مسز ایمیلین پینک ہرسٹ، جو خواتین کے حق رائے دہی تحریک سے تعلق رکھتی تھیں، بکنگھم محل کے باہر گرفتار کرلی جاتی ہیں۔ یہ مئی 1914ء کی بات ہے جب وہ اپنی مہم کی درخواست اس وقت کے انگلستان کے سریر آرائے سلطنت شاہ جارج چہارم کو اپنے مقصد و مہم کی درخواست دینا چاہتی تھیں۔

درخواست (انگریزی: Petition) ایک گزارش ہوتی ہے کہ کچھ کیا جائے، جو زیادہ تر کسی سرکاری افسر یا عوامی ارباب مجاز سے کی جاتی ہے۔ خدا سے یا کسی معبود سے کی جانے والی التجاؤں کو دعا یا عبادت کہی جاتی ہے۔

عام بول چال میں کوئی درخواست ایک دستاویز ہے جو کسی افسر کے نام لکھی جاتی ہے اور جس پر عمومًا متعداد افراد کے دستخط ہوتے ہیں۔ درخواستیں کئی بار لکھاوٹ میں ہونے کے بجائے زبانی بھی ہوا کرتی ہیں اور یہ انٹرنیٹ کے ذریعے بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔ مختلف مقاصد کے لیے درخواستیں ویسے تو کئی آن لائن ویب سائٹوں اور فورموں کے ذریعے پیش کی جا سکتی ہیں، تاہم ان میں ایک معروف نام چینج ڈاٹ او آر جی ہے، جہاں آئے لوگ عوامی نوعیت کے مسائل پر دستخطیں کرواتے رہتے ہیں۔

چینج ڈاٹ او آر جی پر پیش کی گئی کامیاب درخواستوں میں سے چند یہ ہیں: این ڈی ٹی وی کے لیے ایک درخواست کی گئی تھی عالمی ادارہ صحت کے رہنمایانہ خطوط کے تحت ہی خود کشیوں کی رپورٹ پیش کی جائیں۔ اس کے لیے #SpareTheSansani (سنسی سے بچیے) کا ہیش ٹیگ بھی وضع کیا گیا تھا[1]۔ ایسے ہی ایک دستخطی مہم کے بعد ایئر انڈیا نے اپنی پروازوں کے دوران پلاسٹک کے استعمال کے ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔[2] اسی پلیٹ فارم کی درخواستوں کے بعد ایمیزون اور فلپ کارٹ نے اپنی مصنوعات کی فراہمی کو پلاسٹک کے مواد سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا۔[3]

اس کے علاوہ لوگ ہجومی انداز میں انٹرنیٹ پر ارباب مجاز کو ای میل بھیج کر کسی خاص مقصد پر توجہ مبذول کرواتے ہیں۔ اکثر ای میل کا موضوع اور عمومی متن طے شدہ ہوتا ہے۔ کئی اجتماعی خط بھی لکھے جاتے ہیں۔ فعالیت پسند لوگ کئ بار عوام کے مسائل پر کھلے خط لکھتے ہیں۔ یہ خط کسی مخصوص شخص یا ذمے دار عہدے کے علاوہ صحافت اور الیکٹرانیک میڈیا کے لیے بھی جاری ہوتے ہیں۔ شخصی ملاقاتیں اور زبانی یاد دہانیاں بھی درخواست کا ایک طریقہ ہے۔ عدالت میں بھی لوگ کسی معاملے پر درخواست دائر کر سکتے ہیں، جو بعد میں مقدمے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم