رحیم اللہ یوسفزئی

پاکستانی صحافی

رحیم اللہ یوسفزئی (پیدائش:10 ستمبر 1954ء، مردان وفات: 9 ستمبر 2021ء) ایک قد آور پاکستانی صحافی، ماہر افغان امور و تجزیہ نگار تھے۔

رحیم اللہ یوسفزئی
Raheemullah Yusufzai.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 10 ستمبر 1954  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مردان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 ستمبر 2021 (67 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پشاور[3]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات سرطان[3]  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی
ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ صحافی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پشتو،  اردو،  انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

پیدائش ور تعلیمترميم

مرادن کے نواحی قصبے کاٹلنگ تحصیل کے گاؤں بابوزئی سے تعلق رکھنے والے رحیم اللہ یوسفزئی 10 ستمبر 1954ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی کے ایک سرکاری اسکول سے حاصل کی۔ جب کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان کراچی کے ایک آرمی پبلک اسکول پاس کیا۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے والد فوج میں ملازم تھے اس لیے انہوں نے اپنی تعلیم ملک کے مختلف ان شہروں سے حاصل کی جہاں ان کے والد تعینات ہوتے تھے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کے سابق کلاس فیلوز میں فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی نمایاں ہیں۔

گورنمنٹ سائنس کالج اور جامعہ کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی، [4]

صحافتی خدماتترميم

80ء کی دہائی میں کراچی سے نکلنے والے اخبار روزنامہ سن سے پروف ریڈر کی حیثیت سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا،

رحیم اللہ یوسفزئی 1986ء میں پشاور منتقل ہوئے جہاں انہوں نے چند سال روزنامہ دی مسلم کے بیورو چیف کی حیثیت سے کام کیا، اور بعد میں روزنامہ دی نیوز سے منسلک ہو گئے، جو رشتہ ان کی موت تک جاری رہا۔

انہوں نے اسامہ بن لادن کی انٹرویو کی جس کی وجہ سے ان کو کافی شہرت ملی۔ رحیم اللہ یوسفزئی ان چند صحافیوں میں سے تھے جنہوں نے طالبان کے کارروائیوں کو رپورٹ کیا اور 1995ء میں خود قندھار گئے۔ رحیم اللہ روزنامہ جنگ کے لیے بطور کالم نگار کام کر رہے تھے، اس سے پہلے ٹائم میگزین کے لیے بھی کام کر چکے تھے بی بی سی اردو اور بی بی سی پشتو کے نمائندہ بھی رہے۔افغانستان اور شمال مغربی پاکستان کے امور کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ رحیم اللہ یوسف زئی روزنامہ جنگ، ٹائم میگزین، بی بی سی اردو، بی بی سی پشتو سمیت مختلف صحافتی اداروں کے ساتھ منسلک رہے۔ [5]

اعزازاتترميم

ان کے صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے ان کو 2004ء میں تمغا امتیاز اور 2009ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔[6]

وفاتترميم

9 ستمبر 2021ء کو بوجہ کینسر وفات پاگئے، نماز جنازہ اگلے دن جمعے کو گیارہ بجے مردان میں کاٹلنگ انٹرچینج سوات ایکسپریس وے کے قریب خان ضمیر بانڈہ میں ادا کی گئی۔[7] یوں صحافتی تاریخ کا ایک عہد تمام ہوا اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے آمین

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم