مرکزی مینیو کھولیں

سلطنت بیدر یا برید شاہی سلطنت دکن کی سلطنتوں میں سے ایک سلطنت جو بہمنی سلطنت کے بکھر جانے کے بعد عہد وسطیٰ کے جنوبی ہند میں قائم ہوئی۔

سلطنت بیدر
برید شاہی سلسلہ

1489–1619
سلطنت بیدر کے حدود
دار الحکومت بیدر
زبانیں فارسی زبان (دفتری)[1]
دکنی
مذہب اسلام
حکومت شہنشاہی
تاریخ
 - قیام 1489
 - اختتام 1619
سکہ موہر
Warning: Value specified for "continent" does not comply

تاریخترميم

سنہ 1492ء میں قاسم برید اول نے سلطنت بیدر کی بنیاد رکھی، قاسم برید[2] اصلاً ترکی غلام تھے۔[3] اول اول وہ بہمنی سلطان محمد شاہ سوم کے دربار سے منسلک ہوئے اور سرنوبت (سپہ سالار) کے عہدے سے سرفراز کیے گئے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد انہیں بہمنی سلطنت کا میر جملہ (وزیر اعظم) بنا دیا گیا۔ محمود شاہ بہمنی (ح۔ 1482ء تا 1518ء) کے عہد حکومت میں قاسم برید کا ستارہ اقبال انتہائی عروج پر تھا اور وہ عملاً بہمنی سلطنت کے سیاہ سفید کے مالک بن گئے تھے۔ سنہ 1504ء میں ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند امیر برید اول میر جملہ کے منصب پر فائز ہوئے اور عملاً بہمنی سلطنت کے مختار کل بنے رہے۔

سنہ 1518ء میں محمود شاہ بہمنی کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے چار سلطان تخت پر بیٹھے لیکن وہ سب امیر برید کے ہاتھوں میں محض کٹھ پتلی تھے۔ سنہ 1527ء میں جب بہمنی فرماں راو کلیم اللہ بیدر چلے گئے تو امیر برید ظاہراً بھی مختار کل بن گئے لیکن اپنی وفات تک انہوں نے کبھی کسی شاہی خطاب کو نہیں اپنایا۔ سنہ 1542ء میں امیر برید کے بعد ان کے فرزند علی برید اول جانشین ہوئے۔ برید شاہی سلطنت میں علی برید پہلے حکمران تھے جنہوں نے شاہ کا لقب اختیار کیا۔ جنوری سنہ 1565ء میں علی برید نے وجے نگر سلطنت کے خلاف دکن کے تمام سلاطین کو متحد کرکے اس پر لشکر کشی کی اور معرکہ تالی کوٹ سے کامیاب و کامران لوٹے۔ پینتالیس برس حکومت کرنے کے بعد سنہ 1580ء میں ان کی وفات ہوئی تو ان کے فرزند ابراہیم برید جانشین ہوئے اور ابراہیم کے بعد علی برید کے چھوٹے فرزند قاسم برید دوم تخت سلطنت پر متمکن ہوئے۔ قاسم برید دوم کی وفات کے بعد سنہ 1591ء میں ان کے شیرخوار فرزند علی برید دوم کو تخت پر بٹھایا گیا لیکن جلد ہی ان کے ایک عزیز امیر برید دوم نے انہیں معزول کر دیا۔ سنہ 1601ء میں امیر برید دوم کو بھی انہی کے عزیز مرزا علی برید نے تخت سے اتار دیا۔ 1609ء میں ان کے بعد آخری فرماں روا امیر برید سوم تخت نشین ہوئے۔ امیر برید نے 1616ء میں ملک امبر کی قیادت میں مغلوں سے جنگ کی۔ سنہ 1619ء میں سلطان بیجاپور ابراہیم عادل شاہ دوم نے امیر برید کو شکست دی اور بعد ازاں بیدر سلطنت بیجاپور میں ضم ہو گیا۔ امیر برید سوم اور ان کے فرزندوں کو بیجاپور لے جایا گیا جہاں وہ سب نظر بند رہے۔[4]

حوالہ جاتترميم

  1. Spooner & Hanaway 2012، صفحہ۔ 317.
  2. Sen 2013، صفحہ۔ 118.
  3. Bosworth 1996، صفحہ۔ 324.
  4. Majumdar 2007، صفحہ۔ 466-468.

مآخذترميم

  • C.E. Bosworth۔ The New Islamic Dynasties۔ Columbia University Press۔
  • R.C. Majumdar۔ The Mughul Empire۔ Bharatiya Vidya Bhavan۔
  • Sailendra Sen۔ A Textbook of Medieval Indian History۔ Primus Books۔
  • Brian Spooner؛ William L. Hanaway۔ Literacy in the Persianate World: Writing and the Social Order۔ University of Pennsylvania Press۔

نگار خانہترميم