عبد العزیز بن عبد اللہ السعود

عبد العزیز بن عبد اللہ السعود (انگریزی: Abdulaziz bin Abdullah Al Saud) ولادت: 27 اکتوبر 1962ء آل سعود کے شہزادے اور تاجر ہیں۔ وہ 2011ء تا 2015ء وزیر داخلہ بھی رہے۔

عبد العزیز بن عبد اللہ السعود
(عربی میں: عبد العزيز بن عبد الله بن عبد العزيز آل سعود ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 اکتوبر 1963ء (61 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ریاض  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبداللہ بن عبدالعزیز  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ عائدہ فوستق  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان آل سعود  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
مادر علمی یونیورسٹی آف ہارٹفورڈشائر  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان،  کاروباری شخصیت  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی زندگی اور تعلیم ترمیم

شہزادہ عبد العزیز بن عبد اللہ کی ولادت 27 اکتوبر 1962ء کو ریاض میں ہوئی۔[1][2] وہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے چوتھے بیٹے ہیں۔[3] ان کی والدہ عائدہ فوستق فلسطینی نزاد لبنانی خاتون ہیں۔[4] ان کی سگی بہن عدیلہ بنت عبداللہ ہیں۔[5] عبد العزیز بن عبد اللہ نے 1986ء میں یونیورسٹی آف ہارٹفورڈشائر سے سیاسیات بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔[2]

کیرئر ترمیم

انھوں نے 15 برسوں تک سعودی عرب قومی گارڈ میں خدمات انجام دیں۔[6] 1991ء میں ولی عہد عبد اللہ کے مشیر خاص مقرر ہوئے۔[6][7] بالخصوص سوریا کے معاملات میں انھوں نے کلیدی کردار ادا کیے۔[8] وہ وزیر ریاست بھی تھے۔[9] شہزادہ عبد العزیز نے غیر منسلک تحریک کانفرنس، تہران میں 30 تا 31 اگست 2012ء میں سعودی عرب کی نمائندگی کی کیونکہ وزیر خارجہ سعود الفیصل کا آپریشن ہوا تھا اور وہ اس تقریب کے لیے موجود نہیں تھے۔[10][11] اس دوران انھوں نے محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی۔[11]

حوالہ جات ترمیم

  1. "28.10.2009: Saudi Succession: Can the Allegiance Commission Work?"۔ Aftenposten۔ Wikileaks۔ 12 اکتوبر 2011۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2020 
  2. ^ ا ب "Abdulaziz bin Abdullah"۔ Dhownet۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 نومبر 2020 
  3. "تعرّف على أبناء وبنات الملك عبد اللہ الـ36"۔ Al Sharq (بزبان عربی)۔ 23 جنوری 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2020 
  4. "The Fustok brothers, guardians of the financial secrets of King Abdullah"۔ Intelligence Online۔ 16 جولائی 2014۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اگست 2020 
  5. "محليات صور نادرة للملك عبد اللہ وحياتہ"۔ Mz.net (بزبان عربی)۔ 15 مارچ 2013۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 ستمبر 2020 
  6. ^ ا ب
  7. Simon Henderson (1994)۔ "After King Fahd" (PDF)۔ Washington Institute۔ 17 مئی 2013 میں اصل (Policy Paper) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 فروری 2013 
  8. Simon Henderson (14 April 2011)۔ "Outraged in Riyadh. Is the House of Saud dumping Obama?"۔ Foreign Policy 
  9. "Member of the council of the ministers as of November"۔ Royal Embassy Washington D.C.۔ 16 جون 2011 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2012 
  10. Simon Henderson (29 August 2012)۔ "Fresh Concerns about Health of Saudi King"۔ Now Lebanon۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اگست 2012 
  11. ^ ا ب Saeed Naqvi (7–13 September 2012)۔ "Non Alignment 2.0"۔ The Friday Times۔ 12 دسمبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اکتوبر 2012