شکر اللہ (عثمانی مؤرخ)

شکر اللہ بن امام شہاب الدین احمد بن امام زین الدین ذکی (ترکی زبان: Şükrüllah bin İmâm Şihâbeddîn Ahmed bin İmâm Zeyneddîn Zekîdir)(1388-1488)، پندرہویں صدی کے عثمانی مورخ اور سفارت کارتھے۔ [1] وہ 1388 عیسوی میں اماسیہ میں پیدا ہوئے اور استنبول میں وفات پائی، اور وہ عثمانی تاریخ کے اولین تاریخ دانوں میں سے ایک ہیں۔ اس نے فارسی زبان میں ایک عالمی شہرت یافتہ تاریخی کتاب لکھی جس کا عنوان تھا: «بهجة التواريخ»(" اسباقِ تواریخ ") اور اسے وزیر اعظم محمود پاشا کو پیش کیا۔ ان کی کتاب بعد کے عثمانی مورخین کے لیے نصاب کی حیثیت اختیار کر گئی۔

شکر اللہ (عثمانی مؤرخ)
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1388  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اماسیا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1488 (99–100 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the Ottoman Empire (1844–1922).svg سلطنت عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سفارت کار،  سیاست دان،  مورخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

زندگیترميم

شکراللہ 1388ء میں پیدا ہوئے اور ان کے والد کا نام شہاب الدین احمد ہے۔ وہ 1409 عیسوی میں عثمانی سروس میں داخل ہوا، [2] اور بورصہ میں قاضی کے طور پر خدمات انجام دیں۔ سلطان مراد ثانی نے انہیں کچھ قرہ قویونلو کی طرف سفیر بنا کر بھیجا تھا۔

ان کی تحاریر میں میں تاریخی اور مذہبی مضامین شامل ہیں۔ اس نے 1460 کی دہائی میں فارسی زبان میں "بہجۃ التواریخ" کے نام سے ایک عالمی تاریخ لکھی اور اسے صدر اعظم ولی محمود پاشا (ترکی زبان: Veli Mahmud Paşa) کو پیش کیا۔ [3] ان کی کتاب کو بعد کے عثمانی مورخین نے استعمال کیا۔ [3]

کتاب "بهجة التواريخ"ترميم

 
کتاب کے اصل مخطوطہ کا پہلا صفحہ ترکی زبان: Behcetü't Tevârîh

کتاب "بهجۃ التواريخ" (ترکی زبان: Behcetü't Tevârîh)1456ء سے 1459ء کے درمیان گئی فارسی زبان میں لکھی گئی ایک تاریخی کتاب ہے۔ اس کتاب کا فارسی سے ترکی میں ترجمہ 1530 عیسوی میں سلطان سلیمان ذی شان کے دور میں ہوا۔

یہ کتاب 13 ابواب پر مشتمل ہے، پہلے آٹھ ابواب میں کائنات اور پہلے انسان کی تخلیق، چینی ، ترک ، رومی اور کچھ دیگر قوموں کی تاریخ بیان کی گئی ہے، اور اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چند دیگر مسلم شخصیات کی سیرت بیان کی گئی ہے۔گیارہویں باب میں ، اور مسلم اور غیر مسلم حکمرانوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ 12واں باب امویوں، عباسیوں ، علویوں اور سلجوقیوں کی تاریخ میں منقسم ہے۔ آخری باب خلافت عثمانیہ کے لیے وقف ہے ۔

موتترميم

شکراللہ کا انتقال 1488ء میں استنبول ، ترکی میں ہوا، اور ان کی قبر شیخ وفا مسجد میں واقع ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. The Oxford History of Historical Writing 3: 1400–1800, José Rabasa,D. Daniel R. Woolf, p. 196, 2012
  2. "ŞÜKRULLAH - TDV İslâm Ansiklopedisi". اخذ شدہ بتاریخ 06 مارچ 2022. 
  3. ^ ا ب Andrew؛ Woolf، Daniel؛ Rabasa، José؛ Sato، Masayuki؛ Hardy، Grant؛ Hesketh، Ian؛ Tortarolo، Edoardo (2011). The Oxford History of Historical Writing: Volume 3: 1400-1800 (بزبان انگریزی). OUP Oxford. ISBN 978-0-19-921917-9. 6 مارس 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ.