غیر مقلد

مضامین بسلسلہ

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل
امام جعفر صادق

فقہ خمسہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی
فقہ جعفری

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
مجتہدین · غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح



غیرمقلد شریعت اسلامی کی ایک اصطلاح ہے۔ یہ لفظ ان مسلمانوں کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی امام کے مقلد نہ ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں لیکن دراصل وہ اپنے موجودہ علماکے مقلد ہوتے ہیں کیونکہ تقلید کہتے ہیں قرآن و حدیث کے مشکل مقامات کو سمجھنے کیلئے کسی متبحر عالم کی طرف رجوع کرنا اور غیر مقلدین قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے اپنے علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی کو تقلید کہا جاتا ہے

غیر مقلد کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے مقلد کو پڑھیں۔

پس منظرترميم

اہلسنت والجماعت کے چار ائمہ ہیں:

  1. امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ (م 150 ھ)
  2. امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ ( م 189 ھ)
  3. امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ (م 204 ھ)
  4. امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ (م 241 ھ)

ان ائمہ کرام نے اپنی خداد داد علمی و فکری صلاحیتوں اور مجتہدانہ بصیرت کی بناء پر اپنے اپنے دور میں حسب ضرورت قرآن و حدیث سے مسائل فقہ مرتب کئے، یوں ان ائمہ کے زیر اثر چار فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے۔

ان چاروں ائمہ کرام میں سے کسی بھی فقہی مکتب فکر کی پیروی کرنے والے کو مقلد کہتے ہیں۔ یہ تقلید اسلئے کی جاتی ہے کیونکہ یہ ائمہ قرآن مجید اور احادیث کو سمجهتے تهے اور انکے اجتہاد پر امت کے علماء کا اجماع ہے اسلئے انکی اتباع میں مشکل مقامات کو سمجها جاتا ہے جیسے امام اعظم کے مقلدین کو حنفی، امام مالک کے مقلدین کو مالکی اور امام شافعی کے مقلدین کو شوافع اور امام احمد بن حنبل کے مقلدین کو حنبلی کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص ان میں سے کسی کا مقلد نہ ہو اور اپنی ناقص فہم و فراست اور رائے پچلتے ہوئے قرآن وحدیث کو سمجهے تو وہ غیر مقلد ہے۔ اور غیر مقلدیت تمام نئے فتنوں کی بنیاد ہے اسی کے ذریعے ہر کس و ناقص کو اپنی رائے دینے کا اختیار ملا اور فتنے بڑهتے چلے گئے

تقلید کی اقسامترميم

تقلیدِ شخصی کی حقیقت و ضرورت واضح ہو جانے کے بعد دو مشہور شبہات کے جواب ملاحظہ ہوں:

(۱)․․․․جو چیز عہدِ صحابہ و تابعین میں ضروری نہ تھی، بعد میں کیسے ضروری قرار دے دی گئی؟

جواب: حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن کا واقعہ ”تقلیدِ شخصی“ کے معاملے کی ایک واضح نظیر ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُمت کی جس اجتماعی مصلحت کی بناء پر ایسا کیا، وہی صورتِ حال تقلید کے معاملے میں بھی پیش آئی، لہٰذا اس عمل کو بدعت نہیں کہا جا سکتا۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر اُمت کو کسی مقصد کے حصول کے لیے متعدد امور کا اختیار ملا ہو تو وہ زمانے کے فساد کے پیشِ نظر ان میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کر کے باقی طریقوں کو چھوڑ سکتی ہے، اور تقلیدِ شخصی کے معاملے میں اس سے زائد کچھ نہیں ہوا۔ (ص:۷۸)

(۲)․․․․․اگر کسی بھی ایک امام کو معین کر کے اس کی تقلید کرنا ٹھہرا، تو پھر صرف ان چار اماموں کی کیا خصوصیت ہے؟ اُمت کے دوسرے مجتہدین کی تقلید کیوں نہیں کی جاتی؟

جواب:ان حضرات کے فقہی مذاہب مدوّن شکل میں محفوظ نہیں رہ سکے، اگر ان حضرات کے مذاہب بھی اس طرح مدوّن ہوتے جس طرح ائمہ اربعہ کے مذاہب مدوّن ہیں تو بلاشبہ ان میں سے کسی کو بھی تقلید کے لیے اختیار کیا جا سکتا تھا؛ لیکن نہ تو ان حضرات کے مذاہب کی مفصل کتابیں مدوّن ہیں، نہ ان مذاہب کے علماء پائے جاتے ہیں، اس لیے اب ان کی تقلید کی کوئی صورت نہیں ہے۔ (ص:۷۹)

تقلید کے درجات اور اُن کے احکامترميم

تقلید کرنے والے کے لحاظ سے تقلید کے چار مختلف درجات اور اُن کے احکام ہیں۔ ان درجات میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور غیر مقلدین کے بیشتر اعتراضات اسی فرقِ مراتب کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ ان چار درجات کا سمجھنا بہت ضروری ہے، وہ بالترتیب یہ ہیں:

  1. عوام کی تقلید
  2. متبحر عالم کی تقلید
  3. مجتہد فی المذب کی تقلید
  4. مجتہد مطلق کی تقلید

عوام کی تقلیدترميم

”عوام“ سے ہماری مراد مندرجہٴ ذیل اقسام کے حضرات ہیں:

  1. وہ حضرات جو عربی زبان اور اسلامی علوم سے بالکل ناواقف ہوں، خواہ وہ دوسرے فنون میں وہ کتنے ہی تعلیم یافتہ اور ماہر و محقق ہوں۔
  2. وہ حضرات جو عربی زبان جانتے اور عربی کتابیں سمجھ سکتے ہوں؛ لیکن انھوں نے تفسیر، حدیث، فقہ اور متعلقہ دینی علوم کو باقاعدہ اساتذہ سے نہ پڑھا ہو۔
  3. وہ حضرات جو رسمی طور پر اسلامی علوم سے فارغ التحصیل ہوں؛ لیکن تفسیر، حدیث، فقہ اور ان کے اصولوں میں اچھی استعداد اور بصیرت پیدا نہ ہوئی ہو۔

یہ تینوں قسم کے حضرات تقلید کے معاملے میں ”عوام“ ہی کی صف میں شمار ہوں گے، اور تینوں کا حکم ایک ہی ہے۔ اس قسم کے عوام کو ”تقلید محض“ کے سوا چارہ نہیں؛ کیونکہ ان میں اتنی استعداد اور صلاحیت نہیں ہے کہ وہ براہِ راست کتاب و سنت کو سمجھ سکیں، یا اس کے متعارض دلائل میں تطبیق و ترجیح کا فیصلہ کر سکیں۔ لہٰذا احکامِ شریعت پر عمل کرنے کے لیے ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ کسی مجتہد کا دامن پکڑیں اور اس سے مسائلِ شریعت معلوم کریں۔ (ص:۸۵،۸۶)

اس درجے کے مقلد کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ دلائل کی بحث میں اُلجھے اور یہ دیکھنے کی کوشش کرے کہ کون سے فقیہ و مجتہد کی دلیل زیادہ راجح ہے؟ اس کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کسی مجتہد کو متعین کر کے ہر معاملے میں اسی قول کے پر اعتماد کرتا رہے؛ کیونکہ اس کے اندر اتنی استعداد موجود نہیں ہے کہ وہ دلائل کے راجح و مرجوح ہونے کا فیصلہ کر سکے؛ بلکہ ایسے شخص کو اگر اتفاقاً کوئی حدیث ایسی نظر آ جائے جو بظاہر اس کے امام مجتہد کے مسلک کے خلاف معلوم ہوتی ہو ، تب بھی اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے امام و مجتہد کے مسلک پر عمل کرے، اور حدیث کے بارے میں یہ اعتقاد رکھے کہ اس کا صحیح مطلب میں نہیں سمجھ سکا، یا یہ کہ امام مجتہد کے پاس اُس کے معارض کوئی قوی دلیل ہو گی۔

․․․․․․ اور اگر ایسے مقلد کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ کوئی حدیث اپنے امام کے مسلک کے خلاف پا کر امام کے مسلک کو چھوڑ سکتا ہے، تو اس کا نتیجہ شدید افراتفری اور سنگین گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہو گا؛ اس لیے کہ قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط ایک ایسا وسیع و عمیق فن ہے کہ اس میں عمریں کھپا کر بھی ہر شخص اس پر عبور حاصل نہیں کر سکتا۔ (ص:۸۷)

ایسی احادیث بیسیوں ہیں، جن کو قرآن و سنت کے علوم میں کافی مہارت کے بغیر انسان دیکھے گا تو لامحالہ غلط فہمیوں میں مبتلا ہو گا۔ اسی بناء پر علماء نے فرمایا ہے کہ جس شخص نے علمِ دین باقاعدہ حاصل نہ کیا ہو، اُسے قرآن و حدیث کا مطالعہ ماہر استاذ کی مدد کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔ (ص:۹۱)

