عوامی فلاح و بہبود جس کو انگریزی میں public welfare کہا جاسکتا ہے کسی معاشرے میں بسنے والے عوام الناس کی کیفیت حیات اور ان کے راحت الوجود کے معیار کو بہتر بنانے کے معنوں میں ادا کی جانے والی ایک اصطلاح ہے۔ اردو زبان میں اسے عوامی رفاہ بھی کہا جاتا ہے جو انگریزی کا بہتر لفظی متبادل محسوس ہوتا ہے لیکن عوامی فلاح و بہبود کا لفظ انگریزی اصطلاح سے زیادہ وسعت رکھتا ہے اور اپنے مفہوم میں زیادہ واضح ہے اس وجہ سے اس صفحے کا عنوان محض رفاہ یا فلاح یا عوامی رفاہ کی بجائے عوامی فلاح و بہبود انتخاب پایا۔ سطرالاول میں بیان کردہ تعریف عوامی فلاح کی نصابی تعریف کے طور پر پیش کی جاتی ہے اور اس فلاحی و بہبودی کام کو انجام دینے والے وسیلے کے طور پر اولاً (نا کہ حتماً) حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے۔

Mrigankasekhar.ganguly.9339553813y.jpg
Park in bath england arp.jpg
ایک ہی دنیا میں کہیں فلاح و بہبود کا مفہوم بھیک میں دو ٹکڑے روٹی کے ڈال دینے کا اور کہیں راحت الوجود کی خاطر تفریحی سہولیات کی فراہمی کا ہوتا ہے

خد و خالترميم

عوامی فلاح و بہبود کے خد و خال یا اس کی وسعت و صورت نہایت عریض ہے اور اس کے دائرۂ عمل میں وہ تمام عوامل شامل ہو جاتے ہیں جو کسی بھی طرح عوام کی بھلائی سے متعلق ہوں۔ علم معاشیات کے لحاظ سے اس میں اول ترین درجہ غریب و معاشی طور پر نامستحکم افراد کو مالی امداد کی فراہمی ہے؛ اس کے علاوہ علم طب کے لحاظ سے معاشرے کے افراد کی ذہنی و جسمانی صحت کی بہتری اور علاج و معالجے کی بروقت اور آسان فراہمی بھی اہم ترین درجے میں آتی ہے۔ مذکورہ بالا دو علوم جدید کے تحت بیان ہونے والی بہبود کی اشکال پھر اپنی اپنی وسیع جہت رکھتی ہیں؛ مثال کے طور پر مالی امداد میں گویا ابتدائی تصور روزمرہ کی ضروریات زندگی کی دستیابی کا آتا ہے لیکن اس کے علاوہ بہبود کی خاطر مالی امداد، مسکن اور اولاد کی تعلیم کی خاطر بھی ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح صحت و علاج معالجے کی فراہمی محض حالت بیماری میں دوا تک محدود نہیں بلکہ اس میں ذہنی صحت اور قبل از بیماری بیماری سے بچاؤ کی سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہیں؛ پھر ذہنی صحت کی شرط خود بخود اشخاص کی روزمرہ زندگی میں سکون کی دستیابی سے منسلک ہو جاتی ہے جس میں روزگار، نقل و حمل اور تفریحی مقامات و مواقع کی فراہمی تک شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔ اور دے مال اس (اللہ) کی محبت میں رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور قائم کرے نماز اور دے زکوٰاۃ اور (نیک وہ ہیں جو) پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب عہد کرلیں ۔۔۔۔۔ (قرآن سورت البقرہ آیت 177)

استحقار اور فلاحترميم

عوامی فلاح و بہبود کا براہ راست تعلق حکومت کے نظامِ بہبود سے ہوتا ہے اور اگر حکومتی نظام میں معاشی خامیاں ہوں تو پھر عوامی فلاح و بہبود کا کام بذات خود معاشرے کے افراد کے لیے ایک تحقیر، تذلیل اور استحقار کا باعث بن جاتا ہے اور یہ تذلیل خود ان اداروں کی جانب سے کی جاتی ہے جو خود اپنے ناکارہ نظام کی وجہ سے اس کے برحق مستحق ہوتے ہیں۔[1] حکومت کے اپنے نظام میں خرابی اور معاشی حالت (اور اس کے بنیادی اسباب جیسے تعلیم اور روزگار کے مواقع و حالت امن) قائم کرنے میں ناکامی ہی افراد کو مالی امداد قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے (گو کہ اولین اہمیت کا حامل ہونے کے باوجود محض مالی امداد ہی فلاح و بہبود کے لیے کافی نہیں) اور یہ مالی امداد اگر عزتِ نفس مجروح ہونے کے بعد حاصل ہوتی ہو تو یہ فلاح و بہبود اور حق نہیں بلکہ بھیک بن جاتی ہے۔

محض زکوٰاۃ؟ترميم

ترقی پزیر اور غریب ممالک میں اپنے عام ترین تصور میں فلاح و بہبود سے مراد بھوکوں کو کھانا کھلانے اور ننگوں کو اپنے پرانے کپڑے دینے کی لی جاتی ہے اور یہ کام کوئی بھی کر سکتا ہے۔ اکثر ترقی پزیر ممالک میں یہ تاثر بھی عام پایا جاتا ہے کہ بھیک دینا بھی فلاح و بہبود کے کام میں شامل ہے اور اس تصور کا احاطہ پھر وسعت پاکر اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ عوام (ترقی یافتہ ممالک یا تہذیب یافتہ ممالک کے لحاظ سے ) اپنا حق طلب کرتے ہوئے بھی خود کو بھکاری تصور کرنے لگتے ہیں۔ تہذیب یافتہ اقوام کے معیار کے مطابق کیفیت حیات بلند کرنا اور فلاح و بہبود سے متعلق سہولیات طلب کرنا معاشرے میں موجود عوام کا بنیادی حق ہے اور اس کی فراہمی کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومتی نظام پر آتی ہے اور اگر معاشی بدحالی اس کی راہ میں رکاوٹ ہو تو اس معاشی بدحالی کو پیدا کرنے والے بنیادی اسباب کو دور کرنا بھی حکومتی نظام کی ذمہ داری میں شامل تصور کیا جاتا ہے۔ انگریزی زبان میں welfare گویا بکثرت مالی امداد کے تصور میں ادا کیا جاتا ہے لیکن اردو میں فلاح و بہبود کا لفظ صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ اس میں تمام بنیادی ضروریات زندگی یعنی معیار زندگی (standard of living) کے لیے لازم عوامل کی بہ سہولت دستیابی شامل ہے۔ بھیک کی طرح مالی امداد بانٹ کر فلاح و بہبود کے فرض سے سبکدوش نہیں ہوا جاسکتا۔[2]

استقلال و رسائیترميم

معاشیاتی اعتبار سے فلاح و بہبود کے اہداف مختلف معاشروں میں مختلف ہوسکتے ہیں لیکن ایک بات جو ان میں مشترک ہونا ضروری ہے وہ ہے استقلال اور رسائی کی خصوصیت؛ یعنی ترقی پزیر یا ترقی یافتہ معاشروں میں فلاح و بہبود کے زمرے میں جن سہولیات کی فراہمی بھی شامل کی جاتی ہو اس فراہمی کو مستقل (متواتر) اور یکساں طور پر ہر فرد (بلا تشخیص طاقتور و کمزور، مرد و عورت، بچے و بوڑھے، مذہبی یا غیر مذہبی) کے لیے قابل رسائی ہونا چاہیے کیونکہ معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے اور محدود افراد کی فلاح و بہبود کو معاشرے کی فلاح و بہبود نہیں کہا جاسکتا۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. The decent society By Avishai Margalit
  2. Philanthropy in America: a comprehensive historical encyclopedia; by Dwight Burlingame
  3. The welfare state: a general theory by Paul Spicker