تحریک لبیک پاکستان

پاکستانی مذہبی سیاسی جماعت

تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ایک پاکستانی سیاسی جماعت ہے، جو تحریک لبیک یا رسول اللہ نامی جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی کی زیر قیادت قائم ہوئی۔ 26 جولائی 2017ء کو الیکشن کمیشن پاکستان میں رجسٹر ہوئی[1] اور اس تنظیم کو کرین کا انتخابی نشان دیا گیا۔[2] موجود امیر جانشین سعد حسین رضوی ہیں، جن پر مقدمات قائم کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ 14 اپریل 2021ء کو تحریک لبیک پر انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت پابندی عائد کر دی گئی۔[3] حکومت پاکستان نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء رول 11 کے تحت 15 اپریل 2021ء کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کردی تھی۔[4][5][6]

مخففٹی ایل پی
صدرسعد حسین رضوی
تاسیس1 اگست 2015 (7 سال قبل) (2015-08-01)
نظریاتاسلامیت
شق 295 سی حمایت (قانون توہین رسالت)
احمدی (قادیانی) مخالفت
سیاسی حیثیتانتہائی بائیں بازو
مذہباہل سنت (خصوصاً بریلوی مکتب فکر)
سندھ اسمبلی
3 / 168
انتخابی نشان
کرین
Crane Machine Symbol.svg
ویب سائٹ
tlyp.org

بنیادترميم

اس تحریک کی بنیاد کا سبب 29 فروری 2016ء کو حکومت پاکستان کی طرف سے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی کی سزا کے بعد اگلے دن یکم مارچ کو لیاقت باغ، راولپنڈی میں ہونے والی نماز جنازہ میں کثیر عوامی اجتماع بنا۔[7] اس تحریک کا مقصد بعد ازاں موجودہ حکومت کو مشکلات میں ڈالنا اور سیاسی اسلامی خلا کو پر کرنا بھی مقصد بنا۔ مذہب کے نام پر سیاسی انتشار عام اور پھانسی کی خبر عام ہونے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا، جبکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کر کے نقض امن کے ڈر کی وجہ سے جلسے اور جلوسوں کے انعقاد پر حکومت نے فوری پابندی لگا دی تھی۔

ضمنی انتخابات 2017ءترميم

  • نواز شریف کی نااہلی پر خالی ہونے والی حلقہ این اے۔120 کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات 17 ستمبر 2017ء میں پہلی بار انتخاب لڑا اور تیسری پوزیشن لی۔[8]
  • گلزار خان کی وفات پر خالی ہونے والی حلقہ این اے۔4 کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات 2017ء میں پانچویں پوزیشن حاصل کی۔[9]

ضمنی انتخابات 2018ءترميم

جہانگیر ترین کی نااہلی پر خالی ہونے والی حلقہ این اے۔154 کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخابات 12 فروری 2018ء میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔[10][11]

تنازعاتترميم

تحریک لبیک پاکستان نے آئینی ترمیم الیکشن بل 2017 میں حلف نامہ کے الفاظ کو بدلنے کے خلاف احتجاج کیا، جس کے خلاف حکومت نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائیں۔ اس دوران میں تحریک کے سات افراد قتل اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. https://ecp.gov.یpk/P1.pdf[مردہ ربط]
  2. "تحریک لبیک پاکستان کا قیام". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2017. 
  3. https://www.bbc.com/urdu/pakistan-56686990.amp
  4. "Govt decides to ban TLP". The Express Tribune (بزبان انگریزی). 2021-04-14. اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2021. 
  5. "TLP banned: What does it mean?". www.geo.tv (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2021. 
  6. "Pakistan to ban radical Islamist party Tehreek-e-Labbaik Pakistan (TLP)". ANI News (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2021. 
  7. دی گارجین
  8. Outstanding Performance by TLP in NA-120 Third Position
  9. https://www.politicpk.com/na-4-by-election-result-2017-live-update/
  10. "NA-154 Lodhran-I By-Election 12 فروری 2018 results | Mera Watan". 16 فروری 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2018. 
  11. https://www.politicpk.com/official-result-na-154-lodhran-election-dated-12-02-2018/