچہ خالد حمص سے ہوتے ہوئے حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوران سے شکایت کی کہ آپ نے میرے معاملہ میں زیادتی سے کام لیا ہے، حضرت عمرؓ نے سوال کیا، تمھارے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی جواب دیا، مال غنیمت کے حصوں سے، اگر میرے پاس ساٹھ ہزار سے زیادہ نکلے تو آپ لے لیجئے ،حضرت عمرؓ بن خطاب نے فورا حساب کرایا کل 20 ہزار زیادہ نکلے، وہ بیت المال میں جمع کرا دیے اور فرمایا کہ ،خالدؓ اب بھی میرے دل میں تمھاری وہی عزت ومحبت ہے اور تمام ممالک محروسہ میں فرمان جاری کرادیا کہ میں نے خالدؓ کو خیانت کے جرم یا غصہ وغیرہ کی وجہ سے معزول نہیں کیا ہے ؛بلکہ محض اس لیے معزول کیا کہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اسلامی فتوحات کا دارومدار خالدؓ کے قوت بازو پر نہیں ہے۔ مذکورہ بالا فتوحات کے علاوہ خالدؓ بن ولید دوسری مہموں میں بھی شریک ہوکر دادِ شجاعت دیتے رہے، لیکن ان میں آپ کی حیثیت معمولی مجاہد کی تھی، اس لیے ان کی تفصیل قلم انداز کی جاتی ہے۔ [128]

گورنری

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بمصالح خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا تھا، لیکن معزول کرنے کے بعد ان سے ان کے رتبہ کے مطابق کام لیے اور ان کے جوہر اور ان کی فطری صلاحیتوں سے سپہ سالاری کی بجائے دوسرے شعبوں میں فائدہ اٹھایا،چنانچہ معزولی کے بعد رہا، حران، آمد اور لرتہ کا گورنر مقرر کر دیا، لیکن ایک سال کے بعد وہ خود مستعفی ہو گئے۔ [129] [130]

وفات

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ گورنری سے استعفا دینے کے بعد مدینہ میں مقیم ہو گئے اور کچھ دن بیمار رہ کر 22ھ میں وفات پائی، بعض لوگ آپ کی وفات حمص میں بتاتے ہیں، مگریہ صحیح نہیں ہے؛کیونکہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے جنازہ میں شریک تھے، [131] اور 22ھ میں انھوں نے شام کا کوئی سفر نہیں کیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سے مدینہ کی عورتوں خصوصاً بنی عذرہ میں کہرام برپا تھا۔ [132]

اولاد

اولاد کی تعداد کی تفصیل نہیں ملتی، صرف دو لڑکوں ، مہاجر اور عبد الرحمن کا نام ملتا ہے ان دونوں میں باپ کی شجاعت کا اثر تھا، چنانچہ مہاجربن حضرت خالدؓ بن ولید نے جنگ صفین میں حضرت علیؓ بن ابی طالب کی حمایت میں سرگرمی سے حصہ لیا، [133]اور حضرت معاویہؓ کے عہد میں قسطنطنیہ کے مشہور معرکہ میں فوج کے ایک کماندار عبد الرحمن بن خالد بن ولید تھے، [134] حضرت خالدؓ بن ولید کی کنیت ابو سلیمان تھی، اس سے قیاس ہوتا ہے کہ اس نام کا بھی کوئی لڑکا رہا ہوگا، مگر تصریح نہیں ملتی۔ [135]

فضل و کمال

چونکہ ابتدا سے لے کر آخر تک خالدؓ بن ولید کی پوری زندگی میدان جنگ میں گذری اس لیے ذات نبوی سے خوشہ چینی کا موقع کم ملا، وہ خود کہتے تھے کہ جہاد کی مشغولیت نے مجھ کو تعلیم قرآن کے بڑے حصہ سے محروم رکھا، [136] تاہم وہ صحبت نبوی کے فیض سے دولت علم سے بے بالکل بے بہرہ نہ تھے اور آنحضرت کے بعد مدینہ میں جو جماعت صاحب علم و افتا تھی، ان میں ایک ان کا نام بھی تھا ، لیکن فطرۃ سپاہی تھے، اس لیے مسند افتا پر نہ بیٹھے اور ان کے فتاویٰ کی تعداد دوچار سے زیادہ نہیں ہے، [137] عبداللہ ابن عباسؓ ،جابر بن عبداللہ،مقدام بن معدی کرب، قیس بن ابی حازم، اشتر نخعی ،علقمہ بن قیس ،جبیر بن نضیر وغیرہ نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں، [138] ان کی مرویات کی تعداد کل اٹھارہ ہے جن میں سے دو متفق علیہ ہیں اور ایک میں بخاری منفرد ہیں۔[139][140][141]

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زہر پینا

حضرت خالد بن ولیدؓ تاریخ اسلام کے ناقابل شکست سپہ سالار تھے۔آپؓ نے جنگوں میں اپنے سے کئی گنا طاقتور اور بڑے لشکروں کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ بارہویں صدی کے ایک مورخ ابن عساکر نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ جنگ میں دشمن کو زیر کرنے کے لیے حضرت خالد بن ولید ؓ نے زہر پی لیا تھا ،اللہ کے حکم سے آپ ؓ پر زہر کا اثر نہ ہوا۔اس واقعہ کا تذکرہ روایات کے مطابق کچھ یوں ہے کہ اسلامی لشکر نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں کئی شب و روز عیسائیوں کے ایک قلعہ کا محاصرہ کر رکھا تھا اور لڑائی اس لیے نہ چھیڑی کہ شائد یہ لوگ راہ راست پر آجائیں ۔ ادھر عیسائیوں نے قلعہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔انھوں نے ایک ذہین اور معمر پادری عمرو بن عبدالمسیح کو حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس بات چیت کے لیے بھیجا۔ پادری نے چالاکی سے آپ ؓ کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپؓ فی الوقت ہمارے قلعہ کا محاصرہ اٹھا لیں،اگر آپؓ نے دوسرے قلعے فتح کرلئے تو ہم اپنے قلعہ کا قبضہ بغیر کسی لڑائی اور مزاحمت کے آپؓ کے حوالے کر دیں گے حضرت خالد بن ولید ؓنے فرمایا کہ نہیں ہم پہلے اسی قلعہ کو فتح کریں گے اور پھر بعد میں کسی دوسرے قلعے کا رخ کریں گے۔ یہ سن کر بوڑھے پادری نے اپنے پاس سے زہر کی ایک پڑیا نکالی اور بولا اگر آپؓ ہمارے قلعے کا محاصرہ ابھی ختم نہیں کریں گے تو میں اس پڑیا کا زہر کھا کر خودکشی کر لوں گا اورپھر میرا خون تمھاری گردن پر ہو گا۔حضرت خالد بن ولید ؓ نے فرمایا ناممکن ہے کہ تیری موت نہ آئی ہو اور تو مر جائے۔ بوڑھا پادری بولا اگر تم ایسا یقین رکھتے ہے تو لو پھر یہ زہر کی پڑیا پھانک کر دکھاؤ۔ یہ سن کر حضرت خالد بن ولیدؓنے زہر کی پڑیا پادری کے ہاتھوں سے لی اور یہ دعا(بِسْمِ اللہ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاء ِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم)پڑھ کر زہر کی پڑیا پھانک لی اور اوپر سے پانی پی لیا۔ اب تو بوڑھے پادری کو مکمل یقین ہوگیاتھا کہ آپ ؓ اس خطرناک زہرکو پی کر چند لمحوں میں موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے ،یوں کسی نہ کسی طرح قلعہ کا محاصرہ بھی ختم ہو جائے گا۔زہر کا اثر دیکھنے کے لیے پادری غور سے ٹکٹکی باندھے آپؓ کو دیکھنے لگا۔آپؓ کے بدن سے پسینہ نمودار ہونے لگا،پادری دل ہی دل میں خوش ہونے لگا کہ زہر کا اثر شروع ہو چکا ہے لیکن اللہ نے آپؓ کو زہرکی ہلاکت سے محفوظ رکھا،آپؓ کے بدن سے چند منٹ پسینہ نمودار ہونے کے بعد آپؓ کی کیفیت بالکل نارمل ہو گئی۔ پادری نے اپنی آنکھوں کے سامنے حضرت خالد بن ولید ؓ کا جذبہ ایمانی دیکھا تو حیران پریشان رہ گیا۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے پادری سے مخاطب ہو کر فرمایا دیکھ لو ، اگر موت نہ آئی ہو تو زہر بھی کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔' پادری کوئی جواب دیے بغیر آپؓ کے پاس سے واپس قلعہ بھاگ کھڑا ہوا اور اپنی قوم سے کہا۔ اے لوگو، میں ایسی قوم سے مل کر آیا ہوں، خدا تعالیٰ کی قسم ،اسے مرنا تو آتا ہی نہیں، وہ صرف مارنا ہی جانتے ہیں۔ جتنا زہر ان کے ایک آدمی نے کھا لیا ہے۔ اگر اتنا پانی میں ملا کر ہم تمام اہل قلعہ پی لیتے تو یقیناََ مر جاتے مگر اس آدمی کا مرنا تو درکنار ، وہ بے ہوش بھی نہیں ہوا، میری مانو تو قلعہ اس کے حوالے کر دو اور ان سے لڑائی نہ کرو۔معمر پادری کی بات سن کر عیسائیوں نے وہ قلعہ بغیر لڑائی کے حضرت خالد بن ولیدؓ کے حوالے کر دیا۔مسلمانوں کو یہ فتح بغیر کسی جنگ کے صرف حضرت خالد بن ولیدؓ کی قوت ایمانی کی بدولت حاصل ہوئی تھی ۔

