خوشاب
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع ضلع خوشاب

خوشاب دریائے جہلم کے مغربی کنارے پر آباد صوبہ پنجاب کا ایک تاریخی قدیمی قطعہ ارض ہے۔ سرزمین خوشاب دریا، سرسبز میدان، کوہسار اورصحرا سے مزین ہے۔ صدیوں پرانے تاریخی شہر خوشاب کی تاریخ موہنجوڈرو اور ہڑپہ سے بھی پرانی ہے۔ خوشاب فارسی کے دو الفاظ ’’خوش‘‘ اور ’’ آب‘‘ کا مجمو عہ ہے جس کے معنی ’’خوش یعنی تسکین خوشی مقامی لفظ اور آب کے معنی پانی کے ہیں ۔ سینہ بہ سینہ چلتی روایات کے مطابق یہاں پانچ ہزار سال پرانی انڈس ویلی تہذیب گندھارا ٹیکسلا جیسی تہذیب و تمدن کی آباد شدہ دیہاتوں میں سے ایک دیہات جہاں ویدک سنسکرت اور ہند آریائی زبان کے لہجے بھول جاتے ہیں مقدونیہ حملہ آور سکندر اعظم عرب ھون تاتاری حملہ آور اور کئی بادشاہ وارد ہوئے اور جس نے بھی یہاں کا پانی پیا اس کے شیریں پن کی تعریف کی۔ یہ روایات امیر تیمور، محمود غزنوی، بابر اور شیر شاہ سوری کے ساتھ بالخصوص منسوب ہیں۔ تاہم شیر شاہ سوری کے حوالے سے منسوب روایت کافی مستند اور مضبو ط سمجھی جاتی ہے کہ جب اس مشہور مسلم فاتح کا اس علاقہ سے گذر ہوا اور پڑاؤ کے دوران جب اس نے دریا ئے جہلم کا پانی پیا تو بے اختیارکہہ اٹھا ۔۔۔’ خوش آب‘‘ ۔۔۔۔ اوریوں یہ الفا ظ زبان زدعام ہو کر اس علاقے کو ایک خوب صورت نام دے گئے۔

خوشاب کی تاریخترميم

تاریخی شہر ہونے کے حوالے سے صحیح معنوں میں اس کی تاریخ بیان کرنا مشکل ہے شہنشائے ہیں مغل بادشاہ بابر میں اپنی سوانح حیات میں تزک بابری مین اس ح سے پندروی صدی عیسوی میں اس کا ذکر کیا ہے

شیر شاہ سوری نے اس شہر کو سنوارنے اور اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مرکزی عید گاہ، جامع مسجد مین بازار، شہر پناہ کے دروازے اور فصیل اس زمانے کی اہم تعمیرات میں سے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق شہر خوشاب1503عیسوی میں آباد ہوا جبکہ اس کے گرد فصیل 1593میں مکمل ہوئی۔ 1809میں راجا رنجیت سنگھ نے خوشاب پر قبضہ کر لیا۔محمد شاہ کے زمانے میں خوشاب کا گورنر نواب احمد یارتھا جس کا مقبرہ خوشاب میں موجود ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے آباد یہ شہر لا تعداد مرتبہ سیلابوں کی زد میں آکر تباہ ہوا۔ بالخصوص 1849اور1893میں دریائے جہلم میں آنے والی طغیانیوں میں سردار جعفر خان کا قلعہ، تارا چند اور نواب احمد خان کے باغات، فصیل اور دروازوں کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ شہرپناہ کی فصیل کو سہ بارتعمیر کیا گیا۔ اول مرتبہ شیر شاہ سوری نے، دوسری مرتبہ سردار لعل خان بلوچ نے 1761میں کچی فصیل کو پختہ بنا دیا جبکہ تیسری مرتبہ 1866میں انگریز ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈیوس نے از سر نو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ شہر کا نقشہ بنوا کر فصیل کو مکمل کیا۔ اس باردیوار شہر میں چار بڑے دروازے، مشرق کی جانب کابلی گیٹ، مغرب کی جانب لاہوری گیٹ،شمال کی جانب جہلمی گیٹ اور جنوب کی جانب ملتانی گیٹ تعمیر کیے گئے۔1865میں ڈپٹی کمشنر کیپٹن ڈیوس نے تیس فٹ چوڑا اور تقریباََ ڈیڑھ کلو میٹر لمبا بازار بنوایا۔ اسی بازار خوشاب کے عین آغاز پر موجود کابلی گیٹ اپنی قدیمی شان و شوکت کا پرشکوہ منظر کچھ اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ جیسے آپ صدیوں پرانے شہر خوشاب میں داخل ہو رہے ہوں۔ حکومت انگلشیہ نے اس شہر کا نقشہ صلیب کی طرز پر بنایا۔1866میں کابلی گیٹ مکمل ہوا جس میں ڈاکخانہ اور پولیس چوکی قائم کی گئی۔ اور یہ شہر کی آخری حد تھی، جبکہ دوسرے سرے پر لاہوری گیٹ تھا جہاں پر ایک بڑا پتن بھی تھا۔1945تک دریائے جہلم شہر کی دیواروں کے ساتھ ساتھ بہتا تھا لیکن فی زمانہ دریا شہر سے دور ہوتا چلا گیا اور اب تقریباََ ڈیڑھ میل دور مشرق کی جانب بہہ رہا ہے۔1700 ؁ء میں خوشاب جہلم کمشنری کے تحت تھا اور اس کا صدر مقام شاہ پور تھا۔ تزک بابری میں بابر نے خوشاب کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے کہ: ’’جمعہ کا دن تھا اور خوشاب کے باسیوں نے میری خدمت میں ایک وفد بھیجا جس کے جواب میں میں نے شاہ حسین بن شاہ شجاع ارغوان کا انتخاب کیا کہ وہ خوشاب جا کر وہاں کے لوگوں سے بات چیت کرے۔...‘‘ ترک جہانگیری میں بھی خوشاب کا ذکر کچھ اس طرح سے ہے : ’’یہ سر سبز و شاداب سرزمین ہے جس کی آمدن 30لاکھ دام ہے۔ ‘‘ خوشاب سے ضلع خوشاب تک 1857کی جنگ آزادی سے صرف چار سال قبل1853میں تاج برطانیہ کے تحت اسے ٹاؤن کمیٹی کا درجہ ملا۔ بعد ازاں اسے میونسپل کمیٹی بنا دیا گیا۔1867ء میں خوشاب کو تحصیل کا درجہ دیا گیا، 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت خوشاب ضلع سرگو دھا کی تحصیل تھا،اور 1982میں خوشاب کو الگ ضلع کا درجہ دے دیا گیا جب اسے ضلع کا درجہ ملاتو یہ دو تحصیلوں خوشاب اور نور پور تھل پر مشتمل تھا۔ اب اس میں تحصیل قائدآ بادکا اضافہ ہو چکا ہے یو ں ضلع خوشاب چار تحصیلوں خوشاب ،نور پور تھل، قائد آباد اور ایک تحصیل نو شہرہ پر مشتمل ہے۔

اس کی انفرادیت اس بات میں ہے کہ یہاں سرسبز میدان، پہاڑ اور صحرائی علاقے ہیں۔ ضلع خوشاب کے لوگ محنتی اور زراعت پیشہ ہیں۔ یہاں کی زیادہ تر آبادیاعوان،جوئیہ اور بلوچ قبائل سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں کے اکثر لوگ فوج میں شمولیت کو باقی پیشوں پر ترجیح دیتے ہیں۔

خوشاب میں آباد قومیںترميم

مشاہیر ضلع خوشابترميم

اہم ادبی شخصیاتترميم

  1. احمد ندیم قاسمی
  2. واصف علی واصف
  3. سہیل وڑائچ
  4. عبدالقادر حسن
  5. طارق مجتبیٰ لُڑکا
  6. خوشونت سنگھ
  7. اسلم شہزاد
  8. ملک خدا بخش ساجد اعوان
  9. امتیاز حسین امتیاز
  10. ملک عدنان عالم اعوان
  11. محمد شہزاد اسلم
  12. چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال
  13. عتیق اختر افغانی
  14. ْ الطاف آزاد
  15. محمد اقبال شاہد مدیر حرب قلم
  16. ارسلان اختر افغانی، مدیر ضرغام
  17. شوکت محمود اعوان
  18. ملک خدا بخش مسافر
  19. ایوب اختر اعوان

اہم سیاسی شخصیاتترميم

  1. ملک نعیم خان
  2. ملک کرم بخش اعوان
  3. ملک صالح محمد گنجیال
  4. ملک محمد علی سانول اعوان
  5. ملک شاکر بشیر
  6. جویریہ ظفر آہیر
  7. ملک آصف بھا
  8. ملک غلام رسول سنگھا (موجودہ ایم پی اے)
  9. ملک عمر اسلم (موجودہ ایم این اے)
  10. ملک احسان ٹوانہ (موجودہ ایم این اے)
  11. ملک خدا بخش ٹوانہ
  12. محترمہ سمیرا ملک
  13. ملک وارث کلو ایڈووکیٹ مرحوم (سابقہ ایم پی اے)
  14. محمد شریف بلوچ
  15. کرم الہی بندیال
  16. فتح خالق بندیال (موجودہ ایم پی اے)
  17. ملک جاوید اعوان
  18. امیر حیدر سنگھا
  19. ڈاکٹر کیپٹن رفیق سردار شجاع خان بلوچ
  20. ملک طارق مجتبیٰ لُڑکا
  21. ٹیچر حکیم محمد رمضان لُڑکا
  22. ملک نعیم آہیر
  23. ملک محمد بشیر اعوان
  24. انجینئر ملک گل اصغر خان بگھیور
  25. علامہ محمد یوسف جبریل آف کھبیکی وادی سون سکیسر خوشاب
  26. علامہ فتح الدین ازبر
  27. مہر خان جوئیہ
  28. جہانگیر محمد جوئیہ ایڈو وکیٹ
  29. بیرسٹر ملک محمد معظم شیر کلو (موجودہ ایم پی اے)
  30. پیرزادہ بہاول شیر گیلانی
  31. نور حسین انگوی (خطاط)

تفریحی مقامات /میلہ جاتترميم

وادی سون ، اچھالی جھیل ، کھبیکی جھیل ، کنٹی گارڈن ، میلہ منڈی خوشاب ، میلہ نور پور تھل، میلہ سید المعروف ،میلہ بابا چورا فقیر رح اوکھلی موہلہ،عرس بانی اوکھلی موہلہ بابا شیخ مہر علی رح،عرس بابا میاں نانگہ رح اوکھلی موہلہ،قبر اصحابی رسول اوکھلی موہلہ،اوکھلی موہلہ کا تاریخی قبرستان، عرس بابا فقیر اصحاب اوکھلی موہلہ،جامع مسجد گلزار مدینہ (ککڑانوالی) اوکھلی موہلہ،مرکزی جامع مسجد بلال اوکھلی موہلہ

دفاعی تنصیباتترميم

سکیسر بیس ، پاکستان اٹامک انرجی کمشن پلانٹ گروٹ

مزاراتترميم

خوشاب بزرگوں کی سر زمین ہے ، سب سے زیادہ مشہور مزارات میں دربار بادشاہوں اور دربار سیدالمعروف شامل ہیں،دربار بانی اوکھلی موہلہ بابا شیخ مہر علی رح،دربار بابا میاں نانگہ رح اوکھلی موہلہ،قبر اصحابی رسول اوکھلی موہلہ شامل ہیں۔

طبعی خدوخالترميم

ہمہ جہت جغرافیائی خدوخال: تحصیل خوشاب اور قائد آباد میدانی ، تحصیل نوشہرہ پہاڑی اور تحصیل نور پور تھل صحرائی علاقہ ہے۔تحصیل قائد آباد کا واحد گاؤں اوکھلی موہلہ ہے جو کوہ کے علاوہ تمام تر زمینوں سے گھرا ہوا ہے۔اس میں ریتلی،میدانی،چکنی،پھتریلی اور رتی وغیرہ شامل ہیں۔۔

سوغاتترميم

خوشاب کی سب سے اہم سوغات ڈھوڈا (مٹھائی) ہے۔ یہ ایک مٹھائی ہے جو یہاں نسل در نسل تیار کی جاتی ہے اور اپنے ذائقہ میں بے مثال ہے۔

اسلامک ریسرچ سنٹرترميم

ضلع خوشاب کے موضع شاہ حسین تھل میں نواب اللہ بخش کھارا ایک معروف سماجی و سیاسی شخصیت تھے اب ان کے پوتے پروفیسر ملک جاوید اقبال کھارا نے ان کے نام پر نواب اللہ بخش کھارا اسلامک ریسر چ سنٹر شاہ حسین تھل کی بنیاد رکھی ہے۔اور ڈاکٹر محمد امیر القادری جن کا نام سید امیر کھوکھر ہے وہ دار العلوم جامع غوثیہ انوارالقران کیمپس اوکھلی موہلہ کے پرنسیپل ہیں اور اسلامک کے حوالہ سے ریسرچ کر رہے ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

ضلع خوشاب کے بڑے موضع جاتترميم

ضلع خوشاب کے بڑے موضع جات میں اوکھلی موہلہ،ہڈالی،روڈہ،مٹھہ ٹوانہ ، اتراء اور گولیوالی شامل ہیں۔

شجرہ نسب لدھےخیل بھٹی قبیلہترميم

▪پاکستان صوبہ پنجاب ضلع خوشاب تحصیل قاٸدآباد شہر گولیوالی ڈیرہ بھٹیاں والا▪

1.👈ابولبشر حضرت آدم علیہ السلام 2. 👈حضرت شیت علیہ السلام 7. 👈خضرت ادریس علیہ السلام 10. 👈آدم ثانی خضرت نوح علیہ السلام20. 👈حضرت ابراھیم علیہ السلام 21. 👈حضرت اسحاق علیہ السلام 22. 👈حضرت عیض علیہ السلام25. 👈حضرت ذوالقرنین 31. جمشید دیو { جمشیددیو آرین کا سرتاج اور الوالعزم بادشاہ تھا. جمشید نے قباٸل کو شتریہ ، برھمن ، ویشں ،شودر میں تقسیم کیا }

32. آفرید دیو 33. دلیپ چند 34. نوچہتر { مورث اعلٰی خاندان46.👈▪ راجہ کرشن ▪47. راجہ پردیومن 48. راجہ وجرنبھ 49.  راجہ نباھو(+پرتھی باھو ) 50.  راجہ سباھو  55. راجہ پرتھوی سھاۓ 56.  راجہ مہی پال  60. راجہ جسپت 61.🔹 راجہ جگ پت🔹{ والی قلعہ غزنی موجود افغانستان } 62.👈🔹 راجہ ہسپت 🔹{ والی قلعہ حصار }71. راجہ گج سین 72.🔹راجہ سالباہن🔹{ بانی سیال کوٹ } 73. راجہ بلند

74. 👈 🔹بھاٹی / بھٹی🔹 75. 🔸راجہ بھوپت🔸{ والٸ قلعہ بھٹنیر } 84. راجہ منگل راٶ 85. راجہ مندن راٶ 86. راجہ سورسین 87. راجہ رگھو 88. راجہ مولراج 89. راجہ اودے راٶ 90. راجہ مجم راٶ 91. راجہ کہر 92. راجہ تنو 93. راجہ بجے راٶ 94.🔸راٶ دیوراج🔸{ قلعہ دراوڑ } 95. راول مندھ 96. راول باچھ راٶ 97. راول دوساج 98. 👈 🔹 راول جیسل 🔹{ قلعہ جسلمیر 1156 عیسوی بنیاد } 99. ہمہیل ( 1214 موت ) 100. جندرا 101. بٹیرا 102. منجلرب 103. آنندر راۓ 104. کھیوا 105. 👈🔹سدھو راٶ🔹 ( پیداٸش 1250 عیسوی ) 106. بَر 107. بیر 108. سیتراہ 108. جرتھا 110. ماہی 111. گالا 112. مہرہ 113. ہمبیر 114.👈🔹براڑ🔹 ( موت 1415 عیسوی ) 115. پوڑ 116. بیرتھ 117. کاٸی 118. باو 119. سانگھڑ ( موت 1526 عیسوی ) 120. بیریم ( موت 1560 عیسوی ) 121. میراج 122. سوتو 123. پَکو 124. بابا موہن ( موت 1618 عیسوی ) 125. روپ چند کے دو بیٹے تھے ( موت 1618 عیسوی ) 126. 👈1.🔹 پھول🔹 (موت 1652عیسوی) (+2.صندلی ) پھول کے تین بیٹے تھے (ماٸی بالی ) تلوکھا + رگھو + راما 127.👈 راما ( موت 1714 عیسوی ) راما کے چھ بیٹے تھے (ماٸی صاحباں ) دونہ+ سوبھا + راجا اعلی سنگھ + بختا + بدھا + لدھا

128. 👈 1.🔹لدھا 🔹(پیداٸش 1696 عیسوی )کے دوبیٹے تھے دولا + دریای 129. دَولا /دلہ کا ایک بیٹا تھا مہانڑا 130. مہانڑا کا ایک بیٹا تھا ڈھینگانڑا 131. ڈھینگانڑا کے چار بیٹے تھے ککو+ کالو + بجارا + یارا 132.👈🔹ککو🔹 دو بیٹے تھے محمد + آحمد 133. محمد کے چار بیٹے تھے اللہ ڈتہ + فتح خان + خان زمان + نور خان ) 134. اللہ ڈتہ پانچ بیٹے تھے حاکم خان + مستا خان + سلطان آحمد + ربنواز + محمد نواز 135. 👈🔹حاکم خان🔹(29.09.2021 وفات )کے تین بیٹے ھیں محمدخان + عبدالخالق + عبدالراٶف 136. 👈 🔹محمد خان🔹 پیداٸش (04.08.1984 ) ایک بیٹا ھے137. 👈 محمد بلال خان ( پیداٸش 10.29.2019 عیسوی )

لُڑکا قوم کی تاریخترميم

لُڑکا قوم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ضلع خوشاب میں لُڑکا قوم کے بہت سے گھر موجود ہیں۔اوکھلی موہلہ ،مٹھہ ٹوانہ اور بندیال میں یہ قوم موجود ہے۔

لدھا قوم بھٹی کی تاریخترميم

لدھا (پیدائش 1700عیسوی) ہندوستان,صبوبہ پنجاب کے ضلع بھٹنڈا کے تحصیل گاؤں رام پورہ پھول سے تعلق رکھنے والا تھا ۔خاندان راٶل جیسل بھٹی {جیسلمیر }, سدھو براڑ پھلکین { بھٹنڈا } سے تعلق تھا۔ لدھا کے ولد راما نے نانون کے ایک بھتر زمیندار کی بیٹی صاحباں سے شادی کی،جس سے ان کے چھ بیٹے پیدا ھوۓ 1. دونا 2. سبھا 3.آلا سنگھ 4. بخت 5.بدھا 6.لدھا ان میں سے پہلا بیٹا دونا بھدور خاندان کا بانی تھا۔ دوسرا بیٹا سبھا، 1729 میں فوت ہوا، اور اس کا اکلوتا بیٹا، جودھ، اسی سال؛ اور ہوڈیانہ، جسے اس نے فتح کر کے اپنی رہائش گاہ بنا لی تھی، اپنے بھائی آلا سنگھ کے قبضے میں آ گئی۔ چوتھا بیٹا، بختا، ملود خاندان کا آباؤ اجداد تھا، پانچواں بدھا رام کا نام پایا ،بدھا کی کوٸی اولاد شو نہیں ھو رھی .اور جبکہ آخری بیٹا چھٹا لدھا رام اپنے بھاٸی سے کسی بات پے ناراض ھوکرپرانا نام غزنی موجود افغانستان میں چلے گۓ۔لدھا احمد شاہ ابدالی کے ھاں سپہ سالار بعد میں جرنیل منتخب ھوۓ۔لدھا کی احمد شاہ ابدالی کے جرنیل گولا خان سے ملاقات ھوٸی.پیرگل محمد شاہ دا خاص مرید جرنیل گولا خان سی.جرنیل لدھا رام : رام ولد کا نام تھا .لدھا نے سکھ مزہب سےاسلام قبول کیا.اسطرح سپہ سالار لدھا اور جرنیل گولا خان { پرانا نام ڈوڈا بعد میں کِڑی گولا خان موجودہ گولیوالی منتقل ھوگے.پاکستان , صوبہ پنجاب , پرانا ضلع بنوں{ موجودہ خوشاب },تحصیل قاٸدآباد اور شہر گولیوالی میں میرے خاندان کا پہلا برزگ جس کا نام لدھا آیا تھا.لدھا (معنی موٹا تازہ/صحت مند ) ھے.اس برزگ لدھا کے نام سےبرطانیہ ڈپٹی کمشنر شاہ پور کیپٹن ڈیوس نے 1865 میں تقریبا 157 سال پہلے۔لدھا قوم بھٹی,عرف لدھا خیل برادری بناٸی ۔جس سے اب لدھےخیل قبیلہ بن چکا ھے

ماخذات بحوالہ تاریخی کتب شجرہ ھزا

1.سرلیپیل ایچ گریفن برطانوی دور کے منتظم سفارت کار, 1880 عیسوی میں پنجاب کے چیف سیکرٹری اور کافی تاریخ پے کتابيں لکھی تھی ۔ جیسکہ

 , The Rajas of the punjab 1872 AD  Chief and Family in the punjab

برطانیہ کے سر لیپیل ایچ گریفن راٶل جیسل بھٹی سے لدھا تک ھسٹری لکھی تھی۔ 2.برطانیہ لیفٹیننٹ کرنل جیمز نوڈ,راول جیسل بھٹی سے لدھا تک ہسٹری لکھتے ھیں۔ 3.رام سورپ جون ہندوستانی مصنف کتاب جاٹوں کی تاریخ میںسدھو براڑ سے لدھا تک لکھی تھی۔4. تاریخ لیہ کتاب باب دوم History of Layyah Chapter 2 5. برطانیہ ڈپٹی کمشنر شاہ پور کیپٹن ڈیوس 1865بندوبست میں لدھا قوم بٹتی عرف لدھا خیل کی اولاد کا شجرہ نسب لکھاتھا جو اب تک ڈی سی آفس جوھرآباد میں محفوظ ھیں۔

خوشاب کا خوبصورت گاؤں اوکھلی موہلہترميم

اوکھلی موہلہ ضلع خوشاب کی تحصیل قائد آباد میں واقع ہے۔یہ ایک تاریخی اور قدیمی گاؤں ہے۔اوکھلی موہلہ تحصیل قائد آباد کی سب سے بڑی یونین کونسل ہونے کے ساتھ ساتھ ضلع خوشاب کا سب سے بڑا موضع ہے۔اس گاؤں کو اولیاء اللہ کی سرزمین بھی کہتے ہیں۔یہ انتہائی قدیمی گاؤں ہونے کے ساتھ بہت خوبصورت بھی ہے۔اس گاؤں کی تاریخ کافی پرانی ہے۔

وادی سون سکیسر


  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