ہمارے فقہاء نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ عوام کو براہِ راست قرآن و حدیث سے احکامِ شریعت معلوم کرنے کے بجائے علماء و فقہاء کی طرف رجوع کرنا چاہیے؛ بلکہ فقہاء نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر کسی عام آدمی کو کوئی مفتی غلط فتویٰ دے دے تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا، عام آدمی کو معذور سمجھا جائے گا؛ لیکن اگر عام آدمی کوئی حدیث دیکھ کر اس کا مطلب غلط سمجھے اور اس پر عمل کر لے، تو وہ معذور نہیں ہے؛ کیونکہ اس کا کام کسی مفتی کی طرف رجوع کرنا تھا، خود قرآن و سنت سے مسائل کا استنباط اس کا کام نہ تھا۔ (ص:۹۲،۹۳)

متبحر عالم کی تقلیدترميم

”متبحر عالم“ سے ہماری مراد ایسا شخص ہے جو اگرچہ رُتبہٴ اجتہاد تک نہ پہنچا ہو؛ لیکن اسلامی علوم کو باقاعدہ ماہر اساتذہ سے حاصل کرنے کے بعد انہی علوم کی تدریس و تصنیف کی خدمت میں اکابر علماء کے زیرِ نگرانی عرصہٴ دراز تک مشغول رہا ہو، تفسیر، حدیث، فقہ اور ان کے اصول اسے مستحضر ہوں، اور وہ کسی مسئلے کی تحقیق میں اسلاف کے افادات سے بخوبی فائدہ اُٹھا سکتا ہو، اور ان کے طرزِ تصنیف و استدلال کا مزاج شناس ہونے کی بناء پر ان کی صحیح مراد تک پہنچ سکتا ہو۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ ایسے شخص کو ”متبحر فی المذہب“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ایسا شخص بھی اگرچہ رُتبہٴ اجتہاد تک نہ پہنچنے کی وجہ سے مقلد ہی ہوتا ہے؛ لیکن وہ اپنے مذہب کا مفتی بن سکتا ہے، ایسے شخص کی تقلید عوام کی تقلید سے کچھ امور میں مختلف ہوتی ہے۔ (ص:۹۴،۹۵)

ایک متبحر عالم کن شرائط کے ساتھ حدیث ِصحیح کی بنیاد پر اپنے امام مجتہد کے قول کو چھوڑ سکتا ہے؟ علمائے اُصولِ فقہ کی کتب سے اُن شرائط کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ علمائے اُصول کی مذکورہ بالا تصریحات کی روشنی میں ایک متبحر عالم اگر کسی مسئلے کے تمام پہلووٴں اور ان کے دلائل کا احاطہ کرنے کے بعد کم از کم اُس مسئلہ میں اجتہاد کے درجہ تک پہنچ گیا ہو (خواہ وہ پوری شریعت میں مجتہد نہ ہو) تو وہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ میرے امام مجتہد کا مسلک فلاں حدیث ِصحیح کے خلاف ہے۔ ایسے موقع پر اس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ امام کے قول کو چھوڑ کر حدیث پر عمل کرے۔ (ص:۱۰۴)

لیکن اس طرح جزوی طور پر اپنے امام سے اختلاف کرنے کے باوجود مجموعی طور پر اُسے مقلد ہی کہا اور سمجھا جاتا ہے؛ چنانچہ بہت سے فقہاءِ حنفیہ نے اسی بناء پر امام ابو حنیفہ کے قول کو ترک کر کے دوسرے ائمہ کے قول پر فتویٰ دیا ہے۔ (ص:۱۰۷)

تنبیہ: البتہ یہ مسئلہ انتہائی نازک ہے؛ اس لیے اس میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے، اور ہر شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو متبحر علماء کی صف میں شمار کر کے اس منصب پر فائز ہو جائے، اور اُوپر جو شرائط بیان کی گئی ہوں اُن کی رعایت رکھے بغیر احکامِ شرعیہ میں تصرف شروع کر دے۔ (ص:۱۰۸)

مجتہد فی المذہب کی تقلیدترميم

”مجتہد فی المذہب“ اُن حضرات کو کہتے ہیں جو استدلال و استنباط کے بنیادی اُصولوں میں کسی مجتہد مطلق کے طریقے کے پابند ہوتے ہیں؛ لیکن اُن اصول و قواعد کے تحت جزوی مسائل کو براہِ راست قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ وغیرہ سے مستنبط کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؛ چنانچہ ایسے حضرات اپنے مجتہد مطلق سے بہت سے فروعی احکام میں اختلاف رکھتے ہیں، لیکن اصول کے لحاظ سے اس کے مقلد کہلاتے ہیں۔ مثلاً: فقہ حنفی میں امام ابو یوسف اور امام محمد، فقہ شافعی میں امام مزنی اور امام ابو ثور، فقہ مالکی میں سحنون اور ابن القاسم، اور فقہ حنبلی میں ابراہیم الحربی اور ابو بکر الاثرم (رحمہم اللہ تعالیٰ)۔ لہٰذا مجتہد فی المذہب اصول کے لحاظ سے مقلد اور فروع کے لحاظ سے مجتہد ہوتا ہے۔ (ص:۱۰۸،۱۰۹)

تقلید شخصی کی ضرورتترميم

تقلید پر عمل کرنے کے لیے ”تقلیدِ مطلق“ یا ”تقلیدِ شخصی“ میں سے جس صورت پر بھی عمل کر لیا جائے، اصلاً جائز ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ رحمتیں نازل فرمائے ہمارے بعد کے فقہاء پر جو اپنے اپنے زمانے کے نبض شناس تھے اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات پر نگاہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائی تھی، انھوں نے بعد میں ایک زبردست انتظامی مصلحت کے تحت تقلید کی مذکورہ دونوں قسموں میں سے صرف ”تقلیدِ شخصی“ کو عمل کے لیے اختیار فرما لیا، اور یہ فتویٰ دے دیا کہ

اب لوگوں کو صرف تقلیدِ شخصی پر عمل کرنا چاہیے اور کبھی کسی امام کی تقلید کے بجائے کسی ایک مجتہد (کے مکتبِ فکر) کو متعین کر کے اسی کے مذہب کی پیروی کرنی چاہیے! (ص:۶۰،۶۱)

وہ زبر دست ”انتظامی مصلحت“ کیا تھی؟ بطورِ تمہید پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ ”خواہش پرستی“ وہ زبردست گمراہی ہے جو بسا اوقات انسان کو کفر تک پہنچادیتی ہے؛ اسی لیے قرآن و حدیث میں بے شمار مقامات پر خواہش پرستی کی مذمت اور اس سے دامن بچانے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ خواہش پرستی کی دو صورتیں ہیں: ایک تو یہ ہے کہ انسان بُرے کام کو بُرا اور گناہ کو گناہ سمجھے؛ مگر اپنے نفس کی خواہشات سے مجبور ہو کر اس میں مبتلا ہو جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی غلامی میں اس حد تک پہنچ جائے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر ڈالے اور دین و شریعت کو کھلونا بنا دے۔

یہ دوسری صورت پہلی سے زیادہ سنگین، خطرناک اور تباہ کن ہے؛ کیونکہ پہلی صورت میں جرم پر نادم ہو کر توبہ کرنے کی اُمید رہتی ہے، اس کے برعکس دوسری صورت میں ایسا نہیں ہے۔

فقہاءِ کرام نے محسوس فرمایا کہ لوگوں میں دیانت کا معیار روز بروز گھٹ رہا ہے، احتیاط اور تقویٰ اُٹھتے جا رہے ہیں، ایسی صورت میں اگر تقلیدِ مطلق کا دروازہ چوپٹ کھلا رہا تو بہت سے لوگ جان بوجھ کر اور بہت سے غیر شعوری طور پر خواہش پرستی میں مبتلا ہو جائیں گے۔

مثلاً: ایک شخص کے سردی کے موسم میں خون نکل آیا، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وضو ٹوٹ گیا، اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں ٹوٹا، وہ اپنی تن آسانی کی وجہ سے اس وقت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تقلید کر کے بلا وضو نماز پڑھ لے گا۔ پھر اُس کے تھوڑی دیر بعد اگر اس نے کسی عورت کو چُھو لیا، تو امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا وضو جاتا رہا، اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برقرار ہے، اس کی تن آسانی اس موقع پر اُسے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی تقلید کا سبق دے گی، اور پھر وہ بلا وضو نماز کے لیے کھڑا ہو جائے گا۔

غرض جس امام کے قول میں اُسے آرام اور فائدہ نظر آئے گا اسے اختیار کرے گا، اور جس قول میں کوئی مضرت نظر آئے یا خواہشات کی قربانی دینی پڑے اُسے چھوڑ دے گا، اور ایسا بھی ہو گا کہ اس کا نفس اسی قول کی صحت کی دلیلیں سُجھائے گا جو اُس کے لیے زیادہ آسان ہے اور وہ بالکل غیر شعوری طور پر خواہش پرستی میں مبتلا ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ احکامِ شرعیہ نفسانی خواہشات کا ایک کھلونا بن کر رہ جائیں گے، اور یہ وہ چیز ہے جس کے حرامِ قطعی ہونے میں آج تک کسی مسلمان کا اختلاف نہیں ہوا۔ (ص:۶۱،۶۲)

