امیہ بن خلف اسلام کا بہت بڑا دشمن اور بلال بن رباح اور خباب بن الارت کا آقا جس کے خلاف قرآن میں آیتیں نازل ہوئیں۔

امیہ بن خلف
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام وفات بدر  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مقتول  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد صفوان بن امیہ،  ربیعہ بن امیہ  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بلال اور خباب پر ستمترميم

خباب بن الارت اور بلال بن رباح غلام تھے۔ ان کا آقا امیہ بن خلف بڑا ظالم اور سخت گیر تھا۔ جب یہ مسلمان ہو گئے تو ان کو بھوکا پیاسا بھی رکھتا اور مارتا اور کہتا کلمہ چھوڑ دے۔ ایک دن بلال کو ایسی ہی اذیتیں دی جا رہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ہوا۔ آپ سیدنا بلال پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہذا سیدنا ابوبکر سے کہا کہ وہ بلال کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے امیہ بن خلف کو بلال کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔[1]

قتل کی پیشین گوئیترميم

رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق پیشین گوئی کی تھی کہ مسلمانوں کے ہاتھوں امیہ بن خلف قتل ہوگا

  • انصار کے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ جنگ بدر سے پہلے عمرہ کی نیت سے مکہ آئے اور اپنے حلیف دوست امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے اس وقت ابو جہل رئیس مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ کوئی مسلمان کعبہ میں داخل ہونے اور طواف نہ کرنے پائے۔ امیہ بن خلف رواداری کی وجہ سے سیدنا سعد کو کعبہ لے گیا وہ طواف کر ہی رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھ لیا تو سیدنا سعد پر برس پڑا۔ سیدنا سعد نے کڑک کر جواب دیا کہ اگر تم مجھے روکو گے تو میں تمہارے تجارتی قافلہ کی راہ روک کر تمہارا ناک میں دم کر دوں گا۔ امیہ سیدنا سعد سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ابو جہل سے آرام سے بات کرو۔ یہ مکہ کا سردار ہے۔ سیدنا سعد کہنے لگے تم ابو جہل کی اتنی طرف داری نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ تم ان کے اصحاب کے ہاتھوں قتل ہو گے۔ امیہ نے پوچھا کیا یہاں مکہ میں؟ سیدنا سعد نے فرمایا۔ میں یہ نہیں جانتا۔ پھر کہنے لگے کہ تمہارے قتل کا سبب یہی ابو جہل بنے گا۔ [2]

عبد الرحمن بن عوف کا بچاناترميم

جاہلیت کے دور میں امیہ بن خلف اور عبدالرحمن بن عوف میں دوستی تھی۔ غزوہ بدر میں جب مسلمان کافروں کو گرفتار کر رہے اور مال غنیمت اکٹھا کر رہے تھے اس وقت عبد الرحمن بن عوف چند ز رہیں سنبھالے جا رہے تھے۔ امیہ نے انہیں دیکھ لیا اور پکار کر کہا : تمہیں میری ضرورت ہے؟ میں تمہاری ان زر ہوں سے بہتر ہوں۔ امیہ کا مطلب یہ تھا کہ اگر عبد الرحمن بن عوف مجھے قیدی بنا کر اپنی پناہ میں لے لیں تو میں کم از کم جان سے تو بچ جاؤں گا اور اگر زندہ رہا تو انہیں اس کام کا اتنا معاوضہ دوں گا جو ان زرہوں سے کہیں بہتر ہوگا۔

بلال حبشی کا قتل کرناترميم

عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے علی دونوں کو گرفتار کرکے آگے بڑھا ہی تھا کہ اتفاق سے سیدنا بلال کی نظر امیہ بن خلف پر پڑ گئی۔ امیہ کو دیکھتے ہی انہیں وہ زمانہ یاد آگیا جب امیہ ان پر مشق ستم کیا کرتا تھا۔ وہ فوراً پکار اٹھے ' اوہ! کفر کا سر! امیہ بن خلف! آج یا میں زندہ رہوں گا یا یہ زندہ رہے گا ' میں نے سیدنا بلال کو بہتیرا سمجھایا کہ یہ میرا قیدی ہے مگر وہ کسی صورت نہ مانے اور انصار کو بلا کر وہی بات کہی کہ ' آج یا میں زندہ رہوں گا یا یہ کفر کا سر ' چنانچہ ان لوگوں نے ہمیں گھیرے میں لے لیا۔ میں ان کا بچاؤ کر رہا تھا بلکہ اپنے آپ کو امیہ پر ڈال رہا تھا۔ مگر ہجوم کے سامنے میری کچھ پیش نہ گئی۔ ان لوگوں نے امیہ کو میرے نیچے سے نکال کر باپ اور بیٹے دونوں کو بیدردی سے قتل کر دیا۔ مرنے سے پہلے امیہ نے ایسی دردناک چیخ ماری جیسی میں نے پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ عبد الرحمن بن عوف کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ بلال پر رحم فرمائے۔ جنگ بدر کے دن میری ز رہیں بھی گئیں اور میرے قیدی کے بارے میں مجھے تڑپا بھی دیا۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. ابن ہشام 9: 317: رحمۃ للعالمین 1: 57
  2. بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام
  3. بخاری۔ کتاب الجہاد باب دعا النبی علی المشرکین