طارق رمضان 26 ستمبر 1962ء کو جینوا سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ مسلمان سکالر سعید رمضان کے بیٹے اور اخوان المسلمون کے بانی امام حسن البنا کے نواسے ہیں۔ ان کے والد مصری صدر جمال عبدالناصر کے دور میں جلاوطن کردئے گئے تھے جس کے بعد وہ پہلے سعودی عرب اور پھر سوئٹزرلینڈ منتقل ہو گئے۔ طارق رمضان نے یہاں ہی گریجویشن اور پھر فلسفہ اور فرانسیسی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ عربی اور مطالعہ علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ جامعۃ الازہر چلے گئے ۔

طارق رمضان
TariqRamadan2016.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 26 اگست 1962 (58 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جنیوا[2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Switzerland (Pantone).svg سویٹزرلینڈ[3]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
والد سعید رمضان  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ہانی رمضان  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر
جامعہ جنیوا  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر اسلامیات،  الٰہیات دان،  فلسفی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فرانسیسی[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت یونیورسٹی آف نوٹری ڈیم،  جامعہ اوکسفرڈ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عملی زندگی سرگرمیاںترميم

ان دنوں وہ جینوا میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ وہ 1996ء سے 2003ء تک فری بورگ یونیورستی میں مذہب اور فلسفہ کی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ اکتوبر 2005ء میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورستی کے سینٹ انٹونی کالج سیان کا وزیٹنگ فیلوشپ کا تعلق قائم ہو گیا۔ وہ لوکہائی فاونڈیشن میں سینئر ریسرچ فیلو کے کام کر رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ کا تعلق فرانس سے ہے جنہوں نے شادی کے بعد اسلام قبول کیا۔ طارق رمضان سوئٹزلینڈ میں ’’موومنٹ فار سوئس مسلمز کے نام سے ایک تنظیم بھی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے متعدد بین المذاہب سیمنار بھی منعقد کرائے۔ اس طرح انہوں نے اسلام اور سیکولرازم کے نام سے ایک کمیشن بھی قائم کیا۔ اس طرح مختلف یونیوسٹیوں سے اسلام کا روشن پہلو واضح کرنے کے لیے وہ لیکچرز دیتے رہتے ہیں۔ ان میں پورپ اور امریکا کی یونیوسٹیاں شامل ہیں۔

نظریاتترميم

2003 میں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کیا تو طارق رمضان اس کی بھرپور مذمت کی۔ دوسری طرف وہ خودکش حملوں سمیت دیگر کارائیوں کے بھی سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی صورت میں ہونا جائز نہیں۔ فرانس میں سکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے حجاب اور دیگر مذہبی چیزوں کے پہننے پر ممانعت کا قانون تیار ہوا تو طارق رمضان نے اس کی مخالفت کی۔ اسی طرح جب مسیحی پوپ بینڈیکٹ نے اسلام کے خلاف تقریر کی اور مسلمان معاشروں میں اس کے خلاف شدید رد عمل ہوا تو طارق رمضان نے اسے نامناسب رویہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے اس قسم کے رد عمل سے دنیا میں اسلام کا مقام و مرتبہ میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں تشدد کی راہ سے زیادہ مسلمانوں کو دعوت کی راہ اپنانی چاہیے۔ پھر طارق رمضان نے ایک مضمون لکھا جسے فرانسیسی اخباروں نے چھاپنے سے انکار کر دیا۔ تاہم ایک سائیٹ امہ ڈاٹ کام نے اسے شائع کر دیا۔ اس میں طارق رمضان نے مختلف فرانسیسی یہودی دانشوروں اور شخصیات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جو انسانی حقوق کی پامالی اور اسرائیل کی ناجائز حمایت کرتے رہے ہیں۔ ان یہودی شخصیات کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے عراق پر حملہ ضروری تھا۔ اس مضمون کے جواب میں طارق رمضان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ یہود دشمن ہے۔ مغرب میں بعض ادارے انہیں اسلام کا ’’مارٹن لوتھر‘‘ کہتے ہیں۔ طارق رمضان کی اب تک پندرہ کتب شائع ہو چکی ہیں۔

تنازعاتترميم

اُن پر دو سے زائد خواتین نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہے۔ فرانسیسی پولیس نے 31 جنوری کو انہی الزامات کے تحت انہیں حراست میں لیا۔

حوالہ جاتترميم

  1. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/ramadan-tariq — بنام: Tariq Ramadan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ربط : https://d-nb.info/gnd/123322022  — اخذ شدہ بتاریخ: 11 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  3. https://www.lepoint.fr/societe/tariq-ramadan-desormais-mis-en-examen-pour-le-viol-de-quatre-femmes-13-02-2020-2362633_23.php
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb125430198 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ

بیرونی روابطترميم

  ویکیمیڈیا العام پر طارق رمضان سے متعلقہ وسیط