رام گوپال گھوش (بنگالی: রামগোপাল ঘোষ) ‏(1815ء – 1868ء) ایک ہندوستانی تاجر، سماجی مصلح، مقرر اور ینگ بنگال کے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ انہیں ہندوستان کا ڈیموس تھینز کہا جاتا تھا۔[1][2] نیز گھوش ان افراد میں سے تھے جنہوں نے نسواں اسکول قائم کرنے میں جان ایلیٹ ڈرنک واٹر بیتھون کی مدد کی تھی۔[3]

رام گوپال گھوش
(بنگالی میں: রামগোপাল ঘোষ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Ramgopal Ghosh.jpg
رام گوپال گھوش

معلومات شخصیت
پیدائش 1815
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 جنوری 1868
کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت ہندوستانی
نسل بنگالی ہندو
مذہب ہندو مت
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کلکتہ
پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ تجارت

ابتدائی زندگیترميم

رام گوپال گھوش کا آبائی وطن ہوگلی ضلع میں واقع بگاتی ہے۔ ان کے والد گووند چندر گھوش کی کلکتہ کے چائنا بازار میں چھوٹی سی دکان تھی۔ ان کے نانا دیوان رام پرساد سنگھ کلکتہ میں کنگ ہیملٹن اینڈ کمپنی کے دفتر میں کام کیا کرتے تھے۔ گھوش اپنے نانیہال ہی میں پیدا ہوئے۔[4]

ان کی ابتدائی تعلیم کے متعلق دو مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ پہلی رائے یہ ہے کہ ابتدا میں ان کا داخلہ شیربرن اسکول میں ہوا جہاں انہوں نے انگریزی سیکھنی شروع کر دی تھی۔ اسی اثنا میں ہندو کالج کے ایک طالب علم ہرا چندر گھوش جو بعد میں ینگ بنگال کے رہنما بنے، ان کی شادی رام گوپال کی کسی عزیزہ سے ہوئی۔ جب ہرا چندر نے نوخیز رام گوپال کی دلچسپی دیکھی تو انہیں ہندو کالج میں داخلہ دلانے کی کوشش کی۔ رام گوپال کے والد کے پاس ہندو کالج کے اخراجات کے لیے پیسے نہیں تھے۔ کنگ ہیملٹن اینڈ کمپنی کے مسٹر راجرز ان کی فیس ادا کرنے کے لیے راضی ہو گئے اور یوں ہندو کالج میں ان کا داخلہ ہو گیا۔[4]

جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ مسٹر راجرز نے انہیں شروع ہی میں ہندو کالج میں داخل کر دیا تھا۔[4]

گھوش کا یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک جاری نہ رہا۔ ان کی ذہانت نے ڈیوڈ ہیئر کو ان کی جانب متوجہ کر دیا اور جلد ہی ان کی فیسیں معاف کر دی گئیں۔ اس دوران میں وہ ڈیروزیو کے درس میں شریک ہوئے اور جلد ہی رام تنو لاہری اور دیگر ڈیروزی پسندوں کے حلقے میں شامل ہو گئے۔ رام گوپال کی محنت اور لگن نے دیروزیو کی توجہ ان کی جانب مبذول کی اور وہ انہیں خارجی اوقات میں انگریزی فلسفہ اور شاعری پڑھانے لگے۔[4]

حوالہ جاتترميم

  1. Sengupta, Subodh Chandra and Bose, Anjali (editors), 1976/1998, Sansad Bangali Charitabhidhan (Biographical dictionary) Vol I, (بنگالی میں), pp 480–481, آئی ایس بی این 81-85626-65-0
  2. Sengupta, Nitish, 2001/2002, History of the Bengali-speaking People, p 228, UBS Publishers' Distributors Pvt. Ltd., آئی ایس بی این 81-7476-355-4
  3. Acharya, Poromesh, Education in Old Calcutta in Calcutta, the Living City, Vol I, edited by Sukanta Chaudhuri, pp 87, Oxford University Press, آئی ایس بی این 0-19-563696-1.
  4. ^ ا ب پ ت Sastri, Sivanath, Ramtanu Lahiri O Tatkalin Bangasamaj, (بنگالی میں)1903/2001, p 76-80, New Age Publishers Pvt. Ltd.