تدریسی پیشے میں خواتین

خواتین تدریسی پیشے کا اہم حصہ ہیں۔ تاہم یہ حصے داری عام طور سے اسکولی سطح پر زیادہ دیکھی گئی ہے، جب کہ اعلٰی تعلیمی سطح پر نسبتًا کم ہے۔ یہ صورت حال بھی ملک در ملک مختلف ہے۔

ایک ٹیچر اپنی طالبات کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔

ابتدائی تدریسی صورت حالترميم

1995ء میں ابتدائی تعلیم میں نسوانی مدرسات کا فی صد عالمی سطح پر 57.8 % تھا، اور ذیلی صحرائے اعظم افریقا میں یہ 41.7 % تھا۔ تاہم کئی جہاں کثیر تعداد میں خواتین ابتدائی تعلیم سے جڑی ہوئی تھیں، ان کی تعلیمی انتظامات میں شراکت بہت ہی کم تھی۔ کچھ افریقی ممالک میں ابتدائی اسکولوں کے انتظام میں خواتین کی شراکت کافی زیادہ رہی ہے، یہ تناسب 77 - 80 % سوازی لینڈ میں ہے، جب کہ بوٹسوانا اور لیسوتھو میں 80 % ہے۔ میڈگاسکر، نامیبیا اور جنوبی افریقا میں ابتدائی تدریسی پیشے میں خواتین (انگریزی: Women in the teaching profession) کا فی صد کافی بڑھا ہوا ہے، جب کہ یہ اعداد و شمار بورونڈی، کینیا، مالاوی، نائجریا، تنزانیہ، زامبیا اور زمبابوے میں متوازن ہیں۔ بینین، ایتھوپیا، مالی، موزمبیق اور سینیگل میں ہر چار مدرسین میں ایک خاتون ہے۔ چاڈ اور ٹوگو میں یہ علی الترتیب 8 % اور 14 % ہے۔[1]


ثانوی تدریسی صورت حالترميم

ثانوی اسکولی تدریس کی سطح سے دنیا بھر میں عورتوں کا تناسب کم ہوتا جاتا ہے۔ یہ صورت حال جنوبی افریقا کو چھوڑ کر سبھی افریقی ملکوں میں دیکھی گئی ہے۔ ذیلی صحرائے اعظم افریقا میں ثانوی اسکولی تدریس میں خواتین کا فی صد 32.9 % ہے جب ابتدائی سطح پر یہ 41.7 % رہا ہے۔ جنوبی افریقا میں یہ فی صد 64 % ہے، جب کہ نامیبیا میں یہ فی صد 46 % اور سوازی لینڈ میں یہ 43 % ہے۔[1]

سائنسی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تدریسی صورت حالترميم

سائنسی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تدریسی صورت حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں خواتین کی شراکت اور کم ہو جاتی ہے۔ ایک جائزے کے مطابق 1990ء سے لے کر 1993ء کے بیچ زمبابوے میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تدریسی عملے میں 39 % کا اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم اس اضافے میں مردانہ عملے کا اضافہ 40 % رہا، جب کہ خواتین بھرتیوں کی شرح میں اضافہ صرف 11 % رہا۔[1]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم