سید سردار احمد پیرزادہ اردو زبان کے پہلے نابینا صحافی، دانشور، تجزیہ و کالم نگار،[1] مقتدرہ قومی زبان کے ماہانہ جریدہ اخبار اردوکے ایڈیٹر اور ریڈیو، ٹی وی کے اینکر پرسن ہیں۔

سید سردار احمد پیرزادہ
 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 مارچ 1961(1961-03-27)
جوہر آباد ، پنجاب ، پاکستان
شہریت پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل پنجابی
مذہب اسلام
عارضہ نابینا پن   ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تعليم ایم اے (جرنلزم)
مادر علمی پنجاب یونیورسٹی، لاہور
پیشہ صحافی
پیشہ ورانہ زبان اردو
کارہائے نمایاں اے پی این ایس (اردو) ایوارڈ 2012
رضاکارانہ خدمات برائے پی ڈبلیو ڈی

ابتدائی زندگی

ترمیم

سید سردار احمد پیرزادہ 27 مارچ 1961 میں جوہر آباد، خوشاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ پیدائشی طور پر بینا تھے تاہم گلوکیمیا کے مرض کے باعث جلد ہی ان کی بینائی جاتی رہی۔ انھوں نے عام تعلیمی اداروں سے ہی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور اس دوران میں وہ زندگی کے بہت سے کٹھن مراحل سے گذرے ،لیکن تعلیم کو جاری رکھا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے جرنلزم کیا۔

کیرئیر کا آغاز

ترمیم

سید سردار احمد پیرزادہ نے ایم اے کے بعد میدانِ صحافت میں قدم رکھا۔ انھوں نے رپورٹر اور سب ایڈیٹر کی حیثیت سے مختلف قومی اخباروں میں خدمات انجام دیں۔ جن میں روزنامہ جنگ ،روزنامہ نوائے وقت،[2] روزنامہ جسارت، مشرق اور ہفت روزہ استقلال شامل ہیں۔ وہ ایک انگریزی ماہنامے "ڈپلومیٹ "کے بھی ایڈیٹر رہے ہیں۔ وہ 1988 میں مقتدرہ قومی زبان سے منسلک ہوئے۔ اس کے علاوہ وزارتِ اطلاعات و نشریات، قومی ورثہ میں پبلک ریلیشن آفیسر کے طور پر کام کیا۔ وہ 2003 میں ماہنامہ اخبار اردو کے ایڈیٹر اور 2011 میں سب ایڈیٹر بنے۔ اس دوران میں انھوں نے پاکستان میں اردو کے عنوان سے پانچ کتب پر مبنی ایک سیریز شائع کروائی ہے۔

رضا کارانہ خدمات

ترمیم

سردار احمد پیرزادہ پاپولیشن ویلفئیر ڈپارٹمنٹ کے لیے کئی سال تک رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں معذور افراد کی نمائندگی کے لیے بہت عرصہ جدوجہد کی اور بالآخر کامیابی ہوئی۔ انھوں نے پی ڈبلیو ڈی اور مختلف این جی اوز کے ساتھ مل کر معذور افراد سے متعلق آگاہی اور ان کی بہبود کے لیے بہت کام کیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے بہت سے پیش کردہ نظریات نے مقبولیت پائی ہے۔

صحافت اور میڈیا سے وابستگی

ترمیم

سردار احمد پیرزادہ اپنی گریجویشن سے بھی پہلے 1985ء سے صحافت سے وابستہ ہیں۔ اس دوران میں انھوں نے اپنے نابینا ہونے کی بنیاد پر مخالفین کی بہت سی مخالفتیں اور مشکلات سہیں۔ لیکن سفر جاری رکھا۔ وہ باقاعدہ طور پر 2007ء میں پاکستان کے پہلے نابینا صحافی تسلیم کیے گئے۔ اور ان کی معذوری ہی ان کی قوت کا باعث بن گئی۔ انھوں نے روزنامہ پاکستان میں ملازمت شروع کی۔ اور مئی 2007ء میں نوائے وقت پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ ان کو دیکھتے ہوئے دیگر نابینا نوجوانوں نے بھی میدانِ صحافت کا رخ کیا۔ سردار احمد پیرزادہ نے 2010ء میں ایف ایم 97 ریڈیو اینکر کے طور پر ٹاک شو سن رائز کے مہمان پیش کیا۔ جولائی 2013ء میں ریڈیو اسٹیشن کو خیر باد کہا۔ وہ ٹی وی پر بھی ٹاک شوز میں شریک ہوئے جن میں حامد میر کا کیپیٹل ٹاک بھی شامل ہے۔ ان کے لکھے ہوئے آرٹیکلز اور کالمز کو پچھلے چند سالوں میں نمایاں شہرت ملی اور بین الاقوامی سطح پر بھی ان کے تراجم الیکٹرانک میڈیا پر پیش کیے گئے۔ آج کل ان کے کالم ای اخبار ہم سب میں بھی شائع ہو رہے ہیں۔[3]

اعزازات و ایوارڈز

ترمیم
  • اے پی این ایس (اردو) ایوارڈ 2012
  • این پی سی گولڈ میڈل ایوارڈ برائے صحافتی خدمات از نظریہِ پاکستان کونسل ،27 مارچ 2013
  • چولستان ایوارڈ 2012 برائے میڈیا سروس از چولستان ڈویلوپمینٹ کونسل ،اپریل 2012
  • پریس کلب پاکستان لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور اعزازی ممبر شپ از این پی سی، دسمبر 2013

حوالہ جات

ترمیم