عارف نظامی

پاکستانی صحافی اور روزنامہ دی نیشن کے سابق ایڈیٹر

عارف نظامی (پیدائش: 14 اکتوبر 1948ء - وفات: 21 جولائی 2021ء) معروف پاکستانی صحافی اور روزنامہ دی نیشن کے سابق ایڈیٹر تھے۔ عارف نظامی انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے کے بانی و ایڈیٹر اور نوائے وقت اخبار گروپ کے بانی حمید نظامی کے بیٹے تھے۔

عارف نظامی
Arif Nizami.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1926  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 21 جولا‎ئی 2021 (94–95 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد حمید نظامی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مدیر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پاکستان میں اخبارات کے مدیروں کی ایک تنظیم سی پی این ای کے منتخب صدر۔

پیدائشترميم

14 اکتوبر 1926ء کو پیدا ہوئے،

ابتدائی حالاتترميم

ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جہاں صحافت ہی اوڑھنا بچھونا تھی۔ عارف نظامی کے والد حمید نظامی نے 23 مارچ 1940ء کو عین اس دن لاہور سے نوائے وقت کا پہلا پرچہ شائع کیا جب لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی۔ ان کے والد صرف 45 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مجید نظامی اپنا الگ اخبار ندائے ملت نکال چکے تھے۔ عارف نظامی کی والدہ نے نوائے وقت کی ادارت سنبھالی اور اپنے کم سن بچوں کے ساتھ اخبار چلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ چند ہی مہینوں میں نوائے وقت کی اشاعت بہت کم رہ گئی تھی۔ دیور بھابھی میں صلح کے بعد مجید نظامی روزنامہ نوائے وقت کے انتظامی اور ادارتی سربراہ ٹھہرے،

صحافتی زندگیترميم

عارف نظامی نے صحافت کا آغاز اپنے والد حمید نظامی کے اخبار نوائے وقت سے ہی بطور رپورٹر کیا۔ حمید نظامی کی موت کے بعد 1962ء میں مجید نظامی نوائے وقت کے ایڈیٹر بنے لیکن پھر 1969ء میں انھوں نے اپنا اخبار ندائے ملت نکالا۔

عارف اور ان کے بھائی شعیب نوائے وقت چلاتے رہے، اور ان کے چچا مجید نظامی ندائے ملت۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ندائے ملت اور نوائے وقت اکٹھے ہو گئے اور نوائے وقت کو ندائے ملت ہی چھاپتا رہا۔ مجید نظامی اس کے ایڈیٹر بنے، تاہم عارف نظامی اور مجید نظامی کی کبھی نہ بنی کیونکہ وہ اپنے چچا سے بالکل مختلف تھے۔ بھتیجے عارف نظامی نے ایک عام رپورٹر کی حثیت سے اخبار میں کام کرنا شروع کیا اور 1986ء میں اس دور کے پنجاب کے واحد نجی انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کی بنیاد رکھ دی۔ پرنٹ لائن پر عارف نظامی کا نام شائع ہوا۔ یوں عارف نظامی کا شمار پاکستان کے صفحہ اول کے صحافیوں میں ہونے لگا۔ ستمبر 2009ء میں انہیں اپنے چچا سے اختلافات کی بنیاد پر روزنامہ دی نیشن سے نکال دیا گیا۔ عارف نظامی نے خاندانی اختلافات کے باعث 2010ء میں انگریزی اخبار 'دی نیشن' کو خیر باد کہہ کر 'پاکستان ٹو ڈے' کی بنیاد رکھی تھی۔

2013ء میں عارف نظامی کو نگراں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و پوسٹل سروسز بنایا گیا، 2 اپریل تا 7 جون 2013ء اس عہدے پر فائز رہے،

ا2015ء میں آپ نجی ٹی وی چینل 'چینل 24' کے سی ای او بنے، جہاں سے آپ ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے تھے۔

عمران خان کی شادی و طلاق اور بے نظیر بھٹو کی حکومت جانے کی خبریں بھی انہوں نے ہی بریک کی تھیں۔

حال ہی میں حکومتِ پاکستان نے انھیں نائب صدر اقبال اکادمی پاکستان تعینات کیا تھا۔

وہ ایوانِ اقبال کی مجلسِ منتظمہ کے صدر نشین بھی تھے۔ حالاتِ حاضرہ پر اُن کا پروگرام "ہو کیا رہا ہے؟" 92 نیوز چینل پر براہ راست نشر کیا جاتا تھا۔

وفاتترميم

21 جولائی 2021ء کو لاہور میں عارضہ دل کے باعث وفات پاگئے۔ عارف نظامی کی نماز جنازہ جامع مسجد اللّٰہ اکبر ڈیفنس ای بلاک میں ادا کی گئی، میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔

مرحوم نے سوگواران میں بیوہ ، 3 بیٹے علی نظامی ، اسد نظامی ،یوسف نظامی چھوڑے ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم