ان کا نام حسن بن زیاد لؤلؤی کوفی ہے امام ابو حنیفہ کے شاگرد خاص تھے اوران کا شمار مذہب احناف میں اصحاب المذہب میں ہوتا ہے۔
ان فقہائے حنفیہ میں سے ہیں جو آراء امام ابو حنیفہ کے راوی ہیں۔ امام حسن بن زیاد لؤلؤ (موتی) کی تجارت کرتے تھے اس لیے لؤلؤی (موتی والا) کی نسبت مشہور ہو گئی۔ اہل کوفہ میں سے تھے بعد میں بغداد آکر آباد ہو گئے،امام ابو یوسف اور بغداد کے بڑے علما سے علم حاصل کیا ان میں محمد بن شجاع الثلجی اور شعيب بن ايوب الصريفينی بھی شامل ہیں، حدیث رسولﷺ سے اخذ و استنباط کرنے کی طرف زیادہ رحجان رکھتے تھے سوال قائم کرنے اور جزئیات سے استنباط کرنے پر بہت ملکہ حاصل تھا حفص بن غياث کے بعدکچھ عرصہ کوفہ کے قاضی بھی بنے بعد میں استعفادے دیا

حسن بن زیاد
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 734ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 814ء (79–80 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت امویہ
دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہی مسلک حنفی
عملی زندگی
استاذ ابو حنیفہ  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

تصنیفات ترمیم

ابن الندیم اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں "طحاوی فرماتے ہیں کہ حسن بن زیاد امام ابو حنیفہ کی کتاب المجرد کے راوی ہیں نیز ان کی تصنیفات میں یہ مشہور ہیں

انصاف یہ ہے کہ امام صاحب کے بعض شاگرد اس رتبہ کے عالم تھے کہ اگر امام ابو حنیفہ کی تبعیت سے الگ ہو کر مستقل اجتہاد کا دعویٰ کرتے تو ان کا جدا طریقہ قائم ہو جاتا اور امام مالک و شافعی کی طرح ان کے بھی ہزاروں لاکھوں مقلد ہو جاتے۔ لوگ کثرت سے آپ کی فقہ کے ثنا خواں تھے۔ یحیٰ بن آدم کا قول ہے "میں نے حسن بن زیاد سے بڑھ کر فقیہ نہیں دیکھا۔<"ref>http://www.urdulibrary.org/books/39-abu-haneefaآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ urdulibrary.org (Error: unknown archive URL)</ref>

وفات ترمیم

ان کی وفات 204ھ بمطابق 819ء میں ہوئی، اسی سال امام شافعی بھی فوت ہوئے۔

حوالہ جات ترمیم

  1. الجواہر المضیہ فی طبقات الحنفیہ مؤلف: عبد القادر بن محمد بن نصر الله القرشی، ناشر: مير محمد كتب خانہ كراچی
  2. موسوعہ فقہیہ ،جلد اول صفحہ 458، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا