صفوان بن امیہ یہ امیہ بن خلف مشہور دشمن اسلام کے بیٹے تھے۔

صفوان بن امیہ
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 661  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ناجیہ بنت ولید بن مغیرہ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد امیہ بن خلف  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ربیعہ بن امیہ  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

صفوان نام، ابو وہب کنیت، نسب نامہ یہ ہے، صفوان بن امیہ بن خلف بن وہب ابن حمج قرشی،زمانہ جاہلیت میں صفوان کا خاندان نہایت معزز اورمفتخر تھا، ایسار یعنی تیروں سے پانسا ڈالنے کا عہدہ ان ہی کے گھر میں تھا، کوئی پبلک کام اس وقت تک نہ ہو سکتا تھا، جب تک پانسا سے اس کا فیصلہ نہ ہو جائے۔

اسلام سے دشمنیترميم

قریش کے دوسرے معززین کی طرح صفوان کا باپ امیہ بھی اسلام کا سخت مخالف تھا، بلال حبشی اسی کی غلام تھے، بدر میں مشرکین کی شکست اورباپ کے قتل نے صفوان کو بہت زیادہ مشتعل کر دیا، ایک دن یہ اور عمیر بن وہب بیٹھے ہوئے بدر کے واقعات کا تذکرہ کر رہے تھے، صفوان نے کہا مقتولین بدر کے بعد زندگی کا مزہ جاتا رہا، عمیر نے جواب دیا سچ کہتے ہو، کیا کہیں اگر قرض کا بار نہ ہوتا اور بال بچوں کے مستقبل کی فکر نہ ہوتی تو محمدﷺ کو قتل کرکے یہ قصہ ہی ختم کردیتا، صفوان باپ کے خون کے انتقام کے لیے بیتاب تھے، بولے یہ کون سی بڑی بات ہے، میں ابھی تمہارا قرض چکائے دیتا ہوں، رہا اہل و عیال کا معاملہ تو ان کے متعلق بھی یقین دلاتا ہوں کہ تمہارے بعد اپنے بال بچوں کی طرح ان کی کفالت اورخبر گیری کروں گا؛چنانچہ عمیر کو آمادہ کرکے انہیں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار دیکر آنحضرتﷺ کا قصہ چکانے کے لیے مدینہ بھیجا، مگر مدینہ پہنچنے کے بعد جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے تو راز فاش ہو گیا اور عمیر مسلمان ہو گئے۔[1] 3ھ میں بعض نو مسلم قبائل کی درخواست پر آنحضرتﷺ نے ان کی تعلیم کے لیے قاری صحابہ کی ایک جماعت بھیجی تھی،راستہ میں بنی لحیان نے ان پر حملہ کر دیا، اس حملہ میں چند صحابہ شہید ہوئے اورچند زندہ گرفتار کیے گئے، گرفتار ہونے والوں میں ایک صحابی زید بن دثنہ تھے،ان کو بیچنے کے لیے مکہ لایا گیا، صفوان نے خرید کر اپنے باپ کے بدلہ میں قتل کیا۔[2]

اس کے بعد صفوان کو اسلام سے پہلے سی پرخاش باقی نہ رہی ؛بلکہ اندرونی طور پر وہ متاثر ہونے لگے؛چنانچہ ۷ھ میں جب غزوۂ خیبر پیش آیا تو دوسرے آلاتِ حرب تو مسلمانوں کو مہیا ہوگئے،لیکن زرہیں نہ تھیں، آنحضرتﷺ نے صفوان سے مانگ بھیجیں،انہوں نے کہا عاریۃ یا غصباً، فرمایا عاریۃً؛چنانچہ صفوان نے چند زر ہیں، عاریۃً دیں یہ پہلا موقع تھا کہ ان کے جیسے دشمن اسلام کی جانب سے اس کی امداد کا کوئی کام ہوا، ان زر ہوں میں سے غزوۂ خیبر میں چند ضائع ہوگئیں،آنحضرتﷺ نے تاوان دینا چاہا، لیکن صفوان نے قبول نہ کیا اورکہا یا رسول اللہ آج اسلام کی جانب میرا میلان ہورہا ہے [3] لیکن قومی عصبیت نے اس میلان کو دبادیا اور فتح مکہ میں مسلمانوں سے مزاحم ہوئے۔ [4]

