پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنس دان جو پاکستان جوہری توانائی کمیشن کے رکن رہے۔ 1998 میں چاغی کے مقام پر پاکستان کے پہلے جوہری بم کے دھماکوں کی آزمائش کرنے والے عملہ کے سربراہ کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند 1941 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے, انھیں دوران تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کی شاگردی کا اعزاز حاصل ہوا۔

ثمر مبارک مند
Dr-Samar-251x300.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 17 ستمبر 1942 (79 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
راولپنڈی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش اسلام آباد  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اوکسفرڈ
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
سینٹ انتھونی ہائی اسکول  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری مشیر ڈینس ویلکنسن  ویکی ڈیٹا پر (P184) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ طبیعیات دان،  انجینئر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل نویاتی طبیعیات  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت پاکستان جوہری توانائی کمیشن  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
فیلو پاکستان سائنس اکادمی  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ڈاکٹر ثمر مبارک نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے نیوکلیئر فزکس میں پی ایچ ڈی کیا اور وطن واپس لوٹ کر پی اے ای سی میں شمولیت اختیار کی, اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی سے بھی وابستہ رہے۔

انہوں نے پاکستان کے میزائل پروگرام میں بھی ایک مؤثر کردار ادا کیا, ان کا سب سے بڑا کارنامہ ’نیس کوم‘ نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن کا قیام ہے، جس نے پاکستان ڈیفنس اور میزائل پروگرام کے خدوخال تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ایٹمی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے انھیں ڈاکٹر منیر احمد خان نے فاسٹ نیوٹران فزیکل گروپ کا پہلا ڈائریکٹر مقرر کیا، ڈاکٹر ثمر مبارک نے 1998 کے ایٹمی دھماکے کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور کافی عرصے چاغی میں مقیم رہ کر ٹنل کی کھدائی کی ازخود نگرانی کی۔

وہ چاغی ون دھماکا کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ تھے، جب کہ چاغی ٹو کی سربراہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کی، وہ تھرکول مائننگ پراجیکٹ سے بھی وابستہ رہے، ڈاکٹر ثمر کی گراں قدر خدمات کے بدلے میں حکومت پاکستان نے انہیں نشان امتیاز، ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا۔[1]

حوالہ جاتترميم