تسلیم عارف
تسلیم عارف عباسی(پیدائش: یکم مئی 1954ء) | (وفات: 13 مارچ 2008ء) پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹ وکٹ کیپر کھلاڑی .جنھوں نے 6 ٹیسٹ اور 2 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ تسلیم عارف نے پاکستان کے علاوہ کراچی' نیشنل بینک آف پاکستان اور سندھ کی طرف سے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ ان کے ایک بھتیجے سید محمد علی نے 90 فرسٹ کلاس میچ جبکہ ایک اور بھتیجے وسیم عارف نے 100 فرسٹ کلاس میچ کھیل رکھے ہیں۔
فائل:Tasleem Aerif.jpeg | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ذاتی معلومات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
مکمل نام | تسلیم عارف عباسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیدائش | 1 مئی 1954 پیرالٰہی بخش کالونی, کراچی, سندھ, پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفات | 14 مارچ 2008 کراچی, پاکستان | (عمر 53 سال)|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلے بازی | دائیں ہاتھ کا بلے باز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیند بازی | دائیں ہاتھ کا میڈیم پیس گیند باز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیثیت | وکٹ کیپر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی کرکٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی ٹیم |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلا ٹیسٹ (کیپ 82) | 29 جنوری 1980 بمقابلہ بھارت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آخری ٹیسٹ | 8 دسمبر 1980 بمقابلہ ویسٹ انڈیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلا ایک روزہ (کیپ 31) | 21 نومبر 1980 بمقابلہ ویسٹ انڈیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آخری ایک روزہ | 19 دسمبر 1980 بمقابلہ ویسٹ انڈیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملکی کرکٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عرصہ | ٹیمیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1967/68–1989/90 | کراچی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1967/68–1989/90 | این بی پی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیریئر اعداد و شمار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو، 6 جنوری 2008 |
اعداد و شمار
ترمیمتسلیم عارف نے 6 ٹیسٹ میچو ں کی 10 اننگز میں دو بار ناٹ آئوٹ رہ کر 501 رنز بنائے۔ فیصل آباد میں آسٹریلیا کے خلاف ناقابل شکست رہتے ہوئے 210 رنز ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ اسی اننگ میں ان کی اوسط کو 62.62 تک پہنچا دیا جو ایک حیرت انگیز بیٹنگ اوسط کہی جا سکتی ہے۔ ایک اور اہم بات ان کے ریکارڈ کا حصہ ہے ان کے ٹیسٹ میں یہی ایک سنچری شامل ہے جبکہ 2 نصف سنچریاں بھی انھوں نے سکور کی تھیں۔ وکٹوں کے پیچھے 6 کیچ اور 3 سٹمپ بھی ان کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔ 2 ایک روزہ میچوں کی 2 اننگز میں 24 کے زیادہ سے زیادہ سکور کے ساتھ 28 رنز سکور کیے۔ جبکہ 148 فرسٹ کلاس میچوں میں 251 اننگز کھیل کر 26 میں ناٹ آئوٹ رہ کر 7568 رنز 33.63 کی اوسط سے بنائے۔ جس میں 13 سنچریاں اور 40 نصف سنچریاں بھی شامل تھی۔ وکٹوں کے پیچھے 312 کیچز اور 56 سٹمنپ ان کی چابکدستی کو بیان کعر رہے تھے تسسیم عارف نے ٹیسٹ میچوں میں ایک اور فرسٹ کلاس میچوں میں 7 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ ک بعد انھوں نے بھی امپائرنگ کو اپنا اگلا پروفیشن چنا جس میں انھوں نے 31 فرسٹ کلاس اور 8 ٹی ٹونٹی فرسٹ کلاس میچوں کو بطور امپائر سپروائز کیا[1]
ٹیسٹ کیرئیر
ترمیمتسلیم عارف نے 80-1979ء میں بھارت کے خلاف کولکتہ ٹیسٹ میں بیٹسمین کی حیثیت سے ٹیسٹ کیپ حاصل کی اور دونوں اننگز میں نوے اور چھیالیس رنز سکور کیے لیکن پھر انھوں نے وکٹ کیپنگ گلؤز بھی سنبھالے تاہم اس دور میں وسیم باری کی شکل میں سخت چیلنج سامنے ہونے کے سبب وہ زیادہ عرصہ انٹرنیشنل کرکٹ نہ کھیل سکے۔
بہترین کارکردگی
ترمیمتسلیم عارف کی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے یادگار پرفارمنس80-1979ء میں آسٹریلیا کے خلاف فیصل آباد میں ڈبل سنچری تھی جو ایک طویل عرصے تک کسی بھی وکٹ کیپر کی سب سے بہترین کارکردگی کے طور پر ریکارڈ بک میں درج رہی۔ یہ وہی اننگز تھی جس میں انھوں نے ڈینس للی کی بولنگ کے خلاف انتہائی جارحانہ انداز اختیار کیا تھا۔
شخصیت
ترمیمتسلیم عارف دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔ پاکستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں ان کے گانے ساتھی کھلاڑیوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا سبب بنتے تھے۔ ان کے ہم عصر ہارون رشید اور جاوید میانداد ان کے دلچسپ واقعات اکثر محفلوں میں سناتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تسلیم عارف ایک ہنس مکھ زندہ دل شخص تھے۔ کچھ عرصہ وہ تبلیغی سرگرمیوں میں بھی مصروف رہے۔
کرکٹ سے وابستگی برقرار رہی
ترمیمکرکٹ کھلاڑی کی حیثیث سے میدان چھوڑنے کے باوجود کرکٹ سے ان کا تعلق آخر وقت تک برقرار رہا۔ انھوں نے مستقل کمنٹری کو اپنالیا۔ اس کے علاوہ ڈومیسٹک کرکٹ میں وہ میچ ریفری کی حیثیت سے ذمہ داری نبھاتے نظرآئے اور جونیئر سلیکشن کمیٹی میں بھی شامل رہے۔
انتقال
ترمیمتسلیم عارف عباسی 13 مارچ 2008ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ اس وقت ان کی عمر محض 53 سال 317 دن تھی۔