حبیب ولی محمد

حبیب ولی محمد قدامت پسند کاروباری میمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ چہوٹی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے ممبئی میں آباد ہو گئے۔ ان تعلق " تابانی" خاندان سے تھا۔ انھیں بچپن میں قوالی سنے کا شوق تھا۔ حبیب ولی محمد نے ممبئی کے اسلامیہ یوسف کالج سے " تان سین" کے نام سے گلوکاری کا آغاز کیا۔ انہوں نے ممبئی سے گریجیوشن کیا۔ تقسیم ہند کے دس سال بعد وہ کراچی آگئے۔ ان کے خاندان نے " شالیمار سلک ملز" کے نام سے کپڑے کا ایک بڑا کارخانہ کہولا۔ ان کے بڑے بھائی اشرف تابانی 1988 میں سندہ کے گورنر رہے۔ ان کو بہادر شاہ طفر کی غزل۔۔ " لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں"۔۔گا کر بڑی شہرت ملی۔ ہندوستاں کی فلمی اداکارہ ان کی غزلوں کی دیوانی تھیں۔ پاکستان آکر وہ کاروبار میں مصروف ہو گئے۔ لیکن فارغ اوقات میں گلوکاری کا مشغلہ جاری رکھا ۔ ریڈیو، ٹیلی وژن اور اسٹیج پر گاتے رہے۔ انکی موت لاس انجلیس ، کیلے فورنیا، امریکہ میں ہوئی۔ وہاں وہ اپنی اہلیہ ریحانہ، دو بیٹوں ریحان اور ندیم کے ساتھ قیام پزیر تہے۔ ان کا ایک بیٹا انور تابانی ، ایڈیسن، نیو جرسی ، امریکہ میں رھتے ہیں انکی ایک بیٹی رخسانہ کراچی مین سکونت پزیر ہیں۔ ان کی چند معروف غزلیں اور گیت یہ ہیں :

  • اے نگار وطن تو سلامت رہے
  • کیا کہ گئی کسی کی نظر، نہ پوچھیے (اختر شیرانی)
  • آشیان جل گیا گلستاں جل گیا( فلم بازی۔ شاعر راز مراد آبادی)
  • آج جانے کی ضد نہ کرو (فلم، بادل و بجلی)
  • جب میرا نشیمن اہل چمن ( قمر جلالوی)
  • مرنے کی دعائین کیوں مانگو، جینے کی تمنا کون کرے ( فلم چاند اور سورج، شاعر معین احسن جذبی)
حبیب ولی محمد
مقامی نام حبیب ولی محمد
پیدائش 16 جنوری 1921ء
رنگون، برما، برٹش راج
وفات 4 ستمبر 2014ء (عمر: 93 سال)
لاس اینجلس، کیلیفورنیا، ریاستہائے متحدہ
اصناف غزل
پیشے گلوکار، تاجر
ادوات ہارمونیم
سالہائے فعالیت 1934ء – 2014ء