ریاست سچن (گجراتی: સચીન રિયાસત) ہندوستان کے عہد استعمار میں بمبئی پریزیڈنسی کی سورت ایجنسی کے تابع ایک نوابی ریاست تھی۔ سورت ایجنسی سے قبل یہ ریاست خاندیش ایجنسی میں آتی تھی۔ اس کا پایہ تخت سچن تھا جو اس وقت بھارتی صوبہ گجرات کے ضلع سورت کے انتہائی جنوب میں واقع ہے۔

Sachin State
સચીન રિયાસત
سچن ریاست
1791–1948
Flag of Sachin
Flag

سورت ایجنسی میں ریاست سچن کا محل وقوع (گلابی رنگ میں)
دار الحکومتسچن، گجرات
رقبہ 
• 1931
127 کلومیٹر2 (49 مربع میل)
آبادی 
• 1931
22107
تاریخ
تاریخ 
• 
1791
• 
1948
مابعد
India
آج یہ اس کا حصہ ہے:سورت ضلع، گجرات
 اس مضمون میں ایسے نسخے سے مواد شامل کیا گیا ہے جو اب دائرہ عام میں ہے: ہیو چشولم، مدیر (1911ء)۔ دائرۃ المعارف بریطانیکا (11ویں ایڈیشن)۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس 

تاریخ

ترمیم

6 جون 1791ء کو ریاست سچن قائم ہوئی۔ گوکہ رعایا میں پچاسی فیصد آبادی ہندو تھی لیکن ریاست کے حکمران سنی مسلمان تھے۔ ان حکمرانوں کا تعلق ریاست جنجیرہ کے شیدی شاہی سلسلہ سے تھا۔ شیدی نسل افریقی نژاد تھی۔[1]

برطانیہ کے زیر نگین آنے سے قبل ریاست سچن مرہٹہ پیشوا کے تحفظ میں تھی۔ سنہ 1829ء میں ریاست دیوالیہ ہو گئی، نیز 1835ء سے 1864ء تک یہ ریاست برطانوی سول انتظامیہ کے ماتحت بھی رہی۔ ریاست کی اپنی فوج، سکہ اور اسٹامپ پیپر تھے نیز ایک ریاستی طائفہ بھی تھا جس میں افریقی نژاد افراد رکھے گئے تھے۔

ہندوستانی سینما کی ابتدائی مشہور اداکارہ اور ہندوستان کی پہلی خاتون فلمی ہدایت کار فاطمہ بیگم (1892ء – 1983ء) کی شادی مبینہ طور پر ریاست سچن کے نواب شیدی ابراہیم محمد یاقوت خان سوم سے ہوئی تھی۔ تاہم اہل خاندان اس بات سے انکار کرتے ہیں،[2] ان کا کہنا ہے کہ نواب اور فاطمہ بیگم کی شادی یا معاہدہ کا نیز نواب صاحب نے سلطانہ، زبیدہ اور شہزادی کو اپنے بچے تسلیم کیا ہو، اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔[3] فاطمہ بیگم کی بیٹی سلطانہ ہندوستان کی ابتدائی فلموں کا مقبول چہرہ تھیں[4] جبکہ دوسری بیٹی زبیدہ ہندوستان کی پہلی بولتی فلم[5] عالم آرا کی مرکزی اداکارہ رہی تھی۔[6]

ریاست سچن کے آخری حکمران نواب شیدی ابراہیم محمد یاقوت خان سوم نے 8 مارچ 1948ء کو بھارت ڈومینین میں انضمام کے معاہدہ پر دستخط کیے۔ بعد ازاں یہ ریاست بمبئی صوبہ کے ضلع سورت کا حصہ بن گئی۔[7][8] تقسیم ہند کے بعد زبیدہ بھارت ہی میں رہی جبکہ ان کی بہن سلطانہ پاکستان چلی گئی۔ وہاں شادی کے بعد ان کے یہاں جمیلہ رزاق پیدا ہوئیں جو 1950ء کی دہائی کے وسط سے 1960ء کی دہائی کے وسط تک پاکستان کی مشہور اداکارہ تھی۔[9]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Vikash Pandey (19 December 2014)۔ "Africans in India: From slaves to reformers and rulers"۔ Newspaper۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2014 
  2. RoyalArk - Princely State of Sachin 3
  3. "Sachin Princely State (9 gun salute)"۔ 23 اپریل 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2018 
  4. "Sultana-actress"۔ amazon.com/IMDb.com۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 ستمبر 2012  الوسيط |first1= يفتقد |last1= في Authors list (معاونت)
  5. "Indian films and posters from 1930"۔ 25 جنوری 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2018 
  6. "sultana"۔ Cineplot.com۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 ستمبر 2012 
  7. Hunter, Sir William Wilson. The Imperial Gazetteer of India. London, Trübner & Co., 1885
  8. Malleson, G. B. An historical sketch of the native states of India, London 1875, Reprint Delhi 1984
  9. Jamila Razzaq and Zubaida آرکائیو شدہ 11 اکتوبر 2015 بذریعہ Wikiwix

بیرونی روابط

ترمیم

21°05′N 72°53′E / 21.08°N 72.88°E / 21.08; 72.88