قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ(وفات: 36ھ) اصحاب بدر اور احد میں شریک صحابی ہیں۔ آپ عبد اللہ بن عمرو کے ماموں ہیں،دو ہجرتوں والے ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابتدا ہی میں مشرف باسلام ہوئے حبشہ ہجرت کی پھر مدینہ ہجرت فرمائی غزوہ بدر سمیت دیگر تمام غزوات میں شریک ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں 36ھ میں وفات پائی ۔

قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ
کنیت ابو عمر
قدامہ بن مظعون
معلومات شخصیت
پیدائشی نام قدامہ بن مظعون
رشتے دار بھائی وبہن:
عثمان بن مظعون
عبد اللہ بن مظعون
زینب بنت مظعون
عملی زندگی
نسب الجمحی القرشی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ بدر
غزوہ احد
دیگر غزوات

نام ونسب ترمیم

قدامہ نام، ابو عمر کنیت،سلسلۂ نسب یہ ہے، قدامہ بن مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح القرشی الجمحی،قدامہ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہنوئی تھے۔[1][2]

اسلام و ہجرت ترمیم

دعوت اسلام کے آغاز میں دولت اسلام سے بہرور ہوئے اور اپنے بھائی عثمان اور عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ ہجرت کرکے حبشہ گئے۔[3][4]،[5][6][7]

جہاد میں شرکت ترمیم

حبشہ سے مدینہ آئے اور سب سے پہلے غزوۂ بدر میں شرکت کا شرف حاصل کیا اور غزوہ احد و غزوہ خندق وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوتے رہے۔[8]

بحرین کی گورنری ترمیم

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں قدامہ کو بحرین کا گورنر مقرر کیا،اسی زمانہ میں ان پر شراب نوشی کی حد جاری ہوئی، گو عمرفاروق کے سامنے انھوں نے اس جرم کا اقرار نہیں کیا، اوربدری صحابی ہونے کی حیثیت سے ان کا بیان لائق اعتماد تھا؛لیکن عمر فاروق کے نزدیک شہادت سے جرم ثابت ہو گیا تھا، اس لیے آپ نے حد جاری کی، اس کا واقعہ یہ ہے،ایک مرتبہ جار ود بنو عبد قیس کا سردار عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس قدامہ کی شراب نوشی کی شکایت لے کر آیا، عمرفاروق نے فرمایا، تمھارے علاوہ اور کون شاہد ہے،عرض کیا ابوہریرہ،ان کو بلاکر پوچھا، انھوں نے شراب پیتے ہوئے تو نہیں دیکھا، البتہ نشہ میں قے کرتے ہوئے دیکھا ،عمر فاروق نے فرمایا: صرف اتنی شہادت سے جرم نہیں ثابت ہوتا، مزید تحقیقات کے لیے قدامہ کو بحرین سے طلب کیا، جب وہ آئے تو جارودنے عمرفاروق سے ان پر حد جاری کرنے کا مطالبہ کیا، عمرفاروق نے فرمایا، تم گواہ ہو یا مدعی؟ کہا گواہ، فرمایا بس شہادت کا فرض ادا کر چکے،اب تم خاموش رہو، تیسری مرتبہ پھر جارود نے قسم دلاکر حدکا مطالبہ کیا، اس اصرار پر عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو شبہ ہوا، آپ نے فرمایا تم اپنی زبان قابو میں رکھو، ورنہ مجھ کو تنبیہ کرنی پڑے گی، جارود نے کہا عمر! یہ انصاف سے بعید ہے کہ تمھارا ابن عم شراب پئے اور تم الٹے میری تنبیہ کرو، ابوہریرہ نے عمرفاروق سے کہا کہ اگر آپ کو شک ہو تو قدامہ کی بیوی کو بلاکر پوچھ لیجئے؛چنانچہ آپ نے ان کی بیوی ہندہ کو بلاکر شہادت طلب کی، انھوں نے ابوہریرہ کی تصدیق کی، اس پر عدل فاروقی جوش میں آگیا اور فرمایا قدامہ! حد کے لیے تیار ہوجاؤ،قدامہ نے کہا، اگر بالفرض میں نے ان لوگوں کی شہادت کے بموجب شراب پی بھی تو آپ کو اجرائے حد کا حق نہیں ہے،فرمایا کیوں؟ عرض کیا خدا فرماتا ہے۔ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ (المائدۃ:93) جو لوگ ایمان لائے اورنیک عمل کیے تو جو کچھ انھوں نے (تحریم کے قبل) کھایا اس پر کوئی گناہ نہیں ہے جبکہ انھوں نے پرہیز کیا اورایمان لائے اورنیک کام کیے۔ فرمایا تم تاویل میں غلطی کر رہے ہو، اگر تم خدا سے ڈرتے تو قطعی حرام چیزوں سے احتراز کرتے ،اس وقت قدامہ بیمار تھے، اس لیے عمرفاروق نے لوگوں کے مشورہ سے کچھ دنوں کے لیے حد کا اجرا ملتوی کر دیا، ؛لیکن اثبات جرم کے بعد اجرائے حد میں تاخیر آپ کے لیے بار تھی، اس لیے لوگوں سے دوبارہ مشورہ کیا، اس مرتبہ بھی سب نے التواکا مشورہ دیا، فرمایا مجھ کو یہ زیادہ پسند ہے کہ وہ کوڑوں کے نیچے خدا سے ملیں، بہ نسبت اس کے کہ میں خدا سے ملوں اوران کا بار میری گردن پر ہو، غرض اسی بیماری کی حالت میں حد جاری کی اور قدامہ سے تعلقات منقطع کرلیے، کچھ دنوں کے بعد دونوں نے ساتھ حج کیا، لوٹتے وقت ایک مقام پر عمرفاروق کی آنکھ لگ گئی، خواب میں آپ کو قدامہ سے صفائی کرنے کی ہدایت ہوئی، بیدار ہوتے ہی قدامہ کو بلوایا، مگر انھوں نے ملنے سے انکار کر دیا ،دوسری مرتبہ پھر آدمی بھیجا کہ اگر آسانی سے نہ آویں تو زبردستی لایا جائے؛چنانچہ وہ آئے اور آپ نے خود گفتگو کی ابتدا کی اور پھر بدستور تعلقات قائم ہو گئے۔[1][5][9]

وفات ترمیم

قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر کے 68 مرحلہ طے کرنے کے بعد حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں 36ھ میں وفات پائی۔[10]

اہل و عیال ترمیم

آپ کی تین بیویاں اور ایک لونڈی تھی، جن سے حسبِ ذیل اولادیں ہوئیں۔

نام بیوی نام اولاد ہند بنت ولید, فاطمہ بنت ابی سفیان, عمر،فاطمہ, عائشہ, صفیہ بنت خطاب, ام ولد, رملہ, حفصہ [9][6]

حوالہ جات ترمیم