آپ کی پیدائش 98ھ میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام زید بن درہم تھا۔ آپ کی کنیت ابو اسماعیل تھی اور آپ بصری تھے۔ آپ کی وفات 179ھ میں ہوئی۔[1]اس نام کے دو بزرگ اس عہد میں مشہور ہوئے اور دونوں کی امامت فی الحدیث اورجلالتِ شان پر علما کا اتفاق ہے،حماد بن زید حصول علم کے بعد دولت بینائی سے محروم بھی ہو گئے تھے، اس کے باوجود انھوں نے وہ مقام پیدا کیا تھا کہ بڑے بڑے ائمہ حدیث ان سے استفادہ کو باعثِ فخر جانتے تھے۔

حماد بن زید
معلومات شخصیت
رہائش بصرہ   ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ مالک بن انس   ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص علی بن مدینی   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسب

ترمیم

حمادنام اور ابو اسمعیل کنیت تھی،والد کا نام زید تھا[2] جریر بن حازم کے خاندان کے غلام تھے، ان کے دادا درہم سجستان کی جنگ میں گرفتار کرکے غلام بنالئے گئے تھے۔

ولادت

ترمیم

ان کی ولادت اپنے وطن بصرہ میں 98ھ میں ہوئی۔

شیوخ

ترمیم

حماد بن زید نے جن علمی سرچشموں سے استفادہ کیا،ان میں سے چند ممتاز اسمائے گرامی یہ ہیں۔ انس بن سیرینؓ، ابو عمران الجونی ثابت البنانی،عبد العزیز ین صہیب،عاصم الاحول محمد بن زیاد القرشی،سلمہ بن دینار،صالح بن کیسان،عمرو بن دینار، ہشام بن عروہ اور عبید اللہ بن عمر [3]

تلامذہ

ترمیم

حماد بن زید کے منبع فیض سے جو تشنگانِ علم سیراب ہوئے اس میں جلیل القدر اتباع تابعین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے کچھ ممتاز نام درجِ ذیل ہیں: عبد الرحمٰن بن مہدی، علی بن مدینی [4]عبداللہ بن مبارک،ابنِ وہب،یحییٰ بن سعید القطان،سفیان بن عیینہ،سفیان ثوری،مسلم بن ابراہیم،مسذر،سلیمان بن حرب ،عمرو بن عوف،ابوالاشعث احمد بن المقدام۔ [5]

علم و فضل

ترمیم

حماد بن زید کو مشہور تابعی ایوب سختیانی کی خدمت میں بیس سال تک رہنے کی سعادت نصیب ہوئی،[6]یحییٰ کہتے ہیں کہ اس طویل مدت میں سوائے حماد کے ایوب سختیانی کا کوئی اور شاگرد حدیثوں کی کتابت نہیں کرتا تھا،ابن خثیمہ کابیان ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر سے دریافت کیا،کیا حماد لکھنا بھی جانتے تھے؟فرمایا: انا رایتہ واتیتہ یوم مطر فرایتہ یکتب ثم ینفخ فیہ لیجفہ [7]ایک مرتبہ بارش کے دن میں حماد کے پاس آیا تو میں نے خود دیکھا کہ وہ لکھتے جاتے تھے اور پھر پھونک مار کر اس کو خشک کرتے تھے: اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابتدا سے نابینا نہیں تھے؛بلکہ ان کی بینائی ایک عمر کے بعدجاتی رہی تھی،مگر انھوں نے اپنی نابینائی کا اثر اپنے علم و فضل پر نہیں ہونے دیا،بعض لوگ ان کی نابینائی کی وجہ سے ان کے حفظ وثقاہت پر کلام کرتے ہیں،مگر حافظ ذہبی جیسے مستندمحقق نے انھیں "الامام الحافظ المجود شیخ العراق" کے الفاظ سے ذکر کیا ہے[8] علامہ نووی لکھتے ہیں کہ وہ امام عالی مقام ہیں جن کی جلالتِ شان اوربلندی مرتبت پر سب کا اتفاق ہے[9] علامہ ابن سعد فرماتے ہیں کہ حماد ثقہ قابلِ اعتماد،برہانِ حق اور کثیرالحدیث تھے۔ [10]

ائمہ علم کا اعتراف

ترمیم

تمام معاصرائمہ حدیث نے ان کے فضل وکمال کا اعتراف کیا ہے،ابن مہدی کا بیان ہے کہ اپنے اپنے زمانہ کے ائمہ چار ہیں کوفہ میں ثوری،حجاز میں مالک، شام میں اوزاعی اور بصرہ میں حماد بن زید[11]یحییٰ بن یحیی ٰکہتے ہیں کہ میں نے حماد سے زیادہ حافظِ روایت کسی کو نہیں دیکھا[12]فطر بن حماد بیان کرتے ہیں کہ میں امام مالک کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے اہلِ بصرہ میں صرف حماد بن زید کو دریافت کیا[13]ابنِ معین کا قول ہے کہ اتقان فی الحدیث میں حماد بن زید کے مرتبہ کا کوئی نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل ان کا ذکر بہت ہی عظمت اور عزت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے؛چنانچہ امام موصوف ہی کے الفاظ ہیں کہ: ھو من ائمۃ المسلمین من اھل الدین ھواحب الیَّ من حماد بن سلمہ [14]وہ مسلمانوں کے امام اوربڑے دیندار ہیں اور وہ مجھے حماد بن سلمہ سے بھی زیادہ پسند اورمحبوب ہیں۔ ابن مہدی کا ایک دوسرا قول ہے کہ میں نے حماد سے بڑا عالم سنت کسی کو نہیں دیکھا اور نہ علم میں حماد،مالک اورسفیان سے افضل واعلیٰ کسی کو پایا،ایک روایت میں ابن مہدی کے الفاظ اس طرح نقل کیے گئے ہیں کہ میں نے حماد سے بڑا کوئی عالم دیکھا ہی نہیں،یہاں تک کہ سفیان اور مالک کو بھی حماد سے بڑا عالم نہیں پایا۔ ابوعاصم بیان کرتے ہیں کہ حماد بن زید کی حیات میں ان کی سیرت واخلاق کے لحاظ سے دنیا میں ان کا کوئی مثل موجود نہ تھا [15]محمد بن مصطفیٰ کا بیان ہے کہ انھوں نے بقیہ کو کہتے ہوئے سنا: مارایت فی العراق مثل حماد بن زید [16]میں نے عراق میں حماد بن زید،جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔ وکیع بن جراح کہتے تھے کہ ہم لوگ علم و فضل میں حماد کو مسعر بن کدام سے تشبیہ [17]دیا کرتے تھے،عبد اللہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ہم نے حماد بن زید سے بھی حدیثیں سنی ہیں اور حماد بن سلمہ سے بھی، لیکن دونوں میں وہی فرق ہے جو دینار اور درہم میں ہوتا ہے۔ [18]

حافظہ

ترمیم

قوتِ حافظہ کے لحاظ سے بھی حماد بن زید معاصرائمہ و علما میں خصوصی امتیاز رکھتے تھے،عجلی کہتے ہیں کہ حماد بن زید کو چار ہزار حدیثیں زبانی یاد تھیں اور ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی [19] ابن عیینہ کا بیان ہے کہ سفیان ثوری کو اکثر میں نے ان کے سامنے دو زانو بیٹھے دیکھا ہے۔ [20]

احتیاط

ترمیم

بایں ہمہ علم و فضل حماد بن زید روایتِ حدیث میں بہت احتیاط برتتے تھے یعقوب بن شیبہ کا بیان ہے کہ حماد بن زید،حماد بن سلمہ اور دوسرے بہت سے ائمہ ثقات سے زیادہ قابل وثوق ہیں،مگران میں کمزوری یہ تھی کہ وہ اسانید کو مختصر کر دیتے تھے اور کبھی مرفوع کو موقوف بنادیتے تھے،وہ غایتِ احتیاط کی بنا پر بڑے شکی ہو گئے تھے،بڑے عظیم المرتبت تھے، ان کے پاس کوئی کتاب نہیں تھی جس کی طرف وہ رجوع کرسکتے،اس وجہ سے کہیں وہ مرفوع حدیث کو موقوف بیان کرتے اور کبھی واقعی مرفوع حدیث بیان کرتے وقت بھی خوف سے لرزاں رہتے تھے۔ [21]

جن سے آپ نے حدیث روایت کی

ترمیم

انھوں نے ابان بن تغلب، انس بن سیرین، ایوب سختیانی، حمید الطویل، خالد الحذاء، داود بن ابو ہند، زید بن درہم (والد)، سعید بن یزید ابو مسلمہ، سلمہ بن دینار، صالح بن کیسان، عاصم بن بہدلہ، عاصم الاحول، عبد اللہ بن طاووس، عبد اللہ بن عون، عبد العزیز بن صہیب، عبید اللہ بن عمر، عطاء بن سائب، عمرو بن دینار مکی، غیلان بن جریر، مطر الوراق، منصور بن معتمر، ہشام بن حسان، ہشام بن عروہ، جریر بن حازم اور یونس بن عبید وغیرہ سے روایت کی ہے ۔

فہم و دانش

ترمیم

دنیوی امور میں بہت سوجھ بوجھ رکھتے تھے،خالدبن فراش کا بیان ہے کہ حماد بن زید عقلائے روزگار اور دانشورانِ زمن میں سے تھے[22]ابن الطباع کا قول ہے کہ میں نے حماد بن زید سے بڑا عقلمند کوئی نہیں دیکھا۔ [23]

جنھوں نے آپ سے حدیث روایت کی

ترمیم

جبکہ آپ سے احمد بن ابراہیم موصلی، اسحاق بن ابو اسرائیل، حجاج بن منہال، حماد بن اسامہ، روح بن عبادہ، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، سعید بن منصور، عبداللہ بن مبارک، عفان بن مسلم، علی بن مدینی، مسدد بن مسرہد، وکیع بن جراح، وہب بن جریر، یحییٰ بن سعید القطان، یزید بن ہارون اور یونس بن محمد مؤدب نے روایت کی ہے ۔

حماد بن زید حدیث کے ساتھ فقہ میں بھی بلند وممتاز مقام رکھتے تھے،ابواُسامہ کہا کرتے تھے۔ کنت اذا رایت حماد بن زید قلت ادبہ کسریٰ وفقھہ عمر ؓ [24] تم جب حماد کو دیکھو گے تو کہوگے کہ ان کو کسریٰ نے ادب اور حضرت عمر ؓ نے فقہ سکھایا ہے۔ ابن مہدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے بصرہ میں حماد بن زید سے بڑا فقیہ کوئی نہیں دیکھا۔ [25]

حدیث میں رتبہ

ترمیم

آپ سے حدیث کے چھ بڑے اماموں نے روایت کی ہے۔

ابن سعد نے آپ کو بصرہ کے چھٹے طبقے میں ذکر کیا ہے۔ ثقہ ثبت حجت کثیر الحدیث، عثمانی تھے۔[26]

عبد الرحمان بن مہدی: اپنے زمانے کے اماموں سے ایک تھے۔

یحییٰ بن معین: ثقہ ثبت، عبد الوارث، ابن علیہ، عبد الوہاب اور ابن عیینہ کی حدیث میں ثبت ہیں۔ ایوب کی حدیث میں حماد سے ثبت کوئی نہیں۔[27]

عجلی: ثقہ[28]

٭ابو زرعہ رازی: حماد بن زید، حماد بن سلمہ سے زیاد ہ ثبت  ہیں۔[29]

٭ابن حبان: ثقہ[30]

٭ذہبی: حافظ[31]

٭ابن حجر: آٹھویں طبقہ کے کبار راویوں میں سے ثقہ ثبت فقیہ راوی ہے۔[32]

وفات

ترمیم

رمضان 179ھ میں بصرہ میں علم و فضل کی یہ شمعِ فروزاں گُل ہو گئی۔ [33]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تہذیب الکمال 7/239ح1481، سير أعلام النبلا: 7 / 456
  2. (العبر فی خبر من غبر:1/274)
  3. (العبرفی خبر من غبر:1/274)
  4. (تہذیب التہذیب:3/9)
  5. (تذکرۃ الحفاظ:1/202)
  6. (تہذیب التہذیب:3/9)
  7. (تہذیب الاسماء:1/167)
  8. (تذکرۃ الحفاظ:1/206)
  9. (تہذیب الاسماء واللغات:1/167)
  10. (تہذیب التہذیب:3/10)
  11. (تہذیب التہذیب:3/10)
  12. (العبر:1/274)
  13. (تہذیب التہذیب:3/10)
  14. (تذکرۃ الحفاظ:1/206)
  15. (تہذیب التہذیب:3/10)
  16. (ایضاً)
  17. (تذکرۃ الحفاظ:1/207)
  18. (تہذیب التہذیب:3/11)
  19. (تذکرۃ الحفاظ:1/207)
  20. (تہذیب التہذیب:3/10)
  21. (تہذیب التہذیب:3/11)
  22. (تذکرۃ الحفاظ:1/206)
  23. (ایضاً)
  24. (تذکرۃ الحفاظ:1/207)
  25. (تہذیب التہذیب:3/10)
  26. طبقات ابن سعد: 7 / 205،
  27. وتاريخ الدارمي، رقم 60، 61، 68، 945،
  28. ثقات العجلي ص 319ح353
  29. الجرح والتعديل: 3 / 137ح 617
  30. ثقات ابن حبان 6/217
  31. تهذيب التهذيب 3/9ح1498، والكاشف 1/349ح1219
  32. تقریب 1/507ح1506(اردو1/210ح1498)
  33. (العبر فی خبر من غبر:1/274)