مہاراجا بکرما جیت نے ہندی کیلنڈر کا اجرا کیا تھا جسےبکرمی تقویم کہا جاتا ہے جس کا پہلا مہینہ چیت اور آخری مہینہ پھاگن ہوتا ہے۔

مہاراجا بکرما جیت بادشاہ
بکرما جیت بھون

والد کا نامترميم

تاریخ کشتواڑ میں بکرما جیت کے والد کانام گندھرب سین دیا ہوا ہے ۔

ایک لقبترميم

بکرما جیت ایک لقب ہے جو تاریخ قدیم کے نامور حکمرانوں نے اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے اختیار کیاتھا۔ گپت خاندان میں چندر گپت بکرما جیت کے علاوہ اس کا پوتا پوروگپتا 73۔467 ؁ء بھی اپنے آپ کو وکرم دت کہلاتاتھا او رایسا اس کے عہد کے سکوں سے ظاہر ہے۔ مؤرخین نے حکمران کااصلی نام بیان نہیں کیا ہے بلکہ اس کا لقب بکرما جیت یا بکرم دت لکھاہے۔ اور آنے والے مورخوں نے بھی اصل نام دریافت کرنے کی بجائے لقب ہی لکھنے پر اکتفا کیاہے۔ بکرما جیت وہی ہے جس کے بیٹے شلادتیہ پرتاپ شیل 600۔550 ؁ء کو سری نگر شہر کے بانی راجا پرورسین نے اجین جاکر شکست دی تھی ۔

بکرمی سنہترميم

بکرما جیت سن بکرمی کا آغاز اپنی پیدائش سے کیا جس کو سمبت کہا جاتا ہے جس میں عیسوی سن سے 57 سالوں کی زیادتی پائی جاتی ہے۔ عام طور پر چندر گپت بکرما جیت جس کا عہد حکومت 414۔375 ؁ء ہے اور جو گپتا خاندان کا نامور حکمران ہوا ہے وہ چند گپت کہاجاتا ہے جس کے نورتن مشہور ہیں۔[1]

دار الحکومتترميم

اجین جسے مذہبی شہر کہا جاتا ہے’’مہا راجا بکرماجیت‘‘ کی وجہ سے بھی اس شہر کو تاریخی اہمیت حاصل ہے ،کیونکہ راجا بکرماجیت نے اس شہر کو اپنا دار السلطنت قرار دیا تھا۔ راجا بکرماجیت کا عہد حکومت تاریخ میں متفقہ طور پر انتہائی اہم اور مبارک مانا جاتا ہے،، حکومت نے راجا بکرما جیت کی یادوں کو زندہ رکھنے ایک مجسمہ تعمیر کرکے چاروں طرف سے مورتیوں کو رکھ دیا گیاہے، یہ مجسمہ تالاب کے کنارے ایک میدان میں بنایا گیا ہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہیں پر بکرماجیت کا محل واقع تھا، [2]

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ کشتواڑ ،عشرتؔ کاشمری، اجیت نیوز ایجنسی کشتواڑ۔
  2. http://millattimes.com/10003.php