حضرت خالد اور جُرجہ نامی سپہ سالار کی گفتگو

علامہ ابن کثیر نے البدایۃ والنہایہ جلد نمبر ٧ اور صفحہ نمبر ١٦ میں ایک دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ ذکر کیا ہے : جب جنگ یرموک میں دونوں لشکر آمنے سامنے صف آراء ہوئے تو رومیوں کا ایک سپہ سالار جرجہ آگے بڑھا اور حضرت خالد کو دعوت مبارزت دی۔ جب دونوں شاہسوار ایک دوسرے کے قریب آگئے تو جرجہ کہنے لگا خالد میں جرجہ ہوں تم سے کچھ سوال کرنا چاہتاہوں جنابِ خالد فرمانے لگے ہاں پوچھو جرجہ کہنے لگا خالد جو بہادر انسان ہوتا ہے۔ وہ کبھی دھوکا نہیں دیتا اور سچا انسان کبھی جھوٹ نہیں بولتا پھر دونوں کے درمیان مکالمہ شروع ہوا جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے : جرجہ : خالد کیا تمھارے نبیﷺ پر آسمان سے کوئی تلوار نازل ہوئی جو انھوں نے تمھیں دی لہذا اب جس لشکر میں بھی تم ہوتے وہ کبھی شکست نہیں کھاتا؟ خالد : نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ جرجہ : خالد تو پھر تمھیں سیف اللہ کیوں کہا جاتا ہے ؟ خالد : جب میں اسلام لایا تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے دعا کی تھی اور فرمایا تھا کہ تم اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہو جس کو اللہ نے مشرکین پر سونت رکھا ہے ۔ اسی وجہ سے میرا لقب سیف اللہ پڑ گیا ہے جرجہ : تم کس بات کی دعوت دینے نکلے ہو ؟ خالد : ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں ۔ جرجہ : اگر کوئی دعوت ماننے سے انکار کر دے تو ؟ خالد : اس کے لیے جزیہ دینا ضروری ہے ۔ جرجہ : اگر جزیہ سے بھی انکار کر دے تو ؟ خالد : پھر ہم اسے جنگ کے لیے للکارتے ہیں ۔ جرجہ : اگر اب کوئی تمھارے ساتھ شامل ہو تو اس کا درجہ کیا ہوگا ؟ خالد : ہم میں سب کا ایک ہی درجہ ہے امیر ، غریب سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد کچھ مزید ایک دو سوالوں کے بعد اس نے کہا مجھے بھی اسلام سکھا دو اور وہ حضرت خالد کے ساتھ چل دیا اور مسلمان لشکر میں آگیا حضرت خالد نے اس کو اسلام کی بنیادی باتیں بتائیں اور اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت خالد کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کی اور مسلمان لشکر میں شامل ہو کر خوب بہادری سے جنگ لڑی اور اسی جنگ میں زخمی ہو کر شہید ہو گیا۔ ،[142]

(فضائل اخلاق) رضائے نبوی ﷺ

صحابہ کرام کے لیے سب سے بڑی دولت آنحضرت ﷺ کی رضا جوئی اور خوشنودی تھی، اس کے لیے وہ اپنے جذبات کو بھی آنحضرت کے تابع فرمان کر دیتے تھے، خالدؓ بن ولید گو تند مزاج تھے ،لیکن فرمان نبوی ﷺ کے مقابلہ میں ان کی تند مزاجی حلم و عفو سے بدل جاتی تھی، ایک مرتبہ ان میں اور عمارؓ بن یاسر میں کسی معاملہ میں بحث ہو گئی اور سخت کلامی تک نوبت پہنچی گئی، عمارؓ بن یاسر نے آنحضرت سے شکایت کی، اتفاق سے اسی وقت حضرت خالدؓ بھی آگئے اور شکایت سن کر بہت برہم ہوئے اور عمار کو برا بھلا کہنا شروع کیا، آنحضرت خاموش تھے، عمارؓ بن یاسر نے آبدیدہ ہوکر عرض کیا حضور ان کی زیادتیوں کو ملاحظہ فرما رہے ہیں، آنحضرت نے سر اٹھا کر فرمایا کہ "جو شخص عمارؓ سے بغض وعداوت رکھتا ہے وہ اللہ سے بغض و عناد رکھتا ہے"خالدؓ پر اس ارشاد کا یہ اثر ہوا کہ ان کا بیان ہے کہ جب میں آنحضرت ﷺ کے پاس سے اٹھا تو عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رضا جوئی سے زیادہ کوئی چیز میرے لیے محبوب نہ تھی اوران سے مل کر ان کو منایا۔ [143] [144]

احترام نبویﷺ

حضرت خالدؓ بن ولید کے دل میں آنحضرت کا اتنا احترام تھا کہ وہ کسی کی زبان سے آپ کی شان میں کوئی ناروا کلمہ برداشت نہیں کر سکتے تھے، ایک مرتبہ آپ ﷺ کے پاس کچھ سونا آیا، آپ ﷺ نے اسے اہل نجد میں تقسیم کر دیا، قریش وانصار کو شکایت ہوئی، انھوں نے شکایت کی کہ آپ نے سب سونا نجدی سرداروں کو دے دیا اور ہم لوگوں کو بالکل نظر انداز فرمادیا، آپ نے فرمایا کہ ان کو تالیف قلب کے خیال سے دیتا ہوں، یہ سن کر نجدیوں کے گروہ سے ایک شخص نے کہا کہ محمد اللہ سے ڈرو ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،اگر میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہوں تو پھر اللہ کی اطاعت کون کرتا ہے؟ خالدؓ بن ولید کو اس گستاخی پر غصہ آ گیا اور اس کی گردن اڑانے کی اجازت چاہی ؛لیکن آپ نے روک دیا۔ [145]

آثار نبوی ﷺ سے تبریک

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر اس چیز کے ساتھ جس کو آنحضرت کے ساتھ شرف انتساب حاصل ہوتا والہانہ عقیدت رکھتے تھے،چنانچہ آنحضرت کے موئے مبارک ایک ٹوپی میں سلوا لیے تھے ، جس کو پہن کر میدان جنگ میں جاتے تھے،جنگ یرموک کے معرکے میں یہ ٹوپی گر گئی تھی،حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بہت پریشان ہوئے اور آخر بڑی تلاش و جستجو کے بعد ملی۔ [146]

جہاد فی سبیل اللہ

حضرت خالدؓ بن ولید کی کتاب زندگی کا سب سے جلی عنوان اور سب سے روشن باب جہاد فی سبیل اللہ ہے،ان کی زندگی کا بیشتر حصہ اسی میں گذرا، غزوات نبوی اور عراق و شام کی فتوحات کے حالات میں اس کی تفصیل گذرچکی ہے، ان کے اسی ذوق جہاد اور شجاعانہ کارناموں کے صلہ میں ان کو دربار نبوی سے سیف اللہ کا لقب ملا، تقریباً سوا سو لڑائیوں میں اپنی تلوار کے جوہر دکھائے جسم میں ایک بالشت حصہ بھی ایسا نہ تھا جو تیروں اور تلواروں کے زخم سے زخمی نہ ہوا ہو،[147] ذوق جہاد میں کہا کرتے تھے کہ مجھے میدان جنگ کی وہ سخت رات جس میں اپنے دشمنوں سے لڑوں اس شب عروسی سے زیادہ مرغوب ہے، جس میں میری محبوبہ مجھ سے ہمکنار ہو،[148] آخر وقت جب اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے تو بڑی حسرت اور افسوس کے ساتھ کہتے تھے کہ افسوس میری ساری زندگی میدان جنگ میں گذری اور آج میں بستر مرگ پر جانور کی طرح ایڑیاں رگڑ کے جان دے رہا ہوں، [149] اللہ نے آپ کے قدموں میں یہ برکت دی تھی کہ جدھر رخ کیا کبھی ناکام واپس نہ لوٹے خود کہتے تھے کہ میں نے جس طرف کا رخ کیا فتح یاب ہوا[150] اس قول کی صداقت پر ان کے کار نامے شاہد ہیں، آنحضرت ﷺ کو ان کی شجاعت پر اس قدر اعتماد تھا کہ جب ان کے ہاتھ میں علم آجاتا تو آپ مطمئن ہو جاتے ،چنانچہ غزوۂ موتہ میں جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے علم سنبھالا تو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے غائبانہ فرمایا کہ اب لڑائی کا تنور گرمایا، [151] چونکہ سپہ گری ان کا آبائی پیشہ تھا، اس لیے ان کے پاس سامان حرب کافی تھا ، جس کو انھوں نے اسلام لانے کے بعد راہ للہ میں وقف کر دیا تھا۔ [152]

آنحضرت ﷺ کا مدح کرنا

آنحضرت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ان جان فروشیوں اور قربانیوں کی بہت قدر فرماتے تھے اور متعدد موقعوں پر مدحیہ لہجہ میں ان کا اعتراف فرمایا کرتے فتح مکہ کے موقع پر جب کہ مسلمان مختلف سمتوں سے مکہ میں داخل ہو رہے تھے ایک گھاٹی کی طرف خالدؓ بھی نمودار ہوئے،آنحضرت نے ابو ہریرہؓ سے فرمایا ،دیکھو کون ہے،انھوں نے عرض کیا خالد بن ولیدؓ ، فرمایا کہ یہ اللہ کا بندہ بھی کیا خوب ہے،[153] خود بھی قدر دانی فرماتے تھے اور لوگوں کو بھی ان کا لحاظ رکھنے کی ہدایت فرماتے تھے، ایک موقع پر لوگوں سے فرمایا کہ خالدؓ کو تم لوگ کسی قسم کی تکلیف نہ دو، کیونکہ وہ اللہ کی تلوار ہے، جس کو اس نے کفار پر کھینچا ہے۔ [154] ایک مرتبہ آنحضرت نے حضرت عمرؓ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل ،خالدؓ اور عباسؓ نے دینے سے انکار کیا، آنحضرت کو معلوم ہوا، تو فرمایا کہ "ابن جمیل فقیر تھا،اللہ نے اس کو دولتمند کیا، یہ اس کا بدلہ ہے، لیکن خالدؓ بن ولید پر تم لوگ زیادتی کرتے ہو، انھوں نے اپنا تمام سامان حرب اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ہے، پھر ان پر زکوٰۃ کیسی، رہا عباس کا معاملہ تو ان کا میں ذمہ دار ہوں ،کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ چچا باپ کی جگہ ہے۔ [155]

مزاج

ان کی پوری زندگی سپاہیانہ تھی، اس لیے مزاج میں حرارت اور تیزی تھی، ذرا سی خلاف مزاج بات پر بگڑ جاتے تھے، عمار بنؓ یاسر کے ساتھ سخت کلامی کا واقعہ اوپر گذرچکا ہے اسی طرح بنو جذیمہ کے معاملہ میں( جن پر آپ نے مشرک سمجھ کر حملہ کر دیا،) جب عبدالرحمن بن عوفؓ نے اعتراض کیا تو بہت برہم ہوئے۔ [156]

حق پرستی

لیکن اس تند مزاجی کے باوجود ہٹ دھرمی نہ تھی اور حق بات کو قبول کرنے اور دوسروں کے فضائل کے اعتراف میں عار نہ کرتے تھے، معزولی کا واقعہ اوپر گذر چکا ہے کہ مجمع عام میں اس طرح معزول کیا جاتا ہے کہ سر سے ٹوپی اتارلی جاتی ہے، عمامہ گردن میں باندھ دیا جاتا ہے اور آپ دم نہیں مارتے اور جب ان کی جگہ پر ابو عبیدہؓ بن جراح سپہ سالار مقرر ہوتے ہیں تو یہ لوگوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اب اس امت کا امین تم پر امیر مقرر کیا گیا ہے۔ [157]

اشاعت اسلام

اشاعت اسلام ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے، حضرت خالدؓ بن ولید آنحضرت کی زندگی میں اور آپ کے بعد برابر اس فریضہ کو ادا کرتے رہے، فتح مکہ کے بعد آنحضرت نے اشاعتِ اسلام کی غرض سے جو سرایا بھیجے،ان میں سے متعدد سریے ان کی سرکردگی میں کیے گئے اور بنو جذیمہ ، بنو عبدالمدان نجرانی انھی کی کوششوں سے مشرف باسلام ہوئے اور اہل یمن کے اسلام میں حضرت علیؓ بن ابی طالب کے ساتھ ان کی کوششیں بھی شامل تھیں، فتنہ ردہ میں طلیحہ کی جماعت بنو ہوازن ، بنو سلیم اور بنو عامر وغیرہ دوبارہ انھی کی کوششوں سے اسلام لائے، [158] ان جماعتوں کے علاوہ منفرد طور پر بھی بعض مشہور لوگ آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے ،جنگ یرموک میں قیصر روم کے سفیر جارج کے قبول اسلام کا واقعہ اوپر گذرچکا ہے۔ [159]

