قرہ قویونلو ترکمان نسل کا ایک قبیلہ تھا جس نے موجودہ مشرقی اناطولیہ، آرمینیا، ایرانی آذربائیجان اور شمالی عراق پر 1375ء سے 1468ء تک حکومت کی۔

قرہ قویونلو ترکمانوں نے ایک مرتبہ مشرقی فارس میں ہرات کو بھی اپنا دار الحکومت بنایا۔ وہ جلائر کے باجگذار تھے لیکن 1375ء میں ترکمانوں نے جلائر کے خلاف بغاوت کرکے آزادی حاصل کرلی اور قرا یوسف نوین بن محمد کی زیر قیادت تبریز پر قبضہ لیا۔

1400ء میں امیر تیمور کی افواج نے قرہ قویونلو ترکمانوں کو شکست دی تو قرا یوسف نوین بن محمد نے مصر بھاگ کر مملوکوں کے سلطان سیف الدین برقوق کی پناہ لے لی۔ وہاں اس نے فوج اکٹھی کی اور 1406ء میں تبریز واپس لے لیا۔

1410ء میں قرہ قویونلو نے بغداد پر قبضہ کر لیا۔ 1420ء میں قرا یوسف کی وفات کے بعد جانشینوں میں خانہ جنگی اور تیمور کے بڑھتے ہوئے خطرے کے باوجود قرہ قویونلو نے اپنے زیر تسلط علاقوں پر مضبوط گرفت رکھی۔

جہان شاہ نے تیموری بادشاہ شاہ رخ مرزا کے ساتھ امن معاہدہ کیا لیکن یہ معاہدہ 1447ء میں شاہ رخ کے انتقال کے ساتھ ہی ختم ہو گیا اور قرہ قویونلو نے عراق اور جزیرہ نما عرب کے مشرقی ساحلوں پر حملے کیے اور تیموری سلطنت کے حصے مغربی ایران کو بھی نشانہ بنایا۔

سلطنت میں توسیع کے باوجود جہان شاہ کا دور بیٹوں کی بغاوتوں اور تقریبا نیم خود مختار بغداد کے حکمرانوں سے متاثر ہوا جسے اس نے 1464ء میں نکال باہر کیا۔

1466ء میں جہان شاہ نے آق قویونلو ترکمانوں سے دیار باکر حاصل کرنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ انتہائی بھیانک نکلا اور جہان شاہ مارا گیا اور مشرق وسطی میں قرہ قویونلو کا خاتمہ ہو گیا۔ 1468ء میں آق قویونلو نے قرہ قویونلو کی باقیات کا بھی خاتمہ کر دیا۔

حکمران قراقویونلو ایران

ترمیم
خطاب نام دور حکومت
بیگ قرا محمد ترمش بن بیرم خواجہ 1378 - 1388
بیگ
ابو النصر
قرا یوسف نوین بن محمد 1388 - 1399
قراقويونلو پر امیر تیمور کا حملہ(1400 - 1405)
بیگ
ابو النصر
قرا یوسف نوین بن محمد 1405 - 1420
بیگ قرا اسکندر بن یوسف 1420 - 1436
بیگ
مظفرالدین
جہاں شاہ ابن یوسف 1436 - 1467
بیگ حسن علی ابن جہاں شاہ 1467 - 1468
آق قویونلو نے قراقویونلو پر غلبہ پا لیا-
    • پیلے رنگ کے خانے میں سلسلہ قراقویونلو کے رہنما اور بانی کے والد کا نام ہے-