سلطان مبارک شاہ شرقی

جونپور سلطنت کا دوسرا حکمران

سلطان مبارک شاہ شرقی (وفات: 1401ء) جونپور سلطنت کا دوسرا حکمران تھا جس نے 1399ء سے 1401ء تک حکمرانی کی۔ سلطان مبارک شاہ سلطان الشرق اتابک اعظم ملک سرور کا منہ بولا فرزند تھا۔

سلطان مبارک شاہ شرقی
معلومات شخصیت
وفات سنہ 1401  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جونپور ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ہندوستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
نومبر 1399  – 1401 
عملی زندگی
پیشہ سلطان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

ابتدائی حالاتترميم

سلطان مبارک شاہ شرقی کے ابتدائی حالات بھی ملک سرور کی طرح تاریخ کے صفحات سے غائب ہیں۔ سلطان مبارک شاہ کے والد کا نام سید رجب علی تھا جو سید خضر خاں ‘ والیٔ ملتان کی بہن کا خاوند تھا۔وہ ملک قرنفل کے نام سے بھی مشہور تھا اور یہی وہ سید رجب علی ہے جس نے ملک سرور کو سلطان فیروز شاہ تغلق کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ سلطان مبارک شاہ تخت نشین ہونے سے قبل سلطان الشرق ملک سرور کے عہدِ حکومت میں مرکزی حکومت کا سربراہ رہ چکا تھا اور ملک الشرق کے خطاب سے سرفراز تھا۔ وہ قوی ہیکل جوان اور قابل جرنیل تھا اور سلطان الشرق کے عہد میں شمالی و جنوبی بہار کے راجاؤں کو کئی بار شکست دے کر اپنی قابلیت کے جوہر دکھا چکا تھا۔ [1]

عہد حکومتترميم

سلطان مبارک شاہ شرقی سلطان الشرق اتابک اعظم ملک سرور کا منہ بولا بیٹا تھا جو اُس کی وفات نومبر 1399ء کے بعد بحیثیتِ سلطان جونپور سلطنت تخت نشین ہوا۔ اُس کی تخت نشینی کے موقع پر جونپور شہر میں جشن چراغاں منایا گیا۔ شعراء نے قصائد و قطعات پیش کیے اور تمام اراکین دولت کو اِنعام و اکرام سے نوازا گیا۔ جب سلطان مبارک شاہ تخت نشین ہوا تو اُس وقت سلطان محمود شاہ تغلق مالوہ میں پناہ گزین تھا اور اُس کی غیر حاضری میں چونکہ امیر تیمور دہلی سے واپس جاچکا تھا اور سلطان نصرت شاہ کی جگہ ملو اقبال دہلی کے تخت پر قابض ہوگیا تھا۔ ملو اقبال نے جب مبارک شاہ شرقی کی تخت نشینی کی خبر سنی تو ملکی ہوس میں کثیر التعداد فوج لے کر جنوری/ فروری 1400 ء میں جونپور کی طرف نکلا اور قنوج کا علاقہ تباہ و برباد کرتا ہوا دیائے گنگا کے کنارے کنارے آگےبڑھتا چلا گیا۔ سلطان مبارک شاہ کو جب اُس کی آمد کی خبر ملی تو وہ بھی فوج لے کر آگے بڑھا اور گنگا کے دوسرے کنارے اُس کے بالمقابل جا پہنچا۔ لیکن جب ملو اقبال نے اُس کی افواج کا رعب و دبدبہ دیکھا تو وہیں رک گیا۔ اِس کے بعد تقریباً دو مہینوں تک دونوں کی فوجیں آمنے سامنے رہیں مگر کسی کو بھی دریاء عبور کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ بالآخر دونوں میں صلح ہوگئی اور اپنے اپنے علاقوں کو واپس لوٹ گئے لیکن جب سلطان مبارک شاہ ابھی جونپور پہنچنے ہی پایا تھا کہ اُسے دوبارہ ملو اقبال اور سلطان محمود شاہ تغلق کے جونپور پر حملہ آور ہونے کی اِطلاع ملی۔ چنانچہ وہ بھی فوجیں لے کر مقابلہ کے لیے پلٹا مگر ابھی راستہ میں ہی تھا کہ اچانک سلطان مبارک شاہ شرقی اِنتقال کرگیا۔ [2]

وفاتترميم

ملا عبدالقادر بدایونی نے سلطان مبارک شاہ شرقی کا سنہ وفات 804ھ مطابق 1401ء لکھا ہے اور غالباً وہ 1401ء کے آخر میں فوت ہوا۔ [3]

حوالہ جاتترميم

  1. میاں محمد سعید: تذکرۂ مشائخ شیراز ہند جونپور، ص 86-87۔ مطبوعہ لاہور، ستمبر 1976ء
  2. میاں محمد سعید: تذکرۂ مشائخ شیراز ہند جونپور، ص 87۔
  3. میاں محمد سعید: تذکرۂ مشائخ شیراز ہند جونپور، ص 87۔