تنولی

تنولی قوم کی تاریخ

تنولی (تنول، تانی، تنئ، تنیوال، تنوخیل) پاکستان کی شمال مغربی سرحد پر اور افغانستان میں غزنی اور صوبہ پکتیا میں آباد ہیں تنولی(تنوخیل) پٹھان قوم کی شاخ بٹانی گروپ کے غلجی قبیلے کی ایک شاخ کا نام ہے۔ تنولی پاکستان اور افغانستان میں بسنے والی ایک عظیم قوم ہے جو سو فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے تنولی بہت جنگجو اور جفاکش ہیں افغانستان سے ہجرت کرکے سوات ، چملہ اور بنیر کے مقام پر آباد ہوئے۔ یوسفزئ قبیلہ کے ساتھ جنگ کے دوران تنولی قوم کے خان "خان امیر محمد خان" شہید ہوئے اس کے بعد اس قوم نے دریائے سندھ کے پار علاقہ مہابن و ابسین میں پڑائو ڈالا اور اس علاقے کا نام اپنی قوم کے نام پر تنولی رکھا۔

تنولی قوم اور ہندکو زبانترميم

جب تنولی قوم سوات پر حکمرانی کے بعد ہزارہ پر حملہ آور ہوئی تو انہوں نے ساتھ ہی یہاں کی مقامی زبان جو ہندکو تھی اس کو اپنایا۔ اور جو تنولی خاندان صوابی ' مردان ' بونیر میں رہ گئے وہ آج بھی اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پشتو زبان ہی بولتے ہیں۔


تنولی قوم کی تاریخترميم

تنولی پشتون قبیلے بٹانی کی شاخ ہیں ۔ جو کے افغانستان سے ہجرت کر کے غوری خلجی شہابالدین غوری جبکہ چند روایات کے مطابق سلطان سبکتگین کے ساتھ جہاد کی غرض سے ٣٨٨ھ بمطابق ٩٧١ء کو افغانستان کے درہ تانال یا توتم جو غزنی اور کابل کے مابین ہے ۔برصغیر کی سرزمین پر کئی صدیوں پہلے آئے۔ سوات ،بونیر اور چملہ وغیرہ میں آباد ہوئے۔پھر جب یوسف زئی قبیلہ سوات پر حملہ آور ہوا تو تنولی قوم نے ہجرت کر کے علاقہ مہابن میں پڑاؤ ڈالا اور اپنی قوم کے نام پر اس علاقے کا نام تناول رکھ دیا۔تنولی قوم کی یہاں آنے سے پہلے یہاں اکثریت غیر مسلم ترکوں کی تھی تنولیوں نے علاقہ تناول ترکوں سے بزور شمشیر چھینا۔ جس کو بعد میں ریاست امب کا نام دیا گیا۔سارے پٹھان قبیلوں میں سے کچھ قبیلے ایسے ہیں جو بہت جنگجو اور جفاکش ہیں ان میں تنولیوں کا نام سر فہرست ہے۔ تنولی قبیلہ کے لوگوں نے یہاں ٦٨ پشتوں تک نوابی بادشاہی کی اور 28 جولائی 1969 کو پاکستان سے الحاق کیا۔ آج بھی اس علاقے میں تنولی کثیر تعداد سے رہتے ہیں۔

پاکستان کے وہ علاقے جہاں تنولی آباد ہیںترميم

افغانستان کے وہ علاقے جہاں تنولی/تنو خیل آباد ہیںترميم

افغانستان میں تنولی قوم تنوخیل نام سے جانی جاتی ہے ۔ تنولی افغانستان کے صوبہ غزنی، صوبہ پکتیا اور صوبہ لوگر میں کثیر تعداد میں آباد ہیں ۔

قوم تنولی کے تپےترميم

قوم تنولی اس وقت دو تپوں میں تقسیم ہے ۔

پلال خیل:

تنولی قوم کی جو شاخیں پال خان کی اولاد ہیں وہ پلال خیل تپہ میں آتی ہیں ۔

ہندوال خیل :

تنولی قوم کی جو شاخیں ہند خان کی اولاد ہیں وہ ہندوال خیل میں آتی ہیں ۔

تنولی قوم کی شاخیں /خیلترميم

قوم تنولی کی شاخیں یا پھر خیلوں کے آخر میں لفظ 'ل'اور 'ی' واضح طور پر ملے گا۔

  • یروال خیل
  • متیال خیل
  • چھریال خیل
  • جامال خیل
  • نواب خیل
  • مرسیال خیل
  • پکھرال خیل
  • لبہال /لبیال
  • لدھیال خیل / لادی خیل
  • نوراللہ خانی
  • ابدوال خیل
  • اسوال خیل
  • لکھوال خیل
  • مرجال خیل
  • ملوال خیل
  • بھوجال خیل / بھوج خیل
  • سفال خیل
  • جودال خیل
  • حسن زئی
  • زئیسنال خیل
  • حبیبال خیل / حبیب خیل
  • میرال خیل
  • خوشحال خیل
  • نیتال خیل
  • پائندہ خیل
  • بدھرال خیل
  • خان خیل
  • کگرال/کرگوال
  • سریال خیل
  • دولت زئی
  • حبیبال/حبیب خیل
  • پجھال خیل
  • تنی خیل
  • سرگنال
  • لالال/لال خیل
  • حیدرال/حیدر خیل
  • جہانگیر خیل
  • ہستال خیل
  • شیرخانی
  • بےزال خیل
  • جلوال خیل
  • الوال خیل
  • میردادخیل
  • کلوال خیل
  • بوہال خیل
  • بگیال خیل /بیگال خیل
  • بینکریال خیل / بینکر خیل
  • چمیال خیل
  • ٹیکرال/ٹھکرال خیک
  • ان سال خیل
  • صوبہ خانی
  • ڈیرال خیل
  • بہادر خیل
  • سدہال/سدیال
  • جدہال/جدیال
  • شمس اللہ خانی
  • بھائی خیل /پائندہ خیل

حوالہ جاتترميم