سورہ دہر

قرآن مجید کی 76 ویں سورت

قرآن مجید کی 76 ویں سورت جس کے 2 رکوع میں 31 آیات ہیں۔

الدہر
الدہر
دور نزولمدنی
اعداد و شمار
عددِ سورت76
تعداد آیات31
گذشتہالقیامہ
آئندہالمرسلات

اس سورت کا نام الدہر بھی ہے اور الانسان بھی۔ دونوں نام پہلی ہی آیت کے الفاظ ھل اتٰی علی الانسان اور حین من الدھر سے ماخوذ ہیں۔

زمانۂ نزول

ترمیم

اکثر مفسرین اس کو مکی قرار دیتے ہیں۔ علامہ زمخشری، امام رازی، قاضی بیضاوی، علامہ نظام الدین نیسا بوری، حافظ ابن کثیر اور دوسرے بہت سے مفسرین نے اسے مکی ہی لکھا ہے اور علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ یہی جمہور کا قول ہے لیکن بعض دوسرے مفسرین نے پوری سورت کو مدنی کہا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ سورت ہے تو مکی مگر آیات 8 تا 10 مدینے میں نازل ہوئی ہیں۔

جہاں تک اس سورت کے مضامین اور اندازِ بیاں کا تعلق ہے، وہ مدنی سورتوں کے مضامین اور اندازِ بیاں سے بہت مختلف ہے، بلکہ اس پر غور کرنے سے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف مکی ہے بلکہ مکہ معظمہ کے بھی اس دور میں نازل ہوئی ہے جو سورۂ مدثر کی ابتدائی سات آیات کے بعد شروع ہوا تھا۔ رہیں آیات 8 تا 10 تو وہ پوری سورت کے سلسلۂ بیان میں اس طرح پیوست ہیں کہ سیاق و سباق کے ساتھ کوئی ان کو پڑھے تو ہرگز یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ ان سے پہلے اور بعد کا مضمون تو 15 – 16 سال پہلے نازل ہوا تھا اور اس کے کئی سال بعد نازل ہونے والی یہ تین آیتیں یہاں لا کر ثبت کر دی گئیں۔

دراصل جس بنا پر اس سورت کے یا اس کی بعض آیات کے مدنی ہونے کا خیال پیدا ہوا ہے وہ ایک روایت ہے جو عطاء نے ابن عباس رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتب حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور بہت سے صحابہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ بعض صحابہ نے حضرت علی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کو مشورہ دیا کہ آپ دونوں بچوں کی شفا کے لیے اللہ تعالٰی سے کوئی نذر مانیں۔ چنانچہ حضرت علی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ، حضرت فاطمہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا اور ان کی خادمہ فضہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے دونوں بچوں کو شفا عطا فرما دی تو یہ سب شکرانے کے طور پر تین دن کے روزے رکھیں گے۔ اللہ کا فضل ہوا کہ دونوں تندرست ہو گئے اور تینوں صاحبوں نے نذر کے روزے رکھنے شروع کر دیے۔ حضرت علی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ انھوں نے تین صاع جو خرید لیے (اور ایک روایت میں ہے کہ محنت مزدوری کر کے حاصل کیے) پہلا روزہ کھول کر جب کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک مسکین نے کھانا مانگا۔ گھر والوں نے سارا کھانا اسے دے دیا اور خود پانی پی کر سو رہے۔ دوسرے دن پھر افطار کے بعد کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک یتیم آگیا اور اس نے سوال کیا۔ اس روز بھی سارا کھانا انھوں نے اس کو دے دیا اور پانی پی کر سو رہے۔ تیسرے دن روزہ کھول کر ابھی کھانے کو بیٹھے ہی تھے کہ ایک قیدی نے آ کر وہی سوال کر دیا اور اس روز کا بھی پورا کھانا اسے دے دیا گیا۔ چوتھے روز حضرت علی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ دونوں بچوں کو لیے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور نے دیکھا کہ بھوک کی شدت سے تینوں باپ بیٹوں کا برا حال ہو رہا ہے۔ آپ اٹھ کر اُن کے ساتھ حضرت فاطمہ رَضی اللہُ تعالیٰ عنہا کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ بھی ایک کونے میں بھوک سے نڈھال پڑی ہیں۔ یہ حال دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر رقت طاری ہو گئی۔ اتنے میں جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انھوں نے عرض کیا کہ لیجیے، اللہ تعالٰی نے آپ کے اہل بیت کے معاملہ میں آپ کو مبارک باد دی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب میں یہ پوری سورت آپ کو پڑھ کر سنائی (ابن مہران کی روایت میں ہے کہ آیت ‘‘ان الابرار یشربون‘‘ سے لے کر آخر تک آیات سنائیں گئیں مگر ابن مردویہ نے ابن عباس سے جو روایت نقل کی ہے اس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آیت ‘‘و یطعمون الطعام‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس قصے کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے۔) یہ پورا قصہ علی بن احمد الواحدی نے اپنی تفسیر البسیط میں بیان کیا ہے اور غالباً اسی سے زمخشری، رازی اور نیسا بوری وغیرہم نے اسے نقل کیا ہے۔

یہ روایت اول تو سند کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے۔ پھر درایت کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسکین، ایک یتیم اور ایک قیدی اگر آ کر کھانا مانگتا ہے تو گھر کے پانچوں افراد کا پورا کھانا اس کو دے دینے کی کیا معقول وجہ ہو سکتی ہے؟ ایک آدمی کا کھانا اس کو دے کر گھر کے پانچ افراد چار آدمیوں کے کھانے پر اکتفا کر سکتے تھے۔ پھر یہ بھی باور کرنا مشکل ہے کہ دو بچے جو ابھی ابھی بیماری سے اٹھے تھے اور کمزوری کی حالت میں تھے، انھیں بھی تین دن بھوکا رکھنے کو حضرت علی اور حضرت فاطمہ جیسی کامل فہمِ دین رکھنے والی ہستیوں نے نیکی کا کام سمجھا ہوگا۔ اس کے علاوہ قیدیوں کے معاملے میں یہ طریقہ اسلامی حکومت کے دور میں کبھی نہیں رہا کہ انھیں بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ وہ اگر حکومت کی قید میں ہوتے تو حکومت ان کی خوراک اور لباس کا انتظام کرتی تھی اور کسی شخص کے سپرد کیے جاتے تو وہ شخص انھیں کھانے پلانے کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ اس لیے مدینہ طیبہ میں یہ بات ممکن نہ تھی کہ کوئی قیدی بھیک مانگنے کے لیے نکلتا۔ تاہم ان تمام نقلی اور عقلی کمزوریوں کو نظر انداز کر کے اگر اس قصے کو بالکل صحیح ہی مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ اس سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس نیک عمل کا صدور ہوا تو جبریل علیہ السلام نے آ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالٰی کے ہاں آپ کے اہل بیت کا یہ فعل بہت مقبول ہوا ہے، کیونکہ انھوں نے ٹھیک وہی پسندیدہ کام کیا ہے جس کی تعریف اللہ تعالٰی نے سورۂ دہر کی ان آیات میں فرمائی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیات نازل بھی اسی موقع پر ہوئی تھیں۔ شان نزول کے بارے میں بہت سی روایات کا حال یہی ہے کہ کسی آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو دراصل اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ آیت اس واقعہ پر ٹھیک چسپاں ہوتی ہے۔ امام سیوطی نے اتقان میں حافظ ابن تیمیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ

راوی جب یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے تو کبھی اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہی معاملہ اس کے نزول کا سبب ہے، اور کبھی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے اگرچہ وہ اس کے نزول کا سبب نہ ہو

آگے چل کر وہ امام بدر الدین زرکشی کا قول ان کی کتاب البرہان فی علوم القرآن سے نقل کرتے ہیں کہ

صحابہ اور تابعین کی یہ عادت معروف ہے کہ ان میں سے کوئی شخص جب یہ کہتا ہے کہ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس آیت کا حکم اس معاملہ پر چسپاں ہوتا ہے، نہ یہ کہ وہی اس واقعہ کے نزول کا سبب ہے۔ پس دراصل اس کی نوعیت آیت کے حکم سے استدلال کی ہوتی ہے نہ کہ بیانِ واقعہ کی

[1]

موضوع اور مضمون

ترمیم

اس سورت کا موضوع انسان کو دنیا میں اس کی حقیقی حیثیت سے آگاہ کرنا اور یہ بتانا ہے کہ اگر وہ اپنی اس حیثیت کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر شکر کا رویہ اختیار کرے تو اس کا انجام کیا ہوگا اور کفر کی راہ چلے تو کس انجام سے وہ دوچار ہوگا۔ قرآن کی بڑی سورتوں میں تو یہ مضمون بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، لیکن ابتدائی مکی دور کی سورتوں کا یہ خاص اندازِ بیان ہے کہ جو باتیں بعد کے دور میں مفصل ارشاد ہوئی ہیں، وہی اس دور میں بڑے مختصر مگر انتہائی موثر طریقے سے ذہن نشین کرائی گئی ہیں اور ایسے چھوٹے چھوٹے خوبصورت فقرے استعمال کیے گئے ہیں جو سننے والوں کی زبان پر خود بخود چڑھ جائیں۔

اس میں سب سے پہلے انسان کو یاد دلایا گيا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب وہ کچھ نہ تھا، پھر ایک مخلوط نطفے سے اس کی ایسی حقیر سے ابتدا کی گئی کہ اس کی ماں تک کو خبر نہ تھی کہ اس کے وجود کی بنا پر پڑ گئی ہے اور کوئی اس خورد بینی وجود کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ کوئی انسان ہے جو آگے چل کر اس زمین پر اشرف المخلوقات بننے والا ہے۔ اس کے بعد انسان کو خبردار کیا گیا ہے کہ تیری تخلیق اس طرح کر کے تجھے یہ کچھ ہم نے اس لیے بنایا ہے کہ ہم دنیا میں رکھ کر تیرا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ اسی لیے دوسری مخلوقات کے برعکس تجھے ہوش گوش رکھنے والا بنایا گیا ہے اور تیرے سامنے شکر اور کفر کے دونوں راستے کھول کر رکھ دی گئے تاکہ یہاں کام کرنے کا جو وقت تجھے دیا گیا ہے اس میں تو دکھا دے کہ اس امتحان سے شاکر بن کر نکلا ہے یا کافر بندہ بن کر۔

پھر صرف ایک آیت میں دو ٹوک طریقے سے بتا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اس امتحان سے کافر بن کر نکلیں گے انھیں آخرت میں کیا انجام دیکھنا ہوگا۔

اس کے بعد آیت نمبر 5 سے 22 تک مسلسل ان انعامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جن سے وہ لوگ اپنے رب کے ہاں نوازے جائیں گے جنھوں نے یہاں بندگی کا حق ادا کیا ہے۔ ان آیات میں صرف ان کی بہترین جزا بتانے ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ مختصراً یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ ان کے وہ کیا اعمال ہیں جن کی بنا پر وہ اس جزا کے مستحق ہوں گے۔ مکی دور کی ابتدائی سورتوں کی خصوصیات میں سے ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں اسلام کے بنیادی عقائد اور تصورات کا مختصر تعارف کرانے کے ساتھ ساتھ کہیں وہ اخلاقی اوصاف اور نیک اعمال بھی بیان کیے گئے ہیں جو اسلام کی نگاہ میں قابل قدر ہیں اور کہیں اعمال و اخلاق کی ان برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اسلام انسان کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اس لحاظ سے بیان نہیں کی گئی ہیں کہ ان کا کیا اچھا یا برا نتیجہ دنیا کی اس عارضی زندگی سے نکلتا ہے، بلکہ صرف اس حیثیت سے ان کا ذکر کیا ہے کہ آخرت کی ابدی اور پائیدار زندگی میں ان کا مستقل نتیجہ کیا ہوگا قطع نظر اس سے کہ دنیا میں کوئی بری صفت مفید ہو یا کوئی اچھی صفت نقصان دہ ثابت ہو۔

یہ پہلے رکوع کا مضمون ہے۔ اس کے بعد دوسرے رکوع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کر کے تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ دراصل یہ ہم ہی ہیں جو اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے تم پر نازل کر رہے ہیں اور اس سے مقصود حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں بلکہ کفار کو خبردار کرنا ہے کہ یہ قرآن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود اپنے دل سے نہیں گھڑ رہے ہیں بلکہ اس کے نازل کرنے والے "ہم" ہیں اور ہماری حکمت ہی اس کی مقتاضی ہے کہ اسے یک بارگی نہیں بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کریں۔ دوسری بات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ فرمائی گئی ہے کہ تمھارے رب کا فیصلہ صادر ہونے میں خواہ کتنی ہی دیر لگے اور اس دوران میں تم پر خواہ کچھ ہی گذر جائے، بہرحال تم صبر کے ساتھ اپنا فریضۂ رسالت انجام دیے چلے جاؤ اور کبھی ان بد عمل اور منکر حق لوگوں میں سے کسی کے دباؤ میں نہ آؤ۔ تیسری بات آپ سے یہ فرمائی گئی ہے کہ شب و روز اللہ کو یاد کرو، نماز پڑھو اور راتیں اللہ کی عبادت میں گزارو، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس سے کفر کی طغیانی کے مقابلے میں اللہ کی طرف بلانے والوں کو ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے۔

پھر ایک فقرے میں کفار کے غلط رویے کی اصل وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ آخرت کو بھول کر دنیا پر فریفتہ ہو گئے ہیں اور دوسرے فقرے میں ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم خود نہیں بن گئے ہو، ہم نے تمھیں بنایا ہے، یہ چوڑے چکلے سینے اور مضبوط ہاتھ پاؤں تم نے خود اپنے لیے نہیں بنا لیے ہیں، ان کے بنانے والے بھی ہم ہی ہیں اور یہ بات ہر وقت ہماری قدرت میں ہے کہ جو کچھ ہم تمھارے ساتھ کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ تمھاری شکلیں بگاڑ سکتے ہیں، تمھیں ہلاک کر کے کوئی دوسری قوم تمھاری جگہ لا سکتے ہیں۔ تمھیں مار کر دوبارہ جس شکل میں چاہیں تمھیں پیدا کر سکتے ہیں۔

آخر میں کلام اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ یہ ایک کلمۂ نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اسے قبول کر کے اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ مگر دنیا میں انسان کی چاہت ہی سب کچھ نہیں ہے۔ کسی کی چاہت بھی پوری نہیں ہو سکتی جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ کی چاہت اندھا دھند نہیں ہے، وہ جو کچھ بھی چاہتا ہے اپنے علم اور اپنی حکمت کی بنا پر چاہتا ہے۔ اس علم اور حکمت کی بنا پر جسے وہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھتا ہے اسے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے اور جسے وہ ظالم پاتا ہے اس کے لیے دردناک عذاب کا انتظام اس نے کر رکھا ہے۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. الاتقان فی علوم القرآن، جلد اول، صفحہ 31، طبع 1929ء