خالد کی ولادت کی صحیح تاریخ کے بارے میں تاریخ کی کسی بھی کتاب میں ذکر نہیں ملتا ہے۔ اے آئی اکرم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ خالد بن ولید اور عمر بن خطاب نے کشتی لڑی جس میں خالد نے عمر کی پنڈلی توڑ ڈالی جو کافی علاج کے بعد ٹھیک ہو گئی ۔[160] اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ہم عمر تھے۔ خالد کے والد ولید بن مغیرہ تھے، جو حجاز کے مکہ میں مقامی تنازعات کے ثالث تھے۔ خالد کا خاندان زمانہ جاہلیت سے معزز چلا آتا تھا، فوج کی سپہ سالاری اور فوجی کیمپ کے انتظام کا عہدہ انھی کے خاندان میں تھا۔ ظہور اسلام کے وقت خالد اس عہدہ پر ممتاز تھے۔[161]

حلیہ

خالدبن ولید کا قد لمبا اور مضبوط، چہرہ سفیدی کی طرف مائل، [162] اور گھنی داڑھی تھی۔ [163] ان کی شکل عمر بن الخطاب سے بہت ملتی جلتی تھی۔ [162]

کتابیات

ثانوی ماخذ

  • ابو زید شبلی (2003) [1933]۔ اللہ کی تلوار (بزبان عربی)۔ لاہور: دار الابلاغ، لاہور 

انگریزی

حوالہ جات

  1. (اکمال ،ص 593 و کنزالعمال جلد 15 و تاریخ الخلفاء)
  2. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواسYarmuk Ad 636: The Muslim Conquest of Syria By David Nicolle آرکائیو شدہ 2015-04-16 بذریعہ وے بیک مشین «» [مردہ ربط]
  3. Khalid ibn al-Walid, Encyclopædia Britannica Online. Retrieved. 17 October 2006. [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2007-12-26 بذریعہ وے بیک مشین
  4. عمرو خالد۔ "خالد بن الوليد"۔ موقع د. عمرو خالد (بزبان العربية)۔ 04 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 دسمبر 2010 
  5. العقاد 2002
  6. "جوامع الكلم"۔ 12 أكتوبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  7. أبو الفوز محمد أمين البغدادي السويدي (1995)۔ سبائك الذهب في معرفه قبائل العرب۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ صفحہ: ص 124 
  8. ابن الجوزي (2012)۔ صفة الصفوة۔ دار الكتاب العربي۔ صفحہ: 234 
  9. (عقد الفرید ،جلد2)
  10. (استیعاب :57/1)
  11. (بخاری کتاب المغازی الشروط فی الجہاد والمصافحہ مع اہل العرب)
  12. محمد بن سعد البغدادي (1410 هـ - 1990 م)۔ "4226- لبابة الصغرى"۔ الطبقات الكبرى۔ 8 (الأولى ایڈیشن)۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ صفحہ: ٢١٨۔ 18 سبتمبر 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2021 
  13. الطبقات الكبرى - محمد بن سعد - ج ٨ - الصفحة ٢٧٩ آرکائیو شدہ 2020-02-06 بذریعہ وے بیک مشین
  14. (تفصیل کے لیے دیکھو مسند احمد بن حنبل:198/4)
  15. كتاب أنساب الأشراف، (4/299) آرکائیو شدہ 2021-03-06 بذریعہ وے بیک مشین
  16. "الوليد بن الوليد بن المغيرة"۔ الخيمة العربية (بزبان العربية)۔ 19 أكتوبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 دسمبر 2010 
  17. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  18. "إسلام عمرو بن العاص وخالد بن الوليد وعثمان بن طلحة"۔ المكتبة الإسلامية - البداية والنهاية - الجزء الرابع (بزبان العربية)۔ 03 ديسمبر 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 دسمبر 2010 
  19. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  20. (اسد الغابہ:101/2)
  21. "خالد بن الوليد في كتابة شخصيتين عسكريتين عربية وغربية"۔ مجلة التراث العربي (بزبان العربية)۔ 19 يونيو 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  22. (ابن سعد حصہ مغازی:92)
  23. (بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ موتہ)
  24. (بخاری کتاب المغازی باب غزوۂ موتہ)
  25. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  26. "أهمية مكة المكرمة ومكانتها الدينية" (بزبان العربية)۔ 15 ديسمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2010 
  27. (مسلم:89/2،طبع مصر)
  28. (ابن سعد حصہ مغازی:98،بخاری باب فتح مکہ)
  29. فتح مكة إسلام ويب آرکائیو شدہ 2009-05-06 بذریعہ وے بیک مشین
  30. (ابن سعد حصہ مغازی:108)
  31. (اسد الغابہ:103/2)
  32. ^ ا ب "فصل في خبر مالك بن نويرة اليربوعي التميمي"۔ البداية والنهاية لابن كثير (بزبان العربية)۔ 03 نوفمبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 جنوری 2011 
  33. ^ ا ب "غزوة حُنين وحصار الطائف"۔ مقاتل من الصحراء (بزبان العربية)۔ 20 أكتوبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2010 
  34. (ابن سعد حصہ مغازی:114)
  35. (ابن سعد حصہ مغازی:114)
  36. (رزقانی :86/3)
  37. (ابن سعد حصہ مغازی:120)
  38. "عزل خالد بن الوليد"۔ هدى الإسلام (بزبان العربية)۔ 30 سبتمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2011 
  39. (بخاری کتاب المغازی باب سریہ بنو حذیمہ)
  40. (ابن سعد حصہ مغازی:107)
  41. (اسد الغابہ :102/2)
  42. "مسير خالد بن الوليد بعد الفتح إلى بني جذيمة من كنانة ومسير علي لتلافي خطأ خالد - سيرة ابن هشام"۔ المكتبة الإسلامية - إسلام ويب (بزبان العربية)۔ 08 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2010 
  43. (زرقانی:116/3)
  44. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  45. "غزوة حنين"۔ شبكة البرامج العربية والمعربة (بزبان العربية)۔ 26 نوفمبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2010 
  46. (ابن سعد حصہ مغازی :122)
  47. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  48. "قصه الصحابي " خالد بن الوليد " (سيف الله المسلول)" (بزبان العربية)۔ 26 أبريل 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2010 
  49. "نبذة عن دومة الجندل" (بزبان العربية)۔ 05 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 جنوری 2011 
  50. (ابن سعدحصہ مغازی:105)
  51. محمد رشيد رضا۔ "سرية خالد بن الوليد إلى بني الحارث بن كعب بنجران"۔ محمد صلى الله عليه وسلم (بزبان العربية)۔ 28 أكتوبر 2014 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 جنوری 2011 
  52. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  53. (یعقوبی :145/2)
  54. "محاربة المُرتدِّين"۔ قصة الإسلام (بزبان العربية)۔ 20 أبريل 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2010 
  55. (تاریخ الخلفاء سیوطی:72)
  56. (طبری واقعات:11ھ)
  57. البداية والنهاية لابن كثير الجزء السادس، ص:226 "نسخة مؤرشفة"۔ 20 أبريل 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 سبتمبر 2019 
  58. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  59. (تاریخ الملوک عمروصفہانی :90،مطبوعہ برلن)
  60. (اسد الغابہ:104/5)
  61. (تاریخ الملوک :76)
  62. (سیرۃ ابن ہشام:69/1)
  63. (طبری:1872)
  64. (فتوح البلدان،فتوح عراق)
  65. ^ ا ب "ذكر مالك بن نويرة - الكامل في التاريخ لابن الأثير"۔ نداء الإيمان (بزبان العربية)۔ 03 ديسمبر 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 دسمبر 2010 
  66. (ابن خلدون :79/2)
  67. ^ ا ب البداية والنهاية لابن كثير الجزء السادس، ص:355 "نسخة مؤرشفة"۔ 20 أبريل 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 سبتمبر 2019 
  68. (طبری:2027،2028،ابن خلدون:79/2)
  69. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  70. هيكل، الصديق أبي بكر، ص 134
  71. (طبری :2031/4)
  72. هيكل، الصديق أبي بكر، ص 208-209
  73. (ابن خلدون:80/2،طبری:2031 تا2037/4)
  74. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  75. هيكل، الصديق أبي بكر، ص 210-212
  76. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  77. (ابن اثیر:298/2)
  78. "فتح الحيرة أول جزية في الإسلام" (بزبان العربية)۔ 16 يونيو 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 دسمبر 2010 
  79. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  80. (طبری:2037،2041/5)
  81. هيكل، الصديق أبي بكر، ص 226
  82. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  83. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  84. (طبری:2059،2061،وفتوح البلدان بلاذری:255)
  85. pioneer Campaigns in Western Iraq, Witness Pioneer آرکائیو شدہ 2015-09-14 بذریعہ وے بیک مشین
  86. (ابن اثیر:29/2)
  87. (طبری جلد4:2063)
  88. (فتوح البلدان بلاذری:255)
  89. (فتوح البلدان بلاذری:257)
  90. (ابن خلدون:39/2)
  91. (طبری:2066/4،وابن اثیر :303/6)
  92. "فتح الشام"۔ طريق الإسلام (بزبان العربية)۔ 04 مارس 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2011 
  93. (طبری:2067تا2070/4)
  94. هيكل، الصديق أبي بكر، ص 255-256
  95. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  96. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  97. "معركة أجنادين وفتح دمشق"۔ موقع باب (بزبان العربية)۔ 11 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2011 
  98. (طبری:2073،2074/4)
  99. "معركة اليرموك"۔ موقع باب (بزبان العربية)۔ 15 ديسمبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جنوری 2011 
  100. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  101. (ابن اثیر:314/2)
  102. البداية والنهاية لابن كثير - ذكر من توفي سنة 21 هـ آرکائیو شدہ 2016-02-04 بذریعہ وے بیک مشین
  103. (فتوح البلدان بلاذری :119)
  104. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  105. هيكل، الفاروق عمر، ص 212
  106. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  107. هيكل، الفاروق عمر، ص 213-214
  108. (طبری:2152/4)
  109. (ابن اثیر:329/6)
  110. (فتوح البلدان بلاذری:130)
  111. سير أعلام النبلاء للذهبي - الصحابة رضوان الله عليهم - خالد بن الوليد آرکائیو شدہ 2017-06-18 بذریعہ وے بیک مشین
  112. (ابن اثیر:381/2)
  113. (فتوح البلدان:141)
  114. (طبری:2094/5)
  115. (طبری:2098)
  116. هيكل، الفاروق عمر، ص 251
  117. (طبری:2393)
  118. (ابن اثیر:384/2)
  119. (طبری فتح بیت المقدس)
  120. (طبری:2/75)
  121. (اصابہ:2/200)
  122. (طبری:4/2085)
  123. (اصابہ:2/100)
  124. (ابن اثیر:2/419)
  125. (ابن اثیر:2/419)
  126. تاريخ الطبري - تاريخ الرسل والملوك ج4 ص68 آرکائیو شدہ 2017-07-09 بذریعہ وے بیک مشین
  127. (مستدرک حاکم: 3/297)
  128. تاريخ أبي زرعة الدمشقي ج1 ص574 آرکائیو شدہ 2016-02-07 بذریعہ وے بیک مشین
  129. (اصابہ :2/100 اور مستدرک حاکم:3/297)
  130. الإصابة في تمييز الصحابة - ترجمة خالد بن الوليد آرکائیو شدہ 2016-02-07 بذریعہ وے بیک مشین
  131. (استیعاب:1/276)
  132. (ابوداؤد کتاب الجہاد باب قولہ تعالی ولا تلقوابایدیکم الی التھلکۃ )
  133. تاريخ دمشق لابن عساكر - ترجمة خالد بن الوليد المخزومي آرکائیو شدہ 2016-02-07 بذریعہ وے بیک مشین
  134. (اصابہ:2/99)
  135. (اعلام الموقعین:جلد1 فصل اصحاب الفتویٰ من اصحاب النبی ﷺ )
  136. (تہذیب التہذیب:2/124)
  137. "ذكر سرية خالد بن الوليد إلى بني جذيمة"۔ زاد المعاد لابن القيم الجوزية (بزبان العربية)۔ 03 نوفمبر 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 جنوری 2011 
  138. سانچہ:استشهاد بهارفارد دون أقواس
  139. محمود المصري (2005)۔ سيرة الرسول (صلى الله عليه وسلم)۔ مصر: دار البيان الحديثة۔ صفحہ: ص 565 
  140. "فيلم خالد بن الوليد"۔ قاعدة بيانات الأفلام العربية (بزبان العربية)۔ 23 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 جنوری 2011 
  141. (مسند احمد بن حنبل:4/89)
  142. الشيماء - فيلم - 1972 - طاقم العمل، فيديو، الإعلان، صور، النقد الفني، مواعيد العرض آرکائیو شدہ 2018-08-20 بذریعہ وے بیک مشین
  143. (بخاری :2/105)
  144. (اصابہ:2/99)
  145. (اسد الغابہ:2/102)
  146. (اصابہ:2/99)
  147. (استیعاب:1/158)
  148. (اصابہ :2/99)
  149. (ابن سعد ق2،جلد4 ، تذکرہ خالدؓ)
  150. (صحیح بخاری کتاب الزکوۃ واسد الغباہ :2/104)
  151. (مسند احمد بن حنبل:2/360)
  152. (اصابہ:2/99)
  153. (ابوداؤد:1/163 و مسلم :1/262،مصر)
  154. (اسد الغابہ:2/103)
  155. (اصابہ:2/99)
  156. (ابن خلدون،جلد2،بعوث مرتدین)
  157. (ابن اثیر:2/316)
  158. اکرم 2007, p. 1.
  159. Lecker 2004, p. 694.
  160. ^ ا ب العقاد 2002
  161. أكرم 1982