قبول اسلامترميم

فتح مکہ کے بعدصفوان نے جدہ کا راستہ لیا، ان کے عزیز اورقدیم رفیق عمیر بن وہب نے جو بدر کے بعد ہی مشرف باسلام ہو گئے تھے،آنحضرتﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ سردارِ قوم صفوان بن امیہ آپ کے خوف سے بھاگ گئے ہیں، آپ نے فرمایا وہ مامون ہیں، عمیر نے کہا یا رسول اللہ جان بخشی کی کوئی نشانی مرحمت ہو،آپ نے ردائے مبارک دی کہ وہ اسے دکھا کر صفوان کو اسلام کی دعوت دیں اورانہیں آنحضرتﷺ کے پاس بلا لائیں، اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو فبہا ورنہ انہیں غور کرنے کے لیے دو مہینہ کی مہلت دیجائے، عمیر ردائے مبارک لیکر صفوان کی تلاش میں نکلے اورانہیں رداءدکھا کر مدینہ واپس لے آئے اوروہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مجمع عام میں بلند آواز سے آپ سے پوچھا محمد عمیر بن وہب نے مجھ سے تمہاری چادر دکھا کر کہا ہے کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اورمجھے اختیار دیا ہے کہ اگر میں پسند کروں تو اسلام قبول کرلوں، ورنہ دو مہینہ کی مہلت ہے،آنحضرتﷺ نے فرمایا ابو وہب سواری سے اترو، انہوں نے کہا جب تک صاف نہ بتاؤ گے نہ اتروں گا،آنحضرتﷺ نے فرمایا دو کی بجائے تم کو چار مہینہ کی مہلت ہے۔ جنگ حنین اورطائف ہوئی،اس میں بھی انہوں نے اسلحہ سے مسلمانوں کی مدد کی اورخود بھی دونوں لڑائیوں میں شریک ہوئے [5] آنحضرتﷺ نے حنین کے مالِ غنیمت میں سے سو اونٹ انہیں دیے یہ لطف و عنائت دیکھ کر صفوان نے کہا ایسی فیاضی نبی ہی کر سکتا ہے ان کی بیوی ان سے پہلے مشرف باسلام ہوچکی تھی،لیکن آنحضرتﷺ نے دونوں میں تفریق نہیں کی۔ آنحضرتﷺ کے اس طرز عمل سے متاثر ہوکر غزوۂ طائف کے چند دنوں بعد مشرف اسلام ہو گئے،اس وقت آنحضرتﷺ نے نکاح کی تجدید نہیں فرمائی۔

مدینہ کا سفرترميم

صفوان تاخیر اسلام کی وجہ سے ہجرت کا شرف حاصل نہ کرسکے تھے، کسی نے ان سے کہا جو ہجرت کے شرف سے محروم رہا وہ ہلاک ہو گیا، صفوان یہ سن کر ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے۔ عباس کے یہاں اُترے،آنحضرتﷺ کو ان کی ہجرت کی خبر ہوئی، تو فرمایا،فتح کے بعد ہجرت نہیں ہے انہیں مکہ واپس جانے کا حکم دیا، اس حکم پر صفوان مکہ واپس گئے،اوربقیہ زندگی مکہ ہی میں بسر کی۔

جنگ یرموکترميم

عمرفاروق کے زمانہ میں شام کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے اور اس سلسلہ کی مشہور جنگ یرموک میں ایک دستہ کے افسر تھے۔[6]

وفاتترميم

امیر معاویہ کے عہدِ خلافت میں وفات پائی وفات کے بعد دو لڑکے امیہ اور عبد اللہ یاد گار چھوڑے[7]

فضل وکمالترميم

فضل وکمال کے لحاظ سے کوئی خاص مرتبہ نہ تھا، تاہم احادیث سے انکا دامنِ علم خالی نہیں ہے، امیہ ،عبد اللہ ،صفوان بن عبد اللہ، حمید بن حجیر، سعید بن مسیب،عطاء، طاؤس ،عکرمہ اورطارق بن مرقع وغیرہ نے ان سے روایتیں کی ہیں [8] البتہ اس عہد کے دوسرے ممتاز علوم میں کمال رکھتے تھے؛چنانچہ خطابت،فصاحت وبلاغت میں جو اس عہد کے کمالات تھے،صفوان کا شمار بلغائے عرب میں تھا۔ [9]

عام حالاتترميم

فیاضی اورسیر چشمی ان کی فطرت میں تھی،زمانہ جاہلیت ہی سے وہ قریش کے فیاض اورعالی حوصلہ لوگوں میں تھے اوران کا دسترخوان لوگوں کے لیے صلائے عام تھا۔ [10]

حوالہ جاتترميم

  1. طبقات ابن سعد تذکرہ عمیر بن وہب
  2. سیرۃ ابن ہشام:2/711
  3. (مسند آحمد بن حنبل:۳/۴۰۱)
  4. (سیرۃ ابن ہشام:۲/۳۳۸)
  5. موطا امام مالک:117
  6. طبری:209
  7. استیعاب:1/228
  8. (تہذیب التہذیب :4/424)
  9. (اصابہ:3/237)
  10. (استیعاب:2/329)