بنگل خان جوگیزئی

بلوچستان کے پشتون قبیلہ جوگیزئی کے نواب

نواب بنگل خان جوگیزئی (وفات: مئی1906ء) بلوچستان میں جوگیزئی قبیلہ کے نواب تھے اور ان کے فرزند نواب محمد خان جوگیزئی تحریک پاکستان کے رہنما تھے۔ نواب بنگل خان نعت گو شاعر بھی تھے۔

نواب بنگل خان جوگیزئی
معلومات شخصیت
مقام پیدائش ضلع قلعہ سیف اللہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات مئی 1906  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع قلعہ سیف اللہ،  برٹش بلوچستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ نواب
پیشہ ورانہ زبان پشتو

سوانحترميم

نواب بنگل خان جوگیزئی نواب دوست محمد خان جوگیزئی کے فرزند تھے۔ نواب بنگل خان کا سالِ پیدائش نامعلوم ہے ، غالباً وہ بلوچستان میں ہی پیدا ہوئے۔

نواب بنگل خان کے سات بیٹے تھے جن کے نام نواب ظریف خان جوگیزئی، نواب محمد خان جوگیزئی، نوابزادہ عظیم خان جوگیزئی، نوابزادہ یعقوب خان جوگیزئی، نوابزادہ عبدالقادر جوگیزئی، نوابزادہ قیصر خان جوگیزئی اور نوابزادہ شیر علی خان جوگیزئی تھے۔

آپ کے فرزند نواب محمد خان جوگیزئی نے تحریک پاکستان کے حوالہ سے قابل قدر خدمات سر انجام دی ہیں۔

انگریزی سامراج کے خلاف اعلان جنگترميم

نواب بنگل نے اپنے والد کے حین حیات ہی برطانوی شہنشاہیت کے بڑھتے ہوئے اقتدار کے خلاف نعرۂ حریت بلند کیا جو سندھ کے بعد بلوچستان پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ 1883ء سے 1886ء تک تقریباً تین سال کے عرصے میں انگریزوں کو سکھ چین سے سونے نہ دیا اور اُن کی نیند اُڑائے رکھی۔ انگریزوں سے اِن کی قیادت میں قبائل کی پہلی جھڑپ قلعہ سیف اللہ میں ہوئی۔ چونکہ انگریزی فوجیں تربیت یافتہ اور منظم تھیں، اِس لیے قبائل کو مجبوراً میدانی علاقے چھوڑ کر تورغر نامی پہاڑ میں قلعہ بندی کرنا پڑگئی، جہاں سے انگریزوں کو تہس نہس کرنے کے لیے وہ شاہینوں کی طرح اُن پر جھپٹتے رہے۔ انگریزوں نے جوگیزئی قبائل سے جدال و قتال چھوڑ کر افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان سے رجوع کرلیا اور امیر عبدالرحمٰن خان کی مداخلت پر انگریزوں اور جوگیزئی قبائل کے مابین طویل جھڑپوں پر جنگ بندی ہوئی۔ 1893ء میں جب ڈیورنڈ لائن کھینچے جانے کا واقعہ پیش آیا تو نواب بنگل خان کو اِس مشن کے رکن کی حیثیت سے شامل کیا گیا تاکہ قبائل نواب بنگل کی موجودگی میں شدید حملوں سے باز رہیں۔ نواب بنگل تین سال تک اِس کمیشن میں شامل رہے۔ [1]

برطانوی سلطنت میں اعزازاتترميم

1897ء میں برطانوی حکومت نے نواب بنگل کو سردار بہادر کا لقب اور جاگیر عطاء کی۔ 1904ء میں جب وائسرائے نے ہندوستان کا دورہ کیا تو نواب بنگل سر ہنری میکموہن کے ہمراہ وفد میں شامل تھے۔ اِس موقع پر آپ کو ’’نواب‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ [2]

وفاتترميم

نواب بنگل خان قلعہ سیف اللہ میں مئی 1906ء میں کسی قبائلی تنازعے میں شہید ہوئے۔ آپ کی تدفین بھی قلعہ سیف اللہ میں کی گئی۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 2، تکملہ، صفحہ 663۔
  2. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 2، تکملہ، صفحہ 664۔
  3. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 2، تکملہ، صفحہ 664۔