عبد اللہ ابن مبارک

عبد اللہ ابن مبارک (پیدائش 736ء— وفات: نومبر 797ء) اُمت مسلمہ کے امام، مجاہدین کے سردارزاہد اور محدث ایک یکتائے زمانہ ہستی تھے۔

عبد اللہ ابن مبارک
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 736[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرو  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 نومبر 797 (60–61 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہیت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد ابو حنیفہ،  عبد الرحمٰن اوزاعی،  شعبہ بن حجاج،  ہشام بن عروہ،  سلیمان بن مہران الاعمش،  سفیان ثوری  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد یحییٰ بن معین،  ابن ابی شیبہ،  ابو داؤد  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مؤرخ،  فقیہ،  محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تاریخ،  فقہ،  علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

نام:عبد اللہ، والد کا نام: ابن مبارک تھا، ان کے والد دراصل ترکی النسل تھے ابن مبارک اور عبد اللہ بن مبارک سے شہرت رکھتے ہیں۔

ولادتترميم

118ھ میں ابن مبارک کی پیدائش ہوئی ،اصلی وطن مرو ہے اس وجہ سے ان کو مروزی کہتے ہیں۔ مرو خراسان میں مسلمانوں کا بہت پرانا شہر ہے۔[4]

بحیثیت محدثترميم

محدثین انکو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے پکارتے ہیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ان کی روایت سے سینکڑوں حدیثیں مروی ہیں۔
ابنِ مبارک گھر میں زیادہ رہتے تھے، لوگوں نے پوچھا کیا تمہیں گھر میں وحشت نہیں ہوتی؟ جواباً کہنے لگے کہ مجھے وحشت کیسے ہوگی کہ میں آپ ﷺکے اقوال کے ساتھ رہا کرتا ہوں۔ ابنِ مبارک کی حالت بیان کرتے ہوئے نعیم ابنِ حماد کہتے ہیں کہ ابنِ مبارک جب کتاب الرقاق پڑھتے تو نہایت آبدیدہ ہوجاتے، کوئی ان سے اس دوران سوال کرنے یا ان کے قریب جانے کی ہمت نہیں کرتا ۔[5]

اکابرکے ہاں مقامترميم

سفیان ابن عیینہ مشہور محدث ہیں، انہوں نے ابن مبارک کی کچھ یوں تعریف کی :میں نے ابن مبارک کے حالا ت پر غور کیا ،اور صحابہٴ کرام کے حالات پر غور کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابن مبارک میں آپ کی صحبت ومعیت کے علاوہ تمام فضائل موجو د ہیں، صحابہٴ کرام آپ کی صحبت کی برکت سے اعلیٰ وبلند ہیں۔ ابنِ مبارک کی طرز ِزندگی دیکھ کر سفیان ابنِ عیینہ کہتے تھے کہ میری زندگی کا کم از کم ایک سال ابنِ مبارک کی طرح گذر جائے؛ حالانکہ تین دن بھی ایسے نہیں گزرسکتے ۔[4]

امام ابو حنیفہ کے شاگردترميم

ابن مبارک، امام ابو حنیفہ کے مشہور شاگردوں میں سے تھے اور ابو حنیفہ کے ساتھ ان کا خاص خلوص تھا۔ ان کو اعتراف تھا کہ جو کچھ مجھ کو حاصل ہوا وہ امام ابو حنیفہ اور سفیان ثوری کے فیض سے حاصل ہوا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "اگر اللہ نے ابو حنیفہ و سفیان ثوری کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کی ہوتی تو میں ایک عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا۔"

تصنیفاتترميم

  • الزهدوالرقائق
  • الجهاد
  • البر والصلۃ

وفاتترميم

عبد اللہ ابن مبارک کی 181ھ میں بمقام ہیت وفات ہوئی، کل عمر 63 سال تھی

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119312034 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/5288 — بنام: عبد الله بن المبارك ابن المبارك، 736‒797
  3. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 6 مارچ 2020
  4. ^ ا ب البدایہ والنہایہ ،ابن کثیر10/191
  5. صفۃ الصفوة،ابن جوزی2/325