مہاراجہ بکرما جیت گجر راجا بکرم اجیت یا راجا وکرم جیت (विक्रमादित्य) (102 ق م سے 15 عیسوی تک) اجین، بھارت کا بادشاہ تھا۔

بکرما جیت
Vikramaditya.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 102 ق م  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوجین  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مہاراجہ بکرما جیت بادشاہ پنوار گجر
بکرما جیت بھون

وجہ شہرتترميم

بکرما جیت نے ہندی کیلنڈر کا اجرا کیا تھا جسے بکرمی تقویم کہا جاتا ہے۔ اس کا پہلا مہینہ چیت اور آخری مہینہ پھاگن ہے۔ وہ اپنے علم، بہادری اور سخاوت کی بنا پر مشہور تھا۔ اس کی نسبت سے ہندوستانی تاریخ میں بعد کے دوسرے بہت سے بادشاہوں نے وکرمادتیہ کا لقب اختیار کیا۔

والد کا نامترميم

تاریخ کشتواڑ میں بکرما جیت کے والد کانام گندھرب سین دیا ہوا ہے۔ بادشاہ بکرما جیت کی اولاد کے لوگ کاہلوں کہلاتے ہیں۔ راجا وکرما جیت کا زمانہ پہلی صدی قبل مسیح کا ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ کہ وہ وکرما جیت ہی تھا جس نے سنہ اٹھاون قبل مسیح میں شکوں کی ایک بڑی فوج کو شکست دی تھی۔ حوالہ

بطور لقبترميم

بکرما جیت ایک لقب بھی ہے جسے تاریخ قدیم کے نامور حکمرانوں نے اپنی شان و شوکت کے اظہار کے لیے اختیار کیا تھا۔ گپت خاندان میں چندر گپت بکرما جیت کے علاوہ اس کا پوتا پوروگپتا 73۔467ء بھی اپنے آپ کو وکرما دتیہ کہلاتا تھا اور ایسا اس کے عہد کے سکوں سے ظاہر ہے۔ مؤرخین نے حکمران کا اصل نام بیان نہیں کیا ہے بلکہ اس کا لقب بکرما جیت یا وکرما دتیہ لکھا ہے۔ اور آنے والے مورخوں نے بھی اصل نام دریافت کرنے کی بجائے لقب ہی لکھنے پر اکتفا کیا۔ بکرما جیت وہی ہے جس کے بیٹے شلادتیہ پرتاپ شیل 600۔550ء کو سری نگر شہر کے بانی راجا پرورسین نے اجین جا کر شکست دی تھی۔

بکرمی سنہترميم

بکرما جیت نے بکرمی سنہ کا آغاز اپنی پیدائش سے کیا جس کو سمبت کہا جاتا ہے۔ اس میں عیسوی سنہ سے 57 سالوں کی زیادتی پائی جاتی ہے۔ عام طور پر چندر گپت بکرما جیت جس کا عہد حکومت 414۔375ء ہے اور جو گپت خاندان کا نامور حکمران ہوا ہے وہ چند گپت کہلاتا ہے، اس کے نورتن مشہور ہیں۔[1]

دار الحکومتترميم

اجین جسے مذہبی شہر کہا جاتا ہے "مہا راجا بکرماجیت" کی وجہ سے بھی اس شہر کو تاریخی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ راجا بکرماجیت نے اس شہر کو اپنا دار السلطنت قرار دیا تھا۔ راجا بکرماجیت کا عہد حکومت تاریخ میں متفقہ طور پر انتہائی اہم اور مسعود مانا جاتا ہے۔ حکومت نے راجا بکرما جیت کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیے ایک مجسمہ تعمیر کرکے اس کے چاروں طرف مورتیاں رکھ دی ہیں۔ یہ مجسمہ تالاب کے کنارے ایک میدان میں بنایا گیا ہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہیں پر بکرماجیت کا محل واقع تھا، [2]

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ کشتواڑ، عشرتؔ کاشمری، اجیت نیوز ایجنسی کشتواڑ۔
  2. http://millattimes.com/10003.php[مردہ ربط]