سرگم (پاکستانی فلم)

پاکستانی فلم

سرگم (انگریزی: Sargam) 1995ء میں جاری ہونے والی اردو زبان میں پاکستانی نغماتی فلم تھی۔[1]

آئینہ
ہدایت کارسید نور
پروڈیوسرسید نور
کہانیسید نور
ستارےعدنان سمیع خان
زیبا بختیار
ندیم
مہاراج غلام حسین کتھک
شفقت چیمہ
موسیقیعدنان سمیع خان
تاریخ نمائش
  • 1 ستمبر 1995ء (1995ء-09-01)
دورانیہ
3 گھنٹے
ملکپاکستان کا پرچم
زباناردو

فلم سرگم یکم ستمبر، 1995ء میں نمائش کے لیے پیش ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز، ہدایت کار اور کہانی کار سید نور ،موسیقار عدنان سمیع خان اور نغمہ نگار ریاض الرحمان ساغر تھے۔[1]

اداکارترميم

موسیقیترميم

اس فلم کی موسیقی عدنان سمیع خان نے ترتیب دی جبکہ نغمات ریاض الرحمان ساغر نے لکھے۔ اس فلم میں استاد حامد علی خان، آشا بھوسلے، حدیقہ کیانی، عدنان سمیع خان اور مہاراج غلام حسین کتھک نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔[1]

نغماتترميم

نمبر شمار گانا نغمہ نگار گلوکار / گلوکارہ
1 چمکی کرن کھلے پھلوا ریاض الرحمان ساغر استاد حامد علی خان، عدنان سمیع خان، حدیقہ کیانی
2 ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو ریاض الرحمان ساغر عدنان سمیع خان، آشا بھوسلے
3 اے خدا اے خدا مظفر وارثی عدنان سمیع خان
4 بھیگا ہوا موسم پیارا ریاض الرحمان ساغر عدنان سمیع خان
5 کب سے کھلی، مجھے تو اب ملی ہو ریاض الرحمان ساغر مہاراج غلام حسین کتھک، عدنان سمیع خان، حدیقہ کیانی
6 برسے بادل، دل میں ہلچل ریاض الرحمان ساغر عدنان سمیع خان، حدیقہ کیانی
7 پیار بنا جینا نہیں جینا ریاض الرحمان ساغر عدنان سمیع خان، حدیقہ کیانی
8 سہانی رُت آئی ریاض الرحمان ساغر استاد حامد علی خان، عدنان سمیع خان، حدیقہ کیانی
9 وہ مجھے یاد آیا ریاض الرحمان ساغر حدیقہ کیانی

اعزازاتترميم

سرگم نے مجموعی طور پر 8 نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ سرگم نے یہ ایوارڈ جن شعبوں میں حاصل کیے ان میں[1]:

نمبر شمار شعبہ نام ایوارڈ کا نام
1 بہترین اردو فلم سال 1995ء سید نور نگار ایوارڈ
2 بہترین ہدایت کار سید نور نگار ایوارڈ
3 بہترین اداکارہ زیبا بختیار نگار ایوارڈ
4 بہترین معاون اداکار مہاراج غلام حسین کتھک نگار ایوارڈ
5 بہترین موسیقار عدنان سمیع خان نگار ایوارڈ
6 بہترین نغمہ نگار ریاض الرحمان ساغر نگار ایوارڈ
7 بہترین پس پردہ گلوکارہ حدیقہ کیانی نگار ایوارڈ
8 بہترین کہانی / مکالمہ نگار سید نور نگار ایوارڈ

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ص 768، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء