عالمی یومِ مہربانی یا عالمی یومِ رحم دلی (انگریزی: World Kindness Day) ایک بین الاقوامی تقریب ہے جو ہر سال 13 نومبر کے دن منائی جاتی ہے۔ اس کو 1998ء میں عالمی تحریک براہ مہربانی نے متعارف کروایا جو مختلف ممالک میں قائم غیر سرکاری اداروں کا اتحاد ہے۔ اس تقریب یا جشن کا اہتمام کئی ممالک میں ہوتا ہے، جس میں کینیڈا، آسٹریلیا، نائجیریا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ سنگاپور میں اس دن کو 2009ء میں پہلی بار منایا گیا۔ اطالیہ اور بھارت میں بھی یہ دن منایا جاتا ہے۔ دن کی تاسیس ورلڈ کائنڈنیس یو کے کے معاون بابی ڈیوڈ جمیلی نے لوئیس بورفیٹ ڈانس کے ساتھ مل کر ڈالی۔

عالمی یومِ مہربانی
آغازنومبر 13، 1998
تاریخ13 نومبر
تکرارسالانہ

اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے پر راغب کرنا اور دوسروں کے لیے نیک جذبات رکھنے کی ترغیب دینا ہے۔اس دن کو منانے کا آغاز 13 نومبر 1998 کو جاپان کے دار الحکومت ٹوکیو میں ہوا، جب عالمی تحریک براہ مہربانی کی بنیاد رکھی گئی۔

اہمیت اور ضرورت

ترمیم

ایک ایسے وقت کہ جب معاشرہ انتہا اور شدت پسندی کے منفی رجحانات کے علاوہ سماجی اور اخلاقی تنزلی کا شکار ہو رہا ہو، نیکی کے کاموں، مہربانی اور رحم دلی کے جذبوں کو فروغ دینے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔مہربانی کاجذبہ معاشرے میں بھائی چارے، محبت، اخوت اور امن کا موجب بن کر فلاح کا عنصر لے کر آتا ہے مگر افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے سماجی اور معاشی مسائل اور منفی رویوں سے یہ جذبے ماند پڑ رہے ہیں۔ان جذبوں کو خاص طور پر نئی نسل میں فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

مہربانی ایک ایسی زبان ہے جو بہرے افراد سن اور نابینا افراد دیکھ سکتے ہیں، مہربانی کا کوئی عمل کتنا چھوٹا ہی ہو کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا، کسی کی تلخ بات پر مسکرا دینا، کسی سے اچھا برتاؤ کرنا بھی ایک طرح کی مہربانی ہے۔

مہربانی کا فلسفہ اور وصف ہی ہے، جو معاشرے میں مثبت سوچ اور فکر رکھنے والے افراد کو مشکل وقت میں دوسروں کے کام آنے ، حسن سلوک اور غمگساری کے علاوہ دیوار مہربانی اور انسانیت کی خدمت جیسے فلاحی کاموں پر آمادہ کرتا ہے ۔

اسلام

ترمیم

اسلام سمیت تمام مذاہب بھی اسی کا پرچار کرتے ہیں۔ اللہ نے جتنے احکامات دیے بندوں کے قدرت کے مطابق ہیں، انسانوں سے نرمی کرنا، یہ اسلامی تعلیمات میں ہیں، لوگوں کے ساتھ آسانی کرو، انھیں متنفر نہ کرو، بچوں پر شفقت، لوگوں سے حسن سلوک رکھنا یہ تو اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ہیں۔

معاشرے میں اچھا برتاؤ، ضرورت کے وقت کسی کے کام آنے اور نیکی کے دیگر اعمال سے لے کر تلخی کے باوجود ہر ایک سے مسکرا کر ملنے، درگزر کرنے اور راستے سے پتھر یا کوئی نقصان پہنچانے والی چیز ہٹا دینے تک سب مہربانی کی شکل ہیں ۔

رحم دلی کی افادیت

ترمیم

دنیا کے سبھی مذاہب کا مطمح نظر ایک بہتر انسان کی تخلیق اور اصلاح معاشرہ کا ایسا تصور ہے جس میں ایک انسان دوسرے انسان سے رحم اور ہم دردی کا معاملہ کرے۔ کئی غیر مذہبی تحریکیں اور ادارہ جات بھی اسی تصور کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔

  • یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس (یوسی ایل اے) میں ’کائنڈنیس انسٹی ٹیوٹ‘ قائم کیا گیا ہے جہاں رحم دلی کی تدریس اور اس رویّے پر تحقیق کی جاتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد یہ بھی ہے کہ رحم دلی اور ہمدردی کے انسانی اثرات اور نفسیاتی فوائد پر تحقیق کی جائے گی۔ مثلاً کسی بوڑھے کی مدد کرنا یا کسی نابینا کو سڑک پار کروانے جیسے چھوٹے اقدام بھی انجام دینے والے پر بہتر اثرات ڈالتے ہیں۔ دوسری جانب ہمدردی اور انسان دوستی سے معاشرہ بہتر ہوتا ہے اور نیکی کی ہوا پوری سوسائٹی میں پروان چڑھتی ہے[1]
  • 23 اگست 2019ء کو نئی دلی میں رحم دلی کے بارے میں پہلی عالمی یوتھ کانفرنس کا بھارت کے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے افتتاح کیا۔[2]
  • عالمی یومِ مہربانی کے حوالے سے ناروے کے دار الحکومت اوسلو کے مضافات میں ’’شی‘‘ کے علاقے میں ایک پروقار تقریب ہوئی جس میں ناروے کی کرکٹ فیڈریشن کی سیکرٹری جنرل مس ’’گرے بروآس‘‘ نے ایک خصوصی ایوارڈ سید تجمل شاہ کو پیش کیا۔

مزید دیکھیے

ترمیم

بیرونی روابط

ترمیم

ورلڈ کائنڈنیس موومنٹ

حوالہ جات

ترمیم