زکریا بن یہویدع

تنک کا پیغمبر

زکریا بن یہویدع /zɛkəˈr.ə/ (عبرانی: זְכַרְיָה בן יהוידע، جدید Zichariah Ben Yehoyada ، طبری Zəḵaryā; عربی: زكريّا بن يهوياداع Zakariya bin Yehuyada) کا تنک کے انبیا میں شمار ہوتا ہے۔ اور ان کا ممکنہ طور پر عہد نامہ جدید میں ذکر ہے۔ یہ اپنی شہادت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ اور جب یروشلم کا ماحاصرہ بخت نصر نے کیا تھا تو اپ نے اس وقت ایک معجزہ کرکے یروشلم کو آزاد کراویا تھا ۔[2][3][4]

زکریا بن یہویدع
 

معلومات شخصیت
تاریخ وفات 9ویں صدی ق م  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سنگسار   ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مملکت یہودہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص ہوسیع [1]  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ کاہن   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

زکریا کے والد کا نام یہویدع تھا۔ یہویدع کاہن اعظم تھے۔ ان کے والد کے دور میں اخزیاہ اور ان کے دور میں یوآس بادشاہ تھے۔[5]

شہادت

ترمیم

ان کے والد یہویدع کے انتقال، زکریا نے بادشاہ یوآس اور وہاں کے لوگوں کی خداوند کے بغاوت پر مذمت کی۔(2 تواریخ 24:20). اس وجہ سے لوگ اشتعال میں آ گئے۔ اور بادشاہ کے حکم کے خلاف ورزی کی بنا زکریا کو سنگسار کر دیا گیا اور ایک پتھر آکر ان منہ پر لگا جس سے وہ شہید ہو گئے۔(2 تواریخ 24:21).

متی انجیل کا ورس نمبر 23:37 کے مطابق:

اے یروشلم اے یروشلم! تو نے نبیوں کو قتل کیا ہے۔ خدا نے جن لوگوں کو تیرے پاس بھیجا انکو پتھّروں سے مار کر تو نے قتل کیا ہے۔ کئی مرتبہ میں تیرے لوگوں کی مد کرنا چا ہا۔ جس طرح مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں تلے چھپا لیتی ہے۔ اسی طرح مجھے بھی تیرے لوگوں کو یکجا کر نے کی آرزو تھی۔ لیکن تو نے یہ نہیں چاہا۔[6]

ربی ادب میں

ترمیم

ربی ادب کے مطابق، زکریا بادشاہ کا داماد، کاہن اعظم، پیغمبر اور قاضی تھا۔ اس نے بادشاہت کی مذمت کرنے کی ہمت کی تھی۔ اس کا قتل بیت المقدس کے صحن میں کیا گیا تھا۔ جس دن زکریا کو قتل کیا گیا اس دن یوم کپور تھا۔

قدیم ایپوکریفا کے مطابق، زکریا بن یہویدع کی وفات کے بعد بیت المقدس میں کوئی کاہن نا رہا۔ اور نہ فرشتے لوگوں کو کبھی بیت المقدس میں نظر آئے جیسے پہلے نظر آتے تھے۔

یسوع کی طرف سے ممکنہ اشارے

ترمیم

جدید مسیحی مبصرین نے نشان دہی کی ہے اس زکریا کا اشارہ یسوع نے متی 23:35 اور لوقا 11:50-51 میں دیا ہے۔ .[7] اس زکریا کا اس اشارے کے بعد سمجھ میں آ گیا کہ وہ آخری شہداء میں سے ہیں جس کا ذکر Masoretic Text میں بھی موجود ہے۔

یادگار

ترمیم
 
زکریا کا مقبرہ

یہودی روایت، کے مطابق، ایک قدیم یادگار وادی قدرون میں موجود ہے وادی قدرون یروشلم کے باہر ایک پرانا شہر ہے۔ وہاں پر ایک مقبرہ موجود ہے جسے زکریا بن یہویدع کا مقبرہ کہا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. باب: 6
  2. عہد قدبم -ایام (2) 24/20 - 21
  3. عہد جديد - انجیل لوقا 11/51
  4. عہد جديد - انجیل متى23/35
  5. عہد قدبم -2 باب 24: 20-22
  6. عہد نامہ جدید۔ متی انجیل 23:37
  7. en:Craig Blomberg in en:Commentary on the New Testament Use of the Old Testament, 2007.

بیرونی راوبط

ترمیم