اپنی خواہشاتِ نفس کے تابع ہو کر ایک چیز کو کبھی حلال اور کبھی حرام کرلینا اور جس مذہب میں نفسانی فائدہ نظر آئے اُسے اختیار کر لینا اتنا بڑا جرم ہے کہ وہ کسی کے نزدیک جائز نہیں۔ اس موضوع پر قرآن و حدیث کی نصوص اور علماءِ اُمت کی تصریحات بے شمار ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ یہ تسلیم فرماتے ہیں کہ اپنی خواہشات کے تابع ہو کر کبھی کسی کا اور کبھی کسی کا مذہب اختیار کرلینا بہ اجماعِ اُمت ناجائز ہے۔

صحابہ و تابعین کے زمانے میں؛ چونکہ خوفِ خدا اور فکرِ آخرت کا غلبہ تھا؛ اس لیے اُس دَور میں ”تقلیدِ مطلق“ سے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ لوگ اپنی خواہشات کے تابع ہو کبھی کسی مجتہد کا اور کبھی کسی مجتہد کا قول اختیار کریں گے؛ اس لیے اُس دَور میں ”تقلیدِ مطلق“ پر بے روک ٹوک عمل ہوتا رہا اور اُس میں کوئی قباحت نہیں سمجھی گئی؛ لیکن بعد کے فقہاء نے جب یہ دیکھا کہ دیانت کا معیار روز بروز گھٹ رہا ہے اور لوگوں پر نفسانیت غالب آتی جا رہی ہے تو اس وقت انھوں نے مذکورہ بالا انتظامی مصلحت سے یہ فتویٰ دیا کہ اب لوگوں کو صرف تقلیدِ شخصی پر عمل کرنا چاہیے اور ”تقلیدِ مطلق“ کا طریقہ ترک کر دینا چاہیے، یہ کوئی شرعی حکم نہیں تھا؛بلکہ ایک انتظامی فتویٰ تھا۔ (ص:۶۵)

مختلف مذاہب سے آسانیاں تلاش کر کے اُن پر عمل کرنا کیوں ناجائز ہے؟ اس سے کیا کیا مفاسد پیدا ہوتے ہیں؟ اور تقلیدِ شخصی کے رواج کے اسباب کیا ہیں؟ تفصیل کتاب ھذا میں دیکھئے۔ (ص:۶۹،۷۰)

اگر تقلیدِ مطلق کی عام اجازت ہو اور ہر شخص کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ جس مسئلے میں جس فقیہ کی چاہے تقلید کر لے تو اس قسم کے اقوال کو جمع کر کے ایک ایسا مذہب تیار ہو سکتا ہے جس کا بانی نفس اور شیطان ہو گا، اور دین کو اس طرح خواہشات کا کھلونا بنا لینا کسی کے مذہب میں جائز نہیں ہے۔ اسی بناء پر بعد کے فقہاء نے یہ فرمایا کہ اب تقلیدِ شخصی کی پابندی ضروری ہے اور کسی ایک مجتہد (کے مکتبِ فکر) کو معین کر کے ہر مسئلے میں اسی کی پیروی کی جائے تاکہ نفسِ انسانی کو حلال و حرام کے مسائل میں شرارت کا موقع نہ مل سکے۔ (ص:۶۸)

خلاصہ یہ ہے کہ صحابہٴ کرام اور تابعین کے دَور میں دیانت عام تھی، جس پر اعتماد کیا جا سکتا تھا، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضِ صحبت سے اُن کی نفسانیت اس قدر مغلوب تھی کہ خاص طور سے شریعت کے احکام میں انھیں خواہشات کی پیروی کا خطرہ نہیں تھا؛ اس لیے ان حضرات کے دَور میں تقلیدِ مطلق اور تقلیدِ شخصی دونوں پر عمل ہوتا رہا، بعد میں جب یہ زبردست خطرہ سامنے آیا تو تقلید کو ”تقلیدِ شخصی“میں محصور کر دیا گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو احکامِ شریعت کے معاملہ میں جو افراتفری برپا ہوتی، اس کا تصور ہم مشکل ہی سے کر سکتے ہیں۔ (ص:۷۱)

فہرست

بیرونی روابطترميم