خسرو ملک غزنوی ابن خسرو شاہ غزنوی (وفات: 1186ء) سلطنت غزنویہ کا اٹھارہواں اور آخری حکمران تھا جس نے 1160ء سے 1186ء تک حکومت کی۔ خسرو نے لاہور کو اپنا دار السلطنت بنایا اور عدل و اِنصاف سے حکومت کی۔ حکومت کو بہت طاقتور اور پائیدار بنایا۔ ابراہیم غزنوی اور سلطان بہرام شاہ غزنوی کے فتح کیے ہوئے ایسے ہندوستانی علاقے جو سلطنت غزنویہ کے اِقتدار سے نکل چکے تھے، دوبارہ اپنے مملکت میں شامل کیے۔

خسرو ملک غزنوی
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1160  – 1186 
خسرو شاہ غزنوی  
 
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 12ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1191ء (89–90 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صوبہ غور   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد خسرو شاہ غزنوی   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عہد حکومت

ترمیم

1161ء/1162ء میں غز ترکوں نے غزنی پر لشکرکشی کی جس سے خسرو ملک اپنے والد کی طرح لاہور میں اقامت اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔ قیام لاہور کے دوران وہ شمالی ہندوستان میں اپنی حکومت کو قائم کیے رکھا، سوائے شمالی کشمیر کے علاقوں کے کہ جہاں اُس کی حکومت نہیں تھی۔

شہاب الدین غوری کا لاہور پر پہلا حملہ

ترمیم

1178ء میں غوری سلطنت کے حکمران شہاب الدین غوری نے شمالی ہندوستان پر لشکرکشی کی۔ شہاب الدین غوری نے صرف غزنی پر قبضہ کرنے پر اِکتفاء نہ کیا بلکہ اُس نے ہندوستان پر حملہ کرکے یہاں کے غزنوی علاقوں پر قابض ہوجانے کا اِرادہ کیا۔ اِس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اُس نے ہندوستان پر حملہ کیا اور 576ھ مطابق 1181ء میں افغانستان، پشاور، سندھ اور ملتان کو فتح کرتے ہوئے لاہور کا رُخ کیا۔ خسرو ملک شہاب الدین غوری کا مقابلہ نہ کرسکا اور لاہور کے ایک قلعہ میں پناہ گزین ہو گیا۔ شہاب الدین غوری نے خسرو ملک کے ایک نوعمر لڑکے کو ایک ہاتھی سمیت گرفتار کر لیا اور اپنے ساتھ لیتا ہوا غور چلا گیا۔[1]

لاہور پر دوسرا حملہ

ترمیم

580ھ مطابق 1184ء میں شہاب الدین غوری نے لاہور پر دوسری بار حملہ کیا۔ خسرو ملک اِس بار بھی قلعے میں پناہ گزیں ہوا۔ شہاب الدین غوری نے لاہور کے اطراف و جوانب سے خوب دولت جمع کرلی اور سیالکوٹ میں قلعہ تعمیر کرکے وہاں کی حکومت اپنے ایک امیر کے سپرد کردی اور خود واپس غور چلا گیا۔

سیالکوٹ کے قلعے کا محاصرہ

ترمیم

شہاب الدین غوری کے لاہور و سیالکوٹ سے واپس ہوتے ہی خسرو ملک نے گکھڑوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور اُن کی مدد سے سیالکوٹ کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن باوجود محاصرے کے یہ قلعہ فتح نہ ہو سکا اور خسرو ملک نے محاصرہ اُٹھاتے ہوئے لاہور کی راہ لی۔

لاہور پر شہاب الدین غوری کا تیسرا حملہ

ترمیم

شہاب الدین غوری غور میں تھا جب اُسے خسرو ملک کے قلعہ سیالکوٹ پر حملہ آور ہونے کی خبرملی۔ وہ سخت برہم ہوا اور اُس نے لاہور کو فتح کرنے کا مصمم اِرادہ کر لیا۔ اِس بار شہاب الدین غوری نے ایک خاص شاطرانہ چال چلی کہ خسرو ملک سے دشمنی کی بجائے ظاہری طور پر دوستی کا اِظہار کیا۔ شہاب الدین غوری کی چال یہ تھی کہ اُس نے خسرو ملک کے بیٹے ملک شاہ کو 582ھ مطابق 1186ء میں آزاد کر دیا اور اُسے اپنے چند امرا اور تمام شاہی اعزازات کے ہمراہ باپ سے ملنے کے لیے لاہور کی طرف روانہ کیا۔ شہاب الدین غوری نے اپنے امرا سے خاص طور پر یہ تاکید کی تھی کہ وہ ملک شاہ کو راستے بھر شراب پلاتے رہیں اور نشے میں اِس قدر دُھت رکھیں کہ راستہ طے کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگے۔ خسرو ملک اپنے بیٹے کی آزادی کی خبر سن کر خوش ہوا اور دشمن سے بے خوف و خطر ہوکر شہاب الدین غوری کی دوستی پر رضامند ہو گیا۔ شہاب الدین غوری کے امرا اپنے بادشاہ کی ہدایت کے مطابق کم رفتاری سے سفر طے کر رہے تھے اور اِس سے قبل کہ وہ ملک شاہ کو لے کر لاہور پہنچتے، شہاب الدین غوری دوسرے راستے سے بڑی سرعت کے ساتھ بائیس ہزار سواروں کے ہمراہ ایک ہی شب میں لاہور آپہنچا۔ رات کے وقت ہی وہ دریائے راوی کے کنارے خیمہ زَن ہو گیا۔ دوسرے دِن جب خسرو ملک کو خبر ہوئی تو اُس نے دیکھا کہ کہ دریائے راوی کا کنارہ دشمنوں کی قیام گاہ بن چکا ہے تو اُس نے اِس عالم میں مجبوراً مقابلے کے بغیر ہی شہاب الدین غوری سے اَمان طلب کرلی اور لاہور پر شہاب الدین غوری کا قبضہ بغیر کسی جنگ و جدل کے ہو گیا۔ خسرو ملک نے 1186ء میں لاہور اور شمالی ہندوستان کو شہاب الدین غوری کے سپرد کر دیا اور اِس طرح سلطنت غزنویہ کا اِختتام ہو گیا۔[2]

وفات

ترمیم

خسرو ملک نے 26 سال حکومت کرنے کے بعد 1186ء میں لاہور میں وفات پائی۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. ابو القاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ، صفحہ 132۔
  2. ابو القاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ، صفحہ 132